قصہ ایک صدر کی برطرفی کا
  12  مارچ‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز
*جنوبی کوریا کی سپریم کورٹ نے خاتون صدر پارک گن کو برطرف کرنے کا حکم جاری کردیا۔ اس سے قبل پارلیمنٹ نے شدید کرپشن اور سرکاری راز افشا کرنے کے الزام میں پارک گن کو صدر کے عہدے سے برطرف کئے جانے کی قرارداد منظور کی تھی۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے آٹھ رکنی بنچ کے متفقہ فیصلے کااعلان کرتے ہوئے صدر پارک گن کو کرپشن کی مجرم قراردیا۔ پارک گن پر الزام تھا کہ اس نے اپنی ایک سہیلی چوئی سون سل کو سرکاری امور میں مداخلت کی اجازت دے درکھی تھی۔ اس سے فائدہ اٹھا کر چوئی سون سل نے بڑے بڑے کاروباری اداروں سے بھاری رقوم حاصل کیں۔پارک گن کے خلاف دوسرے الزامات بھی ہیں۔ جنوبی کوریا کی صدر کی کرپشن کے الزام میں برطرفی کوئی نئی بات نہیں۔ اس سے قبل فلپائن کی ایک خاتون صدر، انڈونیشیا کے صدرسہارتو اور بعض دوسرے ممالک کے سربراہوں کے خلاف بھی ایسی ہی کارروائیاں ہو چکی ہیں۔ عجیب بات ہے کہ پاکستان کے بعض حکمرانوں کے خلاف کہیں زیادہ کرپشن، اربوں کھربوں کی منی لانڈرنگ، بیرون ملک اربوں کے اثاثے بنانے، ملک کے اندر اقربا نوازی اور دوسرے سنگین الزامات کے واضح ثبوت موجود ہونے کے باوجود آج تک کوئی تعزیر ی کارروائی نہیں ہوئی۔ امریکہ کے ایک صدر نکسن کو محض اس لیے فارغ ہوناپڑا تھا کہ اس نے انتخابی مہم میں مخالف فریق کی جاسوسی کی تھی! مگر پاکستان میں کرپشن کوئی جرم ہی نہیں ہے! *کراچی کا کچرا تو اس شہر کی شناخت بن گیا ہے، اس کے میئر وسیم اخترنے حلف اٹھاکر اعلان کیاتھا کہ100د ن میں کچرا صاف کردیاجائے گا۔ 100دن پورے ہونے کے بعد بھی کچرااسی طرح پڑ ا رہا بلکہ اس میں مزید اضافہ ہوگیا۔ میئر نے الزام لگایا ہے کہ صوبائی حکومت نے اسے کام نہیں کرنے دیا، نہ فنڈز دیئے، نہ مشینری دی۔ کراچی کبھی بہت صاف شہر ہوا کرتاتھا اب کچرے کا ڈھیر بن کر رہ گیا ہے۔ مگر یہ معاملہ صرف کراچی کا ہی نہیں ، ملتان سے بھی ایسی ہی اطلاعات مل رہی ہیں کہ ہر طرف کچرے کے ڈھیروں سے پورے شہر میں بدبو اور تعفن پھیلا ہواہے! اس شہر کی بھی کوئی نہ کوئی انتظامیہ ہوگی! یہ لوگ انتخابات میں کیسے کیسے وعدے کرتے ہیں مگر کامیاب ہونے کے بعد دفتروں سے باہر نہیں نکلتے!مگر عوام پھر انہی لوگوں کوسر پر بٹھائیں گے!! *قومی اسمبلی میں فوجی عدالتوں کابل پیش کردیاگیا ہے۔ بعض سیاسی پارٹیاں مخالفت کررہی ہیں ان میں خود حکومت کی اتحادی جے یو آئی بھی شامل ہے۔ بل کا نتیجہ جلد سامنے آجائے گا۔مگر یہ بات سمجھ میں نہیں آرہی کہ حکومت کو ملک کی عدلیہ پرکیوں اعتماد نہیں رہا؟ہر بات ، ہر کام میں فوج کو ہی استعمال کیاجارہاہے۔ فوجی عدالتوں کے اب تک کے فیصلوں پر بھی کیا عمل کیاگیا؟ ان عدالتوں نے دہشت گردی کے جتنے ملزموں کوسزائے موت سنائی ان میں سے نصف کی سزا پر بھی عمل نہیں کیاگیا۔ پھر یہ کہ نئی فوجی عدالتیں بھی صرف دوسال تک کام کریں گی، اس کے بعد پھر موجودہ عدلیہ ہی دکھائی دے گی! فوج سرحدوں کی حفاظت کررہی ہے۔ ضرب عضب اور ردالفساد کے آپریشن کررہی ہے، جلسے جلوسوں حتیٰ کہ کرکٹ میچوں پر بھی پہرا دیتی ہے۔ اب اسے مردم شماری پر لگادیاگیاہے! سارے کام فوج نے ہی کرنے ہیں تو حکومت نے کیا کرناہے؟ اس کے نمائندہ اداروں کا حال یہ ہے کہ قومی اسمبلی اور پنجاب اور سندھ کی اسمبلیوں میں عوامی مسائل حل کئے جانے کی بجائے ان کے ارکان آپس میں جانوروں کی طرح لڑ رہے ہیں۔ ایک دوسرے کی پٹائی کی جارہی ہے، ننگی گالیاں دی جارہی ہے، دستاویزات پھاڑی جارہی ہیں اور سپیکروں کا گھیراؤ کیاجارہاہے۔ستم یہ ہے کہ یہ سارے لوگ لاکھوں روپے ماہوار تنخواہیں اور بھتے لے رہے ہیں۔ روزانہ کی طرح پنجاب اسمبلی میں گزشتہ روز پانچ بار کورم ٹوٹا، اس کے باعث کوئی کام نہ ہوسکا۔مگر تمام ارکان کو باقاعدہ تنخواہیں ملیں گی! قوم کیسے کیسے لوگوں کو برداشت کررہی ہے! *پنجاب کی فوڈ اتھارٹی کی ایک رپورٹ: منرل واٹر یعنی صاف پانی فروخت کرنے والی 47کمپنیوں میں سے24 کمپنیوں کا پانی غیر معیاری اور مضر صحت پایاگیا ہے۔ ان کی پیداوار بندکردی گئی ہے۔ رپورٹ میں بتایاگیا ہے کہ ان کمپنیوں کے پانی میں باقاعدہ بعض بیماریوں کے جراثیم پائے گئے ہیں ۔ اور۔۔۔ اور، ان کمپنیوں کو سخت ترین سزا دینے کی بجائے انہیں مہلت دی گئی ہے کہ وہ اپنا معیار درست کرلیں۔ کسی مہذب ملک میں ایسی واردات کے مجرموں کو معاف کرنے کا تصور بھی نہیں پایاجاتا مگر ہمارے ہاں الٹا انہیں سہولتیں فراہم کی جارہی ہیں!! *سینیٹ نے توہین رسالت کے مجرموں کو سخت سزا دینے کی قرارداد منظور کی ہے، قومی اسمبلی فی الحال خاموش ہے۔ اس کے ارکان کو ایک دوسرے کو گالیاں دینے اور مارپٹائی سے ہی فرصت نہیں مل رہی۔ ایک رکن جاوید لطیف نے مخالف رکن مراد سعید کے خاندان تک کے بارے میں نازیبا باتیں کہیں۔ اس پر معاملہ بڑھ گیا۔ اب جاوید لطیف نے تو واضح طورپر اپنی غلطی کوتسلیم کرکے مراد سعید سے معافی مانگ لی ہے مگر دنگا فساد کے شو قین پنجاب کے وزیر قانون رانا ثناء اللہ کو جاوید لطیف کی معافی پسندنہیں آئی، وہ بدستور معاملہ آگے بڑھانے کی کوشش کررہے ہیں! ویسے یہ بھی ایک عام رویہ بن گیا ہے کہ پہلے کسی کے ساتھ انتہائی بدتمیزی سے پیش آؤ پھر رسمی معافی مانگ لو! ایسے موقع پر آصفہ بھٹو کی طرف سے جاوید لطیف اور مراد سعید،دونوں کی مذمت آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی ہے! *کراچی کی ایک فیکٹری میں آگ لگی ۔ شہر کے 14 فائر بریگیڈ19گھنٹے تک آگ بجھانے میں ناکام رہے۔ 19گھنٹے مسلسل آتش زدگی سے پوری فیکٹری مکمل طورپر جل گئی اور آگ خود ہی بجھ گئی۔ اس پر کراچی کے چیف فائر افسر کا بیان آیا ہے کہ ہم کیا کرتے،ہمارے پاس آگ بجھانے کا سامان اور پانی ہی نہیں تھا! یہ صورت حال! بڑے بڑے دعوے کرنے والی ایک حکومت ، شہر کی بلدیہ، بے حدو حساب وزیر، مشیر اور شہر میں آگ بجھانے کا کوئی انتظام نہیں! استغفار!کراچی پر 9 برسوں سے ایک ہی سیاسی پارٹی کی حکمرانی ہے۔اس دوران شہر کی حالت ابتر سے بدتر ہو تی گئی ہے۔ شہریوں کو پانی نہیں مل رہا۔ سارا شہر کچر ے سے بھراہواہے، ساری سڑکیں تباہ ہوچکی ہیں، ٹرانسپورٹ کا نظام ہر وقت جام رہتاہے۔ اور پارٹی کی قیادت کو دبئی میں اپنے کاروبار سے ہی فرصت نہیں ملتی۔ یہ لوگ کبھی کبھار پاکستان آتے ہیں تو کراچی پر توجہ دینے کی بجائے دوسرے شہروں میں جاکر سیاست چمکانے لگتے ہیں۔ مجھے کوئی خبر نہیں مل سکی کہ صوبے کے ان حکمرانوں نے کبھی کراچی میں پھیلی گندگی یا حیدرآباد کی سڑکوں پر بہتے ہوئے سیوریج کے پانی کو صاف کرنے پرکوئی توجہ دی ہو! حالت یہ ہوگئی ہے کہ ایک نجی ادارے کے مالک ، ملک ریاض حسین، نے کراچی کا کچرا صاف کرنے کا اعلان کیاہے۔ ایسے اعلانات حکومتوں کے لیے باعث شرم ہوا کرتے ہیں، مگر بے حسی کی انتہا ہو تو شرم کا کیا احساس باقی رہ جاتا ہے؟ *ایس ایم ایس: بنوں کی کل آبادی ایک لاکھ ہے۔ اس میں دو لاکھ سے زیادہ چنگ چی رکشے چل رہے ہیں۔ ان سے ہر وقت ٹریفک بند اور شہری پریشان رہتے ہیں، پتہ نہیں انتظامیہ کہاں ہے۔ ادریس الحق، ضلع بنوں (0334-8810602) * ہمارے گاؤں لسن اور منڈڑیاں یونین کونسل لنگڑیال ایبٹ آباد کی واٹر سپلائی سکیم سال بھر بند رہتی ہے۔ ایک سال میں چند دن چلائی گئی ۔ محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کو بھی شکائت کی جاتی رہی۔ وزیراعلیٰ کے شکایات سیل میں بھی فیکس کیا۔ لیکن معاملہ ابھی تک حل نہ ہوا۔ضیاء رحمان (0332-5237563)

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 



 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





 انٹر نیٹ کی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضا مینں
loading...
loading...


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved