عوام کوتحفظ دینے میں فوج کاکردار حتمی ہے
  24  فروری‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

پاکستانیوں کے خون کی ارزانی کا یہ عالم ہے کہ دہشت گرد جہاں چاہتے ہیں اپنی مرضی سے حملے کرتے ہیں۔ انسانی خون بہاتے ہیں اور پھر فخریہ انداز میں اس کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں اور پھرخوف و ہراس پھیلانے کے لئے دہشت گرد حملوں کے لئے کی جانے والی منصوبہ بندی کے ویڈیو کلپ واٹس ایپ پر پھیلائے جاتے ہیں۔ بے چاری پاکستانی عوام اس قدر بے بس اور لاچار وہ مجبور ہے کہ جن کی حفاظت اور سیکورٹی کے لئے حکمران کچھ بھی کرنے کو آمادہ نہیں۔ حضرت سخی لعل شہباز قلندرکے مزار پر لگ بھگ سو عقیدت مندوں کے جسمو ں کے ٹکڑے ہوئے ۔ دوسو سے زائد افراد زخمی حالت میں ہسپتالوں میں داخل ہیں اس سے پہلے لاہور' بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں بم دھماکوں میں درجنوں افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں مگر ہمارے سیاستدانوں اور حکمرانوں کایہ عالم ہے کہ فوجی عدالتوں کے قیام پر ابھی اجلاس ہو رہے ہیں۔ یہ وہ حکمران اور سیاستدان ہیں کہ جن کے نزدیک انسانی جان کی قدرو قیمت ایک معمولی جانور سے زیادہ نہیں۔ ان کے سینوں میں دل نہیں یہ وہ لوگ ہیں جو اقتدار کی ہوس میں اندھے ہوچکے ہیں۔ یہ ہر اس چیز کا بے دریغ استعمال کریں گے جو ان کے اقتدار میں معاون ہو مگر انسانی زندگی وہ سستی اور بے مول چیز ہے جس کے لئے فنڈز کا استعمال کرتے ہوئے حکومت کو موت آتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نیکٹا وفاقی حکومت کی طرف سے فنڈز کی عدم فراہمی کے باعث کوئی کردار ادا نہیںکرپارہا۔ اگر ان سیاستدانوں اور حکمرانوں کے بارے میں کچھ عرض کریں تو فوراً جمہوریت دشمن قرار پاتے ہیں۔ پاکستان میں اب تک جمہوریت (سوائے ذوالفقار علی بھٹو کا دور کسی حد تک) نے اس عوام کو کیا فائدء پہنچایا ہے؟ جمہوریت کے باعث عوام کی زندگی کس حد تک تبدیل ہوئی ہے؟ عوام نے سکھ کا سانس لیا ہو؟ یا عوام کو زندگی کا تحفظ دیا گیا ہو؟ مہنگائی سے چھٹکارا ملا ہو؟ یا ہر ایک پاکستانی بے روزگاری کے غم سے نجات پاچکا ہو؟ کوئی ایک فائدہ بھی ایسا نہیں جو جمہوریت کے باعث ان حکمرانوں نے عوام تک پہنچایا ہے۔ تبا ہ حال پاکستانی مزید تباہ و بربادہو رہے ہیں مگر ہمارے حکمران جمہوریت جمہوریت کا کھیل کھیل رہے ہیں۔ ہمیں کہا جاتا ہے کہ بدترین جمہوریت بھی آمریت سے بہتر ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آپ جمہوریت کو بدترین کیوںرکھنا چاہتے ہیں؟ عوام کا جان و مال کا تحفظ آپ کی اولین ذمہ داری ہے مگر آپ سیاستدانوں نے ہر ایک چیز کی ذمہ داری فوج کے سپرد کر رکھی ہے اور پھر اگر فوج کبھی سیاستدانوں کی شان میں گستاخی کربیٹھے تو اسے جمہوریت میں مداخلت قرار دیا جاتاہے۔ لاہور مال روڈ دھماکے سے قبل تک وفاقی حکومت ملک میں امن و امان کا سہرا اپنے سر پر سجانے کے دعوے کر رہی تھی اور ساتھ ساتھ تھوڑا سا کریڈٹ فو ج کو بھی دینے کا اعلان کرتے تھے مگر اب پے درپے دھماکوں اور داعش کی ملک میں موجودگی کے دعوے کو وفاقی حکومت کیا نام دے گی؟ دھماکہ لعل شہباز قلندر ہو' لاہور کے ماڈل روڈ پر ہو یا حیات آباد پشاور یا بلوچستان میں ہو ایک بات واضح ہے کہ دہشت گردوں نے حکمرانوں کو واضح پیغام دے دیا ہے کہ ہم پورے ملک میں موجود ہیں اور جہاں اور جس وقت چاہیں دھماکے کرسکتے ہیں۔16 دسمبر 2014 ء کہ جب آرمی پبلک سکول پرحملے کے بعد پوری قوم متحد اور دہشت گردوں کے خلاف یک زبان ہوچکی تھی یہی وہ موقع تھا کہ جب فوج کے ساتھ ساتھ سیاستدان بھی خلوص کا مظاہرہ کرتے اور فوج کے ساتھ مکمل تعاون کرتے۔ اگر کراچی میں رینجرز کارروائی کرتی ہے تو پیپلز پارٹی کے پیٹ میں مروڑ اٹھتے ہیں اور مسلم لیگ (ن) کی باچھیں خوشی سے کھل اٹھتی ہیں۔ جب لاہور میں دھماکہ ہوا تو پیپلز پارٹی کو موقع ملا کہ وہ پنجاب حکومت کو دہشت گردوں کا سرپرست ثابت کرے اور اپنے اس مطالبے کو لوگوں تک پہنچائے کہ پورے پنجاب میں رینجرز کے ذریعے آپریشن کیا جائے اور یہ آپریشن بلاامتیاز اور بے رحم ہو تاکہ مسلم لیگ کے وزراء کے دہشت گردوں کے کاتھ رابطے منقطع ہوں اور جب لعل شہباز قلندر کے مزار پر سیہون شریف میں بم دھماکہ ہوتاہے کہ پیپلز پارٹی دفاعی پوزیشن پر آجاتی ہے جبکہ مسلم لیگ (ن) والوں کو یہ کہنے کا موقع ملتا ہے کہ پیپلز پارٹی کے رہنمائوں کے بعدبھی کالعدم جماعتوں کے سربراہوں کے ساتھ روابط اور تعلقات ہیں۔ عوام مخمصے کا شکار ہے اور پی پی پی کے رہنمائوں کے محض سیاسی تائید کے حصول کے لئے ان دہشت گرد جماعتوں کے ساتھ روابط کو حیرت سے دیکھ رہی ہے جس پارٹی کی چیئرپرسن دہشت گردوں کے ہاتھوں ماری گئی ہو اور جس جماعت کو 2013 ء کے انتخابات میں اس گروہ کی طرف سے دھمکیوں کے باعث انتخابی مہم نہ چلانے دی گئی ہو وہ جماعت محض چند ووٹوں کی خاطر اپنی عوام کے جان و مال کے تحفظ کے حوالے سے اس قدر غیر سنجیدہ ہوسکتی ہے؟ اندرون سندھ کے کئی شہروں خیرپور' سکھر' شکارپور وغیرہ میں د ھماکے ہوچکے ہیں مگر پیپلز پارٹی والوں کی انگلیاں صرف جنوبی پنجاب کی طرف اٹھتی ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ جنوبی پنجاب بھی دہشت گردوں کی پناہ گاہ ہے مگر اندرون سندھ میں بھی کارروائی کی ضرورت ہے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved