فوجی کارروائی کے ساتھ علمی ‘فکری کارروائی بھی
  20  فروری‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

قلم ذہن کا ساتھ نہیں دے رہا ہے۔ دل زخمی ہے۔ روح گھائل ہے۔ میری دھرتی کو اور کتنوں کا لہو چاہئے۔ یہ زمین خون کی پیاسی کیوں ہے۔ وہ جو پانچواں چراغ جلانے آئے تھے۔ حسرتوں کی پیاس بجھانے آئے تھے۔ لعل شہباز قلندرؒ کے وسیلے سے اللہ تعالیٰ سے کرم مانگ رہے تھے۔ اپنے گناہوں پر توبہ کررہے تھے۔ ان کے سر وجد میں تھے۔ ان کی روحیں سرور میں تھیں۔ اپنے خالق حقیقی کے حضور انتہائی خشوع و خضوع سے آنے والے دنوں میں امن کی دُعا مانگ رہے تھے۔ اپنے لیے۔ اپنے گھر والوں کے لیے۔ اپنے عظیم وطن کے لیے۔ وہ کسی پر تیر چلارہے تھے نہ کسی کو نیزے کی انی پر اٹھارہے تھے۔ ان کی تلوار بھی نیام سے باہر نہیں تھیں۔ ان کی زبانوں پر بھی کسی کے لیے دشنام نہیں تھی۔ قلندر کا نام تھا۔ حضور اکرم ؐ کے لیے درود تھے۔ اللہ کے آگے مناجات تھیں۔ کیا کیا مرادیں ماننے آئے تھے۔ان کی مائیں ان کی واپسی کی منتظر ہوں گی۔ کتنی تمنّائیں ان کی بہنوں کے دلوں میں موجزن تھیں۔ ان کے بیٹے بیٹیاں کیا کیا خواب دیکھ رہی ہوں گی۔ یہ دشمن جسے ہم اب تک بے چہرہ کہتے تھے۔ جن کے بارے میں بڑے بڑے ایوانوں سے۔ قلعوں سے سپا ہ کی صفوں سے کہا جارہا تھا کہ ہم نے ان کی کمر توڑ دی ہے۔ اب یہ چھپتے پھر رہے ہیں۔ ہم کہہ رہے تھے کہ دنیا ہماری تعریف کررہی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہم نے بہت قربانیاں دی ہیں۔ اب لاہور سے گوادر تک پورا پاکستان سکتے میں ہے کہ سات دن میں پانچ دھماکے۔ پھر گولہ بارود بڑی مقدار میں کہاں سے آگیا۔ خود کش بمبار پھر جنّت کے راستے کشت و خون اور ہلاکتوں میں ڈھونڈنے لگے۔ کیا ان کی ڈور سرحد پار سے ہلائی جارہی ہے۔ کیا ان کے سلسلے تخت دہلی سے جڑے ہوئے ہیں۔ یا یہ کابل سے بیٹھے اپنے مہربان۔ محسن پاکستان کو تاخت و تاراج کرنا چاہتے ہیں۔ ایسے تجزیے یقیناًکسی حد تک درست ہوسکتے ہیں۔ را کے بھیانک عزائم بھی اس کے پس پردہ کار فرما ہوسکتے ہیں۔ موساد اور بلیک واٹر بھی سرگرم ہوسکتے ہیں۔ اس طرح تسلسل سے جب دہشت گردی کی وارداتیں ہونے لگیں تو کیا ہمارے سیکورٹی ادارے غفلت کے مرتکب ہورہے ہیں کیا ہماری انٹیلی جنس کمزور ہوگئی ہے کیا یہ کسی آنے والے بڑے طوفان کا اشارہ ہے ۔ بہت تجزیے ہورہے ہیں۔ تبصرے ہورہے ہیں۔ لیکن انتہا پسندی کی اصل جڑ اکھاڑنے کے لیے کوئی بات نہیں کررہا ۔ اس کی طرف کوئی اشارہ نہیں کررہا ہے۔ اتنے بڑے سانحے کے فوراً بعد کہہ دیا جاتا ہے کہ اس میں را ملوث ہے۔ یا افغان سرحد کے پار سے یہ خطرات وارد ہورہے ہیں۔ ایسے بیانات محض وقت گزاری اور لوگوں کی توجہ غم کی شدت سے ہٹانے کے لیے تو ہوسکتے ہیں مگر اس خوفناک رجحان کو ختم کرنے میں کوئی مدد نہیں مل سکتی۔ صرف فاٹا میں نہیں صرف شمال یا جنوبی وزیرستان میں نہیں۔ مسلم نوجوانوں میں اشتعال پورے پاکستان میں ہے۔ سارے اسلامی ملکوں میں ہے۔ یہ صرف چند سال کی بات نہیں ہے۔ ایک طویل مدت سے قاہرہ۔ ریاض۔ تیونس۔ رباط۔ تہران۔ جکارتا۔ دبئی۔ استنبول اور دوسرے شہروں میں مسلمان نوجوان اپنے غاصب۔ کرپٹ حکمرانوں کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔ ذہنی کشمکش میں ہیں۔ جنّت کا راستہ تلاش کررہے ہیں۔ پاکستان میں یہ برہمی دو آتشہ ہوگئی ہے۔1979سے جب سے امریکہ نے روس کے خلاف ہمارے مذہبی جذبات کو ہتھیار بناکر استعمال کیا۔ تو پاکستان کا نوجوان اس کشمکش کا شکار ہوگیا ہے کہ جنّت کا راستہ کس طرف سے گزرتا ہے۔ اس کشمکش اور تذبذب نے ذہنوں میں ایک کھلبلی مچارکھی ہے۔ بہت سے سوالات نوجوانوں کے ذہنوں میں تڑپ رہے ہیں۔ پاکستان ایک نوجوان اکثریت کا ملک ہے۔12کروڑ پاکستانی 15سے 29سال کی عمر کے ہیں۔ یہ عمر بہت ہی نزاکتیں بھی رکھتی ہے۔ خطرناک بھی۔بہت توانائی ۔ حد درجہ جذبات۔ سیاستدان نوجوانوں کے کندھوں پر بیٹھ کر وزیر اعظم ہاؤس ۔ وزیر اعلیٰ ہاؤس پہنچ جاتے ہیں۔ پھر اپنے گیٹ نوجوانوں کے لیے بند کردیتے ہیں۔ یونیورسٹیوں کی تعلیم نوجوانوں کے سوالات کے جوابات نہیں دیتی۔ روزگار کے مواقع کرپٹ حکمرانوں نے بند کر رکھے ہیں۔ قومی مفادات ہم نے طے نہیں کیے۔ منزل کا تعین نہیں کیا ہے۔ مذہب کے نام پر کتنے ہی فرقہ پرستوں نے الگ الگ راستے اختیار کیے ہوئے ہیں۔ ایسی ایسی تقریریں ہورہی ہیں۔ لٹریچر چھپ رہا ہے تقسیم ہورہا ہے کہ کافروں کو مسلمان بنانے کی بجائے مسلمانوں کو کافر قرار دیا جارہا ہے۔ سیاسی مایوسیاں۔ مذہبی اختلافات۔ اقتصادی محرومیاں۔ لسانی ٹکراؤ۔ جاگیردارانہ جبر۔ یہ سب مل کر نوجوانوں کو مشتعل کررہے ہیں۔ انتہا پسند مذہبی تنظیمیں۔ مختلف ناموں سے اگر نوجوانوں کی ذہنی کشمکش کا فائدہ اٹھاتی ہیں۔ ان کی تقریروں میں تاثیر ہے۔ وہ وہی کہتی ہیں جو وہ کرتی ہیں ۔ وہ ہلاکت کو ہی ہدایت کا ذریعہ سمجھتی ہیں۔ نوجوان جو اپنی زندگی کو ہتھیار بنانے پر آمادہ ہوتا ہے وہ اسے جرم نہیں سمجھتا۔ وہ اسے عین عبادت تصور کرتا ہے۔ ہمیں ان انتہائی خطرناک رجحانات کا سامنا ہے۔ یہ صرف انتظامی۔ اور عسکری پالیسیوں سے ختم نہیں کیے جاسکتے۔ میں تو ایک عرصے سے یہ لکھتا اور کہتا آرہا ہوں کہ ہم سب کو مل جل کر ان علاقوں میں کام کرنا ہوگا۔ جہاں خود کش بمبار تیار کیے جاتے ہیں ۔ جہاں ان کی نرسریاں ہیں۔ یہ جنرلوں۔ بریگیڈیروں یا آئی جیوں ۔ ڈی آئی جیوں کے بس کا کام نہیں ہے۔ اس چیلنج سے علماء نمٹ سکتے ہیں اسکالرز اس کا مقابلہ کرسکتے ہیں۔ نیشنل ایکشن پلان اپنی جگہ بہت اہم ہے۔ لیکن یہ اس جگہ کوئی اثر نہیں ڈال سکا ہے۔ جہاں انتہا پسندی کی فصل اگائی جارہی ہے۔ بات ان نوجونوں کے دل اور ذہن جیتنے کی ہے۔ جنہوں نے انسانی ہلاکتوں کو ہی جنّت کا راستہ سمجھ لیا ہے۔ ہم بہت سنگین مذہبی بحران سے دوچار ہیں۔ اس لیے اس قوم کو ایک مذہبی پالیسی کی ضرورت ہے۔ صرف قبائلی علاقوں تک ہی نہیں پاکستان میں عوام کی اکثریت یہ جمہوریت اور مارشل لاء سے بیزار ہوکر اسلامی نظام کو اپنا نجات دہندہ سمجھتی ہے۔ اسلامی نظام کی حدود و قیود کا تعین کیا جانا چاہئے۔ مملکت کو واضح طور پر مذہبی انتہا پسندی کو مذہبی اعتدال پسندی میں تبدیل کرنے کے لیے فکری۔ علمی۔ تہذیبی سطح پر کچھ کرنا ہوگا۔ حفاظتی اقدامات اور فوجی کارروائیاں ہمیشہ جاری نہیں رکھی جاسکتی ہیں۔ ان کے ردّ عمل میں بھی انتہا پسندی شدت اختیار کرتی ہے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ خود کش بمبار یا دوسرے انتہا پسند۔ مسلمان نوجوان ہماری بات ماننے کی بجائے را یا افغان خفیہ ایجنسیوں کی بات کیوں مانتے ہیں؟ اللہ تعالیٰ کی سب سے حسین نعمت زندگی کو از خود ختم کرنے پر کیوں آمادہ ہوجاتے ہیں۔ فوجی آپریشن کو نتیجہ خیز بنانے کے لیے علمی اور فکری آپریشن ناگزیر ہے۔ آپ کا کیا خیال ہے۔ ایس ایم ایس کیجئے۔0331-7806800


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved