افرا تفری۔ نفسا نفسی ہے۔برکتیں اٹھ گئی ہیں
  3  مارچ‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

معلوم نہیں۔ یہ صرف مجھے محسوس ہوتا ہے۔ یا آپ کا احساس بھی یہی ہے۔ اپنے ارد گرد ایک افراتفری کا سماں دیکھتا ہوں۔ خلقت بھاگ رہی ہے۔ بسوں میں۔ کاروں میں۔ ٹرکوں میں۔ سب سے زیادہ جلدی میں موٹر سائیکل سوار اور رکشے والے لگتے ہیں۔ جیسے کوئی ان کا تعاقب کررہا ہے۔ یا آگے من و سلویٰ بٹ رہا ہے۔ دیر ہوگئی تو محروم ہوجائیں گے۔ موٹر سائیکل والے یا رکشے والے تو جان کا خطرہ مول لے کر مخالف سمت میں بھی اسی طرح بھاگے بھاگے آرہے ہوتے ہیں ۔ صحیح سمت میں جانے والے بھی اپنی جان بچاتے ہیں۔ یہ زندگی کا جبر تھا یا اپنی احتیاط نشے میں دوسرے تھے سنبھلنا پڑا مجھے بازاروں میں بھی یہی حال ہے۔ کوئی ہنستے مسکراتے بات نہیں کرتا۔چیز لینی ہے بس ورنہ اپنا رستہ لیں۔ برکتیں اٹھ گئی ہیں۔ رحمتیں روٹھ گئی ہیں۔ حرام منہ کو لگ گیا ہے۔ یہ افرا تفری ٹی وی چینلوں میں بھی نظر آتی ہے۔ رپورٹر اتنی تیزی سے خبریں اگلتے ہیں کہ آپ کے پلّے کچھ نہیں پڑتا۔ ٹاک شوز میں بھی سب جلدی میں ہیں۔ ایک دوسرے کو کھانے کو پڑ رہے ہیں۔ بات کرتے وقت اللہ کا ڈر نہیں ہے۔ اپنے باس کا ۔۔ چیف کا خوف ہے کہ اس کی شان میں کوئی گستاخی نہ ہوجائے۔ اسے کوئی بات بری نہ لگ جائے۔ یہ میرے محسوسات ہیں۔سب سے زیادہ خوف مجھے موٹر سائیکل سواروں سے آتا ہے۔ ان پر ترس بھی آتا ہے ہم 70سال میں اس اکثریت کو غریبوں کو سستی ٹرانسپورٹ نہیں دے سکے۔ زیر زمین ریلوے نہیں دے سکے تو وہ بے چارے کیا کریں۔ وہ اپنے پورے خاندان سمیت ۔ بیوی چار پانچ بچے۔ موٹر سائیکل پر بٹھا کر بھاری ٹریفک میں سے گزرتے ہیں۔ تین تین بار وزیر اعظم بننے پر فخر کرنے والے ۔ کئی کئی بار حکومت کرنے والے اس سوال کا کوئی جواب دے سکتے ہیں۔ مسلم لیگ (ن)۔ پی پی پی ۔ ایم کیو ایم۔ عوامی نیشنل پارٹی۔ مسلم لیگ(ن)۔ جمعیت علمائے اسلام۔ جماعت اسلامی۔ پاکستان تحریک انصاف سب سرکاری کرسیوں پر برا جمان رہے ہیں۔ سرکاری گاڑیاں استعمال کرتے رہے ہیں۔ کیا کسی نے ان غریبوں کے بارے میں سوچا۔ یہ جو اپنی زندگیاں خطرے میں ڈال رہے ہیں۔خطرات کے کھلاڑی بن رہے ہیں۔ دیو ہیکل ٹرالروں کے درمیان میں سے اہل خانہ سمیت گزرتے ہیں۔ ان کے لیے کسی بھی شہر میں سستی ریل۔ سستی بس کا اہتمام کیوں نہیں کیا گیا۔ بسیں ٹرینیں چل رہی ہوں تو موٹر سائیکل پر کیوں نکلیں۔کیوں خطرہ مول لیں۔ یہ افراتفری۔ نفسا نفسی بھی ایک فساد ہے۔ 70سال سے اس فساد کا رد کیوں نہیں ڈھونڈا گیا ہے۔ اب آپریشن ردّ الفساد شروع کردیا گیا ہے۔ یہ معلوم نہیں کہ آپریشن ضرب عضب کو ختم کردیا گیا ہے یا نہیں۔ ضرب عضب اگر پایۂ تکمیل کو پہنچ گیا ہے تو اس کی تفصیلی رپورٹ بھی جاری کی جانی چاہئے۔ کتنے عرصے جاری رہا۔ کتنے دہشت گرد مارے گئے۔ ان کے ساتھ کتنے بے گناہ ہلاک ہوئے۔ لوگوں کے کتنے مکانات تباہ ہوئے ان کو کتنا معاوضہ دیا گیا۔ یہ داخلی بے گھر واپس اپنے مکانوں میں آباد ہوگئے۔ ان کی زرعی زمینوں کا کیا حال ہے۔ دکانوں کی کیا کیفیت ہے۔ یہ اب خوف سے آزاد ہوگئے ہیں یا نہیں۔ پہلے جیسے دہشت گردی کی تعریف متنازع رہی ہے۔ اب فساد کی تعریف پر بھی بات ہورہی ہے ۔ فساد ہم کس کیفیت کو کہہ رہے ہیں۔ فساد کون کون پھیلارہا ہے۔ فساد صرف ہتھیاروں سے خود کش بموں سے پھیلتا ہے۔ یا زبان سے بھی برپا ہوتا ہے۔ تحریر سے بھی۔ کتابوں سے بھی۔ ملک میں جب جمہوریت ہے ۔ پارلیمنٹ ہے۔ تو پارلیمنٹ میں 'فساد' کی اصطلاح پر بحث کیوں نہیں ہوتی۔ اس کا دائرہ متعین کیا جائے۔ فسادیوں کی نوعیت کا تعین کیا جائے۔ انتہائی درجے کے فسادی۔ درمیانی درجے کے فسادی بالکل اتبدائی فسادی۔ ان اقسام کے خلاف کارروائی کی بھی سطحیں طے کی جائیں۔ اور سزائیں بھی۔ ان اقسام کے مطابق ہونی چاہئیں۔ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے مفسدین کے بارے میں ہمیں کھل کر ہدایات دی ہیں۔ علماء قرآن و حدیث کے مطابق فساد پر اپنے خطبات دیں۔ جہاں جہاں ذہنوں میں فساد کے بیج بوئے جارہے ہیں۔ وہاں ان کا جواب دیا جارہا ہے یا نہیں۔ نوجوان ان فسادیوں کے ہاتھوں میں کیوں جارہے ہیں۔ کیا ہم نے ان نوجوانوں کے لیے با عزت روزگار کے مواقع پیدا کیے ہیں۔ بہت سے درد مند فون کررہے ہیں۔ کہ ایم اے۔ ایم بی اے۔ رشوت دے کر سفارش پر بہت ہی نچلے درجے کی ملازمتیں حاصل کررہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم مستقل ملازمت والوں کو ان سے کام لیتے ہوئے شرم آتی ہے کہ ہم میٹرک پاس ان سے سینئر عہدوں پر فائز ہیں۔ ہم ایم اے پاس سے چائے منگوارہے ہیں۔ فائلیں لانے کو کہتے ہیں۔ ان اعلیٰ تعلیم یافتہ پاکستانی نوجوانوں کے دل پر کیا گزرتی ہوگی۔ یہ ڈگریاں ان کی نظر میں کتنی بے وقعت ہوجاتی ہوں گی۔ آپریشن ردّ الفساد کا یہ بھی ایک جزو ہونا چاہئے کہ پڑھے لکھے نوجوانوں کو ان کی صلاحیت کے مطابق روزگار دیا جائے۔ ان پڑھ نوجوان کو مختلف ہُنر سکھائے جائیں۔ دہشت گردی اور انتہا پسندی کا خاتمہ صرف فوج کی ذمہ داری نہیں ہے۔ یہ ہم سب کا فرض ہے کہ اگر ہم اپنے معاشرے کو پُر امن۔ محفوظ بنائیں گے تو اپنے بیٹوں بیٹیوں۔ پوتوں پوتیوں۔ نواسوں نواسیوں کی زندگیاں سلامت رکھیں گے۔ کسی حد تک یہ بات درست ہے کہ مختلف فوجی حکمرانوں کے دَور میں بعض انتہا پسند تنظیموں کی سرپرستی کی گئی۔ جس کے نتائج ہم سب بھگت رہے ہیں۔ میں اتنا کچھ لکھتا ہوں۔ بولتا ہوں۔ پتہ نہیں اس سے کچھ فائدہ بھی ہے یا نہیں۔ آپ کے پیغامات سے تو بہت حوصلہ ہوتا ہے۔ مجھے خوشی اس وقت ہوگی جب آپ اپنے محلّے میں۔ مسجد میں بیٹھ کر آپس میں بات کریں گے کہ یہ زندگی جو اللہ کی سب سے بڑی نعمت ہے۔ اس کو محفوظ اور آسان بنانے کے لیے آپ اپنے علاقے میں جو کچھ خود کرسکتے ہیں وہ کرنا شروع کردیں۔ دوسری قومیں جو ترقی کررہی ہیں ہم بھی کرسکتے ہیں۔ آئیے آج سے ہی شروع کردیں۔ دوسروں سے ہم کئی لحاظ سے پہلے سے بہتر ہیں۔ ہم حضور اکرم نبی آخر الزماںۖ کی اُمّت میں ہیں۔ یہ سب سے بڑی ترجیح ہے۔قرآن پاک ہمارے پاس ہے جس میں سب ہدایات موجود ہیں۔ پھر اکیسویں صدی تک دوسرے جو تجربات کرچکے ہیں۔ وہ کتابوں اور انٹرنیٹ میں ہمارے پاس ہیں۔ پھر کس بات کی دیر۔ آخر میں بات ای سی او۔ علاقائی اقتصادی تعاون کی تنظیم۔ جس میں سب 'ستان' شامل ہیں۔ افغانستان۔ آذر بائیجان۔ ایران۔ قازقستان۔ کرغیزستان۔ تاجکستان۔ ترکی۔ ترکمانستان۔ پاکستان میرے خیال میں تو یہ بہت اچھا اقدام ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ سارے ممالک جو سب مسلمان ہیں ۔ ایک دوسرے سے جُڑے ہوئے۔ سی پیک کے ذریعے چین سے بھی مل جائیں گے ۔ بڑی اقتصادی قوت بن سکتے ہیں۔ افغانستان بھارت کی شہہ پر اس میں بھرپور شرکت نہیں کررہا ہے۔ لیکن بالآخر اسے آنا پڑے گا۔ یونیورسٹیوں میں اس پر بحث ہونی چاہئے کہ یہ سارے مسلمان ممالک بہت وسائل رکھتے ہیں۔ ایک دوسرے سے تجارت بڑھاکر سب اپنی پسماندگی دور کرسکتے ہیں۔ آپس میں میل جول بڑھنا چاہئے۔ ویزے کی پابندیاں ختم کی جائیں۔ ایک دوسرے کو رعایات دی جائیں۔ یونیورسٹیاں آپس میں طالب علموں کے تبادلے کریں۔ آپ کا کیا خیال ہے۔ ایس ایم ایس کیجئے۔0331-7806800


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved