مردم شماری…!!
  16  مارچ‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز
٭وزیراعظم نوازشریف نے بھی سوشل میڈیا پر جناب رسالت مآب آنحضورۖ اور ان کے خاندان کی توہین کی سخت الفاظ میں مذمت کردی اور وزارت داخلہ کو سخت اقدام کا حکم دے دیا۔ چلئے، دیر سے ہی سہی، کہ کوئی کام بھی وقت پر نہیں کیا جاتا ! بہر حال کچھ تو کہا! ٭ملک میں سپریم کورٹ کے حکم پر 19 سا ل کے بعد مردم شماری شروع ہوگئی۔ سپریم کورٹ کے ہی حکم پر حکومت نے مجبوراً بلدیاتی انتخابات کرائے تھے، ورنہ ایوان اقتدار کی خوبصورت خواب گاہوں میں آرام فرما حکمرانوں کو تو عوام کا نام سننا بھی گوارانہیں ہوتا۔مگر کیسی مردم شماری! کہ معذور افراد کو شمار کرنے کا کوئی کالم ہی نہیں رکھا! اس کا پھر سپریم کورٹ کو نوٹس لینا پڑا ہے ! پتہ نہیں محاورہ کس نے ایجاد کیا تھا کہ ''بدمزاج بکری دودھ دیتے وقت اس میں مینگنیاں ڈال دیتی ہے''۔ممکن ہے حکومتی بزرجمہروں کو اپنے سوا کوئی دوسرا شخص عقل و خرد سے محروم و معذور دکھائی نہ دیتا ہو! عدالت کے سامنے کیا بوگس عذر پیش کیاگیا ہے کہ ساڑھے پانچ کروڑ فارم چھپ چکے ہیں، انہیں دوبارہ چھاپنا ممکن نہیں رہا۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ فارم کس نے تیار کئے اور کس خاص پریس میں چھپوائے گئے؟ ساڑھے پانچ کروڑ فارموں کے کاغذ، چھپائی اور ملک بھر میں تقسیم پر جو کروڑوں روپے قومی خزانے سے خرچ ہوئے ان میں سے کتنے کس کس کی جیب میں گئے! نامکمل اور ناقص فارم تیار کرنے والوں کا کیا محاسبہ کیا گیا ؟ کچھ نہیںپتہ!مگر یہ تو صرف مردم شماری کا ایک معاملہ ہے، آج تک ملک میں کتنے عام انتخابات ہوئے، ان میں کروڑوں ووٹ چھاپے گئے، لاکھوں بکس، مہریں، روشنائی کی بوتلیں خریدی گئیں، الیکشن کے عملے کے ہزاروں ارکان کو بھاری معاوضے دیئے گئے! ایک بار الیکشن تقریباً ساڑھے پانچ ارب روپے میں پڑتا ہے۔ آج تک کسی ایک الیکشن کے حسابات عوام کے سامنے لائے گئے؟ کون لاتا، کون لائے گا؟ اپنی تجوریاں بھر چکی ہوں تو دوسرے کی جیب پر کیا اعتراض! سو معاملہ یہ ہے کہ مردم شماری تو شروع ہوچکی، معذورافراد کی گنتی کا کوئی کالم ہی نہیں۔ پھر یہی طریقہ ہے کہ مردم شماری کرنے والا اہلکار اپنے ہاتھ سے معذور افراد کے کوائف کااندراج کرے! اس معاملہ میں ایک اور دشواری ہے کہ بعض خاندان اپنے ہاں کسی معذور شخص کا ذکر ہی نہیں کرناچاہتے۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ جن اداروں سے جسمانی طورپر معذور افراد اور منشیات زدہ افراد کا علاج کرایا جاتا ہے۔ان سے معلومات حاصل کرلی جائیں! کچھ تو کیا جائے! ٭حکومتی گورننس کا عالم! پنجاب کا اعلیٰ تعلیم کا وزیر پریس ریلیز جاری کرتاہے کہ صوبے کے تمام کالجوں میں صبح اسمبلی اور تمام طالبات کے لیے حجاب اوڑھنا ضروری ہوگااور یہ کہ جو طالبہ حجاب اوڑھ کر آئے گی اسے امتحان میں پانچ اضافی نمبر دیئے جائیں اور اس کی حاضریوں میں بھی رعایت دی جائے گی یعنی اس کی غیر حاضریاں معاف کردی جائیں گی!! وزیرتعلیم کا یہ پریس ریلیز ٹیلی ویژنوں پر نشر ہوا اور فوراً ہی حکومت کے ایک ترجمان وزیر قانون رانا ثناء اللہ کا اعلان آگیا کہ حکومت نے حجاب کے بارے میں ایسا کوئی فیصلہ نہیں کیا نہ ہی یہ حکومت کی پالیسی ہے ، یہ وزیر تعلیم کی ذاتی رائے ہے۔ اس پر وزیر تعلیم نے وضاحت کی کہ یہ حتمی فیصلہ نہیں بلکہ پنجاب کے تعلیمی بورڈوں کے ڈائریکٹروں کے اجلاس میں یہ تجاویز زیر غور آئی ہیں ، ان کے بارے میں وزیراعلیٰ سے بات کی جارہی ہے! یہ ملک کے سب سے بڑے صوبے کی تعلیم کی سب سے بڑی وزارت کے وزیر کا عالم ہے! وہ ایک اجلاس کی کارروائی کو اپنے ذاتی فیصلہ کے طورپر نافذ کررہاہے جس کی دوسرا وزیر تردید کررہاہے! غالب نے کہا تھا کہ '' حیران ہوں' دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو مَیں!''کیسے کیسے لوگ وزیر بنادیئے گئے! اب جہاں تک حجاب کا معاملہ ہے تو یہ ایک خوبصورت، باوقار پہناوا ہے جو آہستہ آہستہ بہت پھیل گیا ہے اور پھیل رہاہے مگر اس کا امتحانی سوالات کے جوابات سے کیا تعلق ؟کہ حجاب والی لڑکی کو دوسری لڑکی کے مقابلہ میں پانچ نمبرزیادہ دے دیئے جائیں؟ پھر یہ کہ ایک لڑکا امتحان میں کسی لڑکی سے زیادہ نمبر لیتاہے مگر حجاب والی لڑکی اس سے زیادہ نمبر لے جاتی ہے! وزیر تعلیم کو اچھی طرح علم ہے کہ پشاور میں آرمی سکول کے دہشت ناک سانحہ کے بعد ملک بھر کے سکولوں میں صبح کے وقت طلباء کی اسمبلیاں بند کردی گئی تھیں۔ یہ پابندی اب بھی جاری ہے۔ ٭امریکہ میں بحریہ کے ایک سابق ایڈمرل اور کچھ دوسرے اعلیٰ بحری افسروں کو رشوت کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔ الزام یہ ہے کہ ان لوگوں نے ہانگ کانگ میں ڈیوٹی کے دوران لاکھوں روپے کی گھڑیوں اور دوسرے قیمتی تحائف کے عوض ایک فوجی ٹھیکیدار کو اہم خفیہ راز فراہم کئے تھے۔ امریکی قانون کے مطابق یہ صریح غداری ہے اس کی سخت ترین سزا مقرر ہے! خبر کے مطابق کچھ مزید ایڈمرل بھی اسی الزام میں پکڑے جارہے ہیں۔ بحریہ کا ایڈمرل بھی جرنیل ہی کہلاتا ہے۔ ایک قاری نے پکڑے جانے والے ان امریکی افسروں کو نادر مشورہ دیا ہے کہ وہ کسی طرح اپنے کیس پاکستان کے احتسابی ادارے 'نیب' میں منتقل کرالیں۔ بڑی سے بڑی کرپشن پر بھی کوئی محاسبہ نہ سزا! کرپشن کا رقم کاتھوڑا سا حصہ پلی بارگیننگ کے نام پرادا کردو اور باعزت چھٹی! ٭برطانیہ کے ایک اخبار کے مطابق لندن میں دوسرے ملکوں کے حکمران افرادنے آف شور کمپنیوں کے ذریعے تقریباً40ہزار نہایت قیمتی جائیدادیں خرید رکھی ہیں۔ کرغیزستان کے سابق صدر کے بیٹے نے لندن میں43 لاکھ 30 ہزار ڈالر( تقریباً44کڑوڑ روپے) کا ایک فلیٹ خریدا ہے! کیسی معمولی سی خبر ہے! ہمارے ایک حکمران خاندان نے لندن میں کہیں زیادہ مہنگے چار فلیٹس ، مانچسٹر اورلندن میں پلازے اوردوسری جائیدادیں خرید رکھی ہیں۔ ایک دوسرے سابق حکمران خاندان کے دنیا بھر میں87 کاروبار پھیلے ہوئے ہیں( صرف امریکہ میں37کاروبار!)۔ حیرت ہے کہ لندن کے اخبار کو کرغیزستان کے سابق صدر کے بیٹے کا صرف 44کروڑ والا فلیٹ دکھائی دے گیا مگر وہاں ہمارے حکمرانوں اربوں کھربوں کی جائیدادیں!!! …چلئے چھوڑیئے کوئی اور بات کرتے ہیں۔ ٭پیپلز پارٹی کے سرکردہ رہنما سید خورشید شاہ نے پاکستان کے مفرور ملزم حسین حقانی کو غدارقرار دے دیا۔ حسین حقانی نے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ اس نے سابق صدر آصف زرداری کے اور وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے کہنے پرامریکہ کے ایک اخبار میں امریکی وزارت دفاع کے نام پاکستان کی افواج کو مفلوج کرنے کے بارے میں مضمون لکھوایا تھا۔ اس بات پر یوسف رضاگیلانی نے ایک سوال کے جواب میں کہا ہے کہ حسین حقانی کی ایسی کوئی حیثیت نہیں کہ اس کی کسی بات پر تبصرہ کیاجائے۔ مجھے سیاست دانوں کی یادداشت پر حیرت ہوتی ہے۔ حسین حقانی پیپلز پارٹی کے دورمیں ہاؤسنگ بلڈنگ کا رپوریشن کا چیئرمین ،وفاقی سیکرٹری اطلاعات اور سب سے بڑے سفارتی عہدے پر امریکہ میں سفیر بنایاگیا۔ یہ سب کچھ وزیراعظم گیلانی کے حکم پر ہوا۔ اور وہ کہہ رہے ہیں کہ حسین حقانی کی کیا حیثیت ہے؟ ویسے اس شخص کی حیثیت کا یوں بھی اندازہ لگائیں کہ وہ اسلامی جمعیت طلباء کا صدر جنرل ضیاء الحق کا کوارڈی نیٹر، نوازشریف کا معاون خصوصی، بے نظیر بھٹو کا مشیر اورآصف زرداری کا فرنٹ مین!! اور اب غدار !!

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 



 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved