افغان سرزمین ، بھارتی گود اور امریکی چھتری
  9  مارچ‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

غور کیجئے اگر افغانستان میں امن قائم ہوجائے اور پڑوسی ممالک سے اس کے تعلقات خوشگوار ہو جائیں تو یہ صورتحال کس کیلئے سود مند اور کس کیلئے گھاٹے کا سودا ثابت ہوگی ۔مستقل بدامنی نے نیٹو اور امریکی افواج کے افغانستان میں قیام کا جواز فراہم کررکھا ہے۔ وسطی ایشیائی ممالک ، روس ، چین اور پاکستان کے مابین کثیر الجہتی علاقائی روابط کے امکانات برباد کرنے کے لئے افغانستان کو غیر مستحکم رکھنا امریکہ بہادر کی مجبوری ہے ۔تلخ تجربات یہ ثابت کرچکے ہیںکہ افغانستان کی ابتر صورتحال پاکستان کو براہِ راست متاثر کرتی ہے۔اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ موجودہ گھمبیر صورتحال پہ قابو پانے کیلئے پاک افغان تعاون ناگزیر ہے۔یہ سمجھنا کچھ زیادہ مشکل نہیں کہ پاک افغان کشیدگی بھی درحقیقت امریکہ بہادر کے مفاد میں جاتی ہے۔ آپریشن ضربِ عضب کے نتیجے میں فاٹا کے سرحدی علاقوں سے افغانستان فرار ہونے والے دہشت گردوں کو دانستہ محفوظ راستے فراہم کئے گئے ۔ پاکستان کے بارہا اصرار کے باوجودامریکی اور نیٹو افواج نے ممکنہ فرارکے راستے بند نہیں کئے ۔ یہ اقدام ضرب ِ عضب کو ناکامی سے دوچار کرنے کی سوچی سمجھی سازش کے مترادف تھا ۔واضح رہے کہ نیٹو اور امریکی فورسز کے پاس ان دہشت گردوں کو ہدف بنانے کیلئے جدید ترین عسکری صلاحیت دستیاب ہے۔ انہی دہشت گردوں نے پاکستان میں مساجد ، پارکوں ، اقلیتی عبادت گاہوں ، مزارات اور آرمی پبلک سکول پشاور جیسے سانحات میں ہزاروں بے گناہوں کا خون بہاکر ریاست پاکستان کے وجود کو عملاََ مٹانے کے کوشش کی ۔ افغانستان کی سرزمین پہ بھارتی گود میں امریکی چھتری کے سائے تلے یہ سفاک دہشت گرد آج بھی پاکستان کے وجود پہ حملہ آور ہورہے ہیں۔ان حالات میں پاکستان کی نیت پہ امریکہ کے شبہات اور اعتراضات بے معنی ہو جاتے ہیں۔دنیا کے جدید ترین وسائل سے لیس فوج کی افغانستان میں موجودگی کے باجود دہشت گردوں کے غول پاکستان کے سرحدی علاقوں پہ دندناتے پھر رہے ہیں۔ دہشت گردی کی حالیہ لہر کے ساتھ ہی پاک افغان سرحد پہ قائم چوکیوں پہ دہشت گردوں کے حملوںکا سلسلہ شروع ہوچکاہے۔ان دہشت گردوں کو افغان نیشنل آرمی ، این ڈی ایس اور را کی بھر پور معاونت حاصل ہے۔پاکستان کے وجود کو پارہ پارہ کرنے والے ان عناصر کو کھلی چھوٹ دے کر امریکہ نے اس بات کا عملی ثبوت فراہم کردیا ہے کہ خطے میں وسیع پیمانے پہ بدامنی پھیلانے کے ہر اقدام کو اس کی آشیر باد حاصل ہے۔ پاکستان کی بربادی اور چین کے تزویراتی و معاشی پھیلائو کو روکنے کیلئے امریکہ اور بھارت کا گٹھ جوڑ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ۔چنانچہ مغربی سرحدوں پہ کشیدگی کا فائد ہ اٹھاتے ہوئے ایل او سی پہ بھی عسکری محاذگرم رکھا جارہاہے۔ملک بھر میں پھیلے را کے پروردہ دہشت گرد نیٹ ورکس کا کچا چٹھا بھی کُھل چکا ہے۔ایک عام پاکستانی اس تشویش میں مبتلا ہے کہ آخر بدامنی اور دہشت گردی کے منہ زور گھوڑے کو کیسے لگام دی جائے گی ۔ عسکری آپریشن اس پیجیدہ جنگ کا ایک اہم حصہ ہے اور بڑی حد تک اس محاذ پہ گراں قدر کامیابیاںحاصل کی جاچکی ہیں۔اندرونی محاذ پہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ناقص کارکردگی اور غیر اطمینان بخش استعداد کار نے مجموعی طور پہ بے حد منفی تاثر پیدا کیا ہے ۔سیاسی قیادت کی غفلت اور عدم دلچسپی نے اس بحرانی کیفیت میں ملک کو مزید تباہی کے دہانے کی جانب دھکیلا ہے۔ اندرونی محاذ پہ ان دو خامیوں کو دور کئے بنا دہشت گردی کے عفریت پہ قابو پانا ممکن نہ ہوگا۔ بیرونی محاذ پہ ہمیں بے حد پیجیدہ صورتحال کا سامنا ہے۔ افغانستا ن کی حقیقی صورت حال کا درست ادراک کرنا بے حد ضروری ہے ۔ افغان حکومتی اہل کاروں کی پاکستان کے خلاف آتش بیانی غیر متوقع نہیں ۔افغان کٹھ پتلی حکومت کا نان ونفقہ بھارت کے ذمہ ہے جبکہ داخلی محاذ پہ یہ حکومت مکمل طور پہ بے اختیار اور غیر فعال ہے۔افغانستان کے بڑے حصے پہ ان افغان طالبان کی عمل داری ہے جو برسوں سے غیر ملکی قابض افواج کے خلاف برسرِ پیکار رہے ہیں۔پاکستان سے ملحقہ سرحدی علاقوں میں ٹی ٹی پی کے مفرور دہشتگردوں پر مشتمل گروہ امریکی و بھارتی سر پرستی میں سر گرم عمل ہیں۔مظلوم افغان عوام کی بے چارگی کااندازہ اس امرسے لگایا جاسکتا ہے کہ کہیںاُن کو بدعنوان حکومتی اہل کاروں کے ہاتھوں ذلیل ہونا پڑتا ہے اورکہیںسفاک دہشت گردوں کے ظلم وستم سہنا پڑتے ہیں۔ تعلیم،تجارت ،علاج و معالجے اور دیگرروزمرہ امور کیلئے سرحدی علاقوں میں بسنے والے افغانوں کی اکثریت پاکستان کی جانب دیکھتی ہے ۔ ناعاقبت اندیش افغان حکومتی اہل کاروں ، سفاک دہشت گردوں ، سازشی بھارت اور بے اصول امریکہ کے بنے ہوئے جال سے محتاط رہتے ہوئے دیرپا امن کے امکانات پیدا کرنا کوئی آسان کام نہیں ۔خارجی محاذ پہ اس چیلنج سے نمٹنے کیلئے بے پناہ حکمت ، تدبر اور سفارتی چابکدستی کی ضرورت ہے۔عسکری آپریشن نے سیاسی قیادت کو سازگار ماحول فراہم کردیاہے ۔ اس ماحول سے فائدہ اٹھانے کیلئے اہم اقدامات اٹھانے میں تاخیر نقصان دہ ثابت ہوگی ۔ وقت آگیا ہے کہ بھارت اور امریکہ کے گٹھ جوڑ سے پیدا ہونے والی علاقائی بدامنی پہ قابوپانے کیلئے علاقائی قوتوں کو متحرک کیا جائے ۔ پاکستان دہشت گردی کا معاون نہیں بلکہ دہشت گردی سے متاثرہ ملک ہے ۔ اس علاقائی بحران پہ قابو پانے کیلئے چین اور روس کی سہولت کاری درکار ہوگی ۔ اس مرحلے پہ ایک تشویش ناک سوال ذہن میں اُٹھتا ہے کہ کیا ہماری حکومت اس پیجیدہ صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار ہے ؟


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved