کہاں پہ چیک دینے ہیں لاشوں کے؟۔۔۔میرے شیڈول میں لکھ لو!
  20  فروری‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

میرے وطن کے 20 کروڑ اِنسانوں کی 40 کروڑ آنکھیں سلگ رہی ہیں۔ بہنیں بھائیوں کی قبروں پرپُھول اور دِل پر انگارے رکھتے ہوئے دیکھی نہیں جاتیں۔ ماؤں کی آغوشیں ویران سرائے کی مانند جگر گوشوں کے لمس کے لئے لرزاں و ترساں ہیں۔ بھائی بھائیوں کے لاشے اُٹھائے ہوئے سوئے لحد رواں دواں ہیں۔ باپ خمیدہ کمر ہیں۔ بچے اُداس ہیں۔ کسی کے سر پر باپ کا سایہ نہیں تو کوئی اپنے بچے سے محروم نظر آتا ہے۔ گلی گلی میں وحشت ناچ رہی ہے۔ لاشوں کے ڈھیر پر بارود رقص کر رہا ہے۔ انگارے شراروں میں بدل رہے ہیں۔ انسانی بدن کے گوشت کے ٹکڑے ہواؤں میں بکھر رہے ہیں۔ سڑکوں پر موت رواں دواں ہے۔ موت پر دہشت گردوں کی گرفت ہے۔ زندگی سانسوں کے پنجرے میں قید اذنِ رہائی کی منتظر دکھائی دے رہی ہے۔ چیخیں ہیں۔۔۔آہیں ہیں۔۔۔نالے ہیں۔۔۔سسکیاں ہیں۔۔۔بے بسی۔۔۔لاچارگی۔۔۔بے بسی۔۔۔چارہ گروں کو صدائیں دے رہی ہیں۔ بلائیں دے رہی ہیں۔ مگر اندھی آنکھیں دیکھنے سے قاصر ہیں۔ بہرے کان سننے سے عاری ہیں اور گونگی زبانیں حرفِ ملامت ڈھونڈ رہی ہیں۔ منظر پس منظروں کو نگل رہے ہیں۔ باغ بہاروں سے جدائی کا سبب پوچھ رہے ہیں قمریاں، بلبلیں، شاخ شاخ کو جلتا ہوا دیکھ رہی ہیں۔ سردیوں کے موسم میں دوزخ تڑپ رہی ہے۔ مسجد، مندر، کلیسا، گرجاگھر، گردوارہ، امام بارگاہ، عبادت الٰہی کی ساری جگہیں لرزہ براندام ہیں۔ بچے حوف زدہ، مائیں ششدر، باپ مجبور، بہنیں پریشان، بھائی بے بس ہیں۔ یہ کیسی سلطنت ہے؟ یہ کیسی ریاست ہے؟ یہ کیسا مُلک ہے؟ جہاں جینے کے لئے بارود سونگھنا لازم قرار دیدیا گیا ہے۔ یہاں عجیب امور زندگانی دکھائی دیتے ہیں کہ بادشاہ سے لے کر گدا گر تک سبھی کے سبھی غیر محفوظ ہیں۔ سکول جاتے ننھے فرشتے ہوں یا بچوں کے رزق کی خاطر گھر کی دہلیز سے باہر نکلنے والے محنت کش، افسرانِ بالا ہوں یا معمولی ملازمین، عساکر پاکستان، پولیس، قانون دان، تاجر، حتیٰ کہ بزرگوں کی درگاہوں پر محبت اور امن کے ترانے پڑھنے والے زائرین۔۔۔یہ سب کے سب غیر محفوظ ہو چکے ہیں۔ پورا ملک دہشت گردوں کے ہاتھوں میں جلنے والے بارود کے نشانے پر ہے۔ کوئی گھر، گلی، بازار، کوچہ، چوراہا، چوبارہ، کوئی سرکاری، غیر سرکاری عمارت، کوئی شاہ راہ، کچھ بھی تو محفوظ نہیں رہا۔یہ پاکستان ان دہشت گردوں کے لئے تو حاصل نہیں کیا گیا تھا۔ کہ یہاں سانس لینا بھی محال ٹھہرے۔۔۔امر واقعہ یہ ہے کہ اِن سب حالات و واقعات کی اصل ذمہ داری قیادت پر عائد ہوتی ہے۔ میری ناقص رائے کے مطابق میرے وطن کی قیادت اِن تمام بم دھماکوں کی ذمہ دار ہے۔ جن قوموں کے قائد کرپٹ اور بدعنوان ہو جائیں ان قوموں کے شہر ویران اور راستے سنسان ہو جایا کرتے ہیں۔ میرے وطن کے سنسان راستے اور ویرانی کی طرف بڑھتے ہوئے شہر اِس امر کا اعلانِ عام کر رہے ہیں کہ اِس وطن کی قیادت کرپشن کا تاج پہنے ہوئے ہے۔ مگر یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ یہ کرپٹ قیادت جو خود کو اِن بم دھماکوں سے محفوظ سمجھ رہی ہے۔ اور کرپشن کی بُلٹ پروف دیوار کے پیچھے زیست کی رعنائیوں میں کھیلنے، کودنے والی یہ قیادت کہیں بُھول نہ جائے کہ بارود کے جس دھوئیں میں غریب ماں کا بیٹا جل کر خاکستر ہو گیا ہے۔ اُسی راکھ میں دبی ہوئی کوئی چنگاری ایوانِ اقتدار کو بھی بھسم کر سکتی ہے۔ دانشوروں کا کہنا ہے کہ دہشت گرد طاقتور نہیں ہیں حکومت پاکستان کمزور ہو چکی ہے۔ اور حکومتیں اُس وقت کمزور ہوتی ہیں جہاں انصاف کا گلا گھونٹ دیا جاتا ہے۔ جہاں امیر کے لئے اور قانون ہوتا ہے اور غریب کے لئے اور قانون، جہاں شاہ سونے کا نوالہ کھاتا ہے اور گدا بھوک کی ہچکیوں پر گزارہ کرنے پر مجبور ہوتا ہے جہاں مالک اور غلام کے کپڑوں کے رنگوں میں امتیاز آ جائے گا وہاں اقتدار کی رسی ڈھیلی ہونے کے باوجود ضُعف کا شکار ہو جایا کرتی ہے۔ پھر ایسے معاشروں میں عوام کو سہانے مستقبل کا جھانسہ دے کر ووٹ حاصل کرنے والے سیاستدانوں کے بارے میں شعرا یہ کہنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ۔ میرے وطن کی سیاست کا حال مت پوچھو گھری ہوئی ہے طوائف تماش بینوں میں تماش بینوں میں گھری ہوئی یہ طوائف بدکرداری میں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتی۔ اور حقیقت امر اِس تصوراتی کہانی کا یوں ابلاغ کرتی ہے کہ ہمارے معاشرے کا سیاست دان اپنے جونیئر سے ہر رات سونے سے قبل اگلے دِن کے شیڈول کو اپنی دن بھر کی حسرتوں سے مزیّن کرنے کے لئے کتنا بے چین دِکھائی دیتا ہے۔ کچھ عرصہ قبل میں نے معاشرے کے اِس بدکردار، کردار کے اوپر اپنی فی البدیہہ آزاد نظم میں اس امر کو طشت ازبام کیا تھا کہ بہت مصروف ہوتا جا رہا ہوں۔۔۔کئی اہداف۔۔۔ کھوتا جا رہا ہوں۔۔۔تمہیں اِک بات کہنی ہے۔۔۔ذرا تم غور سے سن لو۔۔۔فردا کے میرے معمول میں لکھ لو۔۔۔ میرے شیڈول میں لکھ لو۔۔۔ کہ کل۔۔۔میٹنگ سے ذرا پہلے۔۔۔کالی شیروانی میں ۔۔۔کون سا۔۔۔کندھا۔۔۔پھنسانا ہے؟ ۔۔۔کہاں پہ غسل کرنا ہے؟۔۔۔کہاں نوروں نہانا ہے۔۔۔؟ میرے شیڈول میں لکھ لو۔۔۔کہاں قہقہہ لگانا ہے۔۔۔کہاں پہ مسکرانا ہے؟۔۔۔کہاں ہنستی ہوئی آنکھوں کو۔۔۔؟ دفعتاً؟ نمناک کرنا ہے۔۔۔ بہت غم ناک کرنا ہے۔۔۔؟ کہاں پہ پُھول رکھنے ہیں؟۔۔۔کہاں چادر چڑھانی ہے؟۔۔۔کہاں پہ بیج بونا ہے؟۔۔۔کرپشن کا۔۔۔؟ کہاں پودا لگانا ہے؟۔۔۔ میرے شیڈول میں لکھ لو۔۔۔کہاں تقریر کرنی ہے؟۔۔۔ کہاں خاموش رہنا ہے؟۔۔۔کہاں تکبیر پڑھنی ہے۔۔۔کہاں پہ گنگنانا ہے؟۔۔۔میرے شیڈول میں لکھ لو۔۔۔کہاں پہ چیک دینے ہیں؟۔۔۔لاشوں کے؟۔۔۔ورثاء کے جنازوں کو؟۔۔۔ کہاں پہ کندھا دینا ہے؟۔۔۔میرے شیڈول میں لکھ لو۔۔۔میرے شیڈول میں لکھ لو۔۔۔!!!


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved