اپنی گلی میں توزندگی کی آسانیاں لائیے
  10  مارچ‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز
مجھے شرم آرہی ہے۔ ندامت سے میں پسینے میں شرابور ہوں۔ ایک عمر کہہ رہی ہے کہ پاکستان کے 84 فیصد افراد کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں ہے۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ اس میں میرا یا آپ کا کیاقصور ہے۔ یہ تو حکومت کی ذمہ داری تھی حکومت کی کوتاہی ہے۔ مگر یہ حکومتیں تو ہم ہی بنا رہے ہیں۔ جمہوریت کا دور دورہ ہے۔ 1973 ء کا آئین مکمل طور پر بحال ہوچکا ہے۔ صوبے خودمختار ہیں۔ بلدیاتی اداروں کے پاس اختیارات نہیں ہیں لیکن چل تو رہے ہیں۔ وہ جو کہا جاتا ہے جمہوریت' حکومت عوام کی۔ عوام کے لئے عوام میں سے' جب یہ سب کچھ ہے تو پھر قصور میرا بھی ہوا' آپ کا بھی۔ اللہ تعالیٰ نے اس سرزمین کو کیا نہیں دیا۔ جھیلیں ہیں ' دریا ہیں' زرخیز دھرتی ہے اور ہمیں 70 طویل سال بھی ملے۔ جس میں جمہوریت بھی رہی۔ مارشل لاء بھی۔ مگر سب اپنے ہی تھے۔ چاہے فوجی ہوں یا سیاستدان۔ کسی کی بھی عوام سے دشمنی نہیں تھی۔ غیر نہیں تھے ۔ مگر جب1947 ء سے پہلے غیر کی حکمرانی تھی۔ انگریز سامراج کی۔ اس وقت بھی سرزمین یہی تھی۔ یہی دریا تھے۔ یہی پہاڑ جہاں برف پگھلتی تھی۔ ندیاں دریا رواں ہو جاتے تھے۔ اس وقت یہ منرل واٹر کی فیکٹریاں بھی نہیں تھیں۔ انگریز غیر تھا۔ ہمارا دشمن تھا۔ لیکن وہ ہمیں پینے کا صاف پانی فراہم کرتا تھا۔ کھانے کی چیزوں کا معیار بلند رکھتا تھا۔ ہر شعبے میں انسپکٹر (معائنہ کار) مقرر تھے۔ وزن کے ' ماپ کے ' گوشت کے ' دکانوں کے ' سکولوں کے اور وہ باقاعدگی سے روزانہ ڈیوٹی پر نکلتے تھے ' خلاف ورزی پر جرمانے کرتے تھے۔ ہم نے آزادی حاصل کی تھی۔ انگریز سے اس لئے کہ اپنے ملک پر خود حکومت کریں۔ ہم نے آزادی حاصل کی تھی ہندو سے کہ ہم اپنے دینی شعائر دبائو کے بغیر آزادی سے ادا کرسکیں۔ لیکن اب 20 سال بعد محسوس ہوتا ہے کہ ہم نے آزادی حاصل کی تھی کہ دل کھول کر لوٹ مار کرسکیں۔ سرکاری خزانہ لوٹ سکیں۔ غریبوں ناداروں کو اور زیادہ کچل سکیں۔ ڈسپلن کی پابندی نہ کریں۔ جہاں سے چاہے گاڑیاں' موٹر سائیکلیں لے جائیں۔ غلط سائیڈ پر چلائیں۔ ہم نے اسمبلیاں بنائیں تاکہ ہر ممبر اپنے علاقے میں انگریز سامراج بن سکے۔ اپنی مرضی کے ایس پی' ڈی سی لگوا سکے۔ 70 سال میں ہم نے حالات بدتر سے بدتر کیے ہیں۔ آپ کہتے ہیں کہ میں مایوسی پھیلاتاہوں۔ آپ اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں یا اپنے بچے بچیوں کے سر پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کہ کیا پاکستان میں اکثریت کو زندگی کی وہ سہولتیں حاصل ہیں جو ہم سے بعد میں آزاد ہونے والے ملکوں میں ہیں۔ چین' ملائیشیا' دوبئی' کویت وغیرہ کی مثالیں لے لیں۔ یہ ہماری بداعمالیوں کی سزا ہے۔ خدا کا غضب ہے کہ اب پینے کا پانی بکنے لگا ہے۔ چند سال پہلے کہیں بھی یہ تصور نہیں تھا کہ پانی کے بھی پیسے دینے پڑیں گے۔ کسی بھی ریسٹورنٹ میں آپ جاتے تھے سب سے پہلے وہ پانی کا جگ اور گلاس آپ کے سامنے رکھتے تھے۔ پھر پوچھتے تھے کہ آپ کیا کھائیں گے پئیں گے' پانی جتنا چاہے آپ پی لیتے تھے۔ شہروں میں جگہ جگہ سبیلیں لگی ہوی تھیں۔ اب آپ کسی چھوٹے بڑے ہوٹل میں جائیں آپ پانی مانگیں تو آپ سے دریافت کیا جاتا ہے۔ چھوٹی بوتل یا بڑی بوتل۔ اس کے منہ مانگے دام وصول کیے جاتے ہیں۔ سندھ کے اندر جانے کا اتفاق ہوتا ہے۔ اتنا گدلا پانی میرے اور آپ کے بھائی بہن پی رہے ہوتے ہیں ۔ پنجاب میں بھی دیہات میں یہی حال ہے۔ آزاد جموں کشمیر' گلگت میں فاٹا میں شاید کچھ بہتر ہو۔ میرا سوال یہی ہے کہ 70 سال میں آگے جانے کی بجائے ہم پیچھے کیوں جارہے ہیں۔ کسی بھی ملک کو جو بھی چلا رہے ہوتے ہیں۔ صدر' وزیراعظم' وزرائے اعلیٰ' گورنر۔ ان کی بنیادی ذمہ داری ملک کے اصل مالکوں یعنی عوام کی اکثریت کے جان و مال کا تحفظ ہے۔ اس میں ترجیح جان کو ہوتی ہے۔ زندگی محفوظ رہ سکتی ہے اور یہ صرف دہشت گردوں کے حملوں سے نہیں۔ زندگی کا تحفظ یہ بھی ہے کہ شہر یا گائوں میں سڑکیں' راستے محفوظ ہوں۔ کہیں جان لینے والے گڑھے نہ ہوں۔ خطرناک موڑ نہ ہوں۔ اس طرح سواری یعنی ٹرانسپورٹ' بسیں ' ٹیکسیاں' رکشے' تانگے۔ کسی ڈسپلن کے تحت ہوں ان کی اچھی طرح دیکھ بھال ہو۔ گیس کے سلنڈر ٹھیک لگے ہوں ۔ قواعد و ضوابط کے مطابق۔ بازاروں میں دکانیں اپنی حدود میں ہوں۔ تجاوزات نہ ہوں۔ بجلی کے تار بھی موت کا سبب نہ بن رہے ہو۔ پینے کا صاف پانی سب کو ملے۔ مفت ملے' کھانے پینے کی اشیاء کا ہر روز معائنہ ہو۔ ان میں زہر نہ گھلا ہو۔ سکول جاتے بچے بچیوں کے لئے محفوظ گاڑیاں ہوں۔ سرکاری بسیں چلائی جائیں۔ اکثر مہذب ملکوں میں پیلی سکول بسیں چلتی ہیں۔ وہ جب بچوں کو چڑھا یا اتار رہی ہوں تو سارا ٹریفک رک جاتا ہے۔ کتنی باتیں بتائوں۔ میں نے دنیا دیکھی ہے۔ آپ نے بھی۔ میاں نواز شریف نے بھی۔ آصف علی زرداری نے بھی۔ یہ لوگ کیوں نہیں چاہتے کہ زندگی کی جو سہولتیں اور محفوظ طریقہ کار دبئی' لندن میں ہیں ۔ ان کی سلطنت پاکستان میں کیوں نہیں ہوسکتے۔ میرے سامنے ٹی وی پر خبر آرہی ہے۔ میانوالی میں کنوئیں میں کام کرنے والا مزدور جاں بحق۔ کنوئیں میں مزدور مرتے ہیں۔ گھاٹیوں میں ندیوں میں بسیں گرتی ہیں تو غریب جاں بحق ہوتے ہیں۔ ٹریفک حادثات میں بھی عوام ہی جان دیتے ہیں۔ بڑے لوگ کنوئیں میں کیوں نہیںگرتے ۔ گھاٹیوں' ندیوں میں بڑے لوگوں کی گاڑیوں کیوں نہیں ڈوبتیں۔ اس لئے کہ انہوں نے اپنے لئے زندگی محفوظ اور آسان بنالی ہے بہت سے تحفظات کا انتظام کرلیا ہے۔ آپ کے لئے وہ ایسا نہیں کرتے۔ اس لئے بھی کہ وہ آپ کی زندگی کو اہم صرف اس وقت سمجھتے ہیں جب آپ کے ووٹ کی ضرورت ہوتی ہے لیکن میں اس سے مختلف سوچتا ہوں کہ آپ کی اور میری زندگیاں اس لئے بھی غیر محفوظ ہیں کہ ہم اپنے آپ کو اہم نہیں سمجھتے۔ اپنی قدر نہیں کرتے۔ ہم اپنی زندگی اپنے جسم کو خود کوئی وقعت نہیں دیتے۔ ہم میں سے اکثر اپنے آپ کو دھرتی پر بوجھ سمجھتے ہیں۔ حالانکہ ہم میں سے ہر ایک کو اللہ تعالیٰ نے اپنا نائب بناکر بھیجا ہے۔ ہم نے زندگی میں وہ سارے کام کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں تفویض کیے ہیں۔ جیسے اللہ ہم سب کے رزق کی' جان و مال کی بھلائی کی فکر کرتا ہے۔ اسی طرح ہمیں بھی نہ صرف اپنی ' اپنے گھر والوں کی ' اپنی گلی محلے' اپنے شہر والوں کی زندگی کو آسان بنانے کی فکر کرنی چاہیے ۔ ہر مسئلے پر ہم طنز کر دیتے ہیں۔ پہلے آپس میں جملے بازی کرکے مطمئن ہو جاتے تھے اب سوشل میڈیا پر اپنی بھڑاس نکال لیتے ہیں یا ٹی وی چینلوں پر ٹاک شوز میں حکمرانوں کی درگت بنتے دیکھ کر خوش ہو جاتے ہیں۔ مگر حکمران اسی طرح غیر ملکی دوروں پر ہمارے کروڑوں روپے خرچ کرتے ہیں۔ نااہل افسروں کی تقرریاں ہو رہی ہیں۔ خزانہ اس طرح لٹ رہا ہے۔ آپ خود حرکت میں آئیں۔ اپنی گلی اور محلے کی حد تک آپس میں ملیں بیٹھیں۔ اپنی گلی میں تو زندگی کو آسان کریں۔ آپ کا کیا خیال ہے۔ ایس ایم ایس کیجئے۔0331-7806800

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 



 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





 انٹر نیٹ کی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضا مینں
loading...


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved