آقاۖ کے دشمن لاوارث اور بے نام و نشان
  14  مارچ‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز
پاک پروردگار نے سورة الکوثر میں اپنے محبوب پیغمبرۖ سے ارشاد فرمایا ''یقینا تیرا دشمن ہی لاوارث اور بے نام و نشان ہے'' 8مارچ کو جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے سیکرٹری داخلہ کو حکم دیا تھا کہ ملک میں موجود تمام گستاخ بلاگرز کے نام ای سی ایل میں ڈال دئیے جائیں... مگر اس کے باوجود اب یہ خبریں اخبارات کی زینت بن رہی ہیں کہ ... شیطانی ''بھینسا'' نامی پیج کے ذریعے سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد پھیلانے والا بدنام زمانہ ملعون سلمان حیدر بیرون ملک فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا ہے۔ گستاخ وقاص گوارائیہ ہو' ملعون سلمان حیدر ہو' شیطان سلمان رشدی ہو یا توہین رسالت کے مرتکب دیگر شیطان... کہاں تک بھاگیں گے؟ کب تک چھپیں گے؟ ان شیطانوں کو کوئی بتائے کہ تم جہاں تک بھی بھاگو! مگر نہ رب کی بنائی ہوئی زمین سے نکل سکتے ہو اور نہ ہی رب کے بنائے ہوئے آسمان کے نیچے سے... بھاگ سکتے ہو... گستاخو! بھاگو ' بھاگو... جتنا مرضی بھاگو! بے شک بہت جلد تمہارا نام و نشان بھی مٹا دیا جائے گا (انشاء اللہ) کوئی بات نہیں اگر کروڑوں مسلمانوں کے ووٹ لے کر منتخب ہونے والی مسلم لیگ (ن) کی حکومت... آقا و مولیٰۖ کے گستاخوں کو گرفتار نہیں کر سکی... مگر قہارو غفار پروردگار تو موجود ہے... دنیا کی چودہ سو سالہ تاریخ گواہ ہے' کہ جب ''انسان'' کہلوانے والوں نے طاقت اور حکومت میں ہونے کے باوجود محسن انسانیتۖ کی ناموس کا دفاع کرنا گوارا نہ کیا... تو رب کا خود کار نظام حرکت میں آیا... اور پھر محبوب خداۖ کے کسی گستاخ کو روئے زمین پر کہیں بھی پناہ میسر نہ آسکی۔ کلمہ طیبہ کی بنیاد پر بننے والے ملک میں یہ کیسا وقت آگیا ہے کہ ... جہاں غیر ملکی کھلاڑیوں کو ''پھٹیچر'' کہنے پر تو پوری حکومت کھلاڑیوں کے دفاع میں... نکل آتی ہے ... نواز شریف کو کچھ کہہ دیا جائے ... تو ہمارے حکومتی وزیر 'دفاع نواز شریف میں مرنے مارنے پر تیار ہو جاتے ہیں... مگر دو ماہ ہوگئے پاکستان کے علماء ' صلحائ' صوفیاء ' طلبائ' وکلاء اور کروڑوں مسلمان... چیختے ' چلاتے اور روتے ہوئے حکومت سے مطالبات کر رہے تھے کہ سوشل میڈیا پہ ''بھینسا'' اور ''روشنی'' نام سے پیجز بنا کر ... خاتم الانبیائۖ اور آپۖ کے عظیم صحابہ کی شان میں گستاخیاں کی جارہی ہیں... مگر وزیراعظم سے لے کر پوری کابینہ یا دیگر حکومتی اداروں تک کسی کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی... بلکہ الٹا الیکٹرانک چینلز میں گھسے ہوئے کئی ''بھیسنے'' گستاخ بلاگرز کی حمایت میں ٹاک شوز کرکے مسلمان قوم کو گمراہ کرنے کی کوششیں کرتے رہے... کوئی شاہ زیب خان زادہ ' نجم سیٹھی' طلعت حسین' منیب فاروق' ڈاکٹر پرویز ھود ' امتیاز عالم' جبران ناصر' فرحت اللہ بابر اور موم بتی مافیاء کے دیگر فسادیوں سے پوچھ کر قوم کو بتائے کہ ... اگر تمہارا سلمان حیدر 'وقاص گورائیہ اور دیگر بلاگرز بے گناہ اور پارسا تھے تو پھر وہ ملک چھوڑ کر کیوں بھاگے؟ عدالت کا سامنا کرنے کے لئے تیار کیوں نہ ہوئے؟ یہ ہو بھی کیسے سکتے تھے اس لئے کہ قرآن کا فیصلہ ہے کہ نبی محترمۖ کا ہر دشمن اور گستاخ بے نام و نشان ہو جاتا ہے... ''ابلیس'' اور اس کے ٹولے کے جس جس فرد نے جب جب بھی ... آقا و مولیٰۖ اور آپۖ کے عظیم جانثار صحابہ کرام کی توہین کی... اور ابلیسی ٹولے نے ان گستاخوں کی سپورٹ اور حمایت کی ... وہ پورا ابلیسی ٹولا ہی بے نام و شان ہو کر رہ گیا۔ رسول اللہۖ کے کسی گستاخ اور اس ''گستاخ'' کے کسی حامی نے نہ اس سے پہلے کبھی دنیا میں عزت حاصل کی... اور نہ ہی آئندہ قیامت تک کسی گستاخ اور اس کے حمایتی کو یہ دنیا عزت دے گی ... کیا فائدہ ایسی وزارت داخلہ اور اس کے اداروں کا... یہ سارے مل کر بھی ... گستاخان رسولۖ کے فرار کو نہ روک سکے؟ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف کی ''چپ'' پر بھی حیرت ہے کہ جب اپنی ''ذات'' اور خاندان کا معاملہ آیا... تو ٹی وی چینلز سے لے کر قومی اسمبلی کے ایوان تک میں کی جانے والی تقریروں میں بار بار اپنی صفائیاں پیش کیں... مگر جب خاتم الانبیائۖ کی عزت و حرمت کا معاملہ آیا تو ناموس رسالت کے تحفظ کے لئے دو جملے بولنا بھی گوارا نہ کیا' بدنام زمانہ قادیانی ڈاکٹر عبدالسلام کے نام پر قائداعظم یونیورسٹی کے ایک شعبے کو منسوب کرنے والی لیگی حکومت کے قائدین نے شاید یہ سمجھ لیا ہے... اب شاید وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے حکومت میں ہی رہیں گے... اب ان کی حکومت پر کبھی زوال آہی نہیں سکتا' کیونکہ وہ سڑکیں بنا رہے ہیں... میٹرو لا رہے ہیں۔ کاش کہ انہیں کوئی بتا سکتا کہ ان میٹرو بسوں' اورنج ٹرینوں اور لش پش گاڑیوں اور چمکتی سڑکوں کی سرے سے کوئی حیثیت ہی نہیں ہے... قرآن تو ہر مسلمان سے تقاضا کرتا ہے کہ ''آپ(ۖ )کہہ دیجئے کہ اگر تمہارے باپ اور تمہارے لڑکے اور تمہارے بھائی اور تمہاری بیویاں اور تمہارے کنبے' قبیلے اور تمہارے کمائے ہوئے مال اور وہ تجارت جس کی کمی سے تم ڈرتے ہو اور وہ محلات جنہیں تم پسند کرتے ہو اگر یہ تمہیں اللہ اور اس کے رسول اور اس کی راہ میں جہاد سے زیادہ عزیز ہیں تو تم اللہ کے حکم سے عذاب کے آنے کا انتظار کرو۔'' (التوبہ) 2018ء کے انتخابات میں سڑکوں' اورنج ٹرینوں اور میٹرو بسوں کے نام پر ووٹ مانگنے والوں سے... جب مسلمان ووٹر سوال کرے گا کہ تم نے تمام تر حکومتی طاقت اور اختیار کے ہوتے ہوئے خاتم الانبیائۖ کے گستاخوں کو گرفتار کرکے سزا کیوں نہ دی ؟ جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے حکم کے باوجود گستاخ بلاگرز کو ملک سے فرار کیوں ہونے دیا؟ میڈیا میں گھسے ہوئے وہ ''بھینسے'' اور ''گینڈے'' کہ جو گستاخ بلاگرز کی حمایت میں گلے پھاڑ پھاڑ کر پروگرام کرتے رہے... ان فسادیوں پر سہولت کاری کا مقدمہ قائم کرکے گرفتار کیوں نہ کیا؟ اگر لال مسجد میں کیا جانے والا ظالمانہ آپریشن پرویز مشرف اور اس کے حواری (ق) لیگیوں کو عبرتناک شکست دلا سکتا ہے... تو پھر ناموس رسالتۖ کے تحفظ میں مجرمانہ غفلت اور تساہل برتنے والے ہوں یا گستاخوں کے سہولت کار اور غم خوار... انہیں بھی لاوارث اور بے نام و نشان ہوتے دیر نہیں لگے گی(انشاء اللہ)

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 




 انٹر نیٹ کی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضا مینں
loading...
loading...


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved