اسلام کی فطرت میں قدرت نے لچک دی ہے
  6  مارچ‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز
قرآن پاک میں ارشاد ربانی ہے کہ ’’بے شک اللہ کے نزدیک سب سے پسندیدہ دین اسلام ہے‘‘ قومی ’’بیانیہ‘‘ مغرب اور امریکہ کی لائبریریوں سے تلاش کرنے والوں کو خبر ہو کہ امریکی تحقیقاتی ادارے ’’پیوا ریسرچ سنٹر‘‘ نے ایک تحقیقاتی رپورٹ جاری کی ہے... امریکی ادارے کی اس رپورٹ کے مطابق ’’اسلام دنیا میں تیزی سے پھیلنے والا مذہب ہے جو 2050ء میں عیسائیت کی جگہ لے کر پہلے نمبر پر آجائے گا... اس وقت اسلام عیسائیت کے بعد دنیا کا دوسرا بڑا مذہب بن چکا ہے۔‘‘ بحیثیت مسلمان ہمارا تو روز اول سے ہی یہ یقین ہے کہ اسلام دنیا میں انسانوں کو انسانیت کی معراج بخشنے کے لئے آیا... چودہ سو سال قبل جب دین اسلام کی دولت سے حضرت محمد کریمﷺ کو سرفراز کیا گیا تھا تو تب سابق تمام ادیان‘ شریعتیں اور مذاہب منسوخ کر دئیے گئے... اسلام ہی وہ واحد مذہب اور دین ہے کہ جو قیامت تک انسانوں کو راہ ہدایت کی طرف گامزن کرتا رہے گا... پاکستان 20 کروڑ سے زائد مسلمانوں کا ملک ہے... اور یہاں پر چھایا ہوا لادین طبقہ میڈیا کے زور پر نوجوانوں اور خواتین کو لادینیت کے اندھیروں میں دھکیلنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہا ہے ... مسلمانوں کو بے حیائی اور فحاشی کی راہ پر ڈال کر ان کے دل و دماغ سے غیرت کا مادہ نکال دینا چاہتا ہے... امریکہ اور یورپ کے عوام تیزی سے دین اسلام کی حقانیت سے متاثر ہو کر اسلام قبول کر رہے ہیں اور اسلامی جمہوریہ پاکستان میں لبرل فاشسٹوں اور سیکولر پٹاری کے دانش چوروں نے مغربی اور بھارتی اقدار کو پروان چڑھانے کا ٹھیکہ اٹھایا ہوا ہے۔ شراب کے نشے میں ’’ٹن ‘‘ ہو کر تجزئیے پیش کرنے والے بعض اینکرز قومی ’’بیانیہ‘‘ کی بات ایسے کرتے ہیں کہ جیسے یہ بھی کوئی نشہ اتارنے والا کھٹا میٹھا اچار ہو‘ اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے 27فروری کو ایک پٹیشن کی سماعت کے دوران جو ریمارکس دئیے... وہ انتہائی قابل غور ہیں... جناب جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا تھا کہ ’’بدقسمتی سے ملک میں سلمان رشدی اور تسلیمہ نسرین کی تعداد بڑھتی جارہی ہے‘‘ تسلیمہ نسرین اور سلمان رشدی وہ ملعونین ہیں کہ جن سے دنیا کے ایک ارب ساٹھ کروڑ سے زائد مسلمان شدید نفرت کرتے ہیں... ملعونہ تسلیمہ نسرین ہو یا ملعون سلمان رشدی یہ وہ گستاخ اور شیطان ہیں کہ جنہوں نے توہین رسالت کا ارتکاب کرکے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لیا... اگر بقول جسٹس شوکت عزیز صدیقی ‘ پاکستان میں ان ’’موذیوں‘‘ کے حامیوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے... تو اس پر پوری قوم کو فکر مند ہونے کی ضرورت ہے۔ یقیناًقومی بیانیہ تیار ہونا چاہیے مگر قرآن و سنت اور آئین پاکستان کے تابع... اور قومی بیانیئے پر کسی ’’ٹن‘‘ اینکر‘ اینکرنی یا تجزیہ نگار اور ’’کپی‘‘ گروپ کے کسی خرکار کی اجارہ داری نہیں ہونی چاہیے... آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کا یہ عزم کہ ’’ہماری جان اور لہو کا ایک ایک قطرہ پاکستان کے لئے ہے... وطن کے دفاع کے لئے جان قربان کرنے سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں‘‘ قابل تحسین ہے آرمی چیف کے اس عزم بالجزم کو وفاقی‘ صوبائی حکومتوں‘ سیاست دانوں‘ علماء ‘ وکلاء سمیت پوری قوم کو حرز جاں بنا لینا چاہیے۔ اس ملک نے ہمیں سب کچھ ہی تو دیا ہے ... ’’ٹن‘‘ دانش فروش اور ’’کپی‘‘ گروپ سے تعلق رکھنے والے میڈیائی پنڈت ایک لمحے کے لئے ذرا سوچیں تو سہی کہ جس بھارت کے وہ ہر وقت گن گاتے رہتے ہیں... اگر وہ اس بھارت میں ہوتے تو ان پر کیا بیت رہی ہوتی؟ جس یورپ اور امریکہ کے کلچر کو وہ پاکستانی قوم پر مسلط کرنے کے لئے مرے جارہے ہیں... اس امریکہ اور مغرب میں ان کی حیثیت محض دونمبر کے شہری کی ہوتی ہے... جس ’’وطن‘‘ نے انہیں دولت دی‘ عزت دی‘ شہرت دی‘ اس وطن کو وہ دہلی اور واشنگٹن کی چراگاہ بنانے پر تلے بیٹھے ہیں... کیا یہ اس ملک سے بے وفائی کے مترادف نہیں ہے؟ بھارتی فلموں کی پاکستانی سینماؤں میں چلانے کی اجازت دینے والے‘ بھارتی فلموں کو پیسے خرچ کرکے دیکھنے والے... بھارتی اشتہارات کو پاکستان میں چلانے والے سب کے سب کسی نہ کسی طرح نہ صرف یہ کہ کشمیری مسلمانوں پر ظلم و ستم بلکہ پاکستان میں جاری دہشت گردی میں بھی براہ راست شریک ہیں... مگر وہ کیسے؟ اس کا جواب بڑا واضح ہے کہ ... فلموں سے حاصل ہونے والی دولت کو بھارت کشمیر کے مسلمانوں اور پاکستان میں دہشت گردی کو عام کرنے میں استعمال کرتا ہے‘ اگر بھارت ہمارے ہی دئیے ہوئے پیسے سے ہمیں ہی مار رہا ہو... تو کیا اس کا راستہ روکنے کے لئے حکمرانوں اور قوم کو بھارتی فلموں کا بائیکاٹ نہیں کرنا چاہیے؟ ’’پاکستان‘‘ پر سب سے بڑا ظلم یہ ہے کہ یہاں مختلف سیاسی پرچموں اور سیاسی پارٹیوں کے وفادار لاتعداد مل جائیں گے‘ سیکولر لادینیت اور لبرل فاشزم کے پیروکار بھی وافر تعداد میں مل جائیں گے... لیکن ان میں ’’پاکستانی‘‘ کون ہے؟ اسے شاید چراغ لے کر ڈھونڈنا پڑے...؟ ’’پاکستان‘‘ کے ساتھ مزید ظلم یہ ہے کہ جو اپنے اپنے علاقوں کے ظالم وڈیرے‘ قاتل اور رسہ گیر ہیں... وہ اسمبلیوں میں بیٹھ کر قانون سازی کر رہے ہوتے ہیں... ابھی گزشتہ دنوں ہی آئی جی سندھ نے یہ بیان دیا تھا کہ جن پولیس افسران نے کراچی آپریشن میں سرگرم کردار ادا کیا تھا... انہیں چن چن کر مار دیا گیا۔ اور یہ سب کروانے والے اسمبلیوں میں تشریف فرما رہے... ڈالروں اور پاونڈز کی برکت سے ہمارے ملک میں کیسے کیسے ’’دانشور‘‘ اور تجزیہ نگار پیدا ہوچکے ہیں کہ ان میں سے ہر کوئی ’’پاکستان‘‘ کو ہی ٹھیک کرنے پر تلا بیٹھا ہے... کوئی پاکستان کو دہلی کی طرح بنانا چاہتا ہے کوئی ’’پاکستان‘‘ کو یورپ بنانا چاہتا ہے... کوئی ’’پاکستان‘‘ میں مادر پدر آزادی کے خواب دیکھ رہا ہے۔ کسی کی خواہش ہے کہ ’’پاکستان‘‘ کو سیکولر بنا دیا جائے... کوئی پاکستان کو لبرل انتہا پسندی کے ڈنڈے سے ہانکنا چاہتا ہے... یعنی اپنی ذات کو کوئی بدلنے کے لئے تیار نہیں‘ اپنی اصلاح پر کوئی آمادہ نہیں... یہ سارے بھانڈ میراثی اگر 2050 تک زندہ رہے... تو یہ اپنی آنکھوں سے دیکھیں اور کانوں سے سنیں گے کہ ’’دین اسلام عیسائیت کی جگہ لے کر پہلے نمبر پر آجائے گا... آج بھی اگر اسلام دنیا میں سب سے زیادہ پھیلنے والا مذہب ہے تو یہ سیکولر یا لبرل ازم کی وجہ سے نہیں‘ نہ ہی امریکی پٹاری کے دانش فروشوں‘ ’’ٹن‘‘ اینکرز‘ اینکرنیوں اور نہ موم بتی مافیا ‘ این جی اوز یا پھر را مارکہ دہشتگردوں کی وجہ سے ہے... بلکہ دین اسلام کا یہ اعجاز ہے کہ ساری دنیا کی باطل قوتیں چاہے الٹی بھی کیوں نہ لٹک جائیں... اسلام دنیا میں غالب آکر رہے گا۔ انشاء اللہ

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 



 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved