حجاب کے خلاف سیکولر انتہا پسندوں کا دھاوا
  17  مارچ‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز
بڑی دیر کر دی جناب نواز شریف نے یہ بات کرنے میں کہ ''شان مصطفی ۖ میں گستاخی ناقابل برداشت ہے' گستاخانہ مواد کی بندش کے حوالے سے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں ''… کاش کہ وہ یہ بات دو ماہ پہلے کہتے تو ممکن ہے کہ توہین رسالت کے مرتکب بدمعاش بلاگرز بیرون ملک فرار نہ ہو پاتے … مقام حیرت ہے کہ شان مصطفی ۖ کے حوالے سے وزیراعظم نے اپنی زبان سے کچھ کہنے کی بجائے وزیراعظم ہائوس کے میڈیا سیل کی طرف سے جاری کردہ بیان کو ہی کافی سمجھا … کتنا اچھا ہوتا کہ جناب وزیراعظم! میڈیا کے سامنے اپنی زبان سے گستاخان رسولۖ کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کرتے … گستاخ بلاگرز ' ان کے سہولت کار اینکرز ' ا ینکرنیوں اور ان کے حامی لبرل فاشٹوں کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کرنے کا قوم کو یقین دلاتے … مگر افسوس کہ ایسا کچھ بھی نہ ہوسکا۔ پنجاب کے صوبائی وزیر ہائیر ایجوکیشن سید رضا گیلانی نے لاہور میں ڈویژنل ڈائریکٹرز کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے پنجاب کی طالبات میں حجاب کو فروغ دینے کیلئے کوئی تجویز پیش کی تو … سیکولر فاشٹوں اور الحاد پرستوں کی دنیا میں جیسے بھونچال سا آگیا … اس حوالے سے بدھ کے دن اخبارات میں چھپنے والے صرف دو بیانات کا تذکرہ اس نیت سے کررہا ہوں تاکہ قارئین کو اندازہ لگانے میں آسانی رہے … کہ ایک اسلامی ملک میں اسلامی شعائیر کا مذاق کس قدر ڈھٹائی سے اڑایا جارہا ہے … ممبر سندھ اسمبلی مہتاب اکبر راشدی نے پنجاب حکومت کی فروغ حجاب پالیسی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ''حجاب کا فروغ ملک کے لئے جگ ہنسائی کا باعث ہوگا … لڑکیوں کے ساتھ امتیازی سلوک برتا جارہا ہے … اگر لڑکیاں حجاب کریںگی تو پھر لڑکوں کو بھی ٹوپی پہنانے کے احکامات صادر کیے جائیں'' جناب آصف علی زرداری کی بیٹی آصفہ زرداری نے پنجاب حکومت کے اس فیصلے پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ''مسلمان لڑکیاں تو حجاب پہن لیں گی … پھر دوسرے مذاہب کی لڑکیاں کیا کریںگی؟ لڑکوں کا کیا بنے گا؟ حجاب پہننا تعلیمی کارکردگی پر اثر انداز کیسے ہوسکتا ہے۔'' دوسری طرف ٹی وی چینلز میں ہر شام لگائی جانے وای خود ساختہ عدالتوں کے جج نما اینکرز اور اینکرنیوں نے … اسلام کے حکم ''حجاب'' کے خلاف ایسی ایسی پھلجڑیاں چھوڑیں کہ الامان و الحفیظ … حجاب مخالف تجزیہ کاروں کوڈھونڈ ڈھونڈ کر لایا گیا …اور پھر ان کی زبانوں سے طالبات کو ''حجاب'' کروانے کے حوالے سے زہریلے بیانات دلوائے گئے … پنجاب کے صوبائی وزیر نے محض تجویز دی تھی … مگر اسلامی شعائر کے خلاف بغض سے بھرے ہوئے سیکولر انتہا پسندوں نے ''حجاب'' کے خلاف ایسی سخت ژالہ باری کی … کہ ہر طرف کیچڑ ہی کیچڑ ہوگیا۔ سیکولر انتہا پسندوں اور الحاد پرست میڈیا کی ژالہ باری سے گھبرا کر پنجاب حکومت کے وزیر منٹوں میں اپنے موقف اور تجویز سے ''دڑکی'' لگانے پر مجبور ہوگئے … اور پھر پنجاب حکومت کے ترجمان کو کہنا پڑا کہ ''پنجاب کے کالجوں میں طالبات پر حجاب لازمی قرار دینے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے' اور حکومت پنجاب ایسی کسی بھی پالیسی کی سختی سے تردید کرتی ہے'' سوال یہ ہے کہ اگر صوبائی وزیر سید رضا گیلانی میں ''حوصلہ '' نہیں تھا تو پھر انہوں نے ایسی تجویز ہی کیوں پیش کی تھی؟ اور اگر پنجاب کی طالبات کی کردار سازی کے حوالے سے انہوں نے ایک مثبت تجویز دے ہی ڈالی تھی … تو پھر اس کا دفاع کیوں نہیں کیا ؟… پنجاب حکومت سیکولر لادینیت کو بڑھاوا دینے والی ٹی وی چینلز اور لبرل انتہا پسندوں کے سامنے میدان چھوڑ کر بھاگے کیوں؟ کیا پنجاب حکومت نہیں جانتی کہ حجاب اور پردے کا حکم قرآن پاک میں موجود ہے … کیا پنجاب حکومت کے علم میں یہ بات نہیں ہے … کہ رسول امینۖ نے تو غیر مسلم بیٹیوں کے سروں کو بھی اپنی مقدس کالی کملی سے ڈھانپا تھا … خاتم الانبیاۖ نے اپنی امت کی خواتین کو حجاب اور پردے کا حکم ارشاد فرما رکھا ہے' پنجاب کے حکومتی وزیر نے حجاب اور پردے کے حوالے سے بحث تو شروع کروا دی … مگر ''حجاب'' کے خلاف گز گز بھر لمبی زبانیں نکالنے والوں کو سختی سے ڈانٹا کیوں نہیں کہ وہ کم از کم اسلام کے حکم حجاب اور پردے کے خلاف سنگ باری کرنے سے توباز رہیں … یہ سیکولر فاشٹ' لبرل انتہا پسند اور میڈیا کے گمراہ عناصر پاکستانی قوم کو زمانہ جاہلیت میں کیوںلے جانا چاہتے ہیں؟ … کیا انہیںمعلوم نہیں کہ زمانہ جاہلیت میں رسول کریم ۖ کی بعثت سے پہلے … عورتیں ننگے سر رہنے پر فخر محسوس کرتی تھیں … مرد عورتوں کو حجاب یا پردہ کرواناتو درکنار … انہیں سرے سے انسان سمجھنے کے لئے ہی تیا ر نہ تھے … پھر خاتم الانبیائۖ سیدہ آمنہ سلام اللہ علیہا کی جھولی میں تشریف لائے … آپ نے نہ صرف یہ کہ عورتوں کو حجاب پہننے اور اپنے آپ کو مکمل ڈھانپنے کا حکم دیا … بلکہ عورت کا ماں' بہن' بیٹی کے عظیم رشتوں کی نسبت سے تعارف بھی کروایا … اب ایک دفعہ پھر … سیکولر' لبرل انتہا پسندوں کا گروہ پاکستانی قوم کو زمانہ جاہلیت کے رسم و رواج کی طرف لے جانا چاہتا ہے۔ طالبات کے حجاب پہننے کو جگ ہنسائی قرار دیا جارہا ہے … قیامت تک کے مسلمانوں کے لئے خاتم الانبیاء ۖ جو اسوہ حسنہ اور راہ عمل چھوڑ کر گئے تھے … دجالی میڈیا اس ''اسوہ حسنہ '' کی جگہ … زمانہ جاہلیت کی بے حیائی' فحاشی اور بے غیرتی کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کررہا ہے یہ کیسے لوگ ہیں کہ جو آئین پاکستان کی بڑے دھڑلے سے بغاوت کررہے ہیں؟ پاکستان کے آئین کی شق نمبر31 میں حکومت اور تمام متعلقہ اداروں کو پابند بنایا گیا ہے کہ وہ ''پاکستان کے مسلمانوں کو انفرادی اور اجتماعی طور پر اپنی زندگی اسلام کے بنیادی اصولوں اور اساسی تصورات کے مطابق مرتب کرنے کے قابل بنانے لئے اور انہیں ایسی سہولتیں مہیا کی جائیں کہ جن کی مدد سے وہ قرآن پاک اور سنت کے مطابق زندگی کا مفہوم سمجھ سکیں۔''

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 




 انٹر نیٹ کی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضا مینں
loading...
loading...


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved