کیا دہشت گرد بے صبر ہو رہے ہیں
  27  فروری‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

خطرات بڑھتے جارہے ہیں۔ یہ ہماری خفیہ ایجنسیوں کے علم میں ہونا چاہیے اور انہیں پورے ملک کو اعتماد میں لینا چاہیے کہ دہشت گرد اس وقت اتنے بے صبر کیوں ہو رہے ہیں ۔ پے درپے وارداتیں کیوں کررہے ہیں۔کرکٹ میچ بھی یقیناًاس کی وجہ ہوسکتی ہے لیکن میرے خیال میں ان کا مقصد کچھ اس سے بہت زیادہ ہے۔ کوئی بڑا نشانہ ہے۔ سی پیک کے تحت پاکستان کے آگے بڑھنے کے جو آثار ہیں وہ بھی ہمارے دشمنوں کو حسد میں مبتلا کررہے ہیں۔ ہمیں خبردار ہونے کی ضرورت ہے‘ ہر وقت چوکنا اور نگران رہنا وقت کا تقاضا ہے۔ ہماری تباہی اور بربادی کی صرف یہی صورت نہیں ہے۔1970 ء کی دہائی سے پاکستان دولخت ہونے سے ‘ پھر1979 ء میں افغان جہاد میں کودنے سے ہمارا شیرازہ بکھرنا شروع ہوا ہے ہم بہت ہی اعتدال پسند تھے۔ آہستہ آہستہ ہم سب اپنا کاروبار جما رہے تھے۔ پاکستان کا شمار غیر مستحکم ملکوں میں ہوتا تھا۔ انگریز کے بنائے ہوئے نظاموں کو ہم آگے لے کر بڑھ رہے تھے ان میں کچھ بہتری پیدا کررہے تھے۔ مشرقی پاکستان ہمارا بازو بھی ہماری بہت مدد کرتا تھا کیونکہ وہاں متوسط طبقے کی اکثریت تھی۔ جاگیردار ‘سردار نہیں تھے۔ تین چار روز پنجاب کے وسط میں گزارنے کا موقع ملا ہے۔ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد میں ایک لٹریری فیسٹیول تھا۔ ایک تومجھے کالج یونیوسٹی کی سمجھ نہیں آتی یا کوئی کالج ہوسکتا ہے یا یونیورسٹی۔ یہ کوئی نظریہ ضرورت ہے جو یہ نام رکھنے پر مجبور کرنا ہے۔ جیسے ایک منتخب سویلین کو اس ملک میں چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر بھی بننا پڑتاہے۔ پروگرام کے آغاز سے منٹ پہلے ہی لاہور سے بم دھماکے کی اطلاع آگئی۔ یونیورسٹی کے بلند قامت‘ چمکتی آنکھوں والے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد علی بہت ملال ہوگئے۔ کہنے لگے کہ لاہور کے بلاک زیڈ میں تو تین چار دن پہلے سے باقاعدہ وارننگ تھی اور ایک شاپنگ سینٹر کا نام لے کر بتایا گیا تھا کہ وہ زد میں آسکتا ہے پھر بھی ہم یہ ہلاکتیں نہ روک پائے۔ فیسٹیو ل کا اہتمام پروفیسر عبدالقادر مشتاق کررہے تھے۔ فوراً فیصلہ ہو رہا تھا کہ پروگرام میں جہاں موسیقی کا عنصر ہے اسے منسوخ کر دیا جائے‘ مذاکرے اور مباحثے جاری رکھے جائیں۔ یونیورسٹی میں سیکورٹی کے انتظامات پہلے سے ہی کافی تھے۔ سانحہ لاہور کے بعد اور زیادہ سخت کر دیئے گئے۔ شامت اعمال‘ صورت نادر گرفت ہماری بداعمالیوں اور کوتاہیوں‘ ناانصافیوں کی سزا ہمیں ان دہشت گردوں کی صورت میں مل رہی ہے۔ حکمرانوں سے لے کر نیچے تک بدترین کرپشن ہے‘ لوٹ مار ہے‘ اللہ تعالیٰ کے نائب انسان کو بے عزت کیا جاتاہے۔ زندگی ایک جبر مسلسل بنی ہوئی ہے۔ کیا ہماری ان حرکتوں سے اللہ تعالیٰ ناراض نہیں ہوتے ہوں گے۔ ایک طرف پنجاب میں مذہب کے حوالے سے ایک غلبہ دیکھ رہا تھا۔ اللہ توکل سٹور۔ اب توکل چکن ٹکی سنٹر‘ مدینہ بازار‘ مدینہ ٹاؤن‘ مکہ ٹاؤن‘ اتنی عقیدتیں اتنی محبتیں لیکن چیزوں میں ملاوٹ۔ ناپ تول میں کمی۔ بھائی بھائی کا دشمن‘ سگے رشتے دار عدالتوں میں ایک دوسرے کے خلاف بیان دیتے ہوئے۔ بہنوں اور بھائیوں میں مقدمے بازی۔ اس تناظر میں میری غزل کے یہ اشعار بہت پسند کیے گئے۔ وطن کی ساکھ پانی ہو رہی ہے یہ کیسی حکمرانی ہو رہی ہے کہیں میری گواہی چاہیے کیا جو اتنی مہربانی ہو رہی ہے فیصل آباد سے اپنا آبائی مقام بھی دیکھنے گیا۔ اس کی حالت خستہ ہے۔ ایک ایک اینٹ نے میرا ہاتھ پکڑا اور کہا اتنی غفلت اچھی نہیں ہے۔ وہاں محلے کی بچیاں قرآن شریف پڑھنے‘ دینی معلومات سیکھنے آتی ہیں۔ اس لئے وہ ابھی تک قائم ہے ورنہ برکتیں تو ہمارے ہاں سے اٹھتی جارہی ہیں۔ فیصل آباد سے سرگودھا جاتے میں نے جو مناظر دیکھے اس سے روح کانپ اٹھی۔ یہ تو بہت اچھا لگتاہے کہ بڑے شہر ہوں یا چھوٹے۔ بچے بچیاں یونیفارموں میں پیدل‘ تانگے ہو‘ چنگ چی میں‘ موٹرسائیکلوں پر سکول جاتے ہیں۔ کچھ کچھ یقین بڑھتاہے کہ ہمارا مستقبل محفوظ ہے۔ فیصل آباد میں اتنی یونیورسٹیاں اتنے سکول‘ کالج‘ مدرسے مگر وہاں کے حوالے رانا ثناء اللہ اور عابد شیر علی۔ فیصل آباد ‘سرگودھا راستے پر سب سے خطرناک شوگر ملوں کے قریب گنے اٹھائے ٹریکٹر ٹرالیاں سڑک کا آدھے سے زیادہ حصہ گھیرے ہوئے مل میں جانے کے انتظار میں کھڑی۔ باقی سڑک میں دو رویہ ٹریفک کو گزرنا ہے۔ بڑے بڑے ٹرالر اور ٹرک بھاری سامان سے لدے ہوئے۔ گاڑیاں ‘ رکشے‘ ٹرالیاں‘ موٹر سائیکل‘ بہت سے بھاری ٹرکوں کو سڑک کے کچے حصے میں اترتا پڑتاہے۔ کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ ٹریفک کا کوئی سارجنٹ یا کانسٹیبل یہاں نہیں ہوتا۔ بڑی ہمت ہے پنجاب والوں کی ۔ کوئی گلہ نہ شکوہ۔ پھر ایک اور ہیبت ناک منظر‘46 اڈہ اور پل111 کے درمیان۔ پہاڑوں کی حالت زار جیسے شیر بکری بنے ہوئے ‘ مثال اب تک دی جاتی تھی۔ وہ پہاڑ کی طرح ڈٹ گیا۔ پنجاب کی شیر دل حکومت اور بہادر بلڈر مافیا نے پہاڑوں کا دماغ درست کر دیا ہے۔ پہاڑ غبار بن کر اڑ رہے ہیں ایک طرف سے تو پہاڑوں کا نام و نشان مٹا دیا ہے۔ دوسری طرف ان کے جسم پھیلے جارہے ہیں۔ وہ ریزہ ریزہ ہو رہے ہیں۔ قیامت سے پہلے قیامت آرہی ہے۔ ہم حسن فطرت کے دشمن بنے ہوئے ہیں‘ کھیت کنکریٹ کے جنگل میں تبدیل ہو رہے ہیں۔ یہ بھی تو ایک دہشت گردی ہے ۔ کوئی این جی او‘ کوئی میڈیا اس پر احتجاج نہیں کرتا۔ آپ کا کیا خیال ہے۔ ایس ایم ایس کیجئے۔0331-7806800


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved