روز بڑھتی ہلاکتیں۔ بے بصیرت قیادتیں
  24  فروری‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز
معاملہ بہت حساس ہے۔ صورتِ حال بہت سنگین ہے۔ لیکن ایک قوم کی حیثیت سے ہمارے جوابی اقدامات بہت ہی روایتی۔ بیانات بھی وہی گھسے پٹے۔ کارروائیاں بھی وہی جو ہم گزشتہ 16سال سے کرتے آرہے ہیں جن کا نتیجہ ہمارے حق میں نہیں نکل رہا ہے۔میری گزشتہ تحریر پر پورے ملک سے بہت معقول اور مدبرانہ ردّ عمل تھا۔ عام پاکستانی ۔ درد مند ہم وطن حالات کی سنگینی کا ادراک کررہے ہیں۔ وہ اس کا دیرپا اور فیصلہ کن حل چاہتے ہیں۔ صرف وقت گزاری نہیں۔ ہمارے نوجوان اپنی زندگی کو ہتھیار بنارہے ہیں۔ قیمتی جانیں بارود اور اسلحہ کی نذر ہورہی ہیں۔ مرنے والے بھی ہمارے ہیں۔ مارنے والے بھی۔ کوئی بڑا سانحہ ہوتا ہے تو پولیس اور رینجرز سب حرکت میں آجاتے ہیں۔ سینکڑوں دہشت گرد گرفتار کرلیے جاتے ہیں۔ بیسیوں مقابلے میں مارے جاتے ہیں۔ شہیدوں کی روحیں سوال کرتی ہیں۔ یہ گلی کوچے ہم سے پوچھتے ہیں کہ اگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو علم تھا کہ یہ پاکستانی بھٹکے ہوئے ہیں۔ دہشت گردی میں ملوث ہیںتو انہیں آزاد کیوں چھوڑا ہوا تھا۔ ایک بڑے سانحے کا انتظار کیوں کیا جاتا ہے۔ جنہیں ہلاک کیا جارہا ہے اور اس پر داد وصول کی جارہی ہے ۔ ہیڈ لائن نشر کی جارہی ہیں۔ کیا کوئی سوچتا ہے کہ یہ بھی کسی ماں کے بیٹے ہیں۔ ان کے بھی خاندان ہیں۔ رشتے دار ہیں۔ ان پر کیا گزرتی ہوگی۔ کیا وہ بدلے کی آگ میں نہیں بھڑکتے ہوں گے کیا یہ ماورائے عدالت قتل نہیں ہے۔ افغانستان ہمارا مسلمان ہمسایہ ہے۔ وہ خود بھی کئی دہائیوں سے کبھی روس کبھی امریکہ کی جلائی ہوئی آگ میں جھلس رہا ہے۔ وہاں بھی سب دہشت گرد تو نہیں رہتے۔ اکثریت تو بے گناہوں کی ہے اور ستم زدگان کی ہے۔ ہم نے لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی کی ہے۔ افغانستان کی برسوں سے مدد کررہے ہیں۔ اگر وہ بھارت کی سازشوں کا شکار ہورہے ہیں تو اس کے تدارک کے لیے ہمیں کوئی حکمتِ عملی اختیار کرنی چاہئے۔ کھلی دشمنی کا اظہار نہیں کرنا چاہئے۔ اس طرح تو بھارت کی سازش کامیاب ہوجائے گی۔ کسی بھی دوسرے ملک کی حدود میں کوئی فوجی کارروائی کرنا بہت خطرناک ہوتا ہے۔ ہم جس دَور سے گزر رہے ہیں ۔ یہ تدبر۔ برداشت، ذہانت اور ایک جامع حکمتِ عملی کا تقاضا کرتا ہے ۔میں نے پہلے بھی عرض کیا تھا کہ یہ جو خود کش بمبار آرہے ہیں۔ یہ اسے جنّت کا راستہ سمجھتے ہیں۔ یہ اسے جہاد خیال کرتے ہیں۔ انہیں جہاد سے عشق ہے ۔ تاریخِ اسلام میں ایسے ادوار آئے ہیں جب اس طرح کے افکار پیدا ہوئے۔ ایک گروہ نے دوسرے کو واجب القتل سمجھا۔ اسکا عسکری حل بھی فوری طور پر کیا گیا۔ لیکن طویل المعیاد حل نظریات اور خیالات کے تبادلے کے ساتھ ہی ہوا ۔ علماء نے اسلام کی، قرآن کی، حدیث کی روشنی میں انتہا پسندی کو اعتدال پسندی میں تبدیل کیا۔ اس کے لیے حلوہ مانڈہ چھوڑ کر دن رات اعلائے کلمة الحق کیا ور منحرفین کو تائب کیا۔ مسلم نوجوان اگر شدت پسندی کا شکار ہورہے ہیں۔ اور اپنے ہی مسلمان بھائیوں اور ہم وطنوں کو ہلاک کرنے کے لیے درگاہوں میں زائرین کے در پے ہیں۔ کچہریوں میں وکلا کی جان لینا چاہتے ہیں۔ اسپتالوں میں مسیحائوں کے قتل پر آمادہ ہیں۔ وہ اسے اپنا ایمان جان رہے ہیں۔ اس کے پس منظر میں جہاں چند شدت پسند مذہبی پیشوائوں کی اشتعال انگیز تقاریر ہیں۔ را ۔ موساد۔ خاد کی سازشیں ہیں وہاں اس کے سماجی ۔ معاشی۔ عمرانی۔ قبائلی اسباب بھی ہیں۔ شدید مایوسیاں بھی ہیں۔ وہ دیکھتے ہیں کہ معمولی جرائم پر عام اور متوسط طبقے کے پاکستانی پکڑے بھی جاتے ہیں۔ سزائیں بھی ہوجاتی ہیں۔ لیکن بڑے بڑے سنگین جرائم کے مرتکب با اثر افراد ان کے دیکھتے دیکھتے ارب پتی بن جانے والے سیاستدان عدالتوں سے بھی بری ہوجاتے ہیں۔ نیب ان کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیتے۔ ایف بی آر کچھ نہیں کرتا۔ پولیس انہیں پکڑنے کی بجائے ان کی چاکری میں لگی رہتی ہے۔ وہ اپنے آپ کو بے بس محسوس کرتے ہیں۔ ذہنوں میں یہ بات بیٹھ جاتی ہے کہ ان بڑے لٹیروں کا کچھ نہیں ہوسکتا۔ ہمارے دن کبھی نہیں پھر سکتے وہ اپنے بوڑھے ماں باپ۔ بہنوں چھوٹے بھائیوں کے لیے کچھ نہیں کرسکتے۔ ایسے میں اگر کوئی تنظیم ان کا ہاتھ تھامتی ہے۔ شرع کا حوالہ دے کر انہیں جنّت کا راستہ بھی دکھاتی ہے۔ ان کی ماہانہ تنخواہ بھی مقرر کرتی ہے۔ گھر میں راشن کا اہتمام بھی کرتی ہے ۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ان کا دین اور دنیا دونوں سنور گئے۔ ہمیں ان کو صرف مجرم۔ قاتل۔ خونی نہیں سمجھنا چاہئے۔ قابل اصلاح قابل علاج مریض سمجھیں۔ ان کے علاج کی ضرورت ہے۔ ان کے ذہن بدلنے چاہئیں۔ ان کے دل جیتنے چاہئیں۔ آپ خود خیال کریں کہ نائن الیون کے بعد 16سال ہوگئے ہیں۔ ہمارے ہاں تو یہ سلسلہ 1979سے شروع ہے جب امریکہ نے ہمارے مذہبی جذبات کو بھڑکا کر ہمیں روس کے خلاف استعمال کیا۔ ہمارے نوجوانوں نے اسے امریکہ کے لیے لڑائی نہیں اللہ کے لیے لڑائی سمجھا۔ کیونکہ بہت سی مذہبی جماعتوں نے یہی قرار دیا تھا۔ ملک میں عدل ہو۔ انصاف ہو۔ حلال روزگار کے مواقع میسر ہوں۔ تو نوجوانوں کے بھٹکنے اور بھڑکنے کے امکانات محدود ہوتے چلے جاتے ہیں۔ لیکن جب بے انصافی۔ اقربا پروری ہر طرف ہو۔ ملکی خزانے میں لوٹ مار کرنے والے ناجائز آمدنی سے متمول بننے والے دندناتے پھر رہے ہوں۔ اور جس ملک میں اکثریت نوجوانوں کی ہو۔ماہرین کے مطابق پاکستان میں 12کروڑ نوجوان ہیں 15سے 29سال کے درمیان عمر والے۔ ان میں سے زیادہ تر ان پڑھ بے روزگار ہیں۔ ان کے ذہنوں میں بارہویں اور تیرہویں صدی کے مذہبی افکار داخل کیے جارہے ہیں۔ جبکہ انہیں ہتھیار اور رابطے کے آلات اکیسویں صدی کے مل رہے ہیں۔ یہ انتہائی مہلک مرکب ہے۔ یہ چیلنج ہے تو پوری امت مسلمہ کے لیے۔ لیکن پاکستان کے لیے زیادہ سنگین ہے کیونکہ ہم بارود کے ڈھیر پر بیٹھے ہیں۔ بہت سے آپس میں متحارب مسلم ملک اپنی سر زمین کو محفوظ رکھنے کے لیے یہاں لڑائیاں کرواتے ہیں۔ بہت سی بڑی طاقتیں بھی ہمیں اپنے شکار گاہ بنارہی ہیں۔ بھارت جو اس خطّے کی سپر طاقت بننا چاہتا ہے اور پاک چین اقتصادی راہداری کو اپنے لیے بہت بڑا خطرہ سمجھ رہا ہے۔ وہ ایسے دھماکے کراکے دُنیا میں پاکستان کو سرمایہ کاری کے لیے غیر موزوں۔ غیر محفوظ باور کروانا چاہتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ جتنے بڑے اندرونی اور بیرونی چیلنج ہیں۔ اتنی بڑی قیادت ہمیں میسر نہیں ہے۔ میڈیا صرف ریٹنگ کی دُھن میں ہے۔ یونیورسٹیاں۔ دینی مدراس اپنا کردار ادا نہیں کررہے ہیں۔ اس جنگ میں سب سے زیادہ ذمہ داری علماء کی ہے۔ ذہن بدلنے کی طاقت ان کے پاس ہے وہ مصلحت چھوڑیں۔ کلمۂ حق کا اعلان کریں۔ آپ کا کیا خیال ہے۔ ایس ایم ایس کیجئے۔0331-7806800

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 



 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved