پاکستان جیت گیا !
  7  مارچ‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

٭شکر ہے، میچ کا ہنگامہ بخیروخوبی ختم ہو گیا۔ ہر قسم کے حفاظتی اقدامات کے باوجود آخر تک کسی نہ کسی انہونی کا خدشہ لاحق رہا۔ اور جب میچ کی آخری تقریب کا آخری لمحہ بھی پرامن طورپراختتام پذیر ہو گیا تو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔ میچ کی تفصیل سب کے سامنے ہے۔ کون جیتا، کون ہارا؟ یہ کوئی مسئلہ نہیں، صرف یہ کہ دہشت گردوں کے مقابلہ میں پاکستان جیت گیا۔ جو ٹیم بہتر تھی وہ جیت گئی۔ اس ملک گیر واقعہ میں دو باتیں اُبھر کر آئیں ایک تو یہ کہ صرف ایک روز پہلے آصف علی زرداری کا بیان آیا کہ ان کی نوازشریف سے دشمنی ہے اس لئے نہ صرف یہ کہ وہ خود یا ان کا برخوردار ولی عہد میچ دیکھنے نہیں جائیں گے بلکہ پیپلزپارٹی کے تمام عہدیداروں اور کارکنوں کو بھی میچ میں جانے سے روک دیا گیا ہے؟ تو کیا پیپلزپارٹی کے کسی رکن نے میچ نہ دیکھا؟ جبکہ پارٹی کے بہت سے ارکان سٹیڈیم میں موجود تھے! آصف علی زرداری کو سٹیڈیم میں ن لیگ خاص طور پر شریف خاندان کے ساتھ بیٹھنا گوارا نہیں تھا، دوسری طرف عمران خاں نے عجیب رویہ اختیار کیا۔ پہلے صاف اعلان کر دیا کہ میچ کا انعقاد پاگل پن ہے، خدانخواستہ کوئی انہونی ہو سکتی ہے سو موصوف نے آنے سے انکار کر دیا۔ مسئلہ وہی تھا کہ شریف خاندان کے کسی رکن یا کسی وزیر کے ساتھ نہ بیٹھنا پڑے مگر جب ان کے سہارے پرچلنے والے لال حویلی کے بزرجمہرنے میچ دیکھنے کا اعلان کر دیا اور خود خیبر پختونخوا میں عمران خاں کی پارٹی کے تین وزرا اور پارٹی کے اہم عہدیدار چودھری محمد سرور لاہور کے سٹیڈیم میں پہنچ گئے اور بعض غیر ملکی کھلاڑیوں نے عمران خاں کے بیان کو بنیاد بنا کر پاکستان آنے سے انکار کر دیا تو عمران خان کا رویہ اک دم بدل گیا۔ میچ کی کامیابی کی دُعائیں شروع ہو گئیں اور جیتنے والی ٹیم کو مبارکباد بھی دے دی! دوسری طرف پیپلزپارٹی کے سینئر رہنما سید خورشید شاہ نے بھی میچ میں حصہ لینے والے کھلاڑیوں اور اس میچ سے عالمی سطح پر ہونے والے مثبت اثرات کی تعریف کر دی! یہی صحیح اور دانشمندانہ سیاست ہے۔ آصف زرداری کا کیا ہے؟ ایک دو دن پاکستان میں، پھر طویل عرصے کے لئے اپنے اصل وطن دبئی میں! اسلام آباد میں پیپلزپارٹی کے زیر اہتمام کل پارٹیز کانفرنس کا کیا انجام ہوا؟ میڈیا میں جلی سرخیوں کے ساتھ تفصیل موجود ہے! کانفرنس میں ملک کی تین بڑی پارٹیاں شریک ہی نہیں ہوئیں۔ جو سات آٹھ چھوٹی پارٹیاں آئیں ان میں بھی کوئی اتفاق رائے نہ ہو سکا۔شاید آصف زرداری صاحب کو ہوا کے رُخ کی سمجھ آ گئی ہو ! ٭میچ کی لمبی چوڑی باتیں چھپ چکی ہیں۔ صرف تفریح طبع کے لئے چند ایک باتیں۔ راولپنڈی کی لال حویلی نے اعلان کیا کہ 500 روپے کا ٹکٹ لے کر عوام کے ساتھ بیٹھوں گا اور پھر تقریباً 24 ہزار روپے روزانہ کرایہ والے لاہور کے ایک فائیو سٹار ہوٹل میں قیام کیا۔ صبح اطلاع ملی کہ دوسرے فائیو سٹار ہوٹل کے ناشتہ میںمیچ کے ملکی اورغیر ملکی کھلاڑی دیسی بکرے کے پائے، نہاری، حلیم اور انڈے چنے کھا رہے ہیں۔ لال حویلی نے اپنے ہوٹل میں بھی سری پائے لانے کا حکم دے دیا۔ ہوٹل والوں نے معذرت کی کہ ان کے ہاں یہ چیزیں نہیں ہوتیں تو لال حویلی ناراض ہو کر ناشتہ کی میز چھوڑ کر اپنے کمرے میں چلی گئی۔ ہوٹل والوں نے پریشان ہو کر گوال منڈی سے سری پائے اور چنے منگوائے اور لال حویلی کو پیش کر دیئے۔دوسری بات عمران خاں کی دوسری اور سابق ''برطرف'' اہلیہ ریحام خاں نے بڑی افسردی کے ساتھ میڈیا والوں سے کہا کہ کیا تھا اگر بنی گالہ والے سٹیڈیم میں آ جاتے!! قارئین کرام! اس کیفیت کا خود تجزیہ کر سکتے ہیں! تیسری بات بدنام تھیٹروں اور بھارت کی فلموں میں کام کرنے والی ایک عمر رسیدہ (40 سال) بدنام شہرت والی ایک اداکارہ کسی ٹکٹ کے بغیر سٹیڈیم کے باہر جا پہنچی۔ اسے گمان تھا کہ اس کے آنے پر ہر طرف ہنگامہ مچ جائے گا اور میچ کی انتظامیہ بھاگتی ہوئی استقبال کے لئے آئے گی۔ مگر ہوا یہ کہ اس نے بار بار اپنے نام کا اعلان کیا مگر پولیس والے بہت بے رحم نکلے، اسے سختی سے پیچھے ہٹا دیا اس کی شکل دیکھنے والی تھی! ٭چلئے کرکٹ کا طویل ہنگامہ بخیروخوبی ختم ہوا۔ اس پر ساری انتظامیہ کو مبارکباد! اس میچ میں مشرق، مغرب، شمال، جنوب سے لوگ آئے۔ قومی یکجہتی اور یگانگت کا خوبصورت مظاہرہ ہوا۔ سارا کام امن امان سے پایہ تکمیل تک پہنچا۔ غیر ملکی کھلاڑی بھی آ گئے، قومی منظر میں بین الاقوامیت کے واضح رنگ بھر گئے۔ایک بار پھر مبارکباد! میں میچ کا کبھی مخالف نہیں تھا صرف ان انتظامات پر اعتراض تھا جن کے تحت لاہور میں زندگی کی ہر قسم کی سرگرمیاں دو روز مکمل طور پر بند رکھی گئیں۔ چلیں یہ وقت بھی گزر گیا۔ ہاں! اس میچ میں لال حویلی کے شور شرابا کے برعکس جماعت اسلامی کے امیر سنیٹر سراج الحق اپنی روائتی سادگی اور درویشی کے ساتھ آئے۔ کسی نمود و نمائش کے بغیر 500 روپے والی نشست پر بیٹھ کر میچ دیکھا اور جس خاموشی کے ساتھ آئے اسی خاموشی کے ساتھ واپس چلے گئے! سراج صاحب خیبر پختونخوا کے وزیرخزانہ تھے تو لاہور میں وزرائے خزانہ کی کانفرنس میں شرکت کے لئے عام بس میں آئے، لاری اڈے سے رکشے میں بیٹھے اور اسمبلی میں پہنچ گئے۔ وہ اپنی عالی شان سرکاگی گاڑی میں بھی سفر کر سکتے تھے مگر ایسا نہیں کیا! میں ان کی درویشانہ سادہ دلی پر ہدیہ تبریک پیش کرتا ہوں۔ ٭سعودی عرب میں اونٹوں کا سالانہ مقابلہ حسن ہونے والا ہے۔ جیتنے والے اونٹ کو سوا تین ارب روپے ملیں گے۔ مقابلے میں ایک لاکھ اونٹ حصہ لیں گے۔ اونٹ کے حسن کا معیار یہ مقرر ہے کہ اس کی آنکھیں بڑی (بھینس سے بھی بڑی) اور خوبصورت ہوں اور آنکھوں کے اوپر بھنویں بھی بالوں سے بھری ہوئی ہوں۔ اونٹ عجیب جانور ہے۔ ایک ماہر کے مطابق زمین سے اٹھتے وقت اونٹ کا جسم تقریباً 11 زاویے بناتا ہے۔ ایک سیانے کے مطابق اس کی گردن اس لئے لمبی ہوتی ہے کہ اس کا سر جسم سے بہت دور ہوتا ہے۔ اونٹ کے بارے میں بہت سے محاورے اور مثالیں موجود ہیں۔ پھر کبھی سہی۔ ٭ملک کے وزیراعظم پھر غیر ملکی دورے پر چلے گئے۔ ان دوروں کے تعلق بار بار لکھ چکا ہوں اب اور کیا لکھا جائے کہ ان کی وزارت عظمیٰ کا ایک تہائی حصہ غیر ملکی دوروں میں ہی گزرا ہے۔انہیں دو مشغلے بہت مرغوب ہیں۔ بیرونی دورے یا مسلسل جلسوں میں تقریریں! (9 مارچ کو ٹھٹھہ میں تقریب ہو گی) ترکی کے پانچویں دورے کے دوران کسی طرف سے اعتراض ہوا کہ اتنے بڑے جہاز میں اتنے بڑے وفد کے ساتھ کیوں آتے ہیں؟ جواب دیا کہ ملک کی شان و شوکت اور رکھ رکھائو کے لئے بڑے جہاز کے علاوہ بڑا وفد بھی ضروری ہے۔کون سے اپنی جیب سے اخراجات دینے ہوتے ہیں۔ ٭آج کالم کو ہلکا پھلکا رکھنے کی کوشش کی ہے مگر ٹیلی ویژن کھولا ہے تو ذہن کو سخت جھٹکا لگا ہے۔ خبر بتا رہی ہے کہ مہمند کے علاقے افغانستان کی طرف سے دہشت گردوں نے اچانک تین فوجی چوکیوں پر حملہ کر دیا۔ ان کی گولہ باری سے پاک فوج کے پانچ جوان شہید ہو گئے۔ جوابی کارروائی میں دس دہشت گرد مارے گئے! دہشت گرد تو ہزاروں بھی مارے جائیں تو کوئی بات نہیں مگر پاک فوج کے ایک بھی جوان کا دکھ ناقابل برداشت ہوتا ہے۔ دہشت گردی کی یہ کارروائی بھی افغانستان سے ہی ہوئی جو پانچ جانباز جوانوں کی جان لے گئی۔ پوری قوم ملک کی سرحدوں کی حفاظت کے لئے اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ دینے والے عظیم شہیدوں کو سلام کرتی ہے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved