علماء سب کچھ کریں مگر حکمران کچھ بھی نہ کریں
  15  مارچ‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز
جامعہ نعیمہ میں ''بادشاہ سلامت'' نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ''علماء دہشت گردوں کے دلائل کا جواب دیں... مدارس کی تعلیم اسی بنیاد پر ہونی چاہیے... فتوئوں سے آگے نکلنا ہوگا... جہاد کا نظریہ بگاڑ کر دہشت گردی میں بدل دیا گیا... مذہب کے نام پر شدت پسندی پھیلائی جارہی ہے... دہشتگردی کے خلاف کامیابی کے لئے علماء کا ساتھ ضروری ہے... ان عناصر سے دین کو آزاد کروانا ہے۔'' میاں محمد نواز شریف کو بادشاہ سلامت اس لئے لکھ رہا ہوں... کیونکہ اگر وہ جمہوری وزیراعظم ہوتے تو یقینا انہیں اپنے ملک کے زمینی حقائق کا بھی ادراک ہونا چاہیے تھا... سوال یہ ہے کہ اگر سارے کام علماء کرام نے ہی کرنے ہیں تو پھر ''قومی خزانے'' پر بوجھ بننے والے ان حکمرانوں کا اس قوم کو کیا فائدہ ہے؟ پاکستان میں جاری دہشت گردی نائن الیون کے واقعات کی کوکھ سے نکلی یا پھر اس دہشت گردی کے ڈانڈے دہلی اور کابل سے جا ملتے ہیں... جبکہ دینی مدارس کا تعلیمی نظام چودہ سو سال سے جاری و ساری ہے' کیا کسی ''وزیراعظم'' یا ''بادشاہ'' کے حکم پر مدارس میں پڑھائے جانے والے قرآن و سنت کے نظام تعلیم کو بدلہ جاسکتا ہے؟ جبکہ زمینی حقیقت یہ ہے کہ تمام مسالک کے علماء کرام روز اول سے ہی خود کش حملوں' بم دھماکوں ' مزاروں' مسجدوں' پارکوں' امام باڑوں اور دیگر مقامات پر دہشت گردی کرنے والوں کے خلاف نہ صرف یہ کہ فتوے جاری کر چکے ہیں... بلکہ ہر قسم کی دہشت گردی کو غیر اسلامی' غیر انسانی بھی قرار دے رہے ہیں... کاش کہ جامعہ نعیمیہ میں میاں نواز شریف کا ''بصیرت افروز'' خطاب سننے والے علماء میں سے کوئی ایک تو ہوتا کہ جو بادشاہ سلامت سے سوال کرتا کہ جناب والا' بریلوی مسلک کے مفتی اعظم 'مفتی منیب الرحمن نے دیوبندی ' اہلحدیث اور شیعہ علماء کرام کے تعاون سے ... دہشت گردوں کے خلاف دلائل سے بھرپور ''قومی بیانیہ''NARRATIVE تیار کرکے اس کا حتمی مسودہ 22اکتوبر 2015ء کو نیکٹا کے کوارڈینیٹر احسان غنی کے حوالے کیا تھا... علماء کرام کی اس عرق ریزی اور محنت کا کیا ہوا؟ علماء کرام نے تو اس قوم اور ملک و ملت کی بہتری ' مضبوطی اور دہشت گردی کے خاتمے کے لئے ... ہمیشہ پاک فوج کے شانہ بشانہ صف اول میں نہ صرف کردار ادا کیا... بلکہ جہاں ضرورت پڑی... وہاں جانیں قربان کرنے سے بھی دریغ نہ کیا' مولانا سرفراز نعیمی' مولانا حسن جان' مولانا نور محمد' مولانا معراج الدین' مفتی نظام الدین شامزی' علامہ حسن ترابی' مفتی محمد جمیل خان سمیت دیگر سینکڑوں علماء کرام نے فسادیوں کے ہاتھوں جام شہادت نوش کیا' یہاں صرف ''بادشاہ'' سلامت ہی نہیں... بلکہ جس کو دیکھو وہ لٹھ اٹھا کر مولویوں کے پیچھے پڑا ہوا نظر آتا ہے... سیکولر فاشسٹوں کا گروہ ہو یا لبرل انتہا پسندوں کا ٹولا' امریکی پٹاری کے دانش چور ہوں یا بھارتی پٹاری کے خرکار... ہر کوئی مولوی اور مدرسے کی اصلاح کی فکر میں گھل ' گھل کر ہاتھی بنتا جارہا ہے۔ کوئی ان سے کہے کہ ملک لوٹ کر تم کھا گئے... کرپشن' بھتہ خوری' لسانی اور سیاسی انتشار کو پروان تم نے چڑھایا... بے حیائی' فحاشی اور بے غیرتی کے ''فساد'' کو تم نے عام کیا' کبھی تم نے امریکہ کی غلامی کا طوق پہنا اور کبھی... بھارت کی ایجنٹی کی 'اور گالیاں دیتے ہو بے چارے ''مولویوں'' کو' بادشاہ سلامت! اگر ناراض نہ ہوں تو قوم کے چند سوالات یہ خاکسار اپنے کالم کی زینت اس لئے بنا رہا ہے تاکہ حالات کو دوطرفہ سمجھنے میں آسانی ہوسکے۔ قومی اسمبلی میں مولانا فضل الرحمن تمام مذہبی جماعتوں اور دینی مدرسوں کی نمائندگی کر رہے ہیں... ''مولانا'' نے ایک بار نہیں بلکہ متعدد بار حکومت سے کہا کہ دہشت گردی کو مذہب اور مسلک سے جوڑنا قطعاً درست نہیں ہے... بلکہ فوجی عدالتوں میں توسیع کے لئے جو بل تیار کیا گیا تھا... اس میں بھی دہشت گردی کا لفظ عمومی طور پر استعمال کیا گیا تھا... جس کا مطلب ہر قسم کی دہشت گردی بنتا ہے۔ لیکن جمعہ کے دن قومی اسمبلی میں حکومت نے فوجی عدالتوں کے قیام میں توسیع کا بل جو پیش کیا اس میں ایک دفعہ پھر دہشت گردی کو مذہب اور مسلک سے منسلک کر دیا تو کیوں؟ دیوبند مسلک کے مولانا قاری حنیف جالندھری' مفتی تقی عثمانی' بریلوی مسلک کے مفتی منیب الرحمن' شیعہ مسلک کے قاضی نیاز حسین نقوی اور جماعت اسلامی کے مولانا عبدالمالک کا تیار کردہ قومی بیانیے کے باوجود... اگر بادشاہ سلامت... علماء کو دہشت گردوں کے دلائل کا جواب دینے کے لئے آرڈر جاری کر رہے ہیں... تو اس میں کس کا قصور ہے؟ سوشل میڈیا پر مسلسل کئی ماہ سے نام نہاد روشن خیال لبرل فاشسٹ توہین رسالتۖ ' توہین قرآن اور توہین صحابہ کا ارتکاب کرکے کروڑوں پاکستانیوں کے دلوں کو مجروح کر رہے ہیں... اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی ہر سماعت پر ریمارکس دے رہے ہیں کہ اگر محسن انسانیتۖ کی توہین نہ روکی گئی تو ملک خانہ جنگی کا شکار ہو جائے گا... سینٹ نے متفقہ قرارداد پاس کرکے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ''ناپاک گستاخوں کو نشان عبرت بنا دیا جائے۔'' لیکن مولانا فضل الرحمن ' مولانا سمیع الحق' ڈاکٹر ابوالخیر' محمد زبیر ' سینیٹر پروفیسر ساجد میر سمیت تمام مسالک کے علماء کرام... وکلائ' دانشور حکومت سے مطالبے کر رہے ہیں لیکن حکومت نے مولانا فضل الرحمن سمیت تمام علماء کے مطالبے کو رد کرتے ہوئے زبردستی... دہشت گردی کو مذہب کے ساتھ جوڑ دیا۔ جسٹس شوکت صدیقی' طارق اسد ایڈووکیٹ سمیت تمام علماء اور مذہبی جماعتوں کے مطالبوں کو مسترد کرتے ہوئے ... گستاخ بلاگرز کو ملک سے فرار کا موقع فراہم کیا۔جناب محمد نواز شریف بتائیں کہ وہ ان ''علمائ'' کا نام بتائیں کہ جن کے بیانیے اور جن کے مطالبے کو وہ تسلیم کرنے کے لئے تیار ہیں؟ یا پھر انہیں چاہیے کہ وہ جاتی امراء میں اپنی مرضی کے ''مولوی'' تیار کرنے والی نئی فیکٹری لگالیں... کیونکہ ان کی فیکٹری سے تیار ہو کر نکلنے والا مولوی ''شریف'' ہوگا... پھر ایسے شریف مولویوں سے وہ اپنے من چاہے فتوے اور بیانیے بھی حاصل کر سکیں گے۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 




 انٹر نیٹ کی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضا مینں
loading...


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved