وزیراعظم پاکستان کا دورہ سندھ
  11  مارچ‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

٭وزیراعظم پاکستان سندھ کے شہر ٹھٹھہ گئے۔ ہوائی اڈے پر سندھ کے گورنراور وزیراعلیٰ نے استقبال کیا۔ وزیراعظم نے اپنے شیرازی دوستوں کے ترتیب دیئے گئے جلسہ سے خطاب کیا اوروزیراعلیٰ سندھ کی کارکردگی کی ایسی تیسی پھیردی کہ سندھ میں کوئی کام نہیں ہوا، اب یہ کام ہم کریں گے!! مزید یہ کہ پورے سندھ میں صرف اپنے دوستوں کے ضلع ٹھٹھہ کے عوام کے لیے مفت علاج کے لیے ہیلتھ کارڈ' 500 بستروں کا ہسپتال، گیس اور بجلی وغیرہ کی فراہمی اور سڑکوں کی تعمیر وغیرہ کے لیے 20,20 کروڑ روپے کی گرانٹ کا اعلان!!مجموعی طورپر ٹھٹھہ کے عوام پر 110کروڑ روپے '' قربان'' کرنے کا اعلان کیا! حیرت ہو رہی ہے کہ ملک کا وزیراعظم خاص طورپر ایک صوبہ کے صرف ایک ضلع کو نواز رہاہے! کیوں؟ کیا سندھ کے باقی اضلاع علاقہ غیر میں شامل ہیں؟وزیراعظم تو پورے ملک کے ہر علاقے کا وزیراعظم ہوتاہے۔ ویسے سڑکوں کی تعمیر اور ہسپتالوں وغیرہ کا قیام تو خالص صوبائی معاملہ ہے۔ وفاقی حکومت اسے کس طرح اپنے ہاتھ میں لے رہی ہے؟ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ پر الزام لگ رہاہے کہ دوسرے صوبے، پنجاب، میں جاکر وہاں باشندوں کو اس صوبے کی حکومت کے خلاف مشتعل کرنے کی کوشش کی ہے۔ اب یہی کام وزیراعظم صاحب کررہے ہیں۔ سندھ میں کھڑے ہوکر سندھ حکومت کے خلاف باتیں کررہے ہیں! سندھ کے وزیراعلیٰ نے ان کا خیر مقدم کیا تھا تو اس خیرمقدم کا ہی کچھ لحاظ کرلیا جاتا ! ویسے اصولی طورپر سندھ کی بھلائی کے لیے کوئی مدد کرنی تھی تو سندھ کی حکومت کے ذریعے کرتے ، وہ اورعوام دونون ممنون ہوجاتے!مگر!! اس باتوں پر کیا کہاجائے، کیا لکھا جائے؟؟ پھر یہ خبر کہ میزبان شیرازی برادران نے وزیراعظم کے اعزاز میں جو ضیافت دی اس میں سالم روسٹ دُنبے، تلیر، بیٹر، پَلّا مچھلی، جھینگوں پلاؤ وغیرہ کی 20ڈشیں شامل تھیں۔ پنجاب، اسلام آباد( غالباً سندھ میں بھی) شادی بیاہ، سالگرہ اور ہر قسم کی تقریبات میں صرف ایک ڈش پیش کرنے کی اجازت ہوتی ہے! اور وزیراعظم کی ضیافت میں 20 ڈشیں !!! ٭وفاقی وزیر داخلہ نے بالآخر ہائی کورٹ کے حکم پر سوشل میڈیا میں گستاخانہ مواد کا نوٹس لے لیا اور سخت ہدایات جاری کردیں۔ یہ معاملہ اتنا حساس، اتنا نازک ہے کہ اسے دہرانابھی تکلیف دہ محسوس ہوتاہے۔ بس یہ کہ ہائی کورٹ نے نوٹس لے لیا تو حرکت میں آگئے ورنہ...!! اتنی وزارتیں ، اتنے محکمے! کوئی بھی نہیں جانتا تھا کہ کیا ہورہاہے؟ ٭قومی اسمبلی میں ارکان کی ہاتھا پائی اور گالی گلوچ کے بارے میں خود اسمبلی کے سپیکر ایاز صادق کے الفاظ کافی ہیں کہ پوری قوم کے سرشرم سے جھک گئے ہیں! اس پر مزید تبصرہ کی ضرورت نہیں بس صرف یہ کہ جب خود کو ملک کے بلند ترین ادارے قراردینے والی اسمبلیوں میں جانے کے لیے کسی تعلیم، تجربہ کی کوئی ضرورت نہیں، گھروں میں بچوں کے کپڑے دھوتے دھوتے اور ہانڈی روٹی کرتے کرتے خواتین خصوصی نواز شات کے ذریعے اچانک اسمبلیوں میں پہنچ جائیں بلکہ وزیر بھی بن جائیں تو ان لوگوں سے رسمی تعلیم ، اخلاقیات کے اصولوں کی پیروی کے بارے میں کیا توقعات کی جاسکتی ہیں؟ قومی اسمبلی کے علاوہ پنجاب اور سندھ کی اسمبلیوں میں ہر روز کیا ہلڑبازی ہورہی ہے! ساری قوم دیکھ رہی ہے۔ ننگی گالیوں کا عام مظاہرہ! استغفار! ٭خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے پنجاب کے سرکاری ترجمان کے بارے جونامناسب الفاظ استعمال کیے اس کے جواب میں پنجاب کے ترجمان رانا ثناء اللہ نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کو تیلی پہلوان کا نام دے دیا ہے۔ میں پہلے ہی ان لوگوں کے ذہنی معیار اور تربیت کے بارے میں لکھ چکا ہوں' البتہ ایک بات یاد آگئی ہے کہ امرتسر میں مشہور ''بی بی کے یونیورسٹی ''کے ساتھ ایک مندر بنا ہواہے۔ اسے تیلی پہلوان کا مندر کہاجاتا ہے جو ظاہر ہے کہ تیل کا کاروبار کرنے والے ایک پہلوان نے بنایا ہے۔ یہ مندر سفید سنگ مرمر سے بنا ہواہے اور اسے امرتسر میں ہندوؤں کا سب سے خوبصورت مندر قرار دیا جاتا ہے ۔ ممکن ہے رانا ثناء اللہ کبھی وہاں گئے ہوں' اس لیے انہیں یہ نام یاد رہ گیا ہے!! ٭افغانستان میں امریکہ کی سنٹرل کمانڈ کے کمانڈر جنرل نکلسن نے پھر بیان دیا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردوں کے تقریباً20 پوشیدہ مراکز ہیں۔ مجھے جنوری 1977ء میں لاہور کے ایک مشاعرے میں معروف مزاح گو شاعر جناب ضمیر جعفری کی ایک غزل کے کچھ دلچسپ شعر یاد آگئے ہیں۔ دو پر لطف شعر پڑھئے، فرماتے ہیں: اس دور کا ہم سمجھے موٹا سا حساب آخر ہو روس کہ امریکہ ، کرتے ہیں خراب آخر گجرات کی دھرتی کی اتنی سی کہانی ہے دریائے چناب اوّل، دریائے چناب آخر! ٭عمران خان نے کرکٹ کے فائنل میچ میں آنے والے غیر ملکی کھلاڑیوں کو 'پھٹیچر'اور 'ریلو کٹے' قراردیا ہے۔ اس پر پشاور کی زلمی ٹیم برہم ہوگئی ہے۔ اس کی قیادت ڈیرن سمی نے کی تھی جس کی قیادت میں ویسٹ انڈیز کی ٹیم نے دوبارہ کپ جیتا اور اب پشاور زلمی کو پاکستان کی سپرلیگ کی ٹرافی لے کردی ہے۔ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے پشاور زلمی کی ٹیم کو دوکروڑ روپے انعام دینے کااعلان کیا تھا، عمران خاں نے یہ انعام بھی روک دیا ہے۔ اس پر پشاور زلمی نے وزیراعلیٰ کی ضیافت میں جانے سے انکار کردیا ہے۔ اس ضیافت کے موقع پر شاندار آتش بازی، ڈھول دھمکے، بھنگڑے وغیرہ کا بھی اہتمام کیاگیا تھا۔ یہ سب کچھ منسوخ کرنا پڑاہے! یہ لوگ عمران خاں کی باتوں کو اتنی سنجیدگی سے لے رہے ہیں ! حالانکہ یہ تو موصوف کی عام معمول کی باتیں ہیں ، انہوں نے کسی کے لیے کلمہ خیر کہنا سیکھاہی نہیں! اس سلسلے کی دوسری بات، بنوں سے ایک نوجوان فہیم اللہ نے پوچھا ہے کہپھٹیچرکا کیا مطلب ہوتاہے؟ اوریہ کہ اگر دوبار ورلڈکپ جیتنے والا ڈیرن سمی پھٹیچر ہے تو صرف ایک ورلڈ کپ جیتنے والے عمران خاں صاحب کو کیا کہاجاسکتا ہے؟ اس کا جواب اسی سوال میں ہی موجود ہے۔ پھٹیچر ہندی اور پنجابی کا لفظ ہے اسے ناکارہ چیزوں، ناقص کارکردگی پیچھے رہ جانے والے ناکام ، نکمے ، کسی کا م نہ آنے والے افراد کے بارے میں استعمال کیا جاتا ہے جب کہ ''ریلو کٹا''، بیل یا بھینسے کے نوجوان بچھڑے یا کٹے کو کہا جاتا ہے جسے کسی کنوئیں کا گول چکروں میں رہٹ چلانے والے بیل یا بھینسے کے ساتھ اس کام کی آئندہ تربیت کے لیے باندھ دیاجاتا ہے۔ عمران خا ں کے منہ سے نکلنے کے بعد یہ لفظ اک دم عام ہوگیاہے۔ ارکان اسمبلی ایک دوسرے کو پھٹیچر قراردے رہے ہیں۔ ریلوکٹے کی اصطلاح کسی ٹیم کے بارہویں کھلاڑی کے لیے بھی استعمال ہوتی ہے۔ کوئی صاحب پھٹیچرکے کوئی دوسرے معنی جانتے ہوں تو عزیزی فہیم اللہ کو(0334-5205386) نمبرپر بتا سکتے ہیں۔ ٭ایس ایم ایس: بنوں کے ٹی ایم اے کے ملازمین کی تنخواہیں 5ماہ سے بند ہیں۔یہ غریب لوگ فاقوں کے شکار ہورہے ہیں۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا تک یہ مسئلہ پہنچادیں، بہت شکریہ! ایم اقبال بنوں (0300-5616765) ( اس سے قبل ورکرز ویلفیئر بورڈ کے ملازمین چار چار ماہ تک تنخواہ نہ ملنے کی شکائت کرتے چلے آرہے ہیں! صوبے کی انتظامیہ کہاں ہے؟)


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
50%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
50%
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved