میں یہاں ہوں میرا دل مدینے میں ہے
  7  مارچ‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

حکومت اپنی ساری طاقت لگا کر فوج اور سیکورٹی کے دیگر اداروں کی بھرپور مدد کے ساتھ پی ایس ایل کا فائنل میچ کروانے میں کامیاب ہوگئی... کرکٹ کے سابق مایہ ناز کھلاڑی عامر سہیل کے مطابق ایک ضدی بچے نجم سیٹھی نے حکومت کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگائے رکھا... نجی چینلز نے تو اس حوالے سے وہ اودھم مچایا کہ الاامان والحفیظ... اب ٹارزن نما اینکرز اور تجزیہ نگار کہہ رہے ہیں کہ اس ایک میچ سے دہشت گردوں کو عبرتناک شکست ہوگئی... توبہ' توبہ' توبہ 'یہ کیسا مائینڈ سیٹ ہے کہ جو مٹھی بھر ''را'' مارکہ دہشت گردوں کو ریاست سے بھی طاقتور سمجھتا رہا... بھلا پاکستانی ریاست سے بھی کوئی گروہ ' یا جماعت طاقتور ہوسکتی ہے؟ آج تک سیانے بزرگ کہتے چلے آرہے تھے کہ قرآن و سنت ہی وہ روشن مینار ہیں کہ جن پر صرف پاکستانی قوم ہی نہیں بلکہ پوری امت مسلمہ کو متحد کیا جاسکتا ہے... مگر اب ٹی وی چینلز کے پیدا کردہ اینکرز اور دانشور یہ شور برپا کئے ہوئے ہیں کہ ''کرکٹ ہی ہماری قوم کو متحد رکھ سکتی ہے'' صرف کرکٹ ہی کیوں ''دانش'' کے ان بیوپاریوں کو چاہیے کہ وہ اس جملے میں تھوڑا سا اضافہ کرکے یہ کہنا شروع کر دیں کہ ''نجم سیٹھی اور کرکٹ ہی قوم کو متحد رکھ سکتے ہیں۔'' علامہ اقبال نے فرمایا تھا: کون رکھے گا ہمیں یاد اس دور خود غرضی میں حالات ایسے ہیں کہ لوگوں کو خدا یاد نہیں ہم کون ہیں کیا ہیں با خدا یاد نہیں اپنے اسلاف کی کوئی بھی ادا یاد نہیں ہے اگر یاد تو کافر کے ترانے ہی بس ہے اگر نہیں یاد تو مسجد کی صدا یاد نہیں بنت حوا کے نچاتے میں سرعام محفل میں کتنے سنگ دل ہیں رسم حیاء یاد نہیں آج اپنی ذلت کا سبب یہی ہے شاید سب کچھ ہے یاد مگر خدا یاد نہیں جس وقت میں یہ کالم لکھ رہا تھا تو میرے موبائل کی گھنٹی بج اٹھی... اٹینڈ کیا تو دوسری طرف میرے مدینہ منورہ میں مقیم دوست تھے... مدینہ منورہ کی مشکبو فضائوں سے آنے والی کال نے میرے قلب و ذہن میں جلترنگ سی بجانا شروع کر دی... میرے دوست بتا رہے تھے کہ امام کعبہ شیخ عبدالرحمن السدیس گزشتہ تین دہائیوں سے بھی زائد عرصے سے حرم پاک میں امامت و خطابت کی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں... لیکن ان ساڑھے تین دہائیوں میں پہلی مرتبہ انہونی یہ ہوئی کہ الشیخ عبدالرحمن السدیس نے 3مارچ کو خطبہ جمعہ مسجد نبویۖ شریف میں ارشاد فرمایا۔ حرم پاک' مسجد نبوی شریف' امام کعبہ' یہ الفاظ میرے کانوں کے راستے سے گزر کر قلب و ذہن میں پہنچے تو پی ایس ایل' نجم سیٹھی اور سیکولر لادینیت کے دیگر بتوں کا پھیلایا ہوا سارا گند صاف ہوگیا... اب تو دل ایک ہی تمنا کئے جارہا تھا کہ حب احمدۖ ازل ہی سے سینے میں ہے میں یہاں ہوں میرا دل مدینے میں ہے عطر جنت میں بھی ایسی خوشبو نہیں جیسی خوشبو نبیۖ کے پسینے میں ہے آنکھوں سے خود بخود آنسوئوں کی جھڑی لگ گئی... کاش کہ میرا خدا میرے جسم پر ''پر'' لگا دیتا اور یہ خاکسار ہوائوں میں تیرتا ہوا حرمین الشریفین کی مشکبو فضائوں میں پہنچ جاتا... میرا دوست کہہ رہا تھا کہ الشیخ عبدالرحمن السدیس نے اپنے جمعہ کے خطاب میں فرمایا کہ ''کائنات میں مدینہ منورہ سے زیادہ مبارک کوئی دوسری جگہ نہیں ہے' مدینہ منورہ کی سرزمین اتنی مبارک ہے کہ جس سے آقا و مولیٰۖ محبت کیا کرتے تھے۔ یہی مبارک شہر مدینہ ہے کہ جہاں سے اسلام کا نور دنیا کے ہر کونے تک پہنچا' میرے دوست کا کہنا تھا کہ الشیخ عبدالرحمن السدیس نے مدینہ منورہ اور مسجد نبویۖ کی عظمت و اہمیت کو اس دلسوزی کے ساتھ بیان کیا کہ لاکھوں فرزندان توحید پر وارفتگی کا عالم طاری ہوگیا۔ الشیخ عبدالرحمن السدیس نے اپنے خطاب میں کہا کہ جس مسجد نبویۖ میں ' ہم سب بیٹھے ہوئے ہیں... یہی وہ مسجد نبویۖ ہے کہ جس کی بنیاد ''تقویٰ'' پر رکھی گئی تھی۔ مدینہ منورہ یا مسجد نبویۖ میں کسی قسم کی ہنگامہ انگیزی' شر و فساد یا خون خرابہ کرنے کی مکمل ممانعت ہے...یہاں پر بسنے والے لوگ خوش نصیب اور مبارک ہیں' ان کو دکھ اور تکلیف دینے والوں کے بارے میں اللہ کے رسولۖ نے فرمایا کہ جو بھی مدینہ کے رہنے والوں کے ساتھ مکر کرے گا وہ ایسے گھل جائے گا جیسا کہ پانی میں نمک گھل جاتا ہے یعنی وہ صفحہ ہستی سے مٹ جائے گا۔ میرا دوست مجھے الشیخ عبدالرحمن السدیس کے خطاب کے چیدہ چیدہ نکات بتا رہا تھا...اور میں ان خوش قسمتوں کے بارے میں سوچ رہا تھا کہ جو مدینہ منورہ کی پاکیزہ سرزمین پر موجود ہیں... جنہوں نے اپنے کانوں سے امام کعبہ کا خطاب مسجد نبوی شریف میں سنا' جو اپنی جبین نیاز مسجد نبویۖ کے مقدس صحن میں رب کے حضور جھکاتے ہیں... جو روضہ رسولۖ پر حاضری دے کر ان کے حضور درود پاک پیش کرتے ہیں... جو مسجد نبویۖ ہی میں موجود جنت کے ٹکڑے یعنی ریاض الجنہ میں نوافل ادا کرتے ہیں' حضرت سیدنا ابوہریرہ راوی ہیں کہ حضرت محمد کریمۖ نے ارشاد فرمایا کہ میرے منبر اور میرے گھر کے درمیان کا حصہ جنت کے ٹکڑوں میں سے ایک ٹکڑا ہے۔ (متفق علیہ) آنسو تھے کہ تھمنے میں ہی نہیں آرہے تھے... میرے دوست کو جب اس بات کا احساس ہوا تو اس نے خوشخبری سنائی کہ نماز ظہر کی ادائیگی کے بعد روضہ رسولۖ پر حاضر ہو کر اس خاکسار' فقیر' حقیر کا سلام بھی عرض کرے گا' تو زیر و زبر ہونے والے دل نے کہیں قرار پکڑا۔ (وماتوفیقی الا باللہ)


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved