قومی بیانیہ… مجرم کون علماء یا حکمران؟
  10  مارچ‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

(گزشتہ سے پیوستہ) اعتراض یہ ہے کہ تعلیم کو صنعت کی بجائے سماجی خدمت کی حیثیت حاصل ہونی چاہیے ۔ لہذا ہمارا مطالبہ ہے کہ ایک قومی کمیشن قائم کیا جائے جو پرائیویٹ سیکٹر کے تعلیمی اداروں کے لیے''نہ نفع نہ نقصانیامناسب منفعت کی بنیادپر فیسوں کا تعین کرے اور انہیں اس بات کا پابند کرے کہ وہ کم از کم پچیس فیصد نادار طلبہ کو میرٹ پر منتخب کر کے مفت تعلیم دیں ۔عصری تعلیم کے پرائیویٹ اداروں میں کئی قسم کی درآمد کی ہوئی نصابی کتب پڑھائی جارہی ہیں اور ان کا نظامِ امتحان بھی بیرونِ ملک اداروں سے وابستہ ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ ان کے نصاب پر موثر نگرانی کا نظام قائم کیا جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ان میں تعلیم پانے والی ہماری نئی نسل اسلامی اور پاکستانی ذہن کی حامل ہو اور سب سے آئیڈیل بات یہ ہے کہ ترقی یافتہ ممالک کی طرح اسکول گریجوایشن کی سطح تک یکساں نصابِ تعلیم اور نظامِ امتحان رائج ہو۔ (14)پاکستان میں رہنے والے پابندِ آئین وقانون تمام غیرمسلم شہریوں کو جان ومال اور عزت وآبروکے تحفظ اور ملکی سہولتوں سے فائدہ اٹھانے کے وہی تمام شہری حقوق حاصل ہیں جو مسلمانوں کو حاصل ہیں ۔ہم حقوقِ انسانی کی مکمل پا س داری کا عہد کرتے ہیں۔اِسی طرح پاکستان کے غیر مسلم شہریوں کو اپنی عبادت گاہوں میں اپنے اپنے مذہب کے مطابق عبادت کرنے اور اپنے مذہب پر عمل کرنے کا پوراپورا حق حاصل ہے ۔ (15)اسلام خواتین کواحترام عطا کرتا ہے اور ان کے حقوق کی پاس داری کرتا ہے۔ اسلام کے قانونِ وراثت میں خواتین کے حقوق مقرر ہیں۔ان کو جاگیرداری،سرمایہ داری اور قبائلی رسوم پر مبنی سماجی روایات کی بنیادپروراثت سے محروم رکھا جاتا ہے۔بعض صورتوں میں اخلاقی اور معاشرتی دباو ڈال کر وراثت سے دست برداری حاصل کی جاتی ہے۔قرآن سے شادی کا تصور بھی وراثت سے محروم کرنے کی غیر شرعی رسم ہے ۔ وراثت کا استحقاق محض دست برداری سے ختم نہیں ہوتا ، قرآن و سنت کی رو سے تقسیمِ وراثت شریعت کالازمی قانون ہے ۔ شریعت کی رو سے اگر کوئی وارث اپنا حصہ رضا ور غبت سے اورکسی جبر و اکراہ کے بغیر کسی کو دینا چاہے ، تو بھی محض دست برداری کافی نہیں ہے ۔جائیداد مالکانہ طور پر اس کے نام پر منتقل کرنااور اسے اس پر قبضہ دینا لازمی ہے ، اس کے بعد ہی وہ مالکانہ حیثیت سے تصرف کرسکتا ہے ۔ عورتوں پر تشدد کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں ہے اور رسول اللہ ۖنے خطبہ حج الوداع میں عورتوں کے حقوق کی پاس داری پر نہایت تاکید کے ساتھ متوجہ فرمایا ہے ۔خواتین کی جبری شادی ہمارے دیہی اور جاگیردارانہ سماج کی ایک خلافِ شرع روایت ہے اور ریاست کی ذمے داری ہے کہ اسے قانون کی طاقت سے روکے۔ اسلام عورت کے حقِ رائے دہی پر بھی کوئی قدغن نہیں لگاتا اور نہ ہی عورتوں کے تعلیم حاصل کرنے پر کوئی پابندی ہے، اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ شرعی حدود کی پابندی کی جائے ۔ ہم نے دینی مدارس وجامعات کی رجسٹریشن کا میکنزم بھی بناکر دیا ،تمام ضروری کوائف ومعلومات اس میں شامل کی گئیں اور تفصیلی کوائف کے لیے اصل کیفیت نامہ کے ساتھ ضمنی فارم مرتب کر کے دیے ۔اسی طرح ڈیٹا فارم بھی مرتب کر کے دیا اور طے پایا کہ پہلے سے قائم سوسائٹی ایکٹ یا ٹرسٹ ایکٹ کے تحت رجسٹرڈ مدارس کو قانونی تصور کیا جائے گا اور ان سے دوبارہ رجسٹریشن کا مطالبہ نہیں کیا جائے گا ۔یہی اصول سابق صدر جناب جنرل (ر) پرویز مشرف کی حکومت کے ساتھ طے پایا تھا اور ان کے دور میں اس پر عمل رہا ۔ یہ بھی طے پایا کہ پہلے سے رجسٹرڈ مدارس اور نئی رجسٹریشن حاصل کرنے والے مدارس سالانہ ڈیٹا بھی فراہم کریں گے اوراس کے لیے وفاقی وزارتِ مذہبی امور یا وزارتِ تعلیم میں ایک سیل قائم کیا جائے گایا صوبے اس ذمے داری کو انجام دیں گے ۔ہماری معلومات کے مطابق ہمارے تیارے کیے گئے اس مسودہ قانون کی صوبوں سے منظوری بھی لی گئی ،لیکن پھر اس پر قانون سازی نہ ہوسکی ۔ماضی قریب میں صوبہ سندھ کی اسمبلی نے ایک متنازعہ بل بنایا ،لیکن وہ اب تک معرضِ التوا میں ہے ،کیونکہ صوبائی وزیرِ اعلی جنابِ سید مراد علی شاہ متعدد وعدوں کے باوجود اتفاقِ رائے کے لیے اب تک کوئی اجلاس منعقد نہیں کرسکے اور حکومت کے اِسی شِعار کی وجہ سے ''تبدیلی مذہب کا قانون جو در اصل ''قانونِ امتناعِ قبولِ اسلام ہے،صوبائی اسمبلی سے پاس ہونے کے باوجود قانون نہ بن سکا اور اس کے بارے میں بھی اتفاقِ رائے کے لیے جنابِ آصف علی زرداری کے وعدے اور ہدایت کے باوجودکوئی اجلاس منعقد نہ ہوسکا۔وفاقی اور صوبائی حکومتیں ایک دوسرے کو ملامت کرنے میں لگی رہتی ہیں ،لیکن ہمیں سنجیدگی کہیں بھی دکھائی نہیں دے رہی اور سب پنجابی محاورے کے مطابق ''ڈنگ ٹپائوکی پالیسی پر گامزن ہیں۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved