سیاسی قیادتوں کے مقابلے میں جہادی قیادتوں کا اتحاد؟
  17  فروری‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز
حکومت کے اندر کے با خبر اہم دوست کہہ رہے ہیں کہ آئندہ الیکشن کی تیاریاں شروع کردی گئی ہیں۔انتخابی مہم کے بارے میں اجلاس ہورہے ہیں کہ اس بار کیا نعرہ ہوگا۔ میڈیا والے بھی اسی حوالے سے منصوبہ بندی کررہے ہیں۔ پانچ سال میں مال بنانے کا یہی موقع ہوتا ہے۔ باہر سے ڈالرز اور درہم آنے کی بھی توقع ہے۔ یہی واقف حال کہہ رہے ہیں کہ کچھ نئے چینل اور اخبار بھی میدان میں اتریں گے۔ وزیر اعظم پاکستان جناب میاں محمد نواز شریف ہر ہفتے کچھ نا مکمل کچھ ادھورے منصوبوں کی نقاب کشائی کریں گے۔ اب سوچنا یہ چاہئے کہ کیا واقعی انتخابات کے لیے موسم مناسب اور سازگار ہے۔ قومی اور بین الاقوامی تناظر میں انٹیلی جنس رپورٹ ایسی ہی دی جارہی ہیںکہ کے پی کے میں بھی مسلم لیگ(ن) اور جمعیت علمائے اسلام مل کر پی ٹی آئی کی سیٹیں کم کردیں گے۔ عمران خان کے پی کے پر توجہ دے کر اسے مثالی صوبہ بنانے کی بجائے اسلام آباد کی حکومت ہٹانے کے لیے مصروف رہے۔ یا مصروف کردیے گئے۔ سندھ میں پی پی پی کو کوئی چیلنج نہیں ہے۔ شہری سندھ کی اکثریتی پارٹی ایم کیو ایم تین حصوں میں بٹ چکی ہے۔ یہاں مسلم لیگ (ن) کی کوئی سیاسی حیثیت نہیں ہے۔ البتہ گورنر ان کا جوشیلا حامی ہے۔ مگر وہ سندھ میں کسی طرح سیاسی طور پر اثر انداز نہیں ہوسکتا۔ سندھ میں دوبارہ پی پی پی کے ہی امکانات رہیں گے۔ اگر خود وہ کوئی بڑی غلطی نہیں کر بیٹھے۔پنجاب میں کوشش کے باوجود پی پی پی اپنا اثر بحال نہیں کرسکی ہے۔ یہاں پی ٹی آئی پی پی پی کے مقابلے میں اب بھی زیادہ مقبول ہے۔ مسلم لیگ(ن) نے پوری حکمت عملی یہ اختیار کی ہے کہ پی ٹی آئی اور پی پی پی اشتراک کار نہ کرسکیں۔ جاننے والے کہتے ہیں کہ اگر پی ٹی آئی اور پی پی پی۔ مسلم لیگ (ن) کے خلاف واقعی سچے دل سے انتخابی اشتراک کی پالیسی اختیار کرلیں تو مسلم لیگ (ن) کو نقصان پہنچاسکتے ہیں۔ مسلم لیگ(ق) ابھی گومگو کی کیفیت میں ہے۔ چوہدری شجاعت حسین کی دبئی میں پرویز مشرف سے ملاقات زیادہ نتیجہ خیز نہیں رہی ہے لیکن اس کا حقیقی نتیجہ 23مارچ کے بعد سامنے آسکتا ہے۔ کوشش یہ کی جائے گی کہ مسلم لیگ(ن) کے ناراض۔ منحرف اور نظر انداز کیے گئے مسلم لیگیوں کو متحدہ مسلم لیگ کے پلیٹ فارم پر لایا جائے انہیں پی ٹی آئی یا پی پی پی کی طرف نہ جانے دیا جائے۔ ہر الیکشن میں ایک نمایاں کردار پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کا ہوتا ہے۔ یہ بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر مستقبل کی منصوبہ بندی کرتی ہے۔ اس وقت دلچسپ صورت حال یہ ہے کہ پہلی بار امریکی صدر اور امریکی اسٹیبلشمنٹ مکمل طور پر ہم آہنگ نہیں ہیں۔ اس لیے ابھی پاکستانی اور بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ میں مضبوط رابطے نہیں ہیں۔ پاکستان میں بین الاقوامی امور پر گہری نظر رکھنے والے ایک بالکل نئی جہت سامنے لارہے ہیں کہ پاکستان کے الیکشن میں اب فیصلہ کن کردار امریکہ کو نہیں چین کو حاصل ہوگیا ہے۔ اب امریکہ سے کہیں زیادہ چین کے مفادات پاکستان میں ہیں۔ چین اپنے طور پر حکمت عملی بنارہا ہے کہ اس کے 50ارب سے زیادہ ڈالر اور پاکستان میں ایک لاکھ سے زیادہ ، چینی کس سیاسی نقشے میں محفوظ رہ سکتے ہیں۔ چین اب سفارت کاری میں بھی اپنے روایتی طریقے بدل چکا ہے۔ چین کی انٹیلی جنس بھی اب پاکستان میں امریکہ روس اور بھارت کی ایجنسیوں سے زیادہ سرگرم ہے۔ چین کو دوسرے تمام ملکوں پر اس لیے ترجیح حاصل ہے کہ عام پاکستانی زیادہ تر چین کو اپنا سچا دوست سمجھتا ہے۔ وہ تصور ہی نہیں کرسکتا کہ چین پاکستان کو کوئی نقصان پہنچا سکتا ہے اس لیے سیاستدان۔ علمائ۔ طالب علم۔ تاجر۔ صنعت کار سب ہی چینی سفارت کاروں سے کھل کر بات کرتے ہیں۔چین کے پالیسی ساز اس وقت یہ جائزہ لے رہے ہیں کہ سی پیک کے پروگرام کامیابی سے اور بحفاظت موجودہ حکمرانوں کے تحت ہی چل سکتے ہیں۔ یا اس کے لیے سیاسی تبدیلی ضروری ہے۔ جن سفارت کاروں سے ملنے کا اتفاق ہورہا ہے۔ وہ یہی بتاتے ہیں کہ چین پاکستان میں کسی بڑی تبدیلی کو اپنے حق میں نہیں سمجھتا۔ اس کی مفاہمت آصف علی زرداری۔ اور میاں نواز شریف دونوں سے ٹھیک ٹھاک ہے البتہ چین اپنے طور پر مذہبی تنظیموں سے بھی راہ و رسم بڑھارہا ہے۔ اور قوم پرستوں سے بھی۔ حکمرانوں۔ بیورو کریٹوں اور عسکری قیادت سے اس کے تعلقات پہلے ہی مستحکم ہیں۔ یہ سب کچھ دیکھ کر جو سیاسی نقشہ مرتب ہورہا ہے۔ وہ نشر مکرّر۔ یعنی Repeatپروگرام ہی لگتا ہے۔عمران خان کو خیبرپختونخوا میں اپنی پوزیشن برقرار رکھنے کے لیے بنی گالہ میں قیام محدود رکھنے کی بجائے پشاور میں خیمہ زن ہونا پڑے گا۔ورنہ کے پی کے بھی ان کے ہاتھ سے نکل سکتا ہے۔ پنجاب میں پی ٹی آئی کو کوئی نہ کوئی سیاسی ہم سفر تلاش کرنا ہوگا یہ تو ہوگئی سیاسی جوڑ توڑ کی صورت۔ ملک کی اقتصادی حیثیت میں سی پیک کے باوجود کوئی خاص فرق نہیں پڑ رہا ہے۔ وزیراعظم نے کئی بین الاقوامی بڑی کمپنیوں کے سربراہوں سے پاکستان میں سرمایہ کاری کی بات کی ہے اور یہ وعدے بھی کیے ہیں کہ سرمایہ کاری کے قوانین میں نمایاں تبدیلی کی جاسکتی ہے۔ توانائی کی فراہمی میں کچھ بہتری ہوئی ہے مگر گیس اور پانی کی فراہمی اب بھی تسلی بخش نہیں ہے۔مینو فیکچرنگ میں پاکستان بہت پیچھے رہ گیا ہے۔ چین کی مصنوعات وافر مقدار میں آرہی ہیں۔ نسبتاً سستی بھی ہیں۔ اقتصادی حلقے کہہ رہے ہیں چینیوں کی موجودگی بڑھنے سے چینی مصنوعات کی درآمد میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔ متعلقہ کارخانے بند ہورہے ہیں۔ جوتے کی صنعت متاثر ہوئی ہے۔ دوسری اشیائے ضرورت کی صنعتیں بھی مقابلے میں ٹھہر نہیں سکیں گی ۔ کیا ہم اب چین کی منڈی بن کر رہ جائیں گے۔ نئی صنعتوں اور نئی سرمایہ کاری کے لیے حکمراں پارٹی نئی مراعات کا اعلان کرسکتی ہے ۔ صنعتی کاروباری اکثریت ابھی تک مطمئن نہیں ہوسکی ہے۔ وزیر خزانہ۔ وزیر تجارت دونوں سے شکایات رہتی ہیں۔ مختلف سیکٹروں سے تاجر برادری احتجاجی مظاہرے کرسکتی ہے۔ لیکن حکمراں پارٹی کو یہ اطمینان ہے کہ ان کا مدّ مقابل کوئی نہیں ہے۔ ووٹرز کے پاس کوئی دوسرا آپشن ہے ہی نہیں۔ خفیہ ایجنسیاں رابطے تو کررہی ہیں لیکن کوئی نئی قیادت سامنے لاسکیں کوئی حیرت کوئی تعجب پیدا کرسکیں۔ اس کا امکان نہیں ہے۔ پنجاب میں بھائی کو بھائی سے سندھ میں باپ کو بیٹے سے لڑوانے کی منصوبہ بندی تو کی گئی مگر ابھی تک خاطر خواہ کامیابی نہیں ہوسکی ہے۔ ایک سوچ یہ بھی ہے کہ سیاسی قیادتوں کا راستہ مذہبی قیادتوں کے ذریعے ہی روکا جاسکتا ہے۔عوام کا ایک بڑا حلقہ نام نہاد جمہوریت سے بیزار ہے۔ ان کا ایمان ہے کہ اسلامی نظام ہی ہماری ساری مشکلات آسان کرسکتا ہے۔ بھارت کی سازشیں بھی اسلامی اتحاد سے ہی ناکام بنائی جاسکتی ہیں۔ کرپشن کا راستہ بھی اسلامی نطام سے ہی رک سکتا ہے۔جہادی تنظیموں کی کتابیں اور میگزین بڑی تعداد میں بک رہے ہیں۔ اسلامی تنظیمیں سیاسی جماعتوں کے مقابلے میں عوامی سطح پر پاکستانیوں کی بہبود کے لیے زیادہ کام کررہی ہیں۔ حافظ محمد سعید کی نظر بندی پر عوامی ردّ عمل کا تجزیہ بھی کیا جارہا ہے۔ امریکہ اور بھارت کے خلاف بڑھتی نفرت کو بھی اظہار کا راستہ مذہبی تنظیموں کی قیادتوں میں مل سکتا ہے۔ اس لیے کوئی عجب نہیں کہ الیکشن کے قریب قریب مذہبی جہادی تنظیمیں کسی سیاسی اتحاد کی صورت میں سامنے آسکیں۔ آپ کا کیا خیال ہے۔ ایس ایم ایس کیجئے۔ 0331-7806800

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 




  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved