یہ انداز درست نہیں
  5  مارچ‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز
حضرت محمد مصطفی ۖ مسجد نبوی میں صحابہ کرام کے جھرمٹ میں تشریف فرما تھے۔ اسی دوران ایک اعرابی مسجد کی حدود میں داخل ہوا اور حضور اکرمۖ کے خلاف فضولیات بکنے لگا۔ یہ دیکھ کر صحابہ کرام طیش میں آگئے اور اس شخص کی طرف لپکے تاکہ اس کی زبان بند کرسکیں۔ آپۖ نے ہاتھ کے اشارے سے صحابہ کو ایساکرنے سے منع فرما دیا۔ لغویات بکتے ہوئے وہ جب واپس جانے لگا تو جاتے جاتے اس نے ایک اور گستاخی کا ارتکاب کیا۔ مسجد نبوی کے اندر پیشاب کر دیا مگر اس کے باوجود حضور پاکۖ نے اس کے خلاف کارروائی کاحکم نہیں دیا بلکہ حضرت علی کو اپنے پاس بلایا اور فرمایا کہ اے علی ! لگتا ہے یہ شخص مسافر اجنبی ہے جائو اس کو ساتھ لے جائو ' اس کے کھانے کا بندوبست کرو' اسے لباس دو ' سفر خرچ مہیا کرو اور آرام کمے لئے بستر لگادو۔ حکم سنتے ہی حضرت علی اس اجنبی شخص کے پاس گئے اور آقاۖ کی ہدایات کے مطابق اس شخص کو اپنے گھر لے گئے اور کہا کہ لگتا ہے کہ تم اجنبی ہو' آئو آرام کرو۔ کھانا پیش کا' سفر خرچ دیا اور آرام کرنے کے لئے بستر مہیا کیا وہ اجنبی شخص آقا و مولیٰ حضور اکرمۖ کی طرف سے ظاہر کیے جانے والے اس ردعمل پر حیران ہوا اور شرمندہ بھی۔ وہ اس قدر متاثر ہوچکا تھا کہ حضرت علی سے کہنے لگا کہ مجھے آپۖ کے پاس لے چلیں میں کلمہ پڑھتا ہوں۔ یہ اسلام پر تہمت ہے کہ اسلام تلوار کے زور پر پھیلا۔ نہیں ہرگز نہیں اسلام اخلاق کی طاقت سے پھیلا۔ قرآن مجید نے حضرت محمد مصطفیۖ کو اخلاق کا اعلیٰ ترین نمونہ قرار دیا ہے۔ یہ آپۖ کا حسن اخلاق اور حسن کردار تھا کہ آپۖ کے بدترین اور جانی دشمن بھی آپۖ کے اخلاق' کردار' امانت و صداقت کے قائل تھے۔ نبی کریمۖ کی سیرت مبارکہ کا مطالبہ کریں معلوم ہوگا کہ آپۖ نے کبھی اپنے غلام کو بھی برا بھلا نہیں کہا' کبھی ان سے غصہ نہیں کیا۔ چھوٹے بڑے ہر ایک سے پیار' محبت اور مسکراتے ہوئے چہرے سے ملتے تھے۔ زندگی بھر اپنی ذات کے لئے کبھی کسی سے غصہ نہیں کیا ۔ آپۖ کا اخلاق ہی دراصل اسلام کی تبلیغ تھی۔ اپنے اصحاب میں سے جس کسی کو بھی تبلیغ کے لئے روانہ فرماتے تو ترجیحی بنیا د پر اخلاق کی ہدایات دیتے۔ اگر کوئی گالی دیتا ہے اس کے جواب میں گالی دینا اسلام کی تعلیمات اور آپۖ کی سیرت میں شامل نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں واضح طور پر فرما دیا ہے کہ اے نبیۖ ہم نے آپ کو داروغہ بناکر نہیں بھیجا ۔ ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا ہے کہ آپۖ کا کام بس پہنچادیا ہے۔ ''تمہارے لئے تمہارا دین' میرے لئے میرا دین۔'' یہ بات دعوے سے کہی جاسکتی ہے کہ آج اگر امت مسلمہ نبی پاک ۖ کی سیرت مبارکہ پر عمل کرنا شروع کر دے اور زندگی کے ہر پہلو اور ہر شعبے میں معاش کمانا' خرچ کرنا' معاشرے میں رہنا' لوگوں کے ساتھ میل ملاپ کرنا' دشمن سے سلوک' مخالفین کے پراپیگنڈہ کا جواب کس طرح دینا ہے' تبلیغ کیسے کرنی ہے' انداز کیا ہو 'الفاظ کا چنائو کیسے ہو' ملازمت کیسے کریں' کاروبار کیسے چلائیں غرض ہر معاملے میں آپۖ کی حیات پاک سے راہنمائی لیںاور معاشرے پرامن ہو جائے گا' دشمنیاں ختم ہو جائیںگی اور پھر اسلام کے فروغ میں تمام رکاوٹیں دور ہو جائیں گی۔ اسلامی تعلیمات کے برعکس اپنے ملک میں ہم دو انتہائوں کا مشاہدہ کررہے ہیں۔ ایک طرف مولانا حضرات یا جو خود کو اسلامی تعلیمات کے احیاء و تبلیغ کا ذمہ دار سمجھتے ہیں اور دوسری طرف سیکولر طبقہ ہے جو اپنی زندگی کے کسی بھی عمل میں لفظ اسلام کا داخلہ پسند نہیںکرتے۔ ان کا خیال ہے کہ مخلوق خداکو خوش کرو۔ یہ طبقہ خود کو کسی بھی حدود و قیود کا پابند نہیں سمجھتا۔ حقوق اللہ کی ادائیگی کو ثانوی حیثیت دیتا ہے جبکہ حقوق العباد کو اپنی وضع کردہ تشریح کے مطابق ادا کرنے کا خواہاں ہے۔ دو مختلف انتہائیں ہیں۔ ایک انتہا کو مذہبی گروہ چھو رہا ہے جبکہ دوسری انتہا سیکولر طبقے کے ہاتھ میں ہے۔ مذہبی طبقہ یعنی مولوی حضرات دوسرے طبقے کو گمراہ سمجھتا ہے ان کا خیال ہے کہ یہ لوگ راستے سے بھٹکے ہوئے ہیں اور انہوں نے جان بوجھ کر اس راستے کو اختیار کیا ہوا ہے۔ دونوں طبقوںکے مابین بیان بازی کی حد تک کشمکش ہے۔ الفا ظ کے گولے ذہن کے توپ سے ایک دوسرے پر پھینکے جاتے ہیں۔ ٹاک شوز ہوتے ہیں۔ دونوں طبقوں کے نمائندے موجود ہوتے ہیں اور پھر گولہ باری کا منظر دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ اسی طرح دونوں طبقوں کی نمائندگی کرنے والے کالم نویس بھی کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔ ایک دوسرے پر طعنہ زنی کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ مشاہدے میں یہ بات آئی ہے کہ مذہبی گروہ کے نمائندگان اپنے مخالفین پر الفاظ کے تیر برسانے کا ہنر اور گُر بہتر انداز میں استعمال کرنے میں مہارت رکھتے ہیں۔ سیکولر طبقے کو ایسے ایسے ناموں سے یاد کرتے ہیں جو کسی صورت میں بھی ان کے شایان شان نہیں ہوتا اور نہ ہی اسلامی تعلیمات کے مطابق ہوتا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ ہونا کیا چاہیے؟ اس مقدمے میں ذمہ داری کا بوجھ کس طبقے پر عائد ہوتا ہے؟ اسلام اس حوالے سے ہماری کیا راہنمائی کرتا ہے؟ نبی کریمۖ کی تعلیمات اور سیرت سے ہم سبق سیکھ سکتے ہیں؟ کیا حضور پاکۖ کی سیرت مبارکہ سے ہمیں یہی درس ملتا ہے کہ ہم ''لادین'' طبقے کو اس انداز میں پکاریں جیسی زبان وہ لوگ مذہبی طبقے کے بارے میں استعمال کرتے ہیں؟ کیا ہمیں ان کے لئے ''امریکی گماشتے'' ''امریکی نمک خوار'' ''یہودی ایجنٹ'' ''حرام کاروں کے نمائندے'' وغیرہ جیسے الفاظ استعمال کرنا چاہیے؟ کیا اس طرز عمل سے لادین طبقے کو راہ راست پر لانا ممکن ہے؟ کیا مذہبی گروہ کو اپنا اندا ز تخاطب بدلنے کی ضرورت نہیں؟ مذہبی گروہ یعنی علماء یا ان کے پیروکار جو خود کو اسلامی تعلیمات کی ترویج و اشاعت کا ذمہ دار سمجھتے ہیں انہیں اپنے اندا ز تخاطب پر نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے۔ انہیں چااہیے کہ وہ سیرت محمدیۖ کا بغور مطالعہ کریں جیسا کہ میںنے ابتداء میں سیرتۖ کا ایک واقعہ بیان کیا ہے اس پر عمل کرنے کی کوشش کریں وگرنہ یاد رکھیں اگر موجودہ صورتحال اسی طرح برقرار رہی تو معاشرہ ایک روز تصادم اور ٹکرائو کی صورت اختیارکرے گا جبکہ اسلام معاشرے کو امن کا گہوارہ بنانا چاہتا ہے۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 



 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved