جنت اور دوزخ کا فیصلہ؟
  18  مارچ‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

دائیں بازو کی سیاست میں شہرت یافتہ وزیراعظم نواز شریف نے ہندوئوں کے مذہبی تہوار ہولی کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جن ''عالمانہ' فاضلانہ'' خیالات کا اظہار فرمایا ہے … وہ ان کے آئندہ نظریات اور موقف کی وضاحت کرنے کے لئے کافی ہیں۔ جناب نواز شریف نے اپنے خطاب میں کہا کہ ''پاکستان میں جبراً مذہب تبدیل کرانا جرم ہے … دنیا میں جنت دوزخ کا فیصلہ کرنے والوں کا ایجنڈا کامیاب نہیں ہونے دیں گے' ہم سب اللہ کی مخلوق ہیں' ہر مذہب کے لوگ اپنے عقائد کے مطابق عبادت کرتے ہیں' کوئی اللہ کہتا ہے' کوئی بھگوان اور کوئی ایشور … یہ ملک مذہبی تصادم روکنے کیلئے بنایا گیا تھا'' بادشاہ سلامت کے ان ''بصیرت افروز'' خیالات پر سیکولر اور لبرل انتہا پسند بڑے جذباتی انداز میں خوشیوں کے شادیانے بجا رہے ہیں … ہاں البتہ مذہبی حلقوں میں اس خطاب کی وجہ سے ضرور تشویش کی ایک لہر دوڑ گئی ہے۔ بریلوی مسلک کے سربلند قائد مولانا شاہ احمد نورانی کے فرزند اور جمعیت علماء پاکستان کے مرکزی رہنما شاہ محمد اویس نورانی نے ہولی کی تقریب سے وزیراعظم کے خطاب پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ''اسلامی اور مذہبی حلقوں پر تقریر میں چوٹ لگانے کی کوشش کرنا انتہائی غیر سنجیدگی ہے'' انہوں نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ وضاحت کریں کہ ہولی کی تقریب سے خطاب میں ان کے اشارے کس طرف تھے … انہوں نے کہا کہ 70 سال میں کوئی مثال نہیں ملتی ہے کہ کسی غیر مسلم کو زبردستی مسلمان بنایا گیا ہو' جنت اور دوزخ کا فیصلہ صاحب ایمان ہونے پر ہے ' اسلام نے وضاحت کر دی ہے کہ جو صاحب ایمان نہیں ہے وہ جنت کی خوشبو بھی محسوس نہیں کرسکے گا … وزیراعظم کے اس طرح کے بیانات شرعی اعتبار سے نامناسب ہیں… شاہ اویس نورانی صدیقی نے کراچی ہولی کی تقریب میں وزیراعظم کے خطاب کو چیلنج کرکے اپنے سربلند مرحوم ''بابا'' کی جانشینی کا حق ادا کر دیا … کاش کہ تمام مذہبی جماعتوں کے قائدین اور دینی حلقے یک زبان ہوکر دائیں بازو کی سیاست میں شہرت پانے والے میاں نواز شریف سے سوال کرتے کہ وہ پاکستان کے کسی گائوں ' گوٹھ یا کونے کھدرے سے کوئی ایک ایسی مثال ڈھونڈ کر عوام کے سامنے پیش کریں کہ … جس میں کسی غیر مسلم کو زبردستی مسلمان بنانے کی کوشش کی گئی ہو؟ جبراً مسلمان بنانے کا پروپیگنڈا تو لادین میڈیا اور دہلی کے رابت خور پاکستان کو بدنام کرنے کے لئے کرتے ہیں … لیکن نجانے ہندوئوں کی ہولی میں ایسی کیا خاص بات ہے کہ وزیراعظم ترنگ میں آئے اور وہ سب کچھ ''فرما'' گئے کہ جو انہیں نہیںکہنا چاہیے تھا … جنت اور دوزخ کے فیصلے کرنے کا اختیار نہ تو کسی خاص حلقے اور نہ ہی کسی وزیر اعظم کے پاس ہے' کون جنت میں جائے گا اور کون دوزخ میں … یہ بات تو پروردگار کے علم میں ہے … ہاں البتہ اللہ پاک نے قرآن مقدس میں جنت اور دوزخ کے راستوں کی نشاند ہی ضرور کر دی ہے … خاتم الانبیاء ۖ نے اپنے اسودہ حسنہ اور عمل و کردار سے واضح فرما دیا ہے جنت میں وہی جائے گا کہ جو قرآن و سنت کے عین مطابق اپنی زندگی گزارے گا … اللہ پاک نے قیامت تک کے انسانوں کے لئے خاتم الانبیاء ۖ کی زندگی کو اسوہ حسنہ قرار ہی اس لئے دیا ہے … کیونکہ ''جنت'' کا راز اسوہ رسولۖ پر عمل پیرا ہونے میں مضمر ہے۔ یقینا ہندو ہوں ' سکھ ہوں ' عیسائی ہوں یا مسلمان یہ سارے اللہ ہی کی مخلوق ہیں … بحیثیت ''انسان'' سب کو ایک دوسرے کا احترام بھی کرنا چاہیے ارو غم خواری بھی … لیکن جب بات مذاہب کی آئے گی تو پھر قرآن مقدس کے فرمان کے مطابق ''اللہ کے نزدیک سب سے پسندیدہ دین اسلام ہے ''… جب اللہ پاک قرآن پاک میں اپنا سب سے پسندیدہ دین اسلام کو قرار دے رہے ہیں توپھر دنیا کے کسی شخص کو یہ حق یا اختیار حاصل نہیں ہے کہ وہ دین اسلام کو دوسرے مذاہب کے ساتھ زبردستی ''ہم رنگ'' قرار دیتا پھرے … اقلیتوں کے تمام حقوق کا ضامن آئین بھی ہے اور اسلام بھی … جہاں جہاں اقلیتی برادری کے کسی فرد سے کوئی زیادتی ہو رہی ہو … اس کا فوراً ازالہ بھی کیا جانا چاہیے اقلیتی برادری کے افراد کی معیشت کی بحالی' ان کے روزگار اور سیکورٹی کے انتظامات بھی بھرپور ہونے چاہئیں … لیکن کیا ان سارے اقدامات کے راستے میں علماء یا مذہبی حلقے یا نعوذ باللہ اسلام رکاوٹ ہے؟ ہرگز نہیں … اسلام سب سے بالا اور اعلیٰ دین ہے اور جنت اور دوزخ کے راستے کا تعین دین اسلام میں موجود ہے۔ شایدوزیراعظم کو یہ کسی نے نہیں بتایا کہ ہندو دھرم میں مُردوں کو جلا کر ان کی خاک گنگا کے پانی میں بہا دی جاتی ہے' ہندوئوں کے عقیدے کے مطابق گائے ''ماتا''کہلاتی ہے … جبکہ مسلمان گائے کو ذبح کرکے اور اس کے گوشت کو کبھی بھون کر اور کبھی اس کے تکے بناکر مزے لے لے کر کھاتے ہیں' مسلمانوں کے عقیدے کے مطابق مرنے کے بعد مردے کو جلایا نہیں جاتا بلکہ بڑے احترام کے ساتھ اسے غسل دیکر کفن پہنا کر بڑے پروٹوکول اور عزت کے ساتھ اس کی نماز جنازہ ادا کرکے قبر کی لحد میں اتارا جاتا ہے … قبر بنانے کے بعد بھی … اس کے سرھانے اور پائوں کی طرف کھڑے ہوکر قرآن پاک کی تلاوت کی جاتی ہے … بات یہیں پر ختم نہیں ہوتی … پھر اس مردے کے ایصال ثواب کے لئے … اس کے گھر والے 'آل اولاد دعائیں بھی کرتی ہے … اور نیک اعمال بھی۔ ''ہولی'' کے کھلتے رنگ وزیراعظم کی طبیعت کے لئے اتنے بہار آفریں ثابت ہوتے ہیں کہ ان کا ''دل''… بہارو پھول برسائو میرا محبوب آیا ہے کے بول سن کر مچل اٹھتا ہے … اور پھر انہیں اپنی گئی جوانی کے دن یاد آجاتے ہیں … ہم سب کو یہ بات اپنے دل و دماغ میں راسخ کرلینی چاہیے کہ جیسے جوانی گزر گئی … ویسے ہی ایک نہ ایک دن بڑھایا بھی قبروں کے پاتال میں گم کر دے گا … اور قبروں کے اندھیرے میں نہ محمد رفیع مرحوم کا گایا ہوا گانا … ''بہارو پھول برسائو'' کام آئے گا اور نہ ہی ہولی اور دیوالی کے رنگ کام آئیں گے … ہر مسلمان کی قبر کو قرآن و سنت والے اعمال ہی ٹھنڈا کرسکیں گے ' اس لئے دنیا کچھ تو گزر گئی ہے اور کچھ گزر جائے گی … مگر قبر اور حشر کی ہمیشہ کی زندگی کو پُربہار بنانے کے لئے ہم سب کو اپنی زندگیاں آج سے ہی دین اسلام کے مطابق ڈھال لینی چاہیں۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved