آئو کھیلیں غدار … غدار
  16  مارچ‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

امریکی ایوان نمائندگان میں پیش کیے جانے والے پاکستان مخالف بل پر سیخ پا ہونے یا دل میلا کرنے کی ضرورت اس لئے نہیں ہے … کیونکہ حضرت سیدنا علی المرتضیٰ کے فرمان کے مطابق جس پر احسان کرو پھر اس کے شر سے بھی بچو' نائن الیون کے واقعات کے بعد … کہ جب اسامہ بن لادن کے خوف سے امریکیوں کی راتوں کی نیندیں اڑ چکی تھیں … تب پاکستان ہی تھا کہ جس نے امریکہ کو محفوظ بنانے کے لئے … اپنا بھرپور کردار ادا کیا تھا … امریکہ کی بھڑکائی ہوئی دہشت گردی کی آگ میں ہزاروں بے گناہ پاکستانی اپنی زندگیوں کی بازی ہار گئے … ایک رسوا کن ڈکٹیٹر نے پاکستانی فضائی اڈے ہی نہیں بلکہ سرزمین پاک کو … امریکہ کی حمایت میں وقف کیے رکھا۔ مگر اس سب خدمت کے باوجود ری پبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والا رکن ٹیڈپو کی یہ کہتا ہے کہ ''پاکستان امریکہ کا ایسا ساتھی ہے … جس پر اعتبار نہیں کیا جاسکتا ' اس نے برسوں امریکہ کے دشمنوں کا ساتھ دیا … اور ان کی مدد کی ہے پاکستان امریکہ کے ساتھ نہیں بلکہ دہشت گردوں کا مددگار ہے … لہٰذا وقت آگیا ہے کہ ہم پاکستان کو سرکاری طور پر دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والا ملک قرار دیں''۔ محسن کشی' بدعہدی اور طوطا چشمی کی اس سے بڑھ کر مثال دینا بھی شاید ہی کوئی دوسری ہو' میری یہ سوچی سمجھی رائے ہے کہ پاکستان کے مفادات کو شاید اتنا نقصان بھارت نے بھی نہ پہنچایا ہو … جتنا نقصان ایوان اقتدار میں گھسے ہوئے لبرل اور سیکولر فاشسٹوں نے پہنچایا … اگر کسی کو یقین نہ آئے تو اسے امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی کے اس حالیہ اعتراف کو پیش نظر رکھنا چاہیے کہ جس میں اس نے کہا کہ ''اس نے سویلین قیادت یعنی پی پی حکومت کی منظوری سے اسامہ بن لادن کو تلاش کرنے کیلئے سی آئی اے کی مدد کی تھی''۔ یاد رہے کہ یہ وہی حسین حقانی ہے کہ جو 2008 ء سے لے کر 2011 ء تک امریکہ میں پاکستان کا سفیر رہا … پھر میمو سیکنڈل کیس میں جب یہ پاکستان میں تھا … تو اس کی وکیل مشہور زمانہ سیکولر فاشسٹ عاصمہ جہانگیر تھیں … پھر دنیا نے وہ بھی دیکھا کہ اس غدار وطن کو پاکستان سے فرار کروانے میں سب سے اہم اور نمایاں کردار اس وقت کے صدر ''مرد حُر'' آصف علی زرداری نے ادا کیا تھا … یہ خبریں تو اس وقت سے ہی گردش کررہی تھیں کہ … پاکستان کو امریکی سی آئی اے اور امریکی بلیک واٹرز کے دہشت گردوں کی جنت بنانے میں حسین حقانی اور اس کی حکومت شامل تھی' مگر اس حقیقت کا اعتراف حسین حقانی نے پہلی مرتبہ بذات خود کرکے … پاکستان کے 22کروڑ عوام اور ملکی سلامتی کے ضامن اداروں کو یہ چیلنج دیا ہے کہ ...تم سے جو ہوسکتا ہے وہ کرلو... ہم تو پاکستانی مفادات سے اسی طرح کھیلتے رہیں گے ... اب اگر خورشید شاہ' حسین حقانی کو غدار قرار دے رہے تو کیوں؟ حسین حقانی نے مارچ 2017ء میں ایسا کردار ادا کر دیا کہ جس پر پیپلزپارٹی کے قائدین اسے ''غدار'' قرار دے رہے ہیں ؟ حسین حقانی تو لکھ رہا ہے دو نومبر 2011ء میں پاکستان میں فوجی انٹیلی جنس نے طاقت کے حصول کی برسوں سے جاری کوشش میں جب غلبہ حاصل کیا تو مجھے بطور سفیر مستعفیٰ ہونے پر مجبور کیا گیا... سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ کی شکایتوں میں مجھ پر یہ الزام شامل تھا کہ میں نے پاکستان میں سی آئی اے کے اہلکاروں کی بڑی تعداد میں موجودگی میں مدد فراہم کی تھی... ان اہلکاروں نے پاک فوج کے علم میں لائے بغیر اسامہ بن لادن کو تلاش کرنے میں مدد کی' مگر ان سب کے باوجود میں نے پاکستان کی منتخب سویلین قیادت کی اجازت سے یہ کام کیا تھا۔ اس اعتراف حقیقت پر پیپلزپارٹی کے قائدین حسین حقانی کو اگر غدار قرار دے رہے ہیں تو کیا اس لئے کہ اس نے منتخب سویلین قیادت... یعنی آصف زرداری اور یوسف رضا گیلانی... کی طرف اشارہ کیوں کیا؟ 2011ء میں جب سارا ملک حسین حقانی کو غدار قرار دے رہا تھا تو تب یوسف رضا گیلانی ہوں یا جناب زرداری... حسین حقانی کو مکمل سیکورٹی فراہم کرکے ملک سے باہر نکلنے میں مدد فراہم کر رہے تھے... آج جب حسین حقانی نے اپنے جرم میں شریک قیادت کو بے نقاب کیا تو اپوزیشن لیڈر اس پر غداری کا فتویٰ لگا رہے ہیں۔ یعنی ملکی غدار جب تک پارٹی کا وفادار رہے ... اس وقت تک سر آنکھوں پر ' لیکن اگر وہ پارٹی قیادت پر اپنی سرپرستی کا الزام لگائے تو پھر غدار... ''واہ!'' ان سیکولر جماعتوں نے غداری کے سرٹیفکیٹ بانٹنے کا کیا شاندار کلیہ بنا رکھا ہے... کہا جارہا ہے کہ حسین حقانی کو انٹر پول کے ذریعے امریکہ سے واپس بلا کر... ملکی عدالتوں میں اس پر مقدمہ چلایا جائے... یہ بھی کسی مذاق سے کم نہیں' امریکہ تو غدار وطن ڈاکٹر شکیل آفریدی کو رہائی کی ڈیمانڈ کر رہا ہے' حسین حقانی کو امریکہ سے واپس لانے کا بھلا کس میں دم ہے... پاکستانی غداروں' ملکی سلامتی سے کھلواڑ کرنے والوں ناموس رسالت پر بھونکنے والے گستاخوں کے لئے تو امریکہ کی سرزمین ''جنت'' کا درجہ رکھتی ہے... صرف امریکہ ہی نہیں بلکہ پورا یورپ بھی پھر بھلا حسین حقانی کو پاکستان کے حوالے کون کرے گا؟ اس لئے پوری قوم کو مطالبہ یہ کرنا چاہیے کہ حسین حقانی جیسے ''غدار'' کی سرپرستی کرنے والوں... اس غدار اعظم کی وکالت کرنے والوں...اس غدار کو ملک سے باہر بھجوانے والوں اور امریکہ جا کر اس کی دعوتیں اڑانے والے سہولت کاروں کو فی الفور گرفتار کرکے انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے لیکن مجھے افسوس ہے کہ ایسا ہوگا نہیں... کیونکہ اگر ملکی سلامتی کے ضامن اداروں نے ایسا کرنے کی کوشش کی تو پھر جمہوریت کے خطرے میں پڑنے کی چیخ و پکار شروع ہو جائے گی' میڈیا کا اکثریتی حصہ اسے سیکولر لادینوں پر ظلم کے مترادف قرار دینے کا پروپیگنڈا شروع کر دے گا۔ کوئی سندھ کارڈ استعمال کرنے کی دھمکیاں دینا شروع کر دے گا... اور کوئی اسے سیاسی انتقام سے تشبیہ دینا شروع کر دے گا... تو پھر قارئین کریں تو کیا کریں؟ آئو' غدار' غدار کھیلیں وماتوفیقی الاباللہ


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved