الطاف حسین کا ریڈ وارنٹ اور سیٹھ ٹائر جی ٹیوب جی!
  17  فروری‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

٭لاہورمیں دھماکہ ہوا تو میں نے لکھا تھاکہ شہید ہونے والے پولیس کے بڑے افسروں کے گھروں میں تو وزیراعظم ، وزیراعلیٰ اور بڑے بڑے افسرچلے گئے مگر دور دراز دیہات سے آنے والے پولیس کے شہید سپاہیوں کے گھروں میں کون جائے گا؟ آج اخبارات میں خبر پڑھ کر خوش گوار مسرت ہورہی ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف بدھ کے روز اوکاڑا ، قصور، دیپالپور اورساہیوال کے چار دیہات میں چار کانسٹیبلوں کے گھروں میں خود گئے ان کی بیواؤں اور بچوں کوایک ایک کروڑ روپے کے چیک دیئے۔ ان کے بچوں کی پوری تعلیم سرکاری طورپر انجام دینے کا اعلان کیا اور یہ کہ شہید ہونے والے ان پولیس اہلکاروں کی تنخواہ مسلسل ان کی بیواؤں کو ملتی رہے گی۔ خبریں بتاتی ہیں کہ وزیراعلیٰ نے ان شہداء کی بیواؤں کے سر پر ہاتھ رکھا، آنسو بھری آنکھوں کے ساتھ ان کے معصوم بچوں کو بازوؤں میں اٹھایااور یقین دلایا کہ حکومت شہدا کے اہل خانہ کی مسلسل سرپرستی کرے گی۔ ایک کانسٹیبل کی بیوہ نے بتایا کہ اس نے ایم اے انگلش کیا ہواہے۔ وزیراعلیٰ نے اسے اور ایک اور دوسرے شہید کانسٹیبل کے بیٹے کو ملازمتیں دینے کا بھی اعلان کیا! زندہ باد! میں ان کالموں میں پنجاب حکومت کی بعض پالیسیوں اور کارروائیوں پر سخت ، بلکہ بہت سخت تنقید کرتا رہا ہوں، مگر یہ حقیقت ہے کہ میاں شہبازشریف نے جس درد مندی اور ہمدردی کے ساتھ ان مظلوم شہدا کے بے سہار ا خاندانوں کی دلجوئی کی ہے، ان کادکھ بٹایا ہے اورانہیں زندگی گزارنے کا حوصلہ دیا ہے،اس پر میں دلی طورپر بھرپور اظہار تحسین کرتاہوں۔ میاں صاحب! دنیاوی شان وشوکت ، جاہ وحشم اپنی جگہ مگر بے بس، مجبور بے سہارا لوگوں کی دل جوئی سب سے اہم اور عظیم تر کارِ خیر ہے۔ ایسی باتوں پر ہی کہاجاتا ہے کہ دل بدست آور کہ حج اکبر است! خدا تعالیٰ دوسرے تمام حکمرانوں کوبھی یہی راہ عمل اپنانے کی توفیق عنائت فرمائے! میں ایک بار پھرآپ کی انسانیت نوازی پر اظہار تحسین کرتا ہوں! ٭انٹرنیشنل پولیس ( انٹرپول) کو حکومت پاکستان کی طرف سے برطانیہ میں مقیم مفرور ملزم الطاف حسین کی گرفتاری کے ریڈ وارنٹ موصو ل ہوگئے ہیں۔خبر کے مطابق انٹرپول نے اس وارنٹ پر غور کرنا شروع کردیا ہے۔ انٹرپول 190 ممالک کے ساتھ وابستہ ہے۔ اس کے غور کرنے کی کوئی مدت طے نہیں ۔ مدت پوری ہو بھی گئی تو وہ برطانیہ کی حکومت سے رابطہ کرے گی۔ وہ بھی اس معاملہ پر غور کرے گی۔ اس کاغور کرنے کا انداز یہ ہے کہ عمران فاروق قتل کی ٹھوس شہادتوں پر پانچ سال سے غورکررہی ہے۔ الطاف حسین کروڑوں کی منی لانڈرنگ پر بھی تین چار برس غور کیااور سارے ثبوت مل جانے کے بعد غور کرنا بند کرکے مقدمہ ٹھپ کردیا کہ مزید غور کرنے کی گنجائش نہیں تھی۔ مگر یہ تو برطانوی حکومت کا معاملہ ہے۔ اس کے بعد تو لندن کی سکاٹ لینڈ یارڈ پولیس کا غور کر نے کا سلسلہ شروع ہوناہے، اس کی بھی کوئی مدت طے نہیں۔ ممکن ہے وہ الطاف حسین کوبھی اپنے ''غور'' میں شریک کرلے!!سو حاضرین، ناظرین، سامعین وقارئین! وارنٹ ریڈ ہوں یا نیلے ،پیلے، کچھ فرق نہیں پڑے گا! یہ وارنٹ تو 1992ء میںہی جاری ہو جانے چاہئیں تھے جب قتل، بھتہ خوری، اغوا برائے تاوان اور اپنے عقوبت خانوں میں مخالفین پر بدترین انسان دشمن تشدد کا ملزم الطاف حسین جان بچانے کے لیے رات کے اندھیرے میں فرار ہوکر لندن چلا گیا تھا۔اب 25 برسوں کے بعد ریڈ وارنٹ ! میں نے خاصی تحقیق کی ہے اس کے مطابق کسی ایسے شخص کو اس کے اپنے ملک کے سپرد نہیں کیا جا سکتا جو بہت بیمار ہو، عمر بہت ہوچکی ہو، وطن واپسی پر سزائے موت یا کسی تشدد کا خدشہ ہو۔سیاسی طورپر پناہ گزین شخص کو واپس نہیں کیا جاسکتا۔ الطاف حسین کے خلاف دوسرے مقدمات کے علاوہ اصل الزام 22 اگست کو کراچی کے ایک جلسہ میں پاکستان کی سلامتی کے خلاف ناقابل بیان نعرے لگانے اور لگوانے کا ہے۔ جہاں تک بھارت اور اس کے پاکستان دشمن ادارے 'را' سے مدد طلب کرنے کی بات ہے تو اس بات کو اظہار رائے کی آزادی قراردیاجاسکتا ہے بلکہ الطاف حسین کو بھارت اور 'را' نے ہی اپنی سرپرستی میں لندن میں سَیٹ کیا ہواہے ۔میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ ایسے شخص کو پاکستان نہ ہی لایاجائے! فضا کو خوا ہ مخوا بدبودار کرنے کا کیافائدہ؟ ٭افغانستان میں کام کرنے والی دہشت گرد تنظیم ''الاحرار''نے لاہور، پشاور اور کوئٹہ میں دھماکے کرانے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ اس کے سارے دہشت گرد افغانستان سے ہی آرہے ہیں۔افغانستان کاایک نام نہاد صدر بھی ہے جو ہر دو تین ماہ کے بعد اسلام آباد آتا ہے۔ مرغن کھانے کھاتا ہے اور پھر کابل جاکر پاکستان کے خلاف خوں فشاں بیانات دینے لگتا ہے! سو پاکستان میں دھماکوں کی براہ راست ذمہ داری افغانستان اور اس کے امریکی کٹھ پتلی صدر اشرف غنی پر عائد ہوتی ہے۔ جو اُلٹا پاکستان پر الزام لگاتا رہتا ہے۔ ٭عمران خاں نے ایک دلچسپ بات کہی ہے کہ وزیراعظم کے وزراء اور وکیل سمیع اللہ ، کلیم اللہ کی طرح گیند کوادھر سے اُدھر کررہے ہیں۔ سمیع اللہ اور کلیم اللہ دونوں بھائی ہیں، پاکستان کی ماضی کی عالمی شہرت یافتہ ہاکی ٹیم کے ممتاز کھلاڑی تھے۔ سمیع اللہ( بعض اخبارات نے سلیم اللہ لکھا ہے) لیفٹ آؤٹ کی پوزیشن پر کھیلنے والا دنیا کا تیز ترین کھلاڑی قراردیاجاتاتھا۔ اسے ہاکی کا فلائنگ ہارس بھی کہا جاتا تھا۔ ایسی ہی شہرت کلیم اللہ کو بھی حاصل تھی۔ کیا عظیم کھلاڑی تھے! کیا عظیم ٹیم تھی! اولمپکس کا گولڈ میڈل جیت کر آئی تو لاہور کے ہوائی اڈے سے داتا دربار تک کئی کلو میٹر طویل پرجوش استقبالیہ جلوس نکلاتھا۔ پھرہاکی کے ساتھ وہی کچھ ہوا جو سیاسی مگر مچھوں، بھیڑیوں اور چمگادڑوں نے ملک کی سیاست کے ساتھ کیا۔ بات ذرا دوسری طرف چلی گئی۔ عمران خاں کی ولولہ انگیزقیادت نے بھی ایک بار پاکستان کی کرکٹ ٹیم کو عروج پر پہنچادیا تھا۔ یہ لوگ یقینا قوم کے معزز ہیرو ہیں۔ عمران خاں کو سمیع اللہ ، کلیم اللہ جیسے ناموں کے کچھ اور جوڑ ے بھی بتا رہاہوں۔ سکھ برادری کے ہاں نتھا سنگھ اینڈ پریم سنگھ کا تفریحی جوڑا مشہور ہے مگرکراچی کے ایک جریدہ نے بہت عرصہ پہلے ''سیٹھ ٹائر جی ،ٹیوب جی'' کادلچسپ جوڑا ایجاد کیا تھا۔ یہ نام ان سیاست دانوں کو دیاگیا تھا جن کے موٹے پیٹ کبھی نہیں بھرتے! ممکن ہے خاں صاحب کو یہ نام زیادہ پسند آجائے! ٭بڑے اہتمام کے ساتھ خبر چھپوائی گئی ہے کہ صدر ممنون حسین نے عام شہریوں کی طرح قطار میں کھڑے ہوکر ڈرائیونگ لائسنس کا تجدیدی ٹوکن حاصل کیا۔ خبر میں یہ نہیں بتایاگیا کہ یہ ٹوکن کس جگہ لیاگیا؟ کیا صدر صاحب کسی پروٹوکول کے بغیر پولیس کے کسی دفتر کے باہرکھڑے ہوئے تھے؟ ان کے گرد کتنی گاڑیاں تھیں؟ اور اردگرد کتنی سڑکوں کو بندکردیاگیا تھا؟ اسی طرح کی ایک خبر ضیاء الحق کے بارے میں بھی آئی تھی کہ غریب عوام کا دردرکھنے والے سادہ مزاج صدر مملکت ملک میں سادگی کو فروغ دینے کے لیے آئندہ بائیسکل پر دفتر جایا کریں گے۔ پہلے روز اس کا یوں مظاہرہ ہوا کہ جنرل ضیاء الحق کوایک بائیسکل پر سوار دکھایاگیا ساتھ میں چند افسر بھی بائیسکلوں پردکھائے گئے۔ آگے پیچھے سکیورٹی کی بے شمار گاڑیاں، قدم قدم پر فوجی جوان، اردگرد کی سرکاری سڑکیں بند ! یہ تماشا صرف ایک روز چلا! اور اسی روز ختم ہوگیا، شائد بائیسکل خراب ہو گئی تھی!


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved