حسین حقانی کی طرف سے فرد جرم
  15  مارچ‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

٭پاکستان سے فرار ہوکر امریکہ میں پناہ لینے والے حسین حقانی نے ایک اور بیان میں کہاہے کہ میں نے امریکہ میں سفیر کے طورپر جو کچھ کیا وہ پاکستان کی حکومت کی مرضی سے کیا ۔ (صدر آصف زرداری اور وزیراعظم یوسف رضا گیلانی) ۔میرے ہر کام اوراقدام کو باقاعدہ حکومت کی منظوری حاصل ہوتی تھی۔ میں نے پاکستان میں سی آئی اے کے ایجنٹوںکوبھی صدر زرداری کے مشوروں اور حمائت کے ساتھ بھیجا ( صرف ایک رات میں 400 ویزے،اسلام آباد کے امریکی سفارت خانہ میں7000 افراد کی رہائش کا انتظام ہے)۔ حسین حقانی نے مزید کہاہے کہ میں نے امریکی وزارت دفاع کوپاکستان کی فوج کے خلاف کارروائی کے لیے جوکچھ بھی لکھا وہ صدر زرداری سے اجازت لے کر ہی لکھا اور…اور یہ کہ اسامہ بن لادن کے خلاف امریکی کارروائی حکومت کے علم میں تھی!!حسین حقانی نے کہاہے کہ میں اپنے پہلے والے بیان پر قائم ہوں۔ اب پیپلز پارٹی جان چھڑانے کے لیے مجھ سے لاتعلقی کااظہار کررہی ہے۔ میں نے جو لکھا ہے وہ درست ہے! ٭حسین حقانی نے براہ راست سابق صدرآصف زرداری پر ملک دشمنی کی فرد جرم عائد کردی ہے۔ اس پر آصف زرداری کا تادم تحریر کوئی بیان نظر سے نہیں گزرا، البتہ سید خورشید شاہ کاسیدھااور صاف بیان آیا ہے کہ حسین حقانی پاکستان کاغدار ہے۔ شاہ صاحب ملک کے بہت سینئر، مدبر اور منجھے ہوئے سیاست دان ہیں۔ ان کی زبان سے پہلی بار کسی کو غدار قراردیتے ہوئے سنا ہے تو اس بات میں کوئی نہ کوئی وزن ضرور ہوگا۔مگرشاہ صاحب! زرداری صاحب ان سنگین الزامات کی تردید کیوں نہیں کررہے؟ حسین حقانی نے واضح الفاظ میں اپنی ''غداری'' کی ساری ذمہ داری زرداری صاحب پر ڈال دی ہے۔ یہ باتیں کسی دوسرے رنگ میں پہلے بھی آچکی ہیں۔حسین حقانی کا پاکستان کی فوج کے خلاف جب امریکہ کے ایک اخبار میں پہلا بیان شائع ہواتھا تو وہ اس وقت آصف زرداری کے بیان کے بہت قریب تھا۔ اس نے کہا تھا کہ وہ مضمون اس نے زرداری صاحب کو دکھاکر ان کی منظوری کے بعد امریکی اخبار کو بھیجا تھا۔ یہ قصہ میمو سیکنڈل کے طورپر مشہور ہو ا اور اس کے خلاف اس وقت کے اپوزیشن لیڈر میاں نوازشریف براہ راست سپریم کورٹ میں چلے گئے تھے۔ اس کیس میں حسین حقانی سپریم کورٹ میں پیش ہوااور ملک سے باہر جانے کی اجازت مانگی۔ اس کی وکیل عاصمہ جہانگیر نے عدالت کو یقین دلایا کہ طلب کرنے پر حسین حقانی دوبارہ عدالت میں پیش ہو جائے گا۔ اس کے بعد وہ امریکہ بھاگ گیااور برسوں کے بعد بھی واپس نہیںآیا! اس نے کچھ عرصہ قبل پھر پاکستانی افواج کے بارے میں زہریلے مضامین شائع کرنے شروع کردیئے تو ملک میں سخت ردعمل دیکھ کر پیپلز پارٹی نے اس سے لاتعلق ہونے کا اعلان کردیا۔ اور اب سید خورشید شاہ اسے تو غدارقراردے رہے ہیں۔ مگر آصف زرداری کے بارے میں کچھ نہیں کہہ رہے!!! مگر آج نہیں توکل، آصف زرداری کو بہرحال عوام کے سامنے جوابدہ تو ہونا پڑے گا! ٭ویسے حسین حقانی کاکردار کیا رہاہے؟ کیا پیپلزپارٹی والے اس سے ناواقف تھے، یہ شخص پاکستان میں ہانگ کانگ کے ایک اخبار کا نمائندہ تھا ۔ جماعت اسلامی کے ساتھ گہری وابستگی تھی۔ 1985ء کے انتخابات میں یہ مسلم لیگ ن میں آگیا اور پنجاب میں مسلم لیگ کے الیکشن سیل کی سربراہی سنبھال لی۔بے نظیر بھٹو وزیراعظم بن گئی اور پنجاب کی حکومت میاں نواز شریف کے ہاتھ آگئی۔ انہوں نے حسین حقانی کو مشیر کا درجہ دے دیا۔ وہ ضابطہ کے خلاف اپنی سرکاری گاڑی پر جھنڈالگائے گھومتارہا۔ اسی دوران اس نے بے نظیر بھٹو کی خاتون سیکرٹری ( سب جانتے ہیں) کی قریبی عزیزہ سے رابطہ قائم کرکے شریف حکومت کے راز پیپلز پارٹی کو پہنچانے شروع کردیئے اسلام آباد کے ایک بڑے ہوٹل میں ایک کمرہ مستقل طورپر بک کرالیا جس میں وہ اس خاتون سے ملا کر تا تھا۔ ( بعد میں اس سے شادی کرلی اور طلاق بھی دے دی) ۔ کچھ عرصے کے بعد میاں نوازشریف وزیراعظم اور میاں شہبازشریف وزیراعلیٰ بن گئے۔ ایک سرکاری ایجنسی نے ہوٹل کے اس کمرے میں حسین حقانی اور اس خاتون کی خفیہ بات چیت ریکارڈ کرکے میاں نوازشریف کو اس وقت پہنچاتی جب وہ میاں شہبازشریف کے ساتھ طیارہ میں کراچی جارہے تھے۔ انہوں نے حسین حقانی کو فوراً کراچی بلوایا۔ وہاں وی آئی پی روم میں میاں شہبازشریف نے اپنے خاص انداز میں حسین حقانی کی جو جواب طلبی کی ، وہ ایک الگ داستان ہے۔ مشکل یہ تھی کہ حسین حقانی کے پاس شریف برادران کے بہت سے راز تھے۔ اسے فوری طورپر ملک بدر کرکے سری لنکا میں ہائی کمشنر بنا دیاگیا۔ اس نے وہاں جاکر پاکستان سے پنکھے منگوانے میں کروڑوں کافراڈ کیا جوحکومت کے علم میں آگیا مگراس دوران حکومت بدل گئی اور پھر بے نظیر بھٹو وزیراعظم بن گئیں۔ محترمہ نے حسین حقانی کو اس کی خدمات کے صلہ میں وفاقی سیکرٹری اطلاعات مقرر کر دیا۔یہاں سے اس کے امریکی سفارت خانہ کے ساتھ تعلقات قائم ہونے اور بالآخر امریکہ کے مطالبہ پر اسے آصف زرداری نے امریکہ میں پاکستان کا سفیر مقرر کردیا۔ اس کے بعد کے واقعات سب کومعلوم ہیں۔ یہ طویل داستان بتاتی ہے کہ اس ملک کے ساتھ کس کس شخص نے کیا سلوک ہے۔ بہرحال آصف زرداری کو اپنے اوپر لگنے والے الزامات کے بارے میں کچھ نہ کچھ بولنا ہی پڑے گا! اب کچھ دوسری باتیں! ٭صدر ممنون حسین نے 16جون2016ء کو قومی اسمبلی سے خطاب کیاتھا۔ اب تقریباً9ماہ کے بعد قومی اسمبلی میں اس پر بحث شروع کرنے کااعلان آیاہے! سید خورشید شاہ نے درست کہا ہے کہ رہنے دیں، اتنے عرصے کے بعد کیا بات کرنی ہے، جب کہ تین ماہ کے بعد صدر کی نئی تقریربھی آنے والی ہے۔ صدر مملکت کی یہ اہمیت ! حیرت ہے! ٭ایک خبر: دبئی میں پناہ لیے ہوئے سابق صدر پرویز مشرف نے ایم کیوایم وغیرہ کے ساتھ مل کر متحدہ وطن پارٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس کی سربراہی بھی سنبھال لی ہے ۔ اس کا ساتھ دینے والوں میں دبئی میں ہی پناہ گزین سندھ کے سابق گورنر عشرت العباد وغیرہ شامل ہیں۔ یہاں صرف اتنا بیان کرنا کافی ہے کہ اسلام آباد کی عدالتوں نے پرویز مشرف کواشتہاری ملزم قراردے کر ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کررکھے ہیں۔ ٭آزاد کشمیر کی کنٹرول لائن پر بھارتی فوج کی فائرنگ سے ایک خاتون شہید پانچ افراد زخمی ہوگئے ہیں۔ کنٹرول لائن سے صرف چار کلو میٹر کے فاصلے پر واقع عباس پور سے خواجہ بشارت حنیف نے اطلاع دی ہے کہ اس علاقے میں پولس، تروٹی، چفاڑ، چٹری کوٹ اور دوسرے دیہات پر بھارتی فوج کی مسلسل فائرنگ جاری ہے ۔ اس سے ہر طرف خوف وہراس پھیلا ہواہے او رلوگ گھروں میں بند ہوکر رہ گئے ہیں مگر گھروں پر بھی گولے گر رہے ہیں… اور…اور واہگہ کے راستے بھارت کے ساتھ تجارت جاری ہے۔ ٭میرے عمرے پر جانے کے بارے میں بہت سے محترم قارئین نے مبارک باد کے پیغامات اور اپنے لیے دعائیں بھیجی ہیں۔ ان سب کابہت شکریہ ! کچھ حضرات آخر میں اپنا نام لکھنا بھول گئے بہرحال تمام محترم قارئین کے لیے دعائیں مانگو نگا۔ خدا تعالیٰ آپ سب کو اور اس پاک ملک کو بخیریت ، سلامت اور خوش حال رکھے!


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved