پارلیمنٹ کی راہداریوں میں بازاری زبان کا استعمال
  17  مارچ‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

ہر انسان تربیت کے تین مرحلوں سے گزرتا ہے۔ ہر مرحلہ سات سال پر محیط ہوتا ہے۔ حدیث کے مطابق ہر بچہ پہلے سات سال گھر میں بادشاہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ والدین لاڈ پیار کرتے ہیں۔ اس کی فرمائشیں پوری کرتے ہیں۔ والدین ساتھ ساتھ تربیت بھی کرتے ہیں۔ اس عرصے میں بچے کو ڈانٹنے اور مارنے سے منع کیا گیا ہے۔ ڈانٹنا اور مارنا تربیتی عمل میں منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔ اگلے سات سال یعنی آٹھ سال سے چودہ سال تک کی عمر میں اس بچے کی حیثیت غلام کی سی ہوجاتی ہے تربیتی عمل میں پیار کے ساتھ ساتھ ڈانٹ ڈپٹ بھی شروع ہو جاتی ہے۔ اسی طرح تیسرا اورآخری مرحلہ جوانی کا ہے جو پندرہ سال سے اکیس سال تک محیط ہے یہ وہ عرصہ ہے جس میں حدیث کی رو سے اس جوان کو گھر میں وزیر کی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔ یعنی اس عرصے کے دوران والدین کو چاہیے کہ وہ اس نوجوان کو اپنے ہر فیصلے میں مشیر کی حیثیت دیں۔ اس سے مشورہ کریں اور اسے اہمیت دیں۔ یہ اس کی تربیت کا حصہ ہے ان تین مراحل کے بعد اس کی شخصیت مکمل ہو جاتی ہے اس کی شخصیت میں اچھے اور برے عوامل داخل ہوچکے ہوتے ہیں۔ اگر اس کے والدین نے بہتر انداز میں تربیت کی ہے تو معاشرے کے برے اور منفی اثرات بھی اس پر اثر انداز نہیں ہوں گے اور اگر والدین نے تربیت کرنے میں کوتاہی کی ہے تو پھر ایسے نوجوان سے آپ کچھ بھی توقع کرسکتے ہیں اور اگر اکیس سال کی عمر کے بعد اپنی اولاد کی تربیت کرنے کا ارادہ کریں تو پھر سوائے تاسف اور افسوس کے ان کے کچھ بھی ہاتھ آنے والا نہیں۔ معاشرے پر نگاہ کرتے ہیں تو دل تنگ اور دکھی ہوتا ہے۔ شاید ہی کوئی والدین ہوں گے جنہوں نے اپنی اولاد کی تربیت سیرت پیغمبرۖ کے بتائے ہوئے اصولوں کے مطابق کی ہو۔ ہم ہر بات کا ٹھیکہ محلے کے مولانا صاحب کو دے دیتے ہیں۔ بچے کی پیدائش سے جوانی تک مولوی صاحب نے ہی بچے کو سنبھالنا ہے۔ بچے کے کان میں اذان دینی ہے مولوی صاحب کو بلائو۔ گھر سے برکت اٹھ گئی ہے مولوی صاحب سے کہیں کہ وہ مدرسے کے بچوں کو ساتھ لیکر آئیں او ر گھر میں درود پاک کا ورد کریں یا ختم قرآن کریں۔(اپنی آمدنی کے ذرائع پر نظر نہیں دوڑانی کہ حرام کما رہا ہوں یا حلال) بچہ شرارتی ہے مولوی صاحب تعویز دے دیں۔ بچہ گالیاں دیتا ہے مولوی صاحب اسے تبلیغ کریں۔ گویا بچے ہم نے پیدا کرنے ہیں اور تعلیم و تربیت کا ٹھیکہ مولانا صاحب یا پھر سکول' کالج اور یونیورسٹی کے اساتذہ کو دے دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نسل در نسل ہم تربیت کے عمل سے غافل چلے آرہے ہیں اور آج نوبت یہ ہے کہ پورا معاشرہ اخلاقی طور پر کرپٹ ہوچکا ہے حالانکہ نبی کریم ۖ نے فرمایا ہے کہ ''تم میں سے ہر ایک مسئول ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔'' رعیت سے مراد ایک خاندان بھی ہوسکتا ہے محلہ' قوم یا پھر پورا ملک اور اس کی عوام رعیت کے زمرے میں آسکتی ہے۔ جو جس حد تک ذمہ دار اور مسئول ہے اس سے اسی حد تک سوال کیا جائے گا۔ جس کے پاس جتنا بڑا عہدہ ہوگا اس کی ذمہ داریاں بھی اسی ترتیب سے ہوں گی۔ معاشرے کی اکثریت تربیت کے فرائض سے غافل ہے۔ گالم گلوچ' بداخلاقی' بدتمیزی' بدتہذیبی' کرپشن وغیرہ کا ماحول عام ہے۔ کوئی کسی کے ساتھ سیدھے منہ بات کرنے کو تیار نہیں ۔ اپنا الو سیدھا کرنا ہو تو خوشامد اور بدعنوانی کا سہارا لیا جاتا ہے اور جب مقصد حاصل ہو جائے تو پھر تو کون اور میں کون؟ پوری دیگ کا ذائقہ چکھنا ہو تو چند دانے ہی کافی ہیں۔ آپ دور نہ جائیں اپنے عوامی نمائندوں کو ہی دیکھ لیں۔ پارلیمنٹ میں کیا ہوتا آرہا ہے اور کیا ہو رہا ہے؟ آپ کو پورے معاشرے کی تصویر نظر آجائے گی۔ چند روز پہلے پی ٹی آئی کے ایم این اے مراد سعید اور مسلم لیگ (ن) کے پارلیمنٹرین جاوید لطیف کے درمیان تنازعہ میں کس طرح اخلاقی گراوٹ کا مظاہر ہ کیا گیا۔ جاوید لطیف نوجوان ہیں اور نہ ہی ان کی کھلنڈری طبیعت ہے اور نہ ہی انہوں نے جوش خطابت میں یہ الفاظ کہے ہیں ۔ یہ بھی بہانہ نہیں بنایا جاسکتا کہ ان کی زبان پھسل گئی ہے۔ قطعاً نہیں' انہوں نے یعنی جاوید لطیف ایم این اے نے سوچ سمجھ کر اور جان بوجھ کر اس قدر گھٹیا اور بازاری زبان استعمال کی ہے۔ کوئی شریف انسان برداشت نہیں کرسکتا اور پھر افسوس صد افسوس کہ مسلم لیگ (ن ) کی قیادت قطعاً شرمندہ نہیں۔ ماضی میں بھی اسی پارٹی کے راہنمائوں نے محترمہ بے نظیر بھٹو مرحومہ اور بیگم نصرت بھٹو مرحومہ پر بھی انتہائی گھٹیا الزامات عائد کیے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں شرمندگی کا احساس نہیں۔ پارلیمنٹ ایک ایسا مقام ہے جہاں کے مکین20 کروڑ عوام کی نمائندگی کرتے ہیں اگر یہ عوامی نمائندے زبان کے استعمال میں اس قدر غیر محتاط ہیں' اخلاقی پسماندگی کا شکار ہیں' گالم گلوچ ان کا وطیرہ ہے ' بدمزاج اور بداخلاق ہیں تو باقی عوام کا اندازہ لگانا مشکل امر نہیں۔ اگر یہ لوگ عوامی نمائندگی تاج سر پر سجانے سے پہلے قرآن کریم پڑھ لیتے تو انہیں معلوم ہوتا کہ کسی بھی خاتون پر الزام لگانا جو کہ تہمت کے زمرے میں آتا ہے کتنا بڑا گناہ ہے اور اس کی سزا کیا ہے؟ مگر یہاں تو آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے ۔ اگر ہم تربیت کے عمل سے غافل نہ ہوتے تو آج پارلیمنٹ کی راہداریوں میں گالم گلوچ اور بازاری زبان استعمال نہ ہورہی ہوتی۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved