ہرزہ سرائی کی اذیت ناک داستان اور حکومت!
  10  مارچ‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

٭باقی باتیں بعد میں، سب سے پہلے ایک انسانی مسئلہ،بنوں شہر سے ایک شہری شفقت خاں کامراسلہ: بنوں میں لوگ باقاعدگی کے ساتھ پانی کے بل ادا کرتے ہیں مگر TMO نے بجلی کے واجبات ادا نہیں کیے اس پر وا پڈا نے15روز قبل تمام ٹیوب ویلوں کی بجلی کاٹ دی۔ ہزاروں لوگوں کو15 دنوں سے پانی نہیں مل رہا۔ ان کی اذیت ناک پریشانی کااندازہ لگایا جاسکتاہے۔ ضلعی انتظامیہ خاموش ہے۔ ہماری کوئی شنوائی نہیں ہورہی ۔ہماری حالت زار چھاپ دیں۔ شکریہ! شفقت خاں چیئرمین وارڈ نمبر9آزاد یونین بنوں(0333-9726007)( یہ انتہائی اذیت ناک معاملہ ہے۔15 دنوں سے شہر کا پانی بند ہے اور خیبر پختونخوا کے کسی چھوٹے بڑے حاکم، ایم این اے ، ایم پی اے، سب لاتعلق بے حسی کے شکار ! استغفار!) ٭اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے سوشل میڈیا پر گستاخانہ رسول کی ہرزہ سرائی پر فوری پابندی کا حکم جاری کردیا۔ اس پر فوری عمل درآمد کی رپورٹ طلب کرلی۔ بے ہودہ ہرزہ سرائی کا یہ سلسلہ ایک غیر ملکی این جی او ELITE CYBER FORCE OF PAKISTAN نے پاکستان میں خانہ جنگی شروع کرانے کے لیے شروع کیا تھا۔ یہ عمل کافی عرصے سے جاری تھا۔ اس کا حکومتی حلقوں نے کوئی نوٹس نہ لیا۔ حتیٰ کہ بے ہودگی کا یہ طوفان فیس بک وغیرہ سے نکل بعض نام نہاد 'محب وطن' ٹیلی ویژنوں کی سکرینوں پر بھی نمودار ہونا شروع ہوگیا۔ اس معاملے کو بھارتی ایجنسیوں کی بھرپور مدد بھی حاصل تھی۔ حکومت تو اپنے لبرل ازم کا مظاہرہ کر تی رہی۔ اس 'سال جنوری 2017ء 'کے اوائل میں پاکستان کے محب وطن ادارے حرکت میں آئے اور ان پانچوں افراد کو اپنی تحویل میں لے کر تحقیقات شروع کردیں۔۔ تحقیقات سے پتہ چلا کہ پانچ افراد سلمان حیدر ، احمد رضا نصیر، ثمر عباس، وقاص گورایہ اور احمد سعید بیرونی فنڈز کے ذریعے سوشل میڈیا میں دنیا کی مقدس ترین ہستی ۖاور ان کے مقدس خاندان کی بے حرمتی( نعوذ باللہ) کو پھیلانے میں سرگرم ہیں۔ یہ انکشاف بھی ہواکہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان میں خوفناک ہنگامہ آرائی پیدا کرنے والی مذکورہ تنظیم کا کام خفیہ رکھنے کے لیے ان لوگوں نے انفارمیشن ٹیکنالوجی کا ایک سپیشلسٹ ماہر حاصل کررکھا ہے جو ان گھناؤنی مذموم سرگرمیوں میں ملوث ان پانچ افراد کے علاوہ دوسرے عناصر کا پتہ مسلسل تبدیل کرتا رہتاہے۔ اس بنا پر تحقیقاتی ادارے ملزموں کے ٹھکانوں پر نہیں پہنچ رہے تھے۔ مگر بالآخریہ پانچ افراد پکڑے گئے ۔ ان میں زیادہ دکھائی دینے والا شخص سلمان حیدر نکلا جو 'انقلابی' قسم کامعروف شاعر اور لڑکیوں کے ایک کالج میں استاد بھی ہے(!!!) ۔ ان افراد کی گم شدگی پر شرانگیز این جی او نے ملک کے بعض حلقوں میں مظاہرے شروع کرادئے جن میں 'اظہار رائے کی آزادی'کو اچھالاگیا۔ کچھ عرصہ کی تحقیقات کے بعد یہ پانچوں افراد اس حالت میں رہا ہوئے کہ ان کے منہ پر خاموشی کا قفل لگا ہواتھا۔ وہ کسی کوبتانے کی جرأت نہ کرسکے کہ انہیں کون لے گیا تھااور ان کے ساتھ کیا بیتی؟ ان میں سے دو افراد ملک سے بھاگ گئے۔ باقی تین بھی دکھائی نہیں دے رہے۔ حیرت انگیز بلکہ افسوسناک بات یہ تھی کہ وفاقی وزیر داخلہ اس بات پر سخت برہم ہوئے کہ کسی مقدمے وغیرہ کے بغیر ان افراد کو کیوں اٹھایاگیا؟ بلکہ یہ کہ موصوف اس معاملہ پر ہائی کورٹ کی طلبی پر بھی نہیں گئے۔وزیر داخلہ نے اس بارے میں آئین اور قانون کی حکائت چھیڑدی جب کہ موصوف کو بخوبی علم ہے کہ سرور کائنات نبی کریمۖ حضور کی عزت حرمت اور ناموس کے سامنے دنیا کاکوئی آئین ، کوئی قانون، کوئی حکومت، کوئی وزارت ، کوئی وقعت کوئی معنی نہیں رکھتی۔ کمزور سے کمزور ایمان والا مسلمان بھی آقائے نامدارۖ کی عزت، وقار اور ناموس کے خلاف کوئی بات برداشت نہیں کرسکتا ۔ وزیر داخلہ کی وزارت کے سیکرٹری کو ہائی کورٹ کے چیمبر میں سوشل میڈیا کی یہ بے ہودگیاں دکھائی گئیں تووہ لزر اٹھے اور عدالت میں واضح بیان دیا کہ یہ ہرز ہ سرائی کسی بھی مسلما ن کے لیے ناقابل برداشت ہے۔ میں اس دل خراش داستان کو زیادہ بیان نہیں کرسکتا دکھ یہ ہے کہ اگر ہائی کورٹ نوٹس نہ لیتی تو نہ جانے کسی بھی موقع پر ملک میں کیا ناقابل بیان ردعمل پیش آسکتا تھا! ٭کالم لکھتے ہوئے ٹیلی ویژن پر نظر پڑی ہے تو قومی اسمبلی میں روائتی دھینگا مشتی اورہاتھا پائی چل رہی ہے۔ ایک رکن دوسرے رکن کو مُکّا مارتے ہوئے دکھائی دے رہاہے۔ ارکان آپس میں الجھ رہے ہیں۔ اس کے بعد لابی میں بھی یہی کچھ ہورہاہے۔ افساد کی وجہ سے بتائی جارہی ہے کہ تحریک انصاف کے سربراہ کے بارے ناروا بات کیوں کی گئی ہے؟ قومی اسمبلی میں مسلسل ایسا دنگا فساد نرالی بات نہیں، یو ں لگتاہے کہ اسمبلی بنائی ہی اس لیے گئی ہے۔ دعوے یہ کہ یہ ملک کا عوامی نمائندگی کا بلند ترین ادارہ ہے مگر ہو کیا رہاہے؟ عمران خاں کے خلاف ناروا بات کی جائے گی توجواب میں نوازشریف کے خلاف بھی اسی طرح کی باتیں آئیں گی۔ یہ تو منطقی بات ہے۔ مگر اپنے آقاؤں کے دستر خوانوں کے حاشیہ برداروں سے شائستگی اور متانت کی کیا توقع کی جاسکتی ہے؟؟ ٭خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ کا پنجاب والوں کے خلاف جوش وخروش ٹھنڈا ہونے کی بجائے بڑھتا جارہاہے۔ اب ایک ہی سانس میں پنجاب کے حکومتی ترجمانوں کو بدمعاش، ڈھنڈورچی، مداری اور چاپلوس حواری قراردے دیا ہے۔ کیا پنجاب کے ڈونالڈٹرمپ اس پر خاموش رہیں گے؟ ان کی زبانوں سے پہلے ہی شعلے نکل رہے ہیں۔ افسوس یہ کہ ملک کا وزیراعظم اور صوبائی حکمران اس معاملہ کوٹھنڈا کرنے کی بجائے خاموشی سے تماشا دیکھ رہے ہیں! وزیراعظم صاحب کو بیرونی دوروںاور جلسوں میں تقریروں سے ہی فرصت نہیں ملتی۔وہ اس سارے معاملہ میں کیوں خاموش ہیں! پشتون بھائیوں کو کوئی شکائت پیدا ہوئی ہے تو وہ اس شکائت کے ازالہ کے لیے خود کیوں دلچسپی نہیں لے رہے؟ یہ معاملہ صوبے کے منہ پھٹ کارندوں کے حوالے کیوں کررکھاہے! ٭وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈارنے بالآخر سوس بنکوں میں پاکستانی افراد کے جمع دوسو ارب ڈالر کی رقوم کاذکر کرہی دیا۔ فرمایاہے کہ سوس حکومت نے پاکستان کی شرائط کو تسلیم کرلیاہے اور پاکستانی افراد کی جمع شدہ رقوم کی معلومات فراہم کرنے پر آمادگی ظاہر کردی ہے! ان معلومات کا اگلے سال 2018ء میں پتہ چل سکے گا! 200نئے پانامہ کیس سامنے آنے والے ہیں! دیکھیں تھیلی سے کیا نکلتا ہے؟ ٭کابل کے ہسپتال میں خودکش دھماکہ 38 مریض، ڈاکٹر اوردوسرے افراد جاں بحق، متعدد زخمی، عراق میں ایک شادی میں دھماکہ وہاں بھی یہی صورت حال! دونوں مقامات پر بے قصور، معصوم انسانوں کا قتل عام! اور یہ کہ یہ سارے لوگ مسلمان تھے! اناللہ واناالیہ راجعون! ٭کویت اور پاکستان میں سفر کے لیے ویزا ختم کرنے کا خوش آئند فیصلہ کیاگیا ہے۔ بہت پہلے کی بات ہے کہ پاکستان، ایران اور ترکی کی باہم تعاون کی تنظیم 'آر سی ڈی'کے قیام کے بعد ان تینوں ملکوں نے ایک دوسرے کے ہاں آنے جانے کے لیے ویزاختم کردیا تھا۔ اس سہولت کا فائدہ اٹھا کر میں نے پاکستان کے طلبا کے ایک وفد کے ساتھ افغانستان کے راستے ایران اور ترکی کا سفر کیا تھا۔ صرف افغانستان کے لیے ویزا لگواناپڑاتھا( افغانستان کبھی پاکستان کا اچھا دوست نہیں رہا!) ۔ پھرایسے حالات پیدا ہوئے کہ ایران ، ترکی اور پاکستان نے ایک دوسرے کے ہاں ویزا کی شرط عائد کردی! اس وقت شائد کویت واحد ملک ہے جس کے ساتھ ویزا کی پابندی ختم کی گئی ہے۔ یہ خبر خوش آئند ہے۔ شائد کسی وقت سعودی عرب اوردوسرے عرب ممالک کے ساتھ بھی ایسے روابطہ قائم ہوجائیں۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved