سیاست کی فراست!
  18  مارچ‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

٭تحریک انصاف کی فراست: الیکشن کمیشن نے وزیراعظم کو نااہل قراردینے کا مطالبہ منظور نہ کیا تو الیکشن کمیشن کی شدید مذمت ، گالیاں، چیف الیکشن کمشنر کو تسلیم نہ کرنے کا اعلان، برطرف کرنے کا مطالبہ…اور الیکشن کمیشن نے عمران خاں اور جہانگیر ترین کو نااہل قراردینے کا (ن) لیگ کاریفرنس مسترد کردیا تو تحریک انصاف کا پرجوش اظہار تحسین …'' واہ،واہ! کیسا اچھا فیصلہ دیا ہے! واری صدقے جائیں، کیسے انصاف پر ور لوگ ہیں یہ الیکشن کمیشن والے!''۔ ٭ن لیگ کی فراست: وزیر تعلیم کا اعلان ، کالجوں میں طالبات لازمی طورپر حجاب پہنیں گی…! اسی کے ساتھی دوسرے وزیر کا اعلان ''حکومت نے ایسا کوئی فیصلہ نہیں کیا، ایسی کوئی پالیسی نہیں''… وزیراعظم نوازشریف کو گرفتار کرنے والے جنرل پرویز مشرف کا وزیر قانون زاہد حامد وزیراعظم نوازشریف کا بھی وزیر قانون! ٭حکومت کی فراست:کنٹرول لائن پر بھارتی فوج کی فائرنگ، پاکستان کے دوفوجی شہید، بھارت کے وزیر دفاع کی دھمکی ''ہم پاکستان کے خلاف سخت کارروائی کریں گے''۔پاکستان کے وزیراعظم کا بیان'' ہم بھارت کے ساتھ تجارت میں اضافہ کرناچاہتے ہیں''۔ ٭جماعت اسلامی کی فراست: پاکستان میں ن لیگ کی سخت مخالفت ،آزاد کشمیر میں ن لیگ کے ساتھ مل کر پیپلز پارٹی کے خلاف انتخابی مہم! ٭پیپلز پارٹی کی فراست: ''ق لیگ قاتل پارٹی ہے'' آصف زرداری کا بیان… ایک خبر آصف زرداری نے ق لیگ کے رہنما چودھری پرویز الٰہی کو اپنا نائب وزیراعظم بنالیا! …''فوجی عدالتوں کو تسلیم نہیں کیاجائے گا'': سید خورشید شاہ کا بیان، '' ہم نے فوجی عدالتوں کو تسلیم کر لیا ہے'': چودھری اعتزاز احسن کا اعلان…''میں فوجی جرنیلوں کی اینٹ سے اینٹ بجا دو نگا'':آصف زرداری کا بیان … '' ہم پاک فوج کے ساتھ کھڑے ہیں '': آصف زرداری کا دوسرا بیان۔ ٭ ''الطاف حسین کو پاکستان کا شناختی کارڈ نہ دینا ایک محب وطن پاکستانی کی توہین ہے'': مصطفےٰ کمال کا احتجاج، …''الطاف حسین پاکستان کا غدار اوررا کا ایجنٹ ہے''۔ مصطفےٰ کمال کا بحیثیت چیئرمین پاک سر زمین پارٹی دوسرا بیان ۔ ٭ ''شیخ رشید وفاداری نبھانا جانتا ہے۔ نوازشریف کا سگا بھائی شہبازشریف اس کا ساتھ چھوڑ سکتا ہے، شیخ رشیدکبھی نہیں چھوڑے گا '': شیخ رشید کی اپنی کتاب ''فرزند پاکستان'' میں واضح تحریر ۔ جنرل مشرف نے نوازشریف کو گرفتار کرکے قید کردیااور شیخ رشید جنرل مشرف کا وزیر بن گیا ! ٭مولانا فضل الرحمان کی فراست: '' ہم حکومت کے اتحادی ہیں، نوازشریف کی حکومت ہٹانے کی مخالفت کریں گے''۔ایک بیان۔ '' ہم فاٹا کو خیبر پختونخوا میں شامل کرنے کے بارے میں حکومت کا فیصلہ مسترد کرتے ہیں!''دوسرا بیان! ٭قارئین کرام! میں سیاسی قلابازیوں کی باتیں لکھتے لکھتے تھک رہاہوں! نام نہاد سیاست کے تمام علمبرداروں نے دستانے پہن رکھے ہیں، قوم اپنا خون کس کے ہاتھ پر تلاش کرے؟ آئیے کچھ دوسری باتیں کرتے ہیں۔ ٭بھارت نے26 جنوری کو یوم جمہوریہ منایا۔ دہلی میں فوجی پریڈ ہوئی اس میں بھارت کے نئے ''برادر عزیز' ' عرب امارات کا فوجی دستہ بھی شریک ہوا۔ پاکستان نے 23 مارچ کو فوجی پریڈ منانے کا اعلان کیا ہے، اس میں چین،سعودی عرب اورترکی کے فوجی دستے بھی شرکت کریں گے ۔ زندہ باد! اس پرکسی تبصرہ کی ضرورت نہیں۔ ٭شیخ رشید نے حسین حقانی کو گولڈن لوٹا قراردیا ہے۔ لوٹا اب عام اصطلاح بن چکا ہے یعنی ایسا شخص جو شخصی مفاد کے لیے ایک پارٹی سے دوسری پارٹی میں چھلانگیں لگاتا رہتا ہے۔حسین حقانی کو گولڈن لوٹا کہنا دلچسپ بات ہے …مگر …مگر پتہ نہیں شیخ رشید کے منہ سے یہ الفاظ نکلتے وقت موصوف کے سامنے کوئی آئینہ تھایا نہیں؟ ٭پنجاب اسمبلی کے ارکان نے ایک بار پھر مطالبہ کیا ہے کہ ان کی تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے۔ میں ان 'بے حد غریب 'لوگوں کے مطالبہ کی حمائت کرتا ہوں!! ٹھیک ہے، وہ کوئی کام نہیںکرتے، اسمبلی کے ایوان میں آنا گوارا نہیں کرتے۔ پچھلے چار برسوں میں ایک بار بھی 30 فیصد سے زیادہ حاضری نہیں ہوئی، ہر روز مسلسل کورم ٹوٹتا رہتاہے۔ ٹھیک ہے ایک آدھ کے سوا کسی رکن اسمبلی نے ملک کا آئین نہیں پڑھا ہوا۔ یہ بھی ٹھیک ہے کہ اسمبلی کا رکن بننے کے لیے تعلیم، تجربہ ۔ کسی تربیت کی کوئی ضرورت نہیں، مگر یہ بھی تو دیکھیں کہ یہ بے چارے کتنے غریب ہیں! رکشوں اور سائیکلوں پر اسمبلی تک آتے ہیں۔تقریباً 80سے زیادہ وزیروں، مشیروں، پارلیمانی سیکرٹریوں اور سٹینڈنگ کمیٹیوں کے چیئرمینوں کے سوا کسی کے پاس کوئی گاڑی نہیں۔ مگر یہ بھی تو دیکھیں کہ لاکھوں کی تنخواہیں اور الاؤنس وغیرہ کی خاطر رحیم یارخاں، راجن پور، بھکر، اٹک وغیرہ کے دور دراز علاقوں سے اپنے عزیز واقارب کو چھوڑ کر محض حاضری لگانے کے لیے لاہور آناپڑتاہے۔ میں ان کی تنخواہیں دوگنا بلکہ تین چار گنا کرنے کی پرزور حمائت کرتا ہوں! گزشتہ روز اوصاف میں ایک دلچسپ رپورٹ چھپی ہے کہ اسمبلی کی رکن خواتین اسمبلی کے رجسٹر میں حاضری لگا کر ایوان میں بیٹھنے کی بجائے وزیراعلیٰ کے چیمبر میں بیٹھ کر چائے پیتی اور گپ شپ کرتی رہیں اور پھر گھروں کو چلی گئیں۔ یہ کون سی اعتراض کی بات ہے؟ چائے پی کر گھروں کو نہ جائیں تو اور کہاں جائیں؟ ٭کل ایک عجیب سا واقعہ پیش آیا۔ میں شام کے وقت گھر پہنچا تو گھر کے دروازے کے باہرلاہورکے ترقیاتی ادارے ،ایل ڈی اے ،کے ایک پارک کا 58سالہ بوڑھا ضعیف مالی ''رحمت مسیح'' تقریباً نیم بے ہوشی کے عالم میں سر جھکائے بیٹھا ہواتھا۔ اس نے بتایا کہ دوپہر کے وقت اس نے بنک سے اپنی تنخواہ لی (40 سال کی سروس کے بعدتقریبا ً22ہزار روپے) وہ بنک سے باہر نکلا تو ایک سنسنان جگہ پر دوافراد نے اسے کوئی چیز سنگھا کر بے ہوش کردیا اور اس کی ساری تنخواہ چھین کر بھاگ گئے۔ وہ کافی دیر کے بعد ہوش میں آیا۔ اس صدمے سے اس غریب کی جو حالت ہوسکتی تھی اس کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ اس کا ایک بیٹا ایک ٹانگ سے معذور ہے۔ میرے پاس اتنے پیسے نہیں تھے، جو کچھ جیب میں تھا، اسے دے دیا اور دلاسا دیا کہ اس کانقصان پورا کرنے کی کوشش کرونگا! اس معاشرے کو کیا ہوگیاہے؟ ایک بوڑھے غریب محنت کش کو بھی معاف نہیں کیاجاتا! ذہن بہت بوجھل ہے۔ اس کے پاس موبائل فون بھی نہیں ہے۔کوئی صاحب اس سے رابطہ کرناچاہے تو میرے فو ن نمبر 0333-4148962 کے ذریعے بات ہوسکتی ہے! ٭ایس ایم ایس: پیسکو ڈویژن 2، بنوں سے کمرشل اسسٹنٹ سید عرفان ہاشمی :ہم لوگوں کو پیسکو والوںنے دو تین سال سے لٹکائے رکھا، کوئی شنوائی نہیں ہورہی تھی۔آپ نے اپنے کالم میں ہماری مدد کی ۔ اب ہمیں15ویں سکیل میں کمرشل اسسٹنٹ بنانے کے احکام جاری ہوگئے ہیں۔ آپ کا بے حد شکریہ! سید عرفان ہاشمی (0334-8811519) ٭بھکر سے میانوالی تک وسیع علاقہ میں معذور بچوں کی میٹرک سے آگے تعلیم کا کوئی ادارہ نہیں۔ وہ مزید پڑھنے کے لیے کہیں نہیں جاسکتے۔ حکام بالا سے اپیل کردیں کہ اس علاقے میں کسی بھی جگہ ایک کالج بنادیاجائے تاکہ یہ بچے بھی آگے جاسکیں۔ امیر احمد، ضلع بھکر(0333-7780820)


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved