پاک فوج کی ایک اور بڑی قربانی
  9  مارچ‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز
٭صوابی میں دہشت گردوں سے محاذ آرائی کا ایک اور منظر! دہشت گردوں سے کھلے مقابلہ میں پاک فوج کا ایک نوجوان کیپٹن جنید اور ایک سپاہی امجد شہید ہوگئے۔ پانچ دہشت گرد بھی مارے گئے ۔ پاک فوج ملک وقوم کے دشمنوں کے خلاف محاذ آرائی میں ایک عرصے سے قربانیاں دے رہی ہے، دیتی رہے گی۔ فوج قوم کا پہلا اور آخری سہارا رہ گیا ہے۔ وہ تو اپنافرض ادا کررہی ہے مگر ایک شکائت ،گلہ بلکہ رنج عوام کے ان حلقوں سے ہے جو ملک دشمن عناصر کو پناہ دیتے ہیں، ان کے سہولت کار بنتے ہیں۔ کوئی بھی حکومت یا پولیس اکیلے کچھ نہیں کرسکتی۔ اصل محاسبہ توعوام ہی کرسکتے ہیں۔کیا یہ ہم سب کا فرض نہیں کہ ہمارے ہم سایہ یا محلے میں کوئی اجنبی مشکوک عناصر دکھائی دینے لگیں یا کرایہ پر رہنے لگیں تو فوراً پولیس یا متعلقہ ادارے کو مطلع کریں؟ کیا ہم یہ فریضہ ادا کررہے ہیں؟ ٭ اسلام آباد ہائی کورٹ نے27فروری کو حکم جاری کیا کہ سوشل میڈیا پر دنیا کی مقدس ترین ہستی آنحضورنبی ۖ رحمت ، ان کے اہل خانہ اور صحابہ کرام کے خلاف گستاخانہ تبصروں پر فوری پابندی لگائی جائے۔ گزشتہ روز طارق اسد ایڈووکیٹ نے فاضل عدالت کو بتایا کہ عدالت کے حکم پر عمل نہیں کیاگیااور گستاخانہ تبصرے بدستور جاری ہیں۔ اس پر جسٹس شوکت عزیز صدیقی اتنے برہم اورجذباتی ہوگئے کہ نیا حکم لکھواتے وقت آبدیدہ ہوگئے۔ انہوں نے شدید دکھ اور رنج کااظہار کیا کہ دنیا کی عظیم ترین مقدس ہستی کی شان میں اتنی گستاخی اوردریدہ دہنی کو کیوں نظرانداز کیاجارہاہے؟ عدالت نے اگلے روز وزیر داخلہ کو طلب کرلیا جو پیش نہیں ہوئے۔ سیکرٹری داخلہ نے عذر پیش کیا کہ آنکھ کی سرجری کے باعث وزیر داخلہ نہیں آسکے۔ جب کہ آنکھ کی سرجری کئی روز پہلے ہوئی تھی۔ دوروز قبل ڈاکٹر وں نے آنکھ کا معائنہ کے بعد اسے نارمل قراردے دیا تھااوروزیرداخلہ باقاعدہ اپنے دفتر میں کام کررہے ہیں۔ جناب جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے جس آزردگی، افسردگی اور رنج و غم کا اظہار کیا ہے اس نے دوسروں کو بھی رُلا دیا ہے۔ میں ان الفاظ کا اعادہ نہیں کرسکتا جن میں سے کچھ کا جسٹس موصوف نے آبدیدہ لہجے میں ذکرکیا ہے۔ قانون کا تقاضا نہ ہوتا تو شائد جناب شوکت عزیز صدیقی بھی ان الفاظ کااعادہ نہ کرتے! مگر حضور سرور کائناتۖ،امہات المومنین وصحابہ کرام کے بارے میں صرف ملک کے ایک جج کو ہی نوٹس لینا تھا؟کہاں ہے نظریہ پاکستان کی علم بردارمسلم لیگ اور اس کی حکومت ؟ اس کا اولین فریضہ اسلامی اقدارو شعائر کا تحفظ اور فرو غ ہے مگر!!بدقسمتی یا کیا؟ کہ اس نظریاتی مملکت میں مذہبی امور کی ایک وزارت، اسلامی نظریاتی کونسل، شریعت کورٹ ، محکمہ اوقاف ، پیمرا، پی ٹی اے اور ایسے دوسرے ادارے اور محکمے موجود ہیں، مگر اس سنگین مسئلہ پر سب خاموش ہیں! کوئی نہیں بول رہا! ویسے تو یہ پورے عالم اسلام اور اقوام متحدہ کا بھی یکساں مسئلہ ہے۔ اس ناقابل برداشت مسئلہ پر ملک میں شدید ہنگامہ آرائی ہوسکتی ہے۔ اس مسئلہ پر کسی بھی وقت کوئی بے قابو صورت حال پیدا ہو سکتی ہے۔ جناب جسٹس شوکت صدیقی کے ریمارکس ایسی کسی صورت حال کی واضح نشان دہی کررہے ہیں۔ اقتدار کے مسند نشینوں کو اس ناقابل برداشت صورت حال پر عوا م کے کسی بھی بھڑکنے والے غیض و غضب سے خبردار کررہا ہوں! ٭خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ پرویز خٹک لاہورآئے، ایک آبادی( سبزہ زار) میں تحریک انصاف کے ایک رہنما کے گھر پر لاہورمیں آباد پشتون حضرات کے ایک اجتماع سے خطاب کیا اور پنجاب کے وزیراعلیٰ اور حکومت پر برس پڑے کہ پنجاب میں پشتون افراد کے خلاف کارروائی کیوں کی جارہی ہے؟ انہوں نے پہلے تو اس بات پر زور دیاکہ پنجابی، سندھی اور بلوچی لوگ ان کے بھائی ہیں یہ سب پاکستانی ہیں، اور یہ کہ وہ خودپاکستانی ہیں اور اپنے پاکستانی بھائیوں سے ملنے کے لیے آئے ہیں۔ اس کے بعد انہوں نے لہجہ بدلا اور واضح الفاظ میں دھمکی دی کہ پشتونوں کے ساتھ بدسلوکی جاری رکھ کر انہیں باغی ہونے پر مجبور نہ کیاجائے! یہ وہی زبان اور لہجہ ہے جو ایم کیو ایم کا مفرور لیڈر الطاف حسین کا ہوا کرتاتھا! آپس کے شکوو شکائت پر بغاوت کی دھمکی! بغاوت کس کے خلاف ؟اور کس طرح ؟پنجاب کی حکومت مؤقف دے چکی ہے کہ ''رد الفساد'' آپریشن کی کسی لسانی بنیاد پر نہیںبلکہ بلاتفریق کیاجارہاہے۔ بہت سے غیر قانونی افغانی باشندے بھی پشتو بولتے ہیں۔ یہ کارروائی ان لوگوں کی تلاش میں کی جارہی ہے۔ یہ مؤقف درست ہے یا غلط، اس بارے میں صحیح اور دانش مندانہ راستہ یہ تھا کہ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ لاہور آکر پنجاب کے وزیراعلیٰ سے براہ راست ملاقات کرتے۔ وزیراعلیٰ پنجاب ان کی باتیں غورسے سنتے اورانہیں ساتھ لے جاکر ان آبادیوں کادورہ کرتے جہاں پشتو بولنے والے حضرات رہائش پذیر ہیں۔ دونوں وزرائے اعلیٰ پوری صورت حال کا جائز ہ لیتے اور اس مسئلہ کو خوش اسلوبی کے ساتھ حل کردیا جاتا۔ مگر افسوس کہ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ نے ایسا کرنے کی بجائے براہ راست لاہور میں آباد پشتون برادری کو باغی ہو جانے کے امکانات کی پٹی پڑھانے کی کوشش کی ہے۔ یہ سار امعاملہ اتنا سادہ نہیں۔ کل سندھ اور پھر بلوچستان کے وزرائے اعلیٰ پنجاب آکر اور پنجاب کے وزیراعلیٰ دوسرے صوبوں میں جاکر وہاں آباد اپنے اپنے صوبوں کے باشندوں کو''باغی'' ہونے کا درس دینے لگیں تو با ت کہاں تک جائے گی؟ کشادہ دل اور کشادہ بازوؤں والے عظیم بہادر پشتون باشندے اس عظیم وطن کے قابل فخر نمائندہ لوگ ہیں۔ یہی حال سندھی، بلوچی اور پنجابی بھائیوں کا ہے۔ بڑے حکمرانوں کا کام ان سب کو قومی یک جہتی کے حصار میں لانا ہے۔ مگر خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ نے جس انداز میں لسانی تفریق کو نمایاں کیا ہے مجھے اس پر افسوس ہے!! ٭چار سال پہلے انکشاف ہوا کہ سوئس بنکوں میں پاکستانی افراد کے دوسو ارب ( دوکھرب) ڈالر جمع ہیں۔ یہ رقم پاکستان کے کل سالانہ بجٹ سے تقریباً پانچ گنا زیادہ ہے۔ یہ واپس آجائے تو سارے قرضے اتر جائیں اور ملک میں کوئی ٹیکس لگانے کی بھی ضرورت نہ رہے۔ چار سال قبل حکومت نے چند ماہ تک اس حکومت کے ساتھ بات چیت اور معاہدہ کے لیے ایک وفد بھیجنے کااعلان کیا۔ یہ چند ماہ چار برسوں پر پھیل گئے اور کوئی پیش رفت نہ ہوسکی۔ اب بتایا جارہاہے کہ شائد 2018ء میں ایسا وفد جاسکے گا! حکومت کیو ں خاموش ہوچکی ہے؟ اس لیے کہ ان دوسو ارب ڈالروں کے کھاتہ داروں میں زیادہ کھاتہ دار تو خود حکومت میں شامل ہیں! وہ کیوں حکومت کو کوئی کارروائی کرنے دیں گے؟ ٭معروف شاعر اور روزنامہ اوصاف کے قطعہ نگار اقبال راہی کا ایس ایم ایس: ''22 اپریل کو میری بیٹی کی شادی ہے ، پریشان ہوں کہ انتظام نہ ہونے کے برابر ہے۔ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ یہ مشکل آسان فرمائے!''۔(اقبال راہی 0322-4534350)۔ (اقبال راہی بہت خود دار اور وضع دار شخص ہیں۔ ناگزیر حالات میں مجبوراًاتناذکر کیا ہے)۔ ٭ایس ایم ایس: میرے محلہ جعفریہ بھکر میں سیوریج مسلسل خراب رہتاہے ۔ گٹر ابلتے رہتے ہیں اور متعدد گلیاں گندے پانی میں ڈوبی رہتی ہیں۔ ضلعی انتظامیہ بھی بات نہیں سنتی۔ ہم لوگ بہت پریشان ہیں۔ اس معاملہ کو وزیراعلیٰ تک پہنچادیں۔ یہ اُن کے انتخابی حلقہ کا بھی مسئلہ ہے۔ امتیازبھٹی ایڈووکیٹ بھکر(0333-6842766)

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
50%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
50%
پسند ںہیں آئی
 




 انٹر نیٹ کی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضا مینں
loading...
loading...


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved