پڑھتا جا۔۔۔شرماتا جا۔۔۔
  13  مارچ‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

میں نے بے بسی کی بس سے اُتر کر جب اپنی جیب میں ہاتھ ڈالا تو میں چونک گیا۔ جیب کٹ چکی تھی۔۔۔ویسے بھی میری جیب میں تھا ہی کیا؟ کُل 9سو روپے اور ایک خط تھا۔۔۔ جو میں نے اپنی ماں کو لکھا تھا۔۔۔ ماں! میری نوکری چھوٹ گئی ہے۔۔۔ اِس مہینے پیسے نہیں بھیج پاؤں گا۔۔۔گزشتہ تین دِنوں سے یہ خط میری جیب میں پڑا تھا۔۔۔ تذبذب کا شکار تھا کہ اِس خط کو پوسٹ کروں یا نہ کروں؟۔۔۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ میری ماں پیسے نہ ملنے اور میری نوکری چھوٹنے کی وجہ سے پریشان نہ ہو جائے۔ کیوں کہ شوگر کے نامراد مرض کے باعث میری ماں ہر لمحہ مایوسی کا شکار رہتی ہے۔ معمولی سی ٹینشن بھی اُسے بلند فشارِ خون میں مبتلا کر دیتی ہے۔ دِل کی دھڑکن ایک سیکنڈ میں تین بار دھڑکنے لگتی ہے۔۔۔ جیب کترے نے میری جیب کاٹ کر بہت بُرا کیا تھا۔۔۔میرے 9سو روپے میری جیب کے ساتھ ہی جا چکے تھے۔۔۔یوں تو 9سو روپے کوئی بہت بڑی رقم نہیں تھی۔۔۔ لیکن جس کی نوکری چھوٹ گئی ہواُس کے لئے 9 لاکھ سے کم بھی تو نہیں تھے۔۔۔میں تذبذب کا شکار تھا۔۔۔ ماں کی فکر کھائے جا رہے تھی۔۔۔ ہر روزطلوع ہونے والا سورج میرے اندر ایک ہلچل پیدا کر دیتا تھا۔۔۔اور غروب آفتاب کے ساتھ ہی میرے چہرے کی چمک اور آنکھوں کی دمک ماند پڑ جاتی تھی۔ ایک دِن دروازے پر ڈاکئے نے دستک دی۔۔۔ مجھے ماں کا خط ملا۔۔۔خط کھولنے سے پہلے میں سہم گیا۔۔۔ دِل مٹھیوں میں آ گیا۔۔۔ماں نے ضرور پیسے بھیجنے کو لکھا ہو گا۔۔۔لیکن خط پڑھ کر میں حیران رہ گیا۔ ماں نے لکھا تھا! پیارے بیٹے سدا سلامت رہو! تمہاری طرف سے پانچ ہزار روپے کا بھیجا ہوا منی آرڈر مل گیا ہے۔ میں اپنی دوائیں لے آئی ہوں۔ پانچ سو روپے ہمسائی کے دینے تھے وہ بھی دے دیئے ہیں۔ تیرے ابّا کی سائیکل کافی دِنوں سے پنکچر تھی۔ اُسے بھی پنکچر لگوا لیا ہے۔ تمہاری چھوٹی بہن کے کھلونے ٹوٹ گئے ہیں۔ اُس کی کلائیوں میں کانچ کی تین چوڑیاں تھیں اُن کا رنگ اُتر چکا ہے۔ اگلے ماہ اُس کے کھلونوں اور چوڑیوں کے پیسے لازمی بھیجنا۔ خدا تمہیں سلامت رکھے تمہاری ماں! میں کافی دِنوں تک شدید حیرانی اور تجسس کا شکار رہا کہ آخر ماں کو پیسے کس نے بھیجے ہیں؟ کچھ دِن بعد ایک اور خط ملا۔۔۔آڑی ترچھی تحریر میں لکھا ہوا یہ خط میں بڑی مشکل سے پڑھ سکا۔ خط میں لکھا تھا۔۔۔ پیارے بھائی! تمہارے 9 سو روپے میں اکتالیس سو روپے اپنے ملا کر میں نے تمہاری ماں کو پانچ ہزار روپے کا منی آرڈر بھیج دیا ہے۔۔۔فکر نہ کرنا۔۔۔ماں تو سب کی ایک جیسی ہوتی ہے ناں!۔۔۔وہ کیوں پریشان رہے۔۔۔ بھائی! میں یہ خط تمہیں اِس لئے لکھ رہا ہو ں کہ تمہیں بتا سکوں کہ دنیا میں ہر بُرے اِنسان کے سینے میں بھی دِل ہوتا ہے۔ اُس دِل میں اگر انسانیت کا احترام ہو تو وہ دِل مقدس خیالات کی آماجگاہ بن جاتا ہے۔ اور اگر رحم نہ ہو تو پھر وہی دِل ظُلم پر اُتر آتا ہے۔ جس دِن میں نے تمہاری جیب کاٹی اُس دِن میری ماں کی بھی کینسر کی دوائیں آنا تھیں۔ اِس بے رحم معاشرے میں میری ماں کے علاج کے لئے کسی بھی سرکاری ہسپتال میں نہ جگہ ہے اور نہ ہی دوائیں۔۔۔مجھے دس ہزار روپے کی اشد ضرورت تھی آپ کی جیب میں سے 9 سو روپوں کے ساتھ آپ کا تحریر کردہ وہ خط بھی ملا جو آپ نے اپنی ماں کے نام لکھا تھا! میں بہت رنجیدہ ہوا۔۔۔مجھے یوں لگا جیسے آپ کی ماں بھی میری ہی ماں ہو! چنانچہ میں نے ایک بڑے شاپنگ مال کا رُخ کیا۔ یہ ایک ایسا شاپنگ مال ہے جہاں پاکستان کے سیاسی اور سماجی بڑے بڑے جیب کتروں کی بیگمات خریداری کے لئے حرام کا پیسہ لئے آتی ہیں۔ چنانچہ وہاں پر مجھے ایک وزیر کی بیگم صاحبہ کے پرس پر ہاتھ صاف کرنے کا موقع مل گیا۔ پانچ پانچ ہزار روپے کے تین نئے نویلے نوٹ جن سے حرام کا تعفن اور امارت کی خوشبو یکجا ہو کر آ رہی تھے میرے ہاتھوں میں آ گئے۔ میں نے سب سے پہلے آپ کی ماں کو پانچ ہزار روپے کا منی آرڈر کیا اور بعد ازاں اپنی ماں کے لئے دوائیں خریدیں۔ میرے بھائی! آپ حیران تو ہوں گے کہ آخر میں نے ایسا کیوں کیا؟ مجھے کامل یقین ہے کہ میں اِس معاشرے کا سب سے چھوٹا جیب کترا ہوں۔ مگر میں خدا کا لاکھ لاکھ شکر ادا کرتا ہو ں کہ میں اُن جیب کتروں کی طرح ظالم نہیں ہوں۔ جو اِس پاکستان کے 20 کروڑ عوام کی جیبوں کا دِن دیہاڑے اور سرِعام صفایا کر جاتے ہیں۔ بینکوں کے بینک خالی کر دیتے ہیں۔ سرکاری املاک پر ہاتھ صاف کر جاتے ہیں اور وہ بھی اتنی صفائی کے ساتھ کہ قومی احتساب بیورو اُن کا احتساب کرنے سے بھی قاصر رہتا ہے۔ اِن لوگوں کے نام لینا ضروری نہیں ہیں کیونکہ آپ بھی جانتے ہو کہ یہ لوگ کون ہیں اور کتنے برسوں سے جیب کتری کا دھندہ وسیع پیمانے پر ایسے منظم انداز سے کر رہے ہیں کہ اقتدار کی مسند ہمہ وقت اِن کی منتظر رہتی ہے۔ ہر دو چار سال کے بعد انہی جیب کتروں میں سے کوئی ہمارے ملک کا صدر بنتا ہے تو کوئی وزیراعظم کوئی وزیرخزانہ تو کوئی وزیر اعلیٰ کوئی گورنر تو کوئی سپیکر اور جو کچھ بھی نہ بن پائے وہ مشیر ضرور بن جاتا ہے۔ مگر بھائی! اِن جیب کتروں میں اور مجھ میں فرق یہ ہے کہ یہ دوسروں کے بچوں کا رزق اور ماؤں کی ردائیں بھی چھین لینے میں کوئی ندامت محسوس نہیں کرتے اور کوئی شخص انہیں ملامت بھی نہیں کرتا۔ مگر خدا کا احسان ہے کہ میں چھوٹا جیب کترا ضرور ہوں مگر کسی غریب کے بچوں کا رزق نہیں چھینتا اور نہ ہی کسی ماں کی ردا!میں بھی آپ کے یہ 9 سو روپے ہڑپ کر جاتا! اگر میں وطنِ عزیز کا صدر، وزیراعظم، سپیکر، وزیراعلیٰ، گورنر، وزیرخزانہ، مشیر، سنیٹر، ایم این اے، ایم پی اے یا اپوزیشن پارٹی کا رہنما ہوتا۔ تمہیں مبارک ہو کہ میں ایک جیب کترا ہوں کوئی سیاستدان تو نہیں۔ میں نے جو پیسے آپ کی والدہ کو بھیجے ہیں وہ ناقابلِ واپسی ہیں کیونکہ مائیں تو سانجھی ہوتی ہیں۔ والسلام: اسلامی جمہوریہ پاکستان کا ایک چھوٹا مگر غیرت مند جیب کترا


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved