خدا کا نام نہ لو، ظالمو! خدا کے لئے
  6  مارچ‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز
ویران بستی، بنجر دھرتی ، اُجڑی ہوئی کو کھ ، آفت زدہ قوم ، خزاں رسیدہ چمن اور سرطان کے مریض کو دوا کے بجائے دعا کی ضرورت ہوا کرتی ہے ۔ بدقسمت ہوتی ہے وہ بستی جس میں کسی کا بسنے کو دل نہ کرے ۔ قابلِ رحم ہوتی ہے وہ دھرتی جو بادلوں کا خون پی کر بھی شاداب نہ ہو سکے ۔ آفت زدہ کہلاتی ہے وہ قوم جس کو رہبر کے روپ میں ہر موڑ پر رہزن ملیں ۔ بدنصیب ہوتا ہے وہ دبستان جس کو بوقتِ ضرورت پانی دینے والا باغباں میسر نہ ہو۔ اُجڑی ہوئی کو کھ ہری ہو بھی جائے تو اس کا زخم بھرتے بھرتے برسوں بیت جاتے ہیں۔ سرطان کے مریض کا علاج اگر قابل ترین ڈینٹل سرجن سے بھی کروایا جائے تو وہ شفا سے ہمکنار نہیں ہوا کرتا ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ غربت کا وائرس کفر کے جر ثومے سے زیادہ خطرناک ثابت ہوتا ہے ۔ اور بدقسمتی سے میری یہ قوم مسلسل 70برسوں سے غربت و افلاس ، لاقانونیت ، افراتفری ، اقربا پروری ، رشوت ستانی اور جاہلیت کے جان لیوا وائرس کا شکار ہے ۔ یہ پاک سرزمین جو میری دھرتی ہے ۔ میں اس میں بستا ہوں ۔ یہ مجھ میں بستی ہے ۔ میں قلم اٹھا تا ہوں تو میرا سر شرم سے جھک جاتا ہے ۔ میں قوم کے درد لکھوں تو دھرتی پر حرف آتا ہے نہ لکھوں تو ضمیر ملامت کرتا ہے۔ میں اکثر گرد و پیش سے بے خبر رہنے کی کوشش میں لگا رہتا ہوں۔ اس دھوپ نگر میں برف بدن اور موم کے مسکن کو چھپا لیتا ہوں ۔ سورج سوا نیزے پر بھی آجائے تو رگوں میں جمے ہوئے خون کو حرارت سے بچانے کی تگ و دو میں مصروف ہو جاتا ہوں ۔ مگر کبھی کبھی بادِ صبا کا کوئی شر یر جھونکا روح کی گہرائی میں لگے کسی زخم کو چھیڑ جائے تو لہو رِسنے لگتا ہے ۔ یہ الگ بات ہے کہ اس جبرِ مسلسل سے میرے لہوکی رنگت بدل چکی ہے ۔ قوم ہے کہ غربت کے مرض نے اسے نیم جاں کردیا ہے ۔ یہ زندگی کی بقا ء کے لیے پانی مانگتی ہے تو اسے آلود ہ پانی مہیا کیا جاتا ہے ۔ طبیب دوا لکھنے سے پہلے ہی اس سے کمیشن وصول کر چکا ہوتا ہے ۔ رہبر ہے کہ ہر روز اس کے گھر میں نقب زنی کرتا ہے اور اسے خبر تک بھی نہیں ہونے دیتا ۔ قانون کی کتاب اتنی ارزاں ہے کہ جہاں سے مرضی چاہو سستے داموں خرید لو ۔ یہاں ہر روز انصاف کا بازار لگتا ہے۔ گزشتہ نصف صدی میں ملائشیاء ، چین اور جاپان سمیت دنیا کی قریباً تمام ترقی پذیر قومیں ترقی یافتہ ہونے میں تبدیل ہو گئی ہیں ۔ ایک میری قوم ہے کہ 70برس گزرنے کو ہیں کہ ان سے تھانے کا محرر ، چوک میں کھڑا ٹریفک کا سپاہی ، موضع کاپٹواری اور کلرک بادشاہ تبدیل نہ کیا جاسکا۔ اس قوم نے اپنے ہاتھوں سے اپنے رہبروں کا انتخاب کیا اور یہ خبر ہونے پر بھی کہ وہ رہبر کے ملبوس میں رہزن ہیں یہ تین تین بار ان کا انتخاب کرتی رہی اُس خوبصورت مگر بے بس دلہن کی طرح جو والدین کی عزت کی خاطر خوف صورت، بدکردار اور بدقماش شوہر کو اپنانے کے لیے مجبور ہو جایا کرتی ہے حالانکہ اس عالمِ بے بسی میں اس فیصلے کا خمیازہ ایک دلہن کو ہی نہیں کئی نسلوں کو بھگتنا پڑتا ہے ۔ امرِ واقعہ یہ ہے کہ افراد مرجایا کرتے ہیں قومیں زندہ رہتی ہیں اور قوموں کی بقاء کے لیے یہ ضروری ٹھہرتا ہے کہ وہ رہبروں اور رہزنوں کا امتیاز جاننے کا علم سیکھے ۔ لاعلم قومیں زندہ ہو کر بھی مُردوں سے بدتر ہوا کرتی ہیں اور ایک دن ان کی زندگیوں پر ایسا وقت آتا ہے کہ انہیں اپنی ہی ’’لاش ‘‘اپنے ہی کندھوں پر اٹھا کر سوئے لحد جانا پڑتا ہے۔ گھر کی دہلیز سے مدفن تک کا سفرکتنا اذیت ناک ہوتا ہے ؟اس کا کرب نوحہ گر کے سوا کوئی نہیں جانتا ۔ لوگ کہتے ہیں کہ آنکھیں چھین کر چراغ بانٹنے والے لوگ بھی کمال کے فن کار ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی سفاکی دُنیا کا بدترین ظلم قرار پاتی ہے چہ جائیکہ وہ خود کو اِنسانیت کے ہمدرد ثابت کرنے کے لئے اندھے بھکاریوں کے کش کولوں میں سے اصلی سکے اُٹھا کر اُنہیں نقلی نوٹوں سے بھر دیتے ہیں۔ یہی حال گزشتہ 70 برسوں سے پاکستان قوم کی بے بسی اور لاچارگی پر دھمال ڈال رہا ہے۔ اپنی ہی لاشوں پر ہڈیوں کا مُجرا کروانے والی قوم کی بدبختی اِس سے بڑھ کر اور کیا ہو سکتی ہے کہ گزشتہ روز پوری قوم کی سانس بند کر کے لاہور کا تنفس بحال کیا گیا۔ ملکی وقار کے اظہار کے لئے چند چوکوں اور چھکوں کی خاطر کروڑوں روپے اِدھر اُدھر جھونک دیئے گئے۔ معیشت کی زبوں حالی پر بین کرنے والی ملت مُلکی وقار کے نام پر جب اپنی آمدن کا ایک بڑا حصہ ضائع کر دے تو اُسے جہالت کے سوا کوئی نام نہیں دیا جا سکتا۔ قارئین بے بسی کا ایک اور رُخ دیکھئے پہلے زمانوں میں صرف صوبوں کے عوام ہی محکوم ہوا کرتے تھے ۔ اب ہر گلی میں ایک کونسلر اپنی رعایا رکھتا ہے ۔ اس کی رعایا اس سے پوچھنے پر مجبور ہوتی ہے کہ جہاں پناہ ! ہمارے پانچ بچے ہیں اور ان کے کھانے کو صرف دو روٹیاں ہیں تو وہ گلی کا حاکم ان دو میں سے بھی ایک روٹی چھین لینے کے درپر ہوتا ہے ۔ جہاں حاکم رعایا سے رزق چھیننے لگیں جہاں محکوموں کی بیٹیوں کے سروں سے آنچل سرکنے لگیں وہاں قوموں کے ابتلاؤں کے دن لمبے ہو جایا کرتے ہیں ۔ جہاں رشوت لے کر پولیس میں بھرتیاں کی جاتی ہوں جہاں عدل کا گلا گھونٹ دیا جاتا ہو ۔ جہاں وزارت اعلیٰ کے ڈائریکٹوز پر بدنامِ زمانہ آفیسرز کو اعلیٰ سیٹوں پر تعینات کیا جاتا ہو ۔ عدالت کی کرسی پر بیٹھے ہوئے جج کی آنکھوں کے عین سامنے سرکاری وکیل ٗ ریڈرز اور اہلمد سرعام رشوت لینے کے عادی ہوں وہ قومیں ترقی یافتہ بننے میں بہت دیر کر دیا کرتی ہیں ۔ دل خون کے آنسو رونے پر مجبور ہے ۔ حسرتیں اپنی ہی تُربت پر نوحہ کناں ہیں کہ اس پاک سرزمین پر کسی ایک شخص کی زندگی بھی خطرے سے خالی نہیں ۔ ایک غریب محنت کش حصولِ روزگار کے لیے گھر سے نکلے ٗ کوئی نمازی سوئے خانہ خدا جارہا یا کوئی بچہ درس گاہ جا رہا ہو یا صدر پاکستان ایوان صدر سے باہر جانے لگیں یہاں کسی کو گھر واپس آنے کا یقین نہیں ہوتا ۔ اس دھرتی کے ہاتھ لیاقت علی خان کے خون سے بھی رنگین ہوئے اوربے نظیر بھٹو کے قتل ناحق سے بھی ۔ زیڈ اے بھٹو کو بھی جان کا نذرانہ پیش کرنا پڑا اور کہنے والے کہتے ہیں کہ قائداعظمؒ کو بھی اسی مٹی نے نگل لیا۔ یہاں ہر روز درجنوں عصمتوں کے چراغ گُل کردئیے جاتے ہیں ۔ بیسیوں خواتین بیوہ ہو جاتی ہیں ۔ سینکڑوں بچے یتیم کر دئیے جاتے ہیں ۔ خون ہے کہ گلی گلی میں بہتا ہے مگر کسی کو دکھائی نہیں دیتا۔ ڈاکو ہیں کہ کوچے کوچے میں دندناتے پھرتے ہیں۔ چور ہیں کہ سپاہیوں کے ساتھ جاملے ہیں۔ حقیقتِ حال یہ ہے کہ جب تک چور اور ڈاکو محکمہ پولیس کے ملازم رہیں گے۔ جب تک پٹواری اربابِ اختیار کے گھر میں براجمان رہے گا ۔ جب تک محرر اور کلرک ایوانِ اقتدار تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوتے رہیں گے تب تک‘ تب تک‘ میرے لوگ مرتے رہیں گے‘ میرے شہر جلتے رہیں گے ۔ لاقانونیت ، رشوت ستانی ، اقربا پروری اور سفارشی نظام کے امراض پر قابو پانے کے لیے اب کوئی دوا کار گر ثابت نہیں ہوگی کیونکہ ویران بستی ، بنجر دھرتی ، اُجڑی ہوئی کوکھ، آفت زدہ قوم ، خزاں رسیدہ چمن اور سرطان کے مریض کو دوا کی بجائے دعا کی ضرورت ہوا کرتی ہے ۔ میں یہ کس کے نام لکھوں؟ جو الم گزر رہے ہیں میرے شہر جل رہے ہیں‘ میرے لوگ مر رہے ہیں یہی خطۂ زمیں تھا، جہاں رحمتیں تھیں نازل یہی خطۂ زمیں ہے کہ عذاب اُتر رہے ہیں

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 



 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





 انٹر نیٹ کی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضا مینں
loading...


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved