وہ فٹ پاتھیہ، محلوں میں رہنے والوں کو آئینہ دکھا رہا تھا
  27  فروری‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

میں’’آکسی ڈِل‘‘ انجکشن لے کر میڈیکل سٹور کی سیڑھیوں سے نیچے اُترا تو اچانک میری نظر ایک ضعیف العمر، مفلوک الحال، نحیف و ناتواں، لاغربدن، مُشت استخوان، اپاہج شخص پر پڑی۔ اُس کی حالت معمول کے مطابق بھیک مانگنے والے فقیروں سے کہیں زیادہ بدتر تھی۔ اُس کے آگے ایک خاک آلود چھوٹی سی ٹوکری پڑی تھی جس میں بسکٹوں کے چھوٹے چھوٹے پیکٹ تھے۔ وہ میڈیکل سٹور کی سیڑھیوں کے ساتھ ہی فٹ پاتھ پر خمیدہ کمر، ٹوٹے بازوؤں، ٹوٹی ٹانگوں اور چٹختی ہڈیوں کو سمیٹے ہوئے ایک گٹھڑی کی طرح خود کو گوشت پوست کے پنجرے میں بند کئے بیٹھا تھا۔ غالباً اُس کی کمر بھی ٹوٹی ہوئی تھی کیونکہ وہ جھکے ہوئے سر کو اُٹھانے سے قاصر تھا۔ مجھے اُس کی حالتِ زار پر بڑا رحم آیا اور میں نے کچھ روپے اُس کی آغوش میں ڈال دیئے۔ بیشتر اس کے کہ میں ایک قدم بھی آگے اُٹھاتا اُس نے میرا ہاتھ پکڑ لیا، اور انتہائی سخت لہجے میں مجھ سے مخاطب ہوا کہ میں اپاہج مزدور ہوں کوئی بھکاری نہیں۔ یہ بسکٹ بیچنے کے لئے رکھے ہوئے ہیں۔ اگر یہ بسکٹ آپ نے نہیں خریدنے تو اپنے یہ دس بیس روپے واپس اُٹھایئے اور اپنی راہ لیجئے۔ ایک غیرت مند مزدور، فقیرانہ لباس میں ملبوس ہو کر مجھے کسی کے آگے ہاتھ نہ پھیلانے کا درس دے رہا تھا۔ اُس کے ہونٹ لرزہ براندام تھے، حرفوں، لفظوں، زیروں زبروں سے بچھڑتے ہوئے،مکمل جملے اکمل ترین مفہوم ادا کر رہے تھے اُس کے مرتعش ہاتھ، رعشے کا الارم ضرور بجا رہے تھے مگر اُس کے جذبے کوہسار صفت معلوم ہوتے تھے۔ وہ ننھے منے بسکٹ بیچ کر ہاتھوں، بازوؤں، ٹانگوں سے محروم ہونے کے باوجود بے ضمیری کی دیوار کے سائے میں بیٹھنے سے گریزاں تھا۔ میں نے اُس سے بلا ضرورت بسکٹ کے ایک دو پیکٹ خرید لئے۔ اپنی بیماری بھول کر میں اُس کے پہلو میں بیٹھ گیا۔ آواز میں لرزش کے باعث اگرچہ اُس کی ساری کی ساری گفتگو ریکارڈ پر نہیں لائی جا سکتی مگر اُس مُشت استخوان کی چٹختی ہڈیوں کی صدا کو طشت ازبام ضرور کیا جا سکتا ہے۔ اُس کے بقول قوموں کی اصلاح نوجوانوں کی اصلاح کے بغیر نہیں ہو سکتی۔ اُس نے مجھے بتلایا کہ جب تک پاکستان میں موجود سیاسی و مذہبی جماعتوں میں سے کوئی ایک پارٹی بھی برسراقتدار رہے گی تب تک پاکستان ترقی نہیں کر سکے گا۔ اُس کے بقول مذہب اور حکومت دو الگ الگ چیزیں ہیں۔ دونوں یک جا نہیں چل سکتیں۔ حکومت چلانے کے لئے مُلاؤں سے جان چھڑوانا پڑے گی اور مذہب کی حقیقی فلاسفی کو سمجھنے کے لئے حکومت سے نجات حاصل کرنا پڑے گی۔ وہ بے نام مزدور مجھے ناموروں کے قصے سنا رہا تھا۔ بہ ظاہر ایک مفلوک الحال اور ان پڑھ شخص مجھے علم و دانش کے موتیوں سے پروئی ہوئی مالا کے دیدار کروا رہا تھا میں اُس کی باتوں سے محظوظ ہو رہا تھا اور مجھے اس بات پر شدید دُکھ بھی محسوس ہو رہا تھا کہ جس بے رحم معاشرے میں یہ فقیرانہ صفات کا حامل مزدور زیست بسر کر رہا ہے اُس بے رحم معاشرے میں ایسے لوگوں کا مستقبل تاریکی کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ اُس نے کروٹ بدلی تو مجھے معلوم ہوا کہ وہ پچھلے ایک گھنٹے سے ٹوٹے ہوئے بازوؤں کے سہارے بیٹھا ہوا تھا پھر جیسے جیسے وہ کروٹ بدلتا رہا اُس کی ہڈیوں کی کڑ کڑاہٹ مجھے بتلاتی رہی کہ وہ جیتے جی کس قدر ٹوٹ چکا ہے۔ اُس نے مجھے بتلایا کہ آج کے دور میں لوگ تہذیب‘ تہذیب کارونا بہت روتے ہیں۔ کبھی مسواک رکھنے کے لئے قمیض کے سامنے الگ سے ایک مسواکی جیب بنواتے ہیں تو کبھی ٹخنوں سے اوپر شلواروں کی بنیاد پر خود کو تکبرانہ انداز میں سب سے بہترین مسلمان قرار دینے کے لئے ایک دوسرے کی تحقیر کرنے سے بھی نہیں چوکتے۔ حالانکہ آقائے دو جہاں حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے ٹخنوں سے اوپر تہ بند باندھنے کا حکم ہی تکبر کے خلاف دیا تھا۔ اُس نے اِس امر کو بھی طشت ازبام کیا کہ لوگ اپناتے کسی اور تہذیب کو ہیں اورپرچار کسی اور تہذیب کا کرتے ہیں۔ مثلاً ہمارے معاشرے میں جدید صدی کے تقاضوں کے پیچھے برہنہ سر بھاگنے والی فیشن ایبل عورت پردہ کرنے کو گناہ سمجھتی ہے اور چاہتی یہ ہے کہ کوئی بھی اُس کی طرف بُری تو کیا اچھی نظر سے بھی نہ دیکھے۔ وہ سچ بیان کرتے ہوئے جب بار بار کروٹ بدلتا تو یقین کریں مجھے پاکستان کی تہذیب کسی زلزلے کی زد میں آ کر زمین بوس ہونے والی عمارت کا منظر دکھائی دینے لگتی۔ میری بے چینی کو بھانپتے ہوئے اُس نے مجھے سوچوں کے منجدھار میں گھرا ہوا پایا تو بولا کہ ساری زندگی حرام کمائی سے مال جمع کرنے والے اور پھر اس مال سے عظیم الشان رہائش گاہیں، کوٹھیاں، بنگلے اور فارم ہاؤس بنانے والے بڑے فخر کے ساتھ اُس عمارت کے ماتھے پر ’’ہٰذا من فضل ربی‘‘ کے الفاظ کنندہ کروا دیتے ہیں۔ اُس عمارت کے سامنے سے گزرنے والا ہر شخص یہی سمجھتا ہے کہ دیکھو اِس گھر کا مالک کتنا پارسا اِنسان ہے جس نے اپنی اِس رہائش گاہ کو بھی خدا کا فضل ہی گردانا ہے۔ وہ مزدور مجھے کسی اسلامی یونیورسٹی کا پروفیسر دکھائی دے رہا تھا۔ دانش کدہ زمین پر بچھا ہوا تھا۔ میری آنکھوں میں موجزن سمندر قطروں میں سمٹنے لگا تو اُس نے میری تپتی ہوئی پیشانی پر ہاتھ رکھ کر کہا کہ منافقت کے لبادے میں لپٹی ہوئی تہذیب کا رونا رونے والوں کا حال بھی سُن لو تمہارا بخار اُتر جائے گا (گویا وہ میرے ہاتھوں میں اینٹی بائیوٹک انجکشن دیکھ کر مجھے بخار اُتارنے کا نسخہ بتا رہا تھا) اُس نے کہا کہ مشرق، مشرق کا رونا رونے والے، اُردو زبان کو ماں بولی کہنے والے تعلیم انگریزی زبان میں حاصل کرتے ہیں۔ نوکری فارن کنٹری کی پسند کرتے ہیں۔ سیر مغرب کی کرنا چاہتے ہیں۔ لندن، امریکہ، سوئٹزرلینڈ، پیرس نگر گھومنے والے پھرپھرا کر برج الخلیفہ پر بھی چند گھنٹے گزارنے کے متمنی دِکھائی دیتے ہیں۔ لیکن مرنا چاہتے ہیں مدینے میں، روزوں کے مہینے میں۔ اور دفن ہونا چاہتے ہیں جنت البقیع میں۔ وہ مشرکانہ اقدار کے بخئے ادھیڑ رہا تھا۔ وہ نام نہاد دانشوروں کے منہ پرطمانچے رسید کر رہا تھا۔ وہ فٹ پاتھیہ، محلوں میں رہنے والوں کو آئینہ دکھا رہا تھا، وہ بے لباس، خوش لباسوں کے گریبان چاک کر رہا تھا۔وہ پست قامت، قد آوروں کے سر جھکا رہا تھا۔ وہ فقیر ہو کر بادشاہوں کے محلوں پر تھوک رہا تھا۔ وہ مشرق سے نکلنے والے سورج کی پوجا کرنے والوں کا مغرب میں ڈوبنے والے سورج کی فاتحہ خوانی کرنے والوں کے جنازے پڑھ رہا تھا۔ میں نے شدت حرارت سے عاجز آ کر اُٹھنے کی اجازت مانگی تو اُس نے کہا کہ آخری بات سنتے جاؤ! یہاں پر ماں باپ کی عزت نہ کرنے والے، ماؤں کو ستانے والے، باپ سے چھپ کر جوا کھیلنے والے جب گاڑی خریدتے ہیں تو اُس گاڑی کے شیشے پر جلی حروف میں یہ عبارت ضرور لکھواتے ہیں کہ ’’یہ سب میرے ماں باپ کی دُعا ہے‘‘ وہ اپنی آخری بات مکمل کرتے ہی اونچی اونچی ہنسنے لگا۔ یہاں تک کہ اُس کے قہقہے کئی راہ گیروں کے پاؤں پڑ گئے۔ میں اُس کے قہقہوں کے شور میں اُٹھا تو اپنی کمرخمیدہ پائی، میرے بازو ٹوٹے ہوئے تھے اور ٹانگیں بھی۔ میرے بدن کی ایک ایک ہڈی چٹخ رہی تھی۔ میں نے ٹوٹی پھوٹی ہڈیوں کو گوشت پوست کے پنجرے میں سمیٹا۔ گرتا سنبھلتا اپنے عزیز ترین دوست ڈاکٹر عامر سعید تک پہنچا۔ اُس نے میرے ہاتھوں سے انجکشن لے کر مجھ سے پوچھا کہ ٹیکہ کہاں لگاؤں؟؟؟ میں خاموش تھا۔ مگر میری ہڈیاں چیخ چیخ کر کہہ رہی تھیں کہ ڈاکٹر .....ٹیکہ ضمیر کو لگا دیجئے!!


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved