کچھ باتیں بزرگ پنشنروں کے بارے میں
  8  مارچ‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز
٭تمام خبریں اور تبصرے ایک طرف مجھے پہلے ملک کے بوڑھے اور ضعیف پنشنروںکی حالت زار کے بارے میں مختلف خبروں پر کچھ لکھنا ہے۔ میرا دل یہ خبر پڑھ کر دُکھ اور رنج سے بھر گیا ہے کہ بلدیہ گوجرانوالہ کے سینکڑوں پنشنروں کوتین ماہ سے پنشن نہیں ملی اور یہ بزرگ لوگ سڑک پر جلو س نکالنے اور احتجاج کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ مجھے معلوم نہیں گوجرانوالہ کا رپوریشن کا میئر اور دوسرے عہدیدار کون ہیں؟ ظاہر ہے کہ کوئی معمولی لوگ نہیں ہونگے، کسی نہ کسی بڑے سیاسی خاندان، وزیریا ایم این اے قسم کی کسی بڑی شخصیت کے عزیزہوں گے! بے چارے بوڑھے غریب پنشنروں کی اس حالت زار پر مجھے شرم آرہی ہے۔ میرے وطن کے یہ لوگ جنہوں نے اپنے شہر کی خدمت میں عمر گزار دی اب اسی شہر میں بلدیاتی بے حسی کے شکار سڑکوں پر رُ ل رہے ہیں۔یہ صریح طورپر بلدیاتی دہشت گردی ہے۔ اس شہر میں قومی وصوبائی اسمبلیوں کے متعدد ارکان بھی ہوں گے جو ہر سال اپنی تنخواہوں میں خود ہی بے محابا اضافہ کرلیتے ہیں، حالانکہ چند ایک کے سوا شائد ہی کوئی رکن اسمبلی کروڑوں میں نہ کھیل رہاہو۔ مگران کے علاقے میں غریب پنشنر گلے میں سوکھی روٹیاں لٹکا کر فریاد کررہے ہیں! استغفار! پتہ نہیں ان لوگوں کی آہ وبکا کی گوجرانوالہ کارپوریشن کے بزرجمہروں تک کوئی خبر پہنچی ہے یانہیں؟ تین ماہ تک پنشن نہیں دی گئی کیوں؟ کوئی خدا ترسی بلکہ خوف خدا! میں بے چارے بوڑھے پنشنروں کی فوری دادرسی کے لیے دعا گو ہوں! پنشن کے معاملہ میں لالہ موسیٰ کے کیمپنگ گراؤنڈ کے نزدیک سے ایک ریٹائرفوجی صوبیدارمحمد یوسف کا مراسلہ ۔ کہتے ہیں کہ میں اور میرے ساتھی دوسرے متعدد فوجیوں نے 1965ئاور1971ء کی جنگیں لڑیں۔ وطن کی حفاظت کے لیے اپنی جانیں پیش کردیں۔ ان دنوں ہماری تنخواہیں موجود فوجیوں کی تنخواہوں کے مقابلے میں بہت کم تھیں۔ ہمیں اپنی پرانی تنخواہوں کی بنیاد پر معمولی پنشن دی جارہی ہے جو موجودہ فوجی پنشنروں کی پنشن سے بہت کم ہے۔ ہمارے لیے اس معمولی پنشن میں گھر چلانا تو کیا، دووقت کی روٹی کا انتظام ناممکن ہو گیاہے۔ ہم نے اپنی آوازاوپر پہنچانے کی بہت کوشش کی ہے مگر کوئی شنوائی نہیں ہورہی۔ اب آپ کے کالم راوی نامہ کا سہارا لے رہے ہیں۔ براہ کرم! ہماری اپیل اوپر تک پہنچادیں۔آپ کا شکریہ! محمد یوسف (0333-8501086) پنشن کا ہی تیسرا مسئلہ: بہت سے پرانے پنشنروں کی بار بار اپیل آچکی ہے کہ انہیں ان کے پرانے قومی شناختی کارڈوں پر پنشن نہیں دی جارہی۔ ان میں بعض پنشنروں کی عمر80 برس سے اوپر ہوچکی ہے۔ بنکوں والے ان سے نیا شناختی کارڈ لانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ قارئین جانتے ہیں کہ نیا شناختی کارڈ حاصل کرنا جان جوکھوں کا کام ہے۔ دن بھر لمبی قطاروں میں کھڑے ہو کر کھڑکی کے پاس پہنچو تو کوئی نہ اعتراض لگادیا جاتا ہے۔ یونین کونسل سے تصدیق کراکے لاؤ، شادی شدہ عورت ہے تو خاوند کا شناختی کارڈ لاؤ، خاوند نہیں تو بھائی کا کارڈ لاؤ، ( بھائی بھی نہ ہو تو پھر؟) ۔ شناختی کارڈ بنانے میں کئی دن لگ جاتے ہیں۔ عمر رسیدہ ضعیف پنشنر ایک عرصے سے پرانے کارڈوں پر پنشن وصول کررہے ہیں، ان کی نئے سرے سے شناخت کامطالبہ غیر ضروری ہے۔ بنکوں کے پاس ان بزرگوں کے سارے شواہد تصویریں اورثبوت ریکارڈ میں محفوظ ہیں۔ یہ کوئی نئے آنے والے لوگ نہیں پھر ان سے نئے کارڈ وں کا مطالبہ کس لیے ؟ مگر یہ ظلم مسلسل ہورہاہے۔ پرانے کارڈوں اورنئے کارڈوں کی تفصیلات یکساں ہیں تو انہیں تنگ کیوں کیاجارہاہے؟ دنیا بھر میں پنشن پر جانے والے افراد کی نہایت عزت اور تکریم کی جاتی ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں تو آخری تنخواہ کو ہی پنشن میں تبدیل کردیاجاتا ہے تاکہ ملک وقوم کی خدمت کرنے والے یہ بزرگ اب کسی محنت و مشقت کی بجائے آرام ' سکون اور تفریح کی زندگی گزارسکیں۔ یہ معاشرے اپنے بزرگوں کااحترام کرتے ہیں۔ سفر وغیرہ میں رعائت دی جاتی ہے اور ہم قوم کی خدمت کرنے والے قابل احترام بزرگوں کے ساتھ کس طرح پیش آرہے ہیں! معمولی پنشن بھی نہیں دی جاتی اور سڑکوں پر آنے پر مجبور کیاجارہاہے۔ یہ ظلم کرنے والے یہ بات نہیں سوچتے کہ ایک روز انہیں خود بھی انہی حالات سے گزرنا ہوگا! ٭افغانستان کے ایک سرکاری ترجمان کا بیان کہ افغانستان میں اس وقت 45 ہزار دہشت گرد موجود ہیں۔ معلوم نہیںدہشت گردوں کی فہرست میں اشرف غنی ، عبداللہ عبداللہ اور حامد کرزئی کے نام کس نمبرپرہیں؟ ٭آصف زرداری نے ایک بیان میں کہا ہے کہ نوازشریف کی سوچ بہت چھوٹی ہے۔ اس پر نوازشریف کی طرف سے آصف زرداری کو باقاعدہ ذاتی پیغام بھیجا گیاہے کہ ''مجھے آپ کا بیان پڑھ کر بہت افسوس ہوا ہے۔ میں نے کبھی آپ کے بارے میں ایسی بات نہیں کی! '' قارئین کرام! یہ دو بھائیوں کا آپس کا ذاتی معاملہ ہے بس ذرا سا یہ خیال آیا ہے کہ اس وقت نوازشریف اقتدار کے گھوڑے پر سوار ہیں اور آصف زرداری ملک کے صدر کے عہدہ کا لطف اٹھا کر اب اِدھر اُدھرفارغ پھررہے ہیں۔ پتہ نہیں انہوں نے میاں نوازشریف کی سوچ کو چھوٹا کیسا کہہ دیا ہے؟ یہ جو پانامہ لیکس میں شریف خاندان کی بے پناہ دولت کے ڈھیروں کا معاملہ چل رہاہے کیا یہ کسی چھوٹی سوچ کا نتیجہ ہے؟ ممکن ہے کہ زرداری صاحب نے دنیا بھر میں پھیلے ہوئے اپنے87 کاروباروں کے مقابلے میں شریف خاندان کے بے شمار اثاثوں کو کم تر سمجھ لیا ہوا؟ بہرحال یہ دو اندر کھاتے گہرے تعلقات والے دوبھائیوں کامعاملہ ہے۔ اس سے عوام کا کوئی تعلق نہیں۔ ٭عمران خاں نے کہاہے کہ پانامہ کیس کے سلسلے میں جتنی بار عدالت میں گیا ہوں اتنا تو کبھی سکول میں نہیں گیا! انہوں نے سکول نہ جانے کی وجہ نہیں بتائی اور یہ کہ سکول سے غیر حاضر رہ کر کہاں جایا کرتے تھے؟ کیا کِیا کرتے تھے؟ ٭سری نگر مقبوضہ کشمیر کے پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مقبوضہ علاقے کی تحریک آزادی کی معروف خاتون رہنما آسیہ اندرابی نے کہا ہے کہ پاکستان کی کشمیر کمیٹی کا چیئرمین مولانا فضل الرحمان کی بجائے کسی ایسے شخص کو بنایاجائے جوبھارتی ذہنیت کو سمجھتاہو! ''اس کا مطلب یہ ہے کہ مولانا فضل الرحمان بھارتی ذہنیت کو نہیں سمجھ سکتے! پتہ نہیں آسیہ بی بی نے کیسے یہ بیان دے دیا ،ورنہ پاکستان کی کشمیر کمیٹی بھارتی ذہنیت کو جتنا سمجھتی ہے اس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ وہ سارا سال منجمد اور خاموش رہتی ہے، کبھی نریندر مودی وغیرہ کے خلاف کوئی بات نہیں کرتی۔ صرف سال میں ایک مرتبہ 5 فروری کو کشمیر کی تحریک آزادی کی گول مول سی حمائت کرکے پھر گہری نیند سو جاتی ہے۔ اس سے قبل مقبوضہ کشمیر کے رہنما علی گیلانی بھی کشمیر کمیٹی کی سربراہی سے مولانافضل الرحمان کو فارغ کرنے کا مطالبہ کرچکے ہیں۔ پتہ نہیں، یہ کشمیری رہنما ہمارے مولانا صاحب کے پیچھے کیوں پڑ گئے ہیں جب کہ کشمیر کمیٹی کا کشمیر سے ویسے ہی کوئی تعلق ہی نہیں ! نام سے کیا ہوتاہے؟ ٭ایس ایم ایس: ''پیسکو'' بنوں سے غلام علی، گل ایوب، طفیل غنی، دلبرخاں ،آفتاب کا مشترکہ مراسلہ: واپڈا کے میٹر ریڈرکی طرح لائن سٹاف کوبھی موٹرسائیکل الاؤنس اور ٹیکنیکل سٹاف کو گرڈ سٹاف کی طرح نائٹ الاؤنس دیاجائے۔ اسٹنٹ لائن میٹر ریڈر کو میٹر ریڈر کے برابر سکیل اور دس سال کے بعد سینیارٹی کی بنیاد پر ترقی دی جائے۔ رسک الاؤنس بڑھاکر10ہزار کیاجائے۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 




 انٹر نیٹ کی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضا مینں
loading...
loading...


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved