'اوصاف' پڑھنے والوں کے قیمتی مشورے
  17  مارچ‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز
میں بہت زیادہ خوف زدہ ہوں۔ ایسا لگ رہا ہے کہ کچھ بڑا سانحہ ہونے والا ہے۔ وزیر اعظم میرے شہر کراچی میں ہیں۔ کہا یہ جارہا ہے کہ انہیں کسی بزرگ نے کہا ہے کہ کچھ روز سمندر کے پاس گزاریں اس لیے وہ ٹھٹھہ آئے۔ پھر کراچی۔ پھر گوادر۔ یہ بزرگ بھی عجیب ہیں۔ حکمرانوں کی حفاظت کے مشورے دیتے ہیں عوام کے تحفظ کے نہیں۔ یہ حکمران ان سے بھی عجیب ہیں۔ انہیں اپنے آپ پر اعتماد نہیں ہوتا۔ بزرگوں کی باتیں مانتے ہیں ۔ ایک بہت پرانا لطیفہ چلا آرہا ہے۔ جسے کبھی امریکی صدر سے وابستہ کیا جاتا ہے۔ کبھی پاکستانی صدر سے ۔ کبھی بھارتی وزیر اعظم سے۔ کہ ایک جہاز میں سفر ہورہا ہے۔ صدرصاحب کہتے ہیں کہ میں جہاز سے پانچ پانچ سو کے نوٹ نیچے پھینکوں تو رعایا بہت خوش ہوگی۔ جہاز میں وزیر اطلاعات بیٹھے تھے۔ انہوں نے مشورہ دیا کہآپ ہزار ہزار کے نوٹ پھینکیں تو زیادہ خوش ہوں گے۔ ایک بابا بیٹھے تھے۔ انہوں نے کہا کہ میں جان کی امان پائوں تو عرض کروں۔ آپ اگر خود کو جہاز سے گرادیں تو رعایا بہت خوش ہوگی۔ میں مناظر دیکھ رہا ہوں۔ اکیسویں صدی میں ایک ملک میں مردم شُماری ہورہی ہے۔ ہماری مسلّح افواج کے نوجوان ہتھیار بدست ساتھ پھر رہے ہیں۔ ہم کیسی قوم ہیں کہ اپنا شُمار بھی پُر امن طریقے سے نہیں ہونے دیتے۔ پونے دو لاکھ فوجی اسی کام پر مامور کیے گئے ہیں۔ ہم ملّی نغمے گاتے ہیں۔ہم زندہ قوم ہیں۔ حکمران کہتے ہیں۔پاکستانی قوم سیاسی شعور میں امریکہ سے بھی آگے ہے۔70سال بعد ہم مزید پستیوں میں جارہے ہیں جہالت کی گہرائیوں میں اتر رہے ہیں۔ پولیو کے قطرے پلانے ہوں تو فوج کی نگرانی۔ مردم شُماری ہو تو فوج کی نگرانی۔ اللہ سے دُعا ہے کہ مردم شُماری کے یہ مراحل بخیر و خوبی گزر جائیں۔کیونکہ ہمارے مختلف صوبوں اور علاقوںمیں جو تعصبات ہیں ۔ ایک دوسرے سے نفرتیں ہیں۔ وہ اعداد و شُمار پر بھی غالب آجاتی ہیں۔ بیان بازی تو شروع ہوچکی ہے۔ اقبال نے کہا تھا کہ۔ جمہوریت اک طرز حکومت ہے جس میں بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے ہمیں گنا جارہا ہے۔ دہشت گرد کہہ رہے ہیں۔ مرے حساب سے پورے نہیں ہیں سراب بھی پھر ایک بار دھڑوں کا شُمار کر دیکھو میں نے کئی سال پہلے ہونے والی خانہ شُماری پر اسی غزل میں یہ بھی کہا تھا۔ ہر ایک گھر سے پکارے گی بے گھری یونہی شُمار سارے گھروں کو ہزار کر دیکھو ہم نے اپنےآپ پر بہت ظلم کیے ہیں۔ میں تو حضرت یونس کی دعا ہر لمحے دہراتا ہوں۔ لا الہ الا انت سبحانک انی کنت من الظلمین حکمرانوں۔ سرداروں۔ جاگیرداروں۔ سرمایہ داروں نے تو ظلم کرنا ہی تھے۔ وہ تو اسی لیے پیدا ہوتے ہیں مگر ہم بھی اپنے آپ پر کم ظلم نہیں کرتے۔ سب کچھ جانتے بوجھتے کرتے ہیں۔ میں بار بار کہہ رہا ہوں بلکہ میں کیا اقبال کہہ گئے ہیں۔ اپنی خودی پہچان۔ خودی کو کر بلند اتنا۔ بہت پہلے بہت اعلیٰ مقام سے کہا گیا۔ جس نے خود کو پہچانا۔ اس نے رب کو پہچان لیا۔ مولانا رومی نے کہا تھا ۔ دل بدست آور کہ حج اکبر است از ہزاراں کعبہ یک دل بہتر است اللہ تعالیٰ کے ہم نائب ہیں۔ اتنی بڑی ذمہ داری ۔ اتنا بڑا مرتبہ۔ رسول اکرمۖ۔ نبیوں کے سردار کی امت میں ہیں۔ اتنا بڑا شرف۔ پھر بھی ہم زمین کے ان خدائوں سے گھبراتے ہیں۔ دنیا میں کتنی ترقی ہوچکی ہے۔ انسان کی خدمت کے لیے زندگی آسان کرنے کے لیے کتنی دریافتیں ہوچکی ہیں۔ کتنی ایجادیں۔ کتنی مشینیں۔ اس آگے بڑھتی کائنات میں سرداروں۔ جاگیرداروں۔ چوہدریوں۔ وڈیروں۔ میاں صاحبان کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اصل طاقت اصل برتری علم کو حاصل ہے۔ جس کے لیے کہا گیا کہ علم حاصل کرو چاہے چین جانا پڑے۔ اس وقت تو چین بہت دور تھا۔ اب تو ہم چین کے بہت قریب ہیں بلکہ چین ہمارے پاس آرہا ہے۔ ایک لاکھ سے زیادہ چینی تو آچکے ہیں۔ مزید آنے ہیں۔ ان سے ہم بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ میں یہ سطریں لکھ رہا ہوں۔ موبائل چڑیوں کی طرح چہچہارہا ہے۔ آپ کے پیغام میری نظروں کے سامنے لہرارہے ہیں۔ ہر پیغام سے میرا سیروں خون بڑھتا ہے۔ مگر آپ اپنا نام اور شہر نہیں لکھتے۔ بہت خوشی ہوتی ہے کہ 'اوصاف' ملک کے چاروں صوبوں میں اور آزاد جموں کشمیر۔ گلگت بلتستان۔ میں بڑی توجہ سے پڑھاجاتا ہے۔ السلام علیکم۔ 13مارچ کے روزنامہ اوصاف میں کالم پڑھا۔ خوشی ہوئی دعا ہے کہ اللہ پاک پوری قوم کو آپ کے اس نیک مشورے پر عمل کرنے کی توفیق دے۔ آمین۔ نام نہیں لکھا ہے۔ گلگت سے ذاکر اللہ لکھتے ہیں: اپنی گلی میں تو زندگی کی آسانیاں لائو۔ بہت خوب۔ ہر پاکستانی اپنی جگہ طاقت ہے۔ بہت خوب شام صاحب۔ مظفر آباد سے راجہ جنید انور کہتے ہیں کہ: آپ ہر پاکستانی کو اس کی اہمیت کا احساس دلارہے ہیں۔ بہت شکریہ۔ میر عالم گلگت بلتستان سے کہہ رہے ہیں کہ: وزیر اعظم پاکستان کے باہر جتنے اثاثے ہیں۔ وہ واپس لاکر پاکستان کے خزانے میں جمع کروائیں۔ تو وہ پاکستان میں شہنشاہت کرسکتے ہیں۔'' آپ بتائیں کیا میر عالم سے اتفاق کرتے ہیں۔ کیا ہمیں لیڈروں کی ضرورت ہے۔ یا شہنشاہوں کی۔ نام نہیں لکھا۔ کہتے ہیں: گلگت سے جس نے آپ کو یہ پیغام بھیجا کہ آپ منفی لکھتے ہیں۔ ان سے پوچھیں کہ حکومت کرپشن سفارش کے علاوہ کیا کررہی ہے۔ گریڈ 1کے لیے 3لاکھ لے کر بھرتی کرتے ہیں۔ اتنی گھٹیا ذہنیت ہے۔ آپ کا ہر لفظ دل کو چھونے والا ہوتا ہے۔ آپ جو لکھتے ہیں سچ لکھتے ہیں۔ لکھتے رہیں۔ اللہ آپ کو اجر دے گا۔ سید اسد شاہ ڈیرہ اسماعیل خان سے: ہم آپ کی باتوں سے 100فی صد متفق ہیں ۔ انشاء اللہ آپ کی باتوں پر ضرور عمل کریں گے۔ بنوں سے عبدالغفار خان کرم کرتے ہیں۔ میری ہر تحریر پر اپنی رائے دیتے ہیں۔ کہتے ہیں: اگر حالات ٹھیک کرنے ہیں تو تعلیمی ادارے ٹھیک کریں۔ سیاستدان۔ جنرل۔ جج یہیں سے فارغ ہوکر نکلتے ہیں۔ اگر ان کی تربیت ٹھیک ہو تو یہ ٹھیک کام کریں گے۔ پھر ذرا مایوسی کا اظہار بھی۔ جو قوم 70سال میں نہیں بدلی ان سے بدلنے کی توقع بے سود ہے۔ سندھ پنجاب والے تو چوہدریوں اور وڈیروں کے غلام ابن غلام ہیں۔ یہ اچھی بات ہے کہ آپ اپنی تحریر میں کسی سیاسی پارٹی کی طرفداری نہیں کرتے۔ ایک صاحب نے نام لکھا نہ شہر بتایا۔ بس کہتے ہیں : کمال ہے بھئی۔ لاہور سے ظہیر عباس کا کہنا ہے کہ : ہر بات بالکل ٹھیک ہے کہ پہلے عوام کو خود بدلنا ہوگا تب ملک میں تبدیلی آئے گی۔ عتیق احمد کوٹلی آزاد کشمیر سے. کوئی بھی ووٹ کے قابل نہیں ہے۔ جو قابل ہے وہ دولت سے محروم ہے یہاں کوئی دھرنا خان ہے کوئی پانامہ شریف۔ کوئی راجہ کرپشن۔ ظہور خان اوگی مانسہرہ سے : مشورے بہترین ہیں کاش ہماری قوم سمجھ جائے۔ آپ سب بھائیوں بزرگوں کا شکریہ۔ آپ سے مجھے بہت حوصلہ ملتا ہے۔ رہنمائی نصیب ہوتی ہے۔ ایس ایم ایس کیجئے۔ 0331-7806800

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 




 انٹر نیٹ کی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضا مینں
loading...


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved