حقیقی سہولت کار
  22  فروری‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

جس بات کا خدشہ تھا وہ ہو کے رہی۔ وطن عزیز میں دہشت گردی کی زوردار لہر اٹھی۔ سینکڑوں گھرانوں میں کہرام بپاہے۔ خوف اور بے یقینی کے سائے گہرے ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ صاحبان علم و دانش نے ہمہ جہت سوال اٹھائے ہیں۔ اگر ارباب اقتدار میڈیا پہ جاری مباحث سے قابل عمل نکات کا نچوڑ اخذ کرکے اپنی کار کردگی بہتر کر پائیں تو شایدٔ آنے والے دنوں میں دیرپا امن کی بحالی ممکن ہو سکے۔ فاٹا ، پنجاب ، سندھ ، خیبر پختو نخواہ اور بلوچستان میں یکے بہ دیگرے حملوں کے ذریعے دہشت گردوں نے یہ ثابت کرنے کی بھرپور کو شش کی ہے کہ وہ ملک بھر میں اپنے اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس صلاحیت کا اظہار بظاہر ضرب عضب کی کامیابیوں کے لییء بڑا چیلنج ہے۔ لیکن درحیقیقت حالیہ حملوں نے نیشنل ایکشن پلان پہ حکومت وقت کی نا قص حکمت عملی کو طشت از بام کردیاہے۔ یہ امر قابل غور ہے کہ ضرب عضب کے آغاز کے بعد آرمی پبلک سکول پشاور کا بدترین سانحہ رونما ہوا جس کے ردعمل میں سیاسی قیادت نے متفقہ طور پر نیشنل ایکشن پلان کی شکل میں راہ عمل متعین کی تھی۔ دو سال سے زائد عر صہ گزرجانے کے بعد نیشنل ایکشن پلان پہ عمل در آمد کے حوالے سے حکومت کی کار کردگی غیراطمینان بخش رہی ہے۔ گا ہے بگاہے صحافتی اور سیاسی حلقے اس حوالے سے ارباب اقتدار کو گہری نیند سے جگانے کی کوشش کرتے رہے لیکن صد افسوس کہ کسی ذمہ دار کے کان پہ جوں تک نہ رینگی۔ البتہ زبانی دعؤوںکی حد تک حکومتی اہل کاروں کی کارکردگی ہمیشہ لاجواب رہی ہے۔ کسی ٹاک شو یا پریس کانفرنس میں حکومت وقت کی شاندار کارکردگی کے قصیدے اس مہارت سے سنائے جاتے ہیں کہ گویا وطن عزیز کے گلی کوچوں میں دودھ اور شہد کی نہریں بہہ رہی ہوں۔ حقیقت حال یہ ہے کہ دہشت گردوں کے سہولت کار ہر چھوٹے بڑے شہر میں صوبائی حکومتوں کی عین ناک کے نیچے سرگر م عمل ہیں ۔ بارودی مواد قبائلی علاقے اور خیبر پختونخوا سے ہوتا ہوا پنجاب ، سندھ اور بلوچستان تک بلاروک ٹوک پہنچ جاتاہے۔ کیا وفاقی اور صوبائی حکومتیںاوران کے قصیدہ خواں یہ بتانا پسند فرمائیںگے کہ بارودی مواد اور مہلک ہتھیاروں کی آزادانہ ترسیل کو روکنا کس کی زمہ داری ہے۔ چیئرنگ کراس لاہور ، حیات آباد پشاور اور سیہون شریف سندھ میں عوام کے جان ومال کا تحفظ کس کی ذمہ داری تھی۔ کیا سرکاری شفاخانے زخمیوں کو مناسب طبی امداد فراہم کر رہے ہیں زخمیوں کو اسپتالوں میں منتقل کرنے کے لئے حکومت سند ھ کے وسائل اور انتظامات انتہائی ناقص تھے۔ ایدھی فاونڈیشن کے سربراہ محترم فیصل ایدھی کے مطابق ایسے حادثات میں زخمیوں کی جان بچانے اور مناسب طبی امداد فراہم کرنے کے لئے بڑے سائز کی جدید ایمبولینسسز درکار ہوتی ہیں۔ایدھی فاونڈیشن کی جدید ایمبولینسسز کی ایک کھیپ کراچی پورٹ پہ گوداموں میں کھڑی ہے۔حکومت وقت نے فلاحی مقاصد کے لئے درآمد کی گئی ان ایمبولینسسز پہ بے جا ٹیکسز بھی وصول کئے اور نوکر شاہی کے روائتی تاخیری حربے استعمال کر کے آج تک ان ایمولینسزکو ایدھی فائونڈیشن کے حوالے نہیں کیا۔ یہ ہے ہمارے ارباب اقتدار اور انتظامیہ کا صلی چہرہ ۔ اب ذرا یاد کیجیے ٔ وہ مناظر کہ جب عبدالستار ایدھی صاحب بستر مرگ پہ تھے تو کون سی شخصیات فوٹو سیشن کے لیۓ حاضر ہوا کرتی تھیں۔ پھروہ بیانات اور دعوے یاد کیجئے جو ایدھی صاحب کے انتقال اور جنازے کے موقع پہ جاری کئے گئے تھے۔زمینی حقیقت یہ ہے کہ عوامی عطیات سے چلنے والے فلاحی منصوبے بھی ارباب اختیار کی نااہلی اور بدعنوانی سے محفوظ نہیں۔ غالب گمان ہے کہ سیہون شریف دھماکے کے نتیجے میںموقع پر شھید ہونے والے افراد سے کہیں ذیادہ تعداد ان شھداء کی ہے جو ناقص طبی سہولیات اور مناسب ایمبولنسز کے فقدان کی وجہ سے اپنی جانوں سے ہا تھ دھو بیٹھے۔ یہ حقیقت ہے کہ سیاست کے سینے میں واقعی دل نہیں ہوتا ہے ۔ صوبہ سندھ کی حکمراں جماعت کے دو اہم راہنماوئں نے لعل شباز قلندر کی درگاہ پہ کھڑے ہوکے نیشنل ایکشن پلان کے حوالے سے وفاقی حکومت کو خوب آڑے ہاتھوں لیا۔ مقام حیرت ہے کہ جس نیشنل ایکشن پلان کے حوالے سے ان راہنماوں کے پیٹ میں مروڑ اٹھا ہے اس پہ سندھ حکومت کی اپنی کارکردگی انتہائی ناقص ر ہی ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جاری پیچیدہ جنگ کا ایک ا فسوسناک پہلو یہ بھی ہے کہ میڈیا کے محتلف ذرائع استعمال کرکے پاکستان کے خلاف منفی فضاء قائم کی جا رہی ہے۔ صحافت سے وابستہ ایک قا بل احترام شخصیت نے مجھے ایسے ہی دو اہم مضامین کی جانب متوجہ کیا۔ نیوزویک کی حالیہ اشاعت میں ایک تجزیہ نگار نے پورے شدومد سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ طویل عرصے سے پاکستان میں جاری دہشت گردی اور عدم استحکام کا کوئی تعلق بھارت سے نہیں ہے ۔ یہ درحقیقت ہماری اپنی کوتاہیوں اور غلط پالیسوں کا نتیجہ ہے۔ ایک رپورٹ انٹرنیشنل کرائسز گروپ نامی این جی او کے زیر اہتمام کراچی کے حوالے سے شائع ہوئی ہے۔ اس رپورٹ کا لب لباب یہ ہے کہ کراچی بھارت مخالف جہادی تنظیموں کا گڑھ ہے اور پاک فوج ان تنظیموں کی پشت پناہی کرتی ہے ۔غیر ملکی مالی امداد سے چلنے والی این جی اوز جرائد ورسائل اور انٹر نیٹ پہ دستیاب لا تعداد ویب سائٹس کحچھ مخصوص اہداف کے حصول کیلئے حقائق کو توڑ موڑ کے ایسا تا ثر قائم کرتی ہیں جو ان کو مالی وسائل فراہم کرنے والوں کی منشا کے مطابق ہو ۔ غیر ملکی امداد پہ چلنے والے ان اداروں سے گلہ جائز نہیں کیوں کہ وہ اپنے مالکان کے دئے گئے اہداف پہ کام کرتے ہیں۔ ہمارا گلہ ارباب اختیار سے ہے کہ پاکستان کے خلاف جاری کثیرالجہتی منفی میڈیا مہم کے سدباب کے لییء کوئی اقدام نہ اٹھا کے آخر وہ کس کے مفاد کا تخفظ کر رہی ہے۔ خطے میں طویل عرصے سے ایک پیچیدہ تذویراتی کش مکش جاری ہے ۔ امریکہ ، روس اور چین جیسی بڑی طاقتیں اپنے اہداف کے حصول کے لییء یک سو ہیں۔ بھارت ، ایران اور پاکستان کے بغیر یہ عالمی طاقتیں اپنے اہداف حاصل نہیں کر سکتیں۔ مقام افسوس ہے کہ ارباب اقتدار نہ تو موجودہ صورت حال کا ادراک رکھتے ہیں اور نہ ہی اس حوالے سے کچھ کرنے کا ارادہ۔ اس خوفناک نااہلی سے ہونے والے نقصانات کی مختصر جھلک مستقبل کے بھیانک منظر نامے کی نشاندہی کر نے کے لئے کافی ہے۔کشمیر میں جاری تحریک آزادی کی موثر حمایت کرنے میں ناکامی کے ساتھ ساتھ افغانستان کے حوالے سے بھی سیاسی قیادت گو مگو کاشکار ہے۔سی پیک کا ڈھول تو بہت پیٹاہے لیکن امن کی بحالی اور قانون نافذکرنے والے اداروںکی استعداد کار بڑھانے کے لئے کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔دھشت گردی کے خلاف جنگ کا تمام بوجھ عسکری اداروں پہ ڈال کے سیاسی قیادت خواب خرگوش میں مصروف رہی۔ اس غفلت کی قیمت آج پورا ملک اداکر رہا ہے۔اس خوفناک نااہلی نے ضرب عضب میں حاصل ہونے والی کامیابیوںکو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔خطے میں بھارت کی بالا دستی کے قیام کیلئے امریکہ کی سرگرمی کا سدباب کرنے کیلئے ہمار ا کو ئی سفارتی منصوبہ تاحال سامنے نہیں آ سکا۔ حکومت وقت کی تمام تر توجہ اور توانائیاں پانامہ کیس پہ مرکوز ہیں ۔یہی ہمارا المیہ ہے کہ جنہیں ملک چلانے کیلئے منتخب کیا وہ نہ تو اس کی اہلیت رکھتے ہیں اور نہ ہی ارادہ۔ غور کیاجائے تو دہشت گردوں کے حقیقی سہولت کار تو یہی ارباب اقتدار ہیں جو نہ تو اداروں کی استعدادکار بڑھاتے ہیں اور نہ ہی ملکی مفادکے تحفظ کیلئے کوئی ذمہ داری ادا کرنے کو تیار ہیں۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved