حسین حقانی کا اعتراف جرم!
  14  مارچ‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز
٭پاکستان کے نام پر امریکہ میں امریکی کٹھ پتلی سفیر حسین حقانی نے بالآخر اعتراف کر لیا ہے کہ اس نے ماضی میں صدر آصف زرداری کی مرضی اور منظوری سے امریکہ کی خفیہ سراغ رساں تنظیم سی آئی اے کے بہت اہلکار پاکستان بھیجے تھے (ایک رات میں 400 ویزے!) ان اہلکاروں نے پاکستان کی حکومت اور فوج کو لاعلم رکھ کر ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کا سراغ لگایا اور امریکی فوج نے ہیلی کاپٹروں کے ذریعے پاکستان پر حملہ کر کے اسامہ بن لادن کو ایبٹ آباد سے اٹھا لیا تھا۔ اس واقعہ پر پاک فوج نے سخت ردعمل کا اظہار کیا تو حسین حقانی نے اپنی ملک دشمنی میں اضافہ کرتے ہوئے، صدر آصف علی زرداری کی حمائت سے امریکی حکومت کے نام ایک امریکی اخبار میں پاک فوج کے خلاف مضمون چھپوایا اور امریکہ کو مشورہ دیا کہ پاکستان کی افواج کو غیر موثر بنانے کے لئے کارروائی کی جائے! قانون دان جانتے ہیں کہ ایسی کارروائی پر ملک دشمنی کے الزام میں کون سا قانون حرکت میں آ سکتا ہے۔ حسین حقانی کا ریکارڈ ماضی میں بھی بہت افسوسناک تھا۔ جماعت اسلامی سے ن لیگ، ن لیگ سے پیپلزپارٹی میں چھلانگیں، سری لنکا میں ہائی کمشنر کی حیثیت سے پاکستان کے پنکھے منگوانے میں کروڑوں کا فراڈ یہ طویل داستان ہے۔ یہ شخص ایک کیس میں سپریم کورٹ کو مطلوب ہے۔ وہ عدالت میں پاکستان میں واپس آنے کا حلفیہ بیان دے کر امریکہ بھاگ گیا اور واپس نہیں آیا۔ وہاں ایک عرصے سے وہ پاکستان کی فوج کے خلاف زہریلے مضامین لکھ رہا ہے۔ پاکستان کی کسی حکومت نے اس کی ان سرگرمیوں کا نوٹس نہیں لیا۔ اب اس نے کھلے عام امریکہ کے اخبار واشنگٹن پوسٹ میں ایک مضمون شائع کرایا ہے اس میں صاف اعتراف کیا ہے کہ وہ پاکستان میں امریکی سی آئی اے کے ایجنٹوں کو بھیجتا رہا ہے۔ انتہائی ستم کی بات کہ وہ اس پاکستان دشمن کارروائی میں واضح طور پر آصف زرداری کو بھی شریک کر رہا ہے۔ حسین حقانی کے اس مضمون کی تفصیل تمام اخبارات میں چھپ چکی ہے۔ اس میں وہ بتاتا ہے کہ اس نے کس طرح امریکی صدر بش کے دور میں سی آئی اے سے رابطے قائم رکھے! اس نے یہ اعتراف بھی کیا ہے کہ اس کی ان حرکتوں پر پاک فوج کے سخت ردعمل کے طور پر اسے امریکہ میں سفیر کے عہدے سے استعفا دینا پڑا تھا۔ ان ملک دشمن سرگرمیوں پر کیا لکھا جائے؟ آصف علی زرداری کو بھی تو پاک فوج کے خلاف سخت کلامی پر فوج کے ردعمل کے نتیجے میں ملک سے بھاگنا پڑا تھا!! ٭ایک حیرت انگیز واقعہ کا ذکر کرنا چاہتا ہوں۔ میرا پاسپورٹ سات سال پہلے ختم ہو گیا تھا۔ دُنیا بہت گھوم پھر لی۔ نیا پاسپورٹ بنوانے میں دلچسپی نہ رہی۔ پچھلے ماہ افواہ پھیلی کہ پاسپورٹ بنوانے کی فیس میں اضافہ کا امکان ہے۔ روزنامہ اوصاف کے رفیق کار محمد نعیم نے مشورہ دیا کہ پاسپورٹ بنوا لیں کسی وقت کام آ جائے گا۔ محمد نعیم کے پاسپورٹ آفس والوں سے گہرے تعلقات ہیں۔ مختصر یہ کہ پچھلے ماہ کے دوسرے ہفتے میں پاسپورٹ بن گیا جو مجھے 11 فروری کو مل گیا۔ اگلے روز 12فروری کو اسلام آباد سے میرے بھانجے احمد ندیم کا فون آیا کہ ''ماموں! مجھے اپنا پاسپورٹ بھیجیں، آپ نے میرے ساتھ عمرہ پر جانا ہے!'' میں حیرت زدہ رہ گیا۔ پوچھا کہ کیسے پتہ چلا کہ کل میرا پاسپورٹ بن کر آیا ہے؟ اس نے کہا کہ مجھے بالکل پتہ نہیں تھا۔ میں ہر سال اہل و عیال کے ساتھ عمرہ پر جاتا ہوں۔ کل اچانک میرے ذہن میں آیا کہ اس بار ماموں میرے ساتھ جائیں گے! بس آپ اپنا پاسپورٹ اور اصلی شناختی کارڈ فوراً بھیج دیں۔احمد ندیم اسلام آباد میں موبی لنک میں اعلیٰ عہدہ پر ہیں۔ اب تک 14 یا 15 عمرے کر چکے ہیں۔ مجھے تقریباً 30 سال پہلے خانہ کعبہ کے بارے میں اپنی ایک شائع شدہ نظم یاد آ گئی۔ اس کی ابتدا یوں ہے کہ ''عظیم نبیوں نے اپنے ہاتھوں سے اپنے رب کا مکاں بنایا، زمین پر رب کا جہاں بنایا…'' نظم کے آخر میں چند مصرعے ہیں کہ ''جی چاہتا ہے کبھی تو دیکھوں، مکاں جو مَسکنِ لا مکاں ہے۔ واں لاکھوں سجدے تڑپ رہے ہیں، وہ کیسا گھر ہے، کیا جہاں ہے!'' اور اب 30 برسوں کے بعد ایک روز میرا نیا پاسپورٹ آتا ہے اور اگلے روز عزیز بھانجے کا فون آ جاتا ہے کہ ماموں پاسپورٹ بھیج دیں، آپ عمرے پر جا رہے ہیں!!! پھر اس کا فون آتا ہے کہ میں نے آپ کے لئے احرام، جوتے وغیرہ خرید لئے ہیں۔ دو دن بعد میری بیٹیاں میرے لئے اعلیٰ کوالٹی کے شلوار قمیص کے آٹھ جوڑے خرید لاتی ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ دس روز کے لئے اتنے جوڑے کیا کرنے ہیں؟ میرے پاس پہلے کافی کپڑے موجود ہیں، میں نہائت سادگی کے ساتھ جانا چاہتا ہوں۔ بیٹیاں کہتی ہیں کہ نہیں! ہمارا باپ باری تعالیٰ اور نبیۖ رحمت ۖکے حضور ایسے جائے گا جیسے نئے کپڑے پہن کر عیدکی نماز پڑھنے جایا کرتے ہیں۔ ہر روز نیا جوڑا پہنیں گے!'' قارئین کرام! جو کچھ ہو رہا ہے، خود بخود ہو رہا ہے۔ میں تو چپ چاپ، خاموشی سے دیکھ رہا ہوں۔ 30 سال پہلے والی اپنی نظم یاد آ رہی ہے کہ جی چاہتا ہے کبھی تو دیکھوں، مکاں جو مَسکنِ لامکاں ہے۔'' سو محترم قارئین! 21 مارچ کو صبح مدینہ منورہ کے لئے روانگی اور براہ راست آقائے نامدارۖ کے حضور حاضری ہے۔ وہاں سے مکہ معظمہ جانا ہے اور عمرہ کے بعد 31 مارچ کوواپسی ہے! چشم نم کے ساتھ سوچ رہا ہوں کہ زندگی میں اخباری کالموں کے ذریعے 15 غریب لڑکیوں کی رخصتی میں جو مدد دلائی ہے، 20,18 نوجوانوں کو ملازمتیں، کچھ بیوہ خواتین کو سلائی مشینیں، بعض کچھ غریب بچے بچیوں کی تعلیم کا انتظام کرنے کی جو کوشش کی ہے، شائد وہ اثر لے آئی ہے! میں نے ذاتی طور پر کوئی تیاری نہیںکی۔ میرے لئے احرام، کپڑے، جوتے خود بخود سامنے آ رہے ہیں۔ مجھے 21 مارچ کو دنیا کی عظیم ترین ہستیۖ کے روبرو حاضر ہونا ہے۔ چشم نم کے ساتھ ملک و قوم، اپنے بے حد عزیز محترم قارئین کی سلامتی، صحت اور رزق کی کشادگی کے لئے عرضی پیش کرنی ہے۔ اپنی پرانی نعتوں کے بول سنانے ہیں اور نئی نعتوں کے مصرعے کہنے ہیں۔ مگر کہتے ہیں کہ وہاں تو سامنا ہوتے ہی سب بھول جاتا ہے! عجیب منظر کہ چشم تَر کچھ دیکھنے ہی نہیں دیتی! ذہن ساکت ہو جاتا ہے! خدا تعالیٰ مجھے ہمت دے کہ میں اپنے ملک و قوم اور عزیز قارئین کی سلامتی، صحت اور اچھے حالات کے لئے دعا مانگنے کا حوصلہ پیدا کر سکوں! ٭آزادکشمیر کے ایک بڑے گائوں منہاسہ سے دکھ بھری اطلاع آئی ہے کہ وہاں کے نمبردار، مسلم کانفرنس کے مرکزی عہدیدار، معروف سماجی رہنما کاظم خاں کا انتقال ہو گیا ہے۔ بہت بڑا جنازہ ہوا۔ بہت سے بڑے بڑے لوگ آئے۔ چندسال قبل انہوں نے ایک بیٹے کی شادی پربلایا تھا۔ وہاں آزادکشمیر کے موجودہ وزیراعظم راجہ فاروق حیدر اور دوسرے اہم افراد سے ملاقاتیں ہوئیں۔ ان سے ٹیلی فون پر اکثر رابطہ رہتا۔ انہوں نے اپنے علاقے میں بہت سے رفاہی کام کئے۔ عوام میں بہت مقبول تھے۔ تین روز قبل تک بالکل صحت مند تھے۔ اچانک نمونیہ ہوا اور چل بسے۔ اِنّا لِلّٰہ و انا الیہ راجعون! ان کے بڑے بیٹے محمد ادریس خاں سے 0300-5040448 پر تعزیت کی جا سکتی ہے۔ خدا تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے۔ ٭ گزشتہ روز ایک خوش گوار واقعہ ہوا ہے۔ پانچ برسوں سے دوحصوں میں بٹی ہوئی لاہور کے شاعروں ادیبوںں کی 750 سالہ قدیم ادبی تنظیم، حلقہ ارباب ذوق' کے دونوں حصے اکٹھے ہو گئے ہیں اور مل کر مشترکہ سالانہ انتخابات میں حصہ لیا ہے۔ معروف شاعر، ادیب، نقاد، 18 سے زیادہ علمی و ادبی تخلیقات والے غلام حسین ساجد حلقہ کے نئے سیکرٹری منتخب ہوئے ہیں۔ عقیل اختر پہلے ہی جائنٹ سیکرٹری منتخب ہو گئے ہیں۔ انتخابات نہائت پرامن اور پرسکون فضا میں ہوئے ہیں۔ مجھے قومی و صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات …چلئے چھوڑیئے! پڑھے لکھے باشعور شاعروں اور ادیبوں کے ذکر کے ساتھ ان باتوں کا ذکر نہ ہی کیا جائے۔ 19 مارچ کو حلقے کا سالانہ جلسہ ہے۔ تقسیم شدہ دونوں حلقوں کو اکٹھا کرنے میں ان کے سیکرٹری صاحبان حسین مجروح اور ڈاکٹر امجد طفیل خاص طور پر سینئر شاعر اشرف جاوید نے جو پرخلوص کوشش کی ہے اس پر بے حد مبارکباد!

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 



 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved