اللہ سے عہد توڑنے اور ملک میں فساد کرنے والے کون؟
  6  مارچ‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

’’اور ملک میں اصلاح کے بعد خرابی نہ کرنا اور خدا سے خوف کرتے ہوئے اور امید رکھ کر دُعائیں مانگتے رہنا کچھ شک نہیں کہ خدا کی رحمت نیکی کرنے والوں سے قریب ہے۔(الاعراف۔آیت56) ’’ اور جو لوگ خدا سے عہد واثق کرکے اس کو توڑ ڈالتے اور جن ’رشتہ ہائے قرابت‘ کے جوڑے رکھنے کا خدا نے حکم دیا ہے۔ ان کو قطع کردیتے اور ملک میں فساد کرتے ہیں ایسوں پر لعنت ہے اور ان کے لیے گھر بھی برا ہے۔(الرعد۔ آیت25) ’’اور جو مال تم کو خدا نے عطا فرمایا ہے۔ اس سے آخرت( کی بھلائی) طلب کیجئے اور اپنا حصّہ نہ بھلائیے اور جیسی خدا نے تم سے بھلائی کی ہے(ویسی) تم بھی( لوگوں سے) بھلائی کرو اور ملک میں طالب فساد نہ ہو۔ کیونکہ خدا فساد کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔(القصص۔ آیت 77) میں اس وقت با وضو مضامین قرآن حکیم سے استفادہ کررہا ہوں۔1980میں ہمارے ایک عزیز دوست سابق بیورو کریٹ۔ بعد ازاں ایڈیٹر زاہد ملک مرحوم نے یہ اشاریہ ترتیب دیا ۔ جس سے ہزاروں مجھ جیسے طالب علم استفادہ کررہے ہیں۔ کتنے خوش قسمت ہیں۔ زاہد ملک۔ کتنا ثواب کمارہے ہیں۔ ’آپریشن ردّ الفساد‘ شروع ہوچکا ہے ۔ اس میں بھی ہمارے شیر دل فوجی جام شہادت نوش کررہے ہیں۔ اور کتنوں کا لہو چاہئے اے ارضِ وطن قرآن پاک کی ان تین آیات کو سامنے رکھیں۔ تو ’آپریشن ردّ الفساد‘ ایک کارِ پیغمبری نظر آتا ہے اللہ تعالیٰ جس سے بھی یہ ذمہ داری لینا چاہتا ہے لے رہا ہے۔ پورے ملک میں دُعائیں مانگی جارہی ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس آپریشن کو کامیاب کرے۔ جو بھی حق پر ہیں۔ انہیں فتح مند کرے۔مگر میرا ضمیر مجھ سے سوال کررہا ہے کہ ’فساد‘ کی وضاحت تو کی جائے۔ یہ تو تعین کیا جائے کہ فساد کون کون کررہا ہے۔ یہ اس لیے ضروری ہے کہ ہم نے آپریشن ضرب عضب شروع کیا تھا۔ وہ بھی ان ہی دہشت گردوں کے خلاف تھا جن کو اب ہدف بنایا جارہا ہے۔ پھر نام بدلنے کی ضرورت کیا تھی۔ اسی نام سے یہ کارروائیاں جاری رہ سکتی تھیں۔ عضب تلوار اب بھی اپنے جلال و جمال دکھاسکتی تھی۔ اس کا دائرہ اب پنجاب تک بڑھایا جارہا ہے۔ کیا اس لیے اس کا نام ردّ الفساد رکھا گیا ہے۔ قرآن پاک کی مندرجہ بالا آیات سے قطعی طور پر واضح ہوجاتا ہے کہ فساد کون کرتا ہے۔ کیوں کرتا ہے۔ اس کے مظاہر کیا کیا ہیں۔ غور کیجئے ’’ملک میں اصلاح کے بعد خرابی نہ کرنا۔‘‘ ہمارے ہاں فی الواقعی اصلاح کے بعد خرابی ہورہی تھی۔ ضرب عضب کے بعد بھی دہشت گردی کی وارداتیں ہورہی ہیں۔ پھر یہ بھی غور کیجئے کہ جو لوگ خدا سے عہد واثق کرکے اس کو توڑ ڈالتے ہیں۔ اپنے ارد گرد نظر ڈالیے وفاق۔ پنجاب‘ سندھ‘ خیبرپختونخوا‘ بلوچستان‘ گلگت بلتستان‘ آزاد جموں و کشمیر‘فاٹا‘ کتنے بڑے بڑے لوگ اللہ تبارک تعالیٰ سے پکے عہد کرنے۔ بڑے بڑے عہدوں کا حلف اٹھانے۔ عدل و انصاف کے لیے اللہ سے اقرار کرنے والے۔ چاہے وہ ایوان صدر میں ہیں ایوان وزیر اعظم ۔ ایوان وزیر اعلیٰ۔ سیکرٹریٹ میں۔ اعلیٰ عدالتوں میں۔ جو سب کے سامنے وعدہ کرتے ہیں کہ وہ اپنے دین۔ اپنی ضمیر کے مطابق فیصلے کریں گے۔ لیکن وہ کیا فیصلے کرتے ہیں۔ ان میں خوف خدا کتنا نظر آتا ہے۔ اپنے عہد کا پاس کتنا ہے۔ ایسے سب افراد کے اعمال بھی فساد کے زمرے میں ہی آتے ہیں۔ سورہ ’الروم‘ کی آیت 41ملاحظہ کیجئے۔ ’’خشکی اور تری میں لوگوں کے اعمال کے سبب فساد پھیل گیا ہے تاکہ خدا ان کے بعض اعمال کا مزہ چکھائیں عجب نہیں کہ وہ باز آجائیں۔‘‘ ’آپریشن ردّ الفساد‘ صرف دہشت گردوں کے خاتمے تک محدود ہوگا تو یہ ختم نہیں ہوگا۔ کیونکہ ہم جنہیں دہشت گرد سمجھتے ہیں وہ اپنے آپ کو صراط مستقیم پر سمجھتے ہیں۔ اور ملک کا ایک بڑا طبقہ بھی یہی خیال کرتا ہے۔ میرے یہ بھائی۔ یہ بیٹے۔ یہ بزرگ ہتھیار اٹھانے پر کیوں مجبور ہوئے ہیں۔ 1979سے پہلے تو اس مملکت خداداد میں ایسا نہیں تھا۔ انہیں دینی مدارس سے منسلک نہ کریں۔ یہ ایک سوچ ہے۔ ایک ردّ عمل ہے ملک میں اکثریت کے ساتھ جو نا انصافیاں ہورہی ہیں۔ سرکاری خزانے لوٹے جارہے ہیں۔ زمینوں پر قبضے کیے جارہے ہیں۔ بلڈر مافیا۔ ٹرانسپورٹ مافیا۔ واٹر مافیا۔ خوراک مافیا۔ یہ سب فسادی ہیں۔ یہ سب اللہ تعالیٰ کے نائب حضرت انسان کی شب و روز تذلیل کرتے ہیں۔ عدالتوں میں مظلوم برسوں دھکے کھاتے ہیں۔ وکیلوں کی بھاری فیسیں۔ ججوں کی بھاری رشوتیں۔ کیا یہ سب بد اعمالیاں نہیں ہیں۔ ملازمین کو بلا وجہ بر طرف کردیا جاتا ہے۔ خبریں بک رہی ہیں۔ ٹاک شوز نیلام ہورہے ہیں۔ بہت سے ماہرین طب کہتے ہیں کہ بیماریوں کے مہنگے علاج اپنی جگہ۔ لیکن اصل بات یہ ہے کہ آدمی بیمار ہی کیوں ہو۔ کہا جارہا ہے کہ صرف انسان کا نہیں۔ اس کے ماحول کا بھی علاج کرو کھانے پینے کی اشیا کا بھی۔ اس کا نام رکھا ہے ۔One Health۔ ایک علاج ۔ پینے کا پانی صاف ہو تو بہت سی بیماریاں نہیں ہوں گی شہر گاؤں میں آلودگی نہیں ہوگی تو بیماریاں نہیں ہوں گی۔اس طرح یہ نکتہ کہ دہشت گردی ہو ہی کیوں۔ ان تمام اسباب کو ختم کرنا ہوگا۔ جن سے انتہا پسندی پیدا ہوتی ہے۔ نوجوان دہشت گردی کی طرف مائل ہوتے ہیں۔ اسے One Operation۔ ایک کارروائی کہہ سکتے ہیں۔ جن جن اسباب سے محرّکات سے اللہ کی سب سے اشرف مخلوق بیزار ہوتی ہے برہم ہوتی ہے۔ اپنے آپ کو ذلّت کا سامنا کرتے دیکھتی ہے۔ طبقاتی اونچ نیچ کا شکار ہوتی ہے۔ وہ سب ختم ہونی چاہئیں۔ صرف دہشت گردوں کا نہیں ۔ ان تمام اسباب کے خلاف بھی آپریشن ہونا چاہئے۔ جو انسانوں کو انتہاؤں کی طرف لے جاتے ہیں۔ یہ اسباب یقیناًبعض مسجدوں۔ مدرسوں میں بھی موجود ہوں گے مگر یہ یونیورسٹیوں میں ہیں۔ عدالتوں میں ہیں۔ سرکاری دفاتر میں ہیں۔ پرائیویٹ سیکٹر میں ہیں۔ جاگیروں میں ہیں۔ سرداریوں میں ہیں۔ ان سب محرّکات کو دور کرنا ہوگا۔ جن جوہڑوں میں بیماری پھیلانے والے مچھر پل رہے ہیں ۔ جن کھیتوں میں زہر کی فصلیں کاشت کی جارہی ہیں۔ وہاں بھی آپریشن ہونا چاہئے۔ آپ کا کیا خیال ہے۔ ایس ایم ایس کیجئے۔ میں آپ کا شکریہ ادا کرنا بھول گیا۔ آپ کے پیغامات نے ہی مجھے حوصلہ دیا۔ میں نے قرآن پاک سے رجوع کیا۔0331-7806800


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
67%
ٹھیک ہے
33%
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved