اظہار رائے کی آزادی !...فاروق ستار کی گرفتاری و رہائی
  19  مارچ‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز
٭حکومت کی طرف سے اخبارات میں اشتہار چھپوایا گیا۔ اس میں اظہار رائے کی آزادی کے بارے میں کسی تبصرہ یا تجزیہ کے بغیر پاکستان کے آئین کی دفعہ اور تعزیرات پاکستان کی مختلف 10دفعات کی عبارتوں کا متن دیاگیا ہے ۔ آخر میں ایک سطری اپیل کی گئی ہے کہ اظہار رائے کی آزادی کا حق ضرور استعمال کیجئے مگر جرم کا ارتکاب نہیں۔ اس اشتہار کی اشاعت پر بعض حلقوں نے ہنگامہ کھڑاکردیا ہے اور ٹیلی ویژنوں پر اسے سوشل میڈیا پر پابندی کا فیصلہ قراردے کر اس کی مذمت کی جارہی ہے!میں اس موضوع پر کچھ کہنے سے پہلے دو تین باتیں بیان کرناچاہتا ہوں۔ 1: برطانیہ میں اظہار رائے کی بہت آزادی دی گئی ہے، ہائیڈپارک میں جس موضوع پر جی چاہے کھل کر تقریر کرسکتے ہیں مگر برطانیہ کے شاہی خاندان کے خلاف کچھ نہیں کہہ سکتے! ایسی کوئی بات جرم قراردی جائے گی۔ 2: پورے یورپ میں ہولو کاسٹ ( جرمنی میں یہودیوں پر مظالم) کے بارے میں کوئی مضمون ، کوئی تبصرہ یا تجزیہ کرنا ممنوع ہے۔ اس کا کسی تحریر ، تقریر یاتجزیہ میں ذکرکرنا جرم ہے۔ 3: امریکہ کے صدر کے لیے اس عہدے کا حلف اٹھاتے وقت بائیبل پر ہاتھ رکھناضروری ہے۔ اس کے بغیر حلف مکمل نہیں ہوتا۔اس بات پر کوئی اعتراض نہیں کیاجا سکتا۔ ٭سعودی عرب کے مقدس شہروں مکہ اور مدینہ کی خاص حدود کے اندر کوئی غیر مسلم داخل نہیں ہوسکتا، ان شہروں کے بارے میں کوئی منفی بات نہیں کی جاسکتی۔ ٭بھارت کے آئین میں کسی قسم کی مذہبی منافرت، فرقہ واریت اور مذہبی رہنماؤں کے خلاف توہین آمیز باتیں کرناجرم ہے۔ ٭اب میں اس اشتہارکی طرف آتا ہوں جو17 مارچ کے اخبارات میں وفاقی حکومت کی طرف سے چھپوایا گیا ہے۔ اس میں آئین کی دفعہ19 کی عبارت درج ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں۔ '' ہر شہری کو تقریر اور اظہار خیال کی آزادی کا حق حاصل ہوگا اور پریس کو آزادی حاصل ہوگی، مگر یہ آزادی اسلام کی عظمت یا پاکستان یا اُس کے کسی حصے کی سالمیت یا سلامتی، دفاع، غیر ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات یاامن عامہ، تہذیب یا اخلاقیات کے مفاد کے پیش نظر یا توہین عدالت کے کسی جرم( کے ارتکاب) یااس کی ترغیب سے متعلق قانون کے ذریعے عائد کردہ مناسب پابندیوں کے تابع ہوگی''۔تعزیرات پاکستان کی دس دفعات کا متن بہت طویل ہے۔ اس میں آئین کی دفعہ19 کی خلاف ورزی کے بارے میں مختلف سزاؤں کا ذکر ہے۔ ٭مجھے ایک ''محب وطن قومی'' قسم کے ٹیلی ویژن پر ایک مشہور اینکر پرسن کے ٹاک شو میں اس اشتہار، بلکہ یہ کہ پاکستان کے آئین، قانون اور عدلیہ کی دھجیاں اڑائے جانے پر شدید حیرت اور صدمہ ہواہے! میں اس ''عظیم دانش ور'' اینکرپرسن سے صرف اتنا پوچھناچاہتا ہوں کہ بڑے بڑے مقدس ناموں کے بارے میں کوئی نازیبابات تو بہت دور کی بات ہے، مسٹر اینکرپرسن! اظہار رائے کی آزادی کے حق کے نام پر کوئی شخص سرعام سڑک پر تمہارے سامنے تمہارے گھر کی خواتین کے بارے میں نازیبا باتیں شروع کردے تو کیا تم خاموش رہو گے؟ حیرت اس بات پر کہ آئین اور ملکی قوانین کے الفاظ کے ذکر پر یہ لوگ سیخ پا ہو رہے ہیں۔ آئین کے یہ الفاظ تو 1973ء سے موجود ہیں۔ تمہیں یہ ناگوار گزرتے ہیں تو اس ملک کو چھوڑ دو! یہ بے حد نازک اورحساس موضوع ہے، پتہ نہیںحکومت نے اس کا کیا نوٹس لیا ہے؟ کیا محض ایک اشتہار چھپوا دینا ہی کافی ہے؟ ٭کراچی کی ایک خبر: گزشتہ رات پولیس نے کسی تفتیش کی خاطر تھوڑی دیر کے لیے ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ فاروق ستار کو اپنی تحویل میں لیا اس پر ہنگامہ ہوگیا۔ فوراً وزیراعلیٰ کی طرف سے موصوف کو چھوڑنے کا حکم آگیا اورصرف ایک گھنٹے بعد فاروق ستار واپس پھر پہنچ گئے( خبر کے مطابق انہیں زندہ سلامت دیکھ کر ان کی اہلیہ رونے لگیں)۔ معاملہ یہ ہے کہ اخباری رپورٹوں کے مطابق فاروق ستار کے خلاف کراچی کے مختلف تھانوں میں مختلف سنگین الزامات کے تحت 35مقدمات درج ہیں۔ عدالتوں میں پیش نہ ہونے کے باعث موصوف کو15 مقدمات میں اشتہاری قراردیاجاچکا ہے اور بلاضمانت گرفتاری کے وارنٹ جاری ہوچکے ہیں مگر یہ صاحب کبھی کسی عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔روزانہ کہیں نہ کہیں تقریریں کرتے ہیں۔ پولیس ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرتی (35مقدمات!15 میں اشتہاری)۔ خود حکومت نے ان صاحب کو گرفتار کرنے کی بجائے نہ صرف سکیورٹی دے رکھی تھی بلکہ انتہا یہ کہ پولیس ان صاحب کو تھانے لے جاتی ہے تو خود وزیراعلیٰ کا حکم آجاتا ہے کہ فوراً چھوڑ دیاجائے! اس طرز عمل کو کیا کہاجائے؟ فاروق ستار کو عدالتیں اشتہاری ملزم قراردے رہی ہیں اور صوبے میں قانون کا محافظ اعلیٰ حاکم اسے تحفظ دے رہاہے! عدلیہ کی کھلی توہین!! مگر یہ کوئی نئی بات نہیں، اسلام آباد کی عدالتیں عمران خاں، جہانگیر ترین اور ڈاکٹر طاہر القادری کو اشتہاری قراردے کر باربار ان کی بلاضمانت گرفتاری کے احکام جاری کرچکی ہیں مگر وفاقی سرکار ان سب کو سرکاری طورپر تحفظ دے رہی ہے!! آئین ، قانون اور عدلیہ کی حیثیت کا کس طرح تمسخر اڑایا جارہاہے! باربار کیا لکھاجائے؟ ٭کراچی میں نجی ادارے بحریہ ٹاؤن نے صفائی شروع کردی ۔ بہت سا کچرا صاف کردیا، یہ عمل جاری ہے۔ کراچی میں پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت ،ایک وزارت بلدیات، محکمہ صحت، ایم کیو ایم کی بلدیاتی حکومت! اور کچرا بحریہ ٹاؤن کے لوگ صاف کررہے ہیں! ایک لفظ 'شرم' ہوتا ہے! چلئے چھوڑیئے!! ٭ایک خبر: سپریم کورٹ کے روبرو سندھ کے سیکرٹری صحت فضل اللہ پھٹ پڑے کہ پرچی پر آنے والے ایک کلرک کو میرا ڈپٹی سیکرٹری بنادیاگیا ہے۔ اسے کسی بات کا کچھ پتہ نہیں، کوئی کام نہیںآتا۔ اس سے ایک روز قبل سپریم کورٹ کے روبرو سندھ کے ایڈووکیٹ جنرل نے تسلیم کیا کہ سابق وزیراعلیٰ کے بی اے سکینڈ ڈویژن والے سٹینوگرافر دانش سعید کو غیر قانونی طورپر سندھ کول اتھارٹی کاڈائریکٹر جنرل بنادیا گیاہے! اس پر عدالت برہم ہوگئی تو ایڈیشنل چیف سیکرٹری نے بتایا کہ دانش سعید کو فوری طورپر اس عہدہ سے ہٹانے کا حکم جاری کیاجارہاہے!! یہ کوئی نئی بات نہیں، پیپلز پارٹی کے دور میں ایک ایف اے پاس 'برادر نسبتی' کو آئل اینڈ گیس کارپوریشن کا منیجنگ ڈائریکٹر بنادیاگیا۔ وہ82ارب روپے کے سیکنڈل میں مرکزی کردار قرارپایا اور بھاگ کر دبئی چلا گیا۔وہاں سے انٹرپول کے ذریعے منگوایا گیا تو پھر خاص حلقوں کی مدد سے افغانستان کی سرحد پار کرکے بھاگ گیا۔ پتہ نہیں اب کہاں ہے؟ سندھ کا خزانہ تو ایک عرصے سے باپ کا مال بنا ہواہے!!مگر سندھ کی بات ہی نہیں، پنجا ب میں بھی تو یہی کچھ ہورہاہے۔ روزنامہ ''اوصاف'' کی ایک رپورٹ کے مطابق پنجاب کے محکمہ لائیو سٹاک فارموں سے دو سال کے اندر 3462بھینسیں، گائیں، دنبے ، بکرے اور بکریاں غائب کردیئے گئے! یہ کہ تین فارموں میں کوئی جانور نہیں مگر لاکھوں روپے ماہوار کے فنڈ ز جاری ہورہے ہیں۔ رپورٹ میں یہ نہیں بتایاگیا کہ یہ ہزاروں جانور کن کن بڑے افسروں،اہلکارو ں اور ان کے عزیزواقارب کے گھروں میں گئے ہیں؟ یہ کہ ہر عید قربان کے موقع پر سرکاری فارموں کے سینکڑوں بکرے اور دنبے انتہائی برائے نام معمولی قیمت پر کن چھوٹے بڑے سرکاری افسروں کے گھروں میں پہنچ جاتے ہیں؟ ٭ میر انمبر(0323-4148962) کام نہیں کررہا۔ دوسرے نمبر (0322-4922214) پر بات ہوسکتی ہے۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 



 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





 انٹر نیٹ کی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضا مینں
loading...
loading...


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved