ہر پاکستانی اپنی جگہ ایک طاقت ہے
  13  مارچ‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

بے شک ایمان والے رستگار ہوگئے جو نماز میں عجز و نیاز کرتے ہیں اور جو بے ہودہ باتوں سے منہ موڑے رہتے ہیں سور المومنون ‘ آیات 3-2-1 اور وہ جو جھوٹی گواہی نہیں دیتے اور جب ان کو بے ہودہ چیزوں کے پاس سے گزرنے کا اتفاق ہو تو بزرگانہ انداز سے گزرتے ہیں ‘ سورت الفرقان آیت 72 اور جب بیہودہ بات سنتے ہیں تو اس سے منہ پھیر لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم کو ہمارے اعمال اور تم کو تمہارے اعمال‘ تم کو سلام‘ ہم جاہلوں کے خواستگار نہیں ہیں۔ سورۃ القصص آیت 55 اللہ تعالیٰ دیکھ رہا ہے‘ کس طرح ہر طرف بے ہودہ باتیں ہو رہی ہیں۔ آپس میں ٹاک شوز میں۔ پارلیمنٹ میں ‘ سوشل میڈیا پر‘ سب کتنی دلچسپی لے رہے ہیں‘ منہ موڑنے کی بجائے جواب میں بھی بے ہودہ باتیں کی جارہی ہیں۔ ایک طوفان بدتمیزی ہے۔ کوئی انہیں روکنے اور ٹوکنے والا نہیں ہے۔ میں سوچتا رہتا ہوں کہ جس قوم کو ہر قدم بے شمار مسائل کا سامنا ہو۔ جہاں زندگی مشکل سے مشکل ہوتی جارہی ہو۔ محنت کش بے روزگار کئے جارہے ہوں‘ سرکاری محکموں سے ‘ بنکوں سے سینکڑوں ملازم فارغ کئے جارہے ہوں۔ پینے کا صاف پانی نہیں مل رہا ہو۔ 12کروڑ نوجوانوں میں سے زیادہ تر بے روزگار ہوں۔ نوجوانوں کو ہنر نہ سکھائے جارہے ہوں‘ جس ملک کو مشرقی اور مغربی دونوں سرحدوں سے جارحیت اور دشمنی کے خطرات ہوں۔ جہاں پورے ملک میں آپریشن ردالفساد چل رہا ہو۔ وہاں کسی کو یہ فرصت کیسے مل سکتی ہے کہ بیہودہ باتوں میں اپنا وقت ضائع کرے۔ کسی قوم میں بے ہودہ باتیں کب ہونے لگتی ہیں۔ جب وہ صراط مستقیم سے بھٹک جاتی ہے جب اس کے حکمران مال بنانے میں مگن ہو جاتے ہیں۔ انتہائی اہم اور سنجیدہ محفلوں میں بیٹھ کر فحش لطیفے سنتے ہیں۔ حکمران مال مگن‘ لوگ دعاؤں میں مگن وقت ہوتا ہے یہی قوم پہ بھاری صاحب جب ایسے افراد کو قوم کی نمائندگی کا شرف مل جاتا ہے جو اس کے اہل نہیں ہوتے‘ تو ایسا منظر ہی دیکھنے میں آتا ہے۔ گلگت سے ایک صاحب لکھتے ہیں آپ بالکل منفی سوچ پھیلاتے ہو۔ ’’اوصاف‘‘ میں کالم لکھنے والے زیادہ تر منفی باتیں لکھتے ہیں۔ کبھی حکومت کو داد بھی دے دیا کرو۔ میرے پیارے ہم وطن‘ اصل بات تو یہ ہوتی ہے جو دل میں بس رہا ہو حکومت اس کی ہے۔ 70سال میں کتنی حکومتیں دیکھ لیں۔ دل میں ایک دو ہی اتر سکیں۔ دل میں وہی بات اترتی ہے جو دل سے کی جاتی ہے۔ یہ جو حکمران ٹولہ ہے کسی بھی جماعت سے تعلق رکھتا ہو۔ وہ تو ملک کو مسلسل پیچھے لے جارہا ہے۔ کچی آبادیاں بڑھ رہی ہیں۔ سڑکیں تنگ ہو رہی ہیں۔ مایوسیوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ قدرت نے میری اور آپ کی سرزمیں کو ہر قسم کی دولت سے نوازا ہے۔ انتہائی اہم جغرافیائی حیثیت سونے ‘ تانبے ‘ گیس‘ زمرد‘ جیسی قیمتی معدنیات‘ سینکڑوں میل طویل ساحل‘ زراگائی زمین اور سب سے بڑھ کر 60فیصد نوجوان آبادی یہ جو رہنمائی کے دعویدار ہیں۔ قیادت کے ارادے رکھتے ہیں۔ اس سے اچھی قوم اور اس سے بہتر زمین انہیں کہیں نہیں مل سکتی۔ مگر ان کے دل تو دولت کی ہوس سے معمور رہتے ہیں۔ ذہن صرف ناجائز کمائی کے لئے حرکت میں آتے ہیں۔ اگر یہ ایمانداری سے اپنے فرائض انجام دیں تو اس سے کہیں زیادہ جائز طریقے سے انہیں مل سکتا ہے۔ اور قوم بھی خوشحال ہوسکتی ہے۔ آپ بھی بہت عجیب لوگ ہو۔ جب میں حکمرانوں کی لوٹ مار پر لکھوں تو بہت تالیاں بجاتے ہو بہت ایس ایم ایس کرتے ہو۔ فون بھی لگاتے ہو۔ لیکن جب یہ کہوں کہ آپ کی بھی کچھ ذمہ داری ہے آپ ان لٹیرے حکمرانوں کا راستہ روک سکتے ہو۔ اپنی اپنی گلی میں متحد ہو جاؤ۔ محلے میں یکجہتی کرو۔ آپس میں مل بیٹھو اپنی مسجد میں بیٹھ کر اپنے آس پاس کے مسائل پر بات کرو۔ ان کا حل ڈھونڈو تم خود ایک طاقت ہو‘ اپنی وقعت اپنی حیثیت پہچانو اس ملک کے اصل مالک تم ہو۔ یہ باتیں سن کر کچھ کرنے کی بجائے آپ خاموش ہو جاتے ہو۔ فون تک نہیں کرتے ہو۔ ایس ایم ایس بھی نہیں بھیجتے ہو۔ آپ حرکت میں نہیں آؤ گے۔ تو ان قبضہ مافیاؤں کا راستہ کیسے روکو گے۔ حکمرانوں کی لوٹ مار کیسے بند ہوگی۔ الیکشن کا وقت قریب آرہا ہے۔ فیصلے کی گھڑی آنے والی ہے۔ حکمران ٹولوں نے الیکشن مہم تقریباً شروع کر دی ہے۔ گٹھ جوڑ ہو رہے ہیں۔ میری اور آپ کی بربادیوں کے مشورے ہو رہے ہیں۔ نئی نئی جادوگری ہوگی۔ مجھے اور آپ کو خوش کرنے کے لئے پی ایس یل جیسی دھواں دھار چیزیں ہوں گی نئی نئی بحثیں چھیڑی جائیں گی۔ آپ کو ان مباحثوں میں الجھایا جائے گا۔ آپ ان ہی بول بھلیوں میں گھومتے رہو گے۔ پھر یہ آپ کے دروازوں پر آئیں گے۔ اپنی اپنی خوبیاں خدمتیں گنوائیں گے۔ علاقے کے چوہدری ‘ خان‘ وڈیرے‘ سردار‘ آپ کی تعریف میں زمین آسمان ملائیں گے۔ آپ اپنے اپنے حلقے میں بیٹھ کر کہیں گے کہ آدمی تو خاندانی ہے اس کا باپ بھی وزیر تھا۔ دادا بھی اسمبلی کا ممبر تھا۔ یہی ہمارے لئے بہتر ہے آپ بھول جاؤ گے کہ 1947ء میں ان کے کتنے بنگلے تھے۔ کتنی زمین تھی اب ان کے بنگلے لاہور‘ کراچی‘ اسلام آباد‘ مری‘ دوبئی‘ لندن‘ واشنگٹن میں ہیں۔ میڈیا سے ان کے اشتہار بارہا چل رہے ہوں گے۔ کیا اگلے پانچ سال آپ نے پھر غلامی میں گزارنے ہیں۔ اسی طرح روتے ‘ چیختے‘ بیہودہ باتیں کرتے‘ اپنی حیثیت پہنچانو۔ افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارا میں پھر یہی کہوں گا کہ ملک کو بہتر طاقت ور بنانے کا آغاز اپنی گلی سے کرو مل بیٹھو۔ اپنے مستقبل کی اپنے بیٹیوں‘ بیٹوں‘ پوتوں‘ پوتیوں‘ نواسوں ‘ نواسیوں کی فکر کرو۔03317806800


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved