ہر بلاول ہے دیس کا مقروض،پاؤں ننگے ہیں بے نظیروں کے
  19  مارچ‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز
عتیق الرحمن رانا اگر راج پُوت نہ ہوتے تو میں اُنہیں رانا کے بجائے رعنا لکھنے کی گستاخی ضرور کرتا۔ کیوں کہ وہ ہمیشہ زیست کی رعنائی میں چھپے ہوئے کرب والم کو ٹٹولنے کا ہنر بہ خوبی جانتے ہیں۔ عتیق الرحمان روزنامہ اوصاف کے شعبہ اشتہارات کے جنرل منیجر ہیں۔ سرگودھا کی زرخیز سرزمین سے تعلق رکھنے والے میرے اِس عظیم دوست نے مجھے ہمیشہ بہترین کالموں کے عناوین سے نوازا ہے۔ گزشتہ روز بھی میں اور وہ ایڈیٹر کوآرڈی نیشن جناب صداقت عباسی صاحب کے کمرے میں بیٹھے تھے کہ اچانک عتیق الرحمن رانا نے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک خبر کا تذکرہ کچھ اِس انداز میں کیا کہ میرے جذبات کا ضبط ٹوٹ گیا اور میں نے قرطاس ابیض کے سینے پر روشنائی بکھیرنے کے لئے یوں قلم اُٹھایا جیسے کسی ہارے ہوئے لشکر کاکوئی مجبور مگر غیرت مند سپاہی شمشیر بے نیام کے دستے پر اپنی گرفت مضبوط کرتے ہوئے جینے کی تمنا لحد کے حوالے کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیتا ہو۔ یہ خبر کس حد تک درست ہے مجھے اِس کا کوئی علم نہیں مگر امر واقعہ یہ ہے کہ اگر یہ خبر غلط بھی ہے تو پھر بھی اِس سے ملتی جلتی خبریں درحقیقت معاشرے میں حقیقت کا رنگ و روپ لئے سچ ثابت ہو رہی ہیں۔ خبر یہ ہے کہ سابق صدر آصف علی زرداری نے سندھ کی آغوش میں سسکتے، تڑپتے، بھوکوں مرتے، پیاسوں جیتے، تھر میں ’’وائے فائے‘‘ کی سہولت ارزاں نرخوں پر فراہم کرنے کے لئے سندھ حکومت کو تاکیدی حکم صادر کر دیا ہے۔ عتیق الرحمن رانا نے جب یہ خبر مجھ تک پہنچائی تو یقین جانئے میرے ہونٹوں پہ ہنسی تھی مگر میری روح کا ذرّہ ذرّہ ماتم کر رہا تھا۔ میرا خون کھول رہا تھا اور بے بسی میرے غیرت کے جنازے پر رقص کناں تھی۔ لاچارگی لحد کا طواف کر رہی تھی اور غیرت خود کشی کرنے کا عہد باندھ رہی تھی۔ اِس محفل میں شریک گفتگو جناب صداقت عباسی نے المناک اور ساکت ماحول کو ساقط کرنے کے لئے ایک حکائت کا کنکر سوچوں کے ٹھہرے ہوئے پانی میں یوں پھینکا کہ ہر طرف ہل چل مچ گئی۔ اُنہوں نے بتلایا کہ زمانہ قدیم میں ایک بادشاہ اپنی رحم دِلی کی وجہ سے اکناف عالم تک شہرت رکھتا تھا۔ وہ انتہائی زیرک تھا۔ اور دانش اُس کے گھر کی لونڈی تھی۔ وہ احترام آدمیت کا بھی دِل دادا تھا۔ ایک مرتبہ اُسے اُس کے کسی وزیر نے خبر دی کہ اُس عظیم بادشاہ کی ریاست کے شمال مشرق میں ایک ایسی بستی بھی آباد ہے جہاں کے تمام تر باسی اندھے ہیں۔ بادشاہ کی رحمدلی نے جوش مارا۔ محافظ دستہ تیار ہوا۔ وزیروں اور مشیروں کے لاؤ لشکر سمیت بادشاہ خود بہ نفسِ نفیس اُس بستی میں اُترا۔ ایک دو روز اُسی بستی میں پڑاؤ کیا۔ حالات سے آگاہی حاصل کی۔ بستی کے اندھوں سے ملاقاتیں کیں اور احکامات صادر کئے کہ اِس بستی کے تمام بام و در شاہی چراغوں سے جگمگا دیئے جائیں۔ یہ شاہی چراغ ریاست کی طرف سے اِس بستی کے مکینوں کے لئے ایک تحفہ ہیں اور اِن چراغوں کا ایندھن سرکاری خزانے سے بہم پہنچایا جایا کرے گا۔ مشیروں اور وزیروں نے بادشاہ کی اِس فراخ دِل پر نعرۂ تکبیر بلند کیا۔ اور شاہ کے مصاحبوں نے بادشاہ کے قصیدے پڑھنے شروع کئے۔ ڈھول کی تھاپ پر بہی خواہوں نے رقص کئے۔ گھوڑوں کے بدن تھرکے، شاعروں کا خیال، لذت پرواز سے ہم آہنگ ہوا۔ فضاؤں میں اُڑتے طائرانِ وطن چہچہائے۔ سرکاری صحافیوں نے ضمیمے شائع کئے۔ مولویوں نے مسجدوں میں شاہ کی بصیرت کے خطبے پڑھے۔ مغنی رطب اللسان ہوئے۔ رباب کے تار چھیڑے گئے۔ سُر اور سُرتیاں اعضا کی شاعری کرنے والے ابدان کے پاؤں میں گھنگرو بن کر ناچنے لگیں، شاہی بیورو کریسی نے تحسین تحسین کے زیرعنوان سرکاری فائلوں کے صفحات کو کالا کیا۔ ہر طرف شاہ کی سخاوت کے چرچے تھے۔ بادشاہ لاؤ لشکر کے جلو میں اندھوں کی بستی سے شاہی محل کی طرف روانہ ہونے لگا۔ گھوڑے کی رکاب پرپاؤں رکھا۔ فضا میں اُچھلا، ابھی گھوڑے نے پہلا قدم بھی نہ اُٹھایا تھا کہ ایک جرأت مند اندھا گرتا پڑتا، تاریک آنکھوں کو حسرتوں کی لاٹھی سے ٹٹولتا ہوا بادشاہ کے گھوڑے سے آ ٹکرایا۔ تپیدہ و لرزیدہ اندھا، رکاب تک جا پہنچا۔ دُزدیدہ جسارتوں کا ابلاغ کرتے ہوئے بولا۔۔۔بادشاہ سلامت۔۔۔ ہم اندھے ہیں۔۔۔ہمیں چراغوں کی نہیں۔۔۔آنکھوں کی ضرورت ہے۔۔۔ صرف آنکھوں کی ۔۔۔رحمدل بادشاہ گھوڑے سے نیچے گر گیا، اُس پر حقیقت آشکار ہو چکی تھی۔ اُسے پتہ چل گیا تھا کہ اُس کے مشیروں اور وزیروں نے اُسے غلط پٹی پڑھائی ہے۔ اندھوں کے شہر میں چراغ روشن کرنا سخاوت نہیں مکاری ہے۔ بالکل اُسی طرح جس طرح تھر کے علاقے میں ’’وائی فائی‘‘ کی سہولت فراہم کرنا عیاری ہے۔ بالکل اُسی طرح جس طرح لاہور کی میٹروبس میں مفت انٹرنیٹ فراہم کرنا ایک مشیر کی ذہنی بیماری ہے۔ کون سمجھائے عزت مآب جناب آصف علی زرداری صاحب کو کہ تھر میں سسکتے ہوئے اِنسانوںں کو زندگی کی بنیادی ضروریات درکار ہیں۔ ماؤں کو روٹی، بچوں کو دودھ چاہئے۔ پیاسوں کو پانی، بھوکوں کو خوراک، بیماروں کو دوا ۔۔۔کون سمجھائے جناب بلاول بھٹو کو کہ یہاں۔ حالات وُہی ہیں فقیروں کے دِن پھرے ہیں فقط وزیروں کے ہر بلاول ہے دیس کا مقروض پاؤں ننگے ہیں بے نظیروں کے وزیراعلیٰ سندھ کو کس طرح بتلایا جائے کہ جناب شاہ صاحب! یہاں غریبوں کی مُرادیں اُن کی دُعاؤں سے بچھڑ گئی ہیں۔ آپ نہ جانے کس کی مُراد تھے کہ آپ کو اقتدار کی مسند نے بازو پھیلا کر اپنی آغوش میں بٹھاتے ہوئے بے شمار مرتبہ قبول ہے۔ قبول ہے کی گردان پڑھی ہے۔ جس صوبے میں بچے غذائی قلت سے مر رہے ہوں۔ جس صوبے کا نظام کوڑے کے ڈھیر اُٹھانے کی سکت نہ رکھتا ہو۔ اُس صوبے کے صحرا میں وائے فائے کی مفت سہولت فراہم کرنے کا اعلان بھکاری کے منہ پر طمانچہ رسید کرنے کے مترادف ہے۔ اُس بستی میں مفت انٹرنیٹ کی سہولت فراہم کرنا بے سوا کا دوپٹہ چھیننے کے مترادف ہے۔ یہ تو اندھوں کی بستی میں چراغ بانٹنے والے بادشاہ کی کہانی ہے جو مشیروں اور وزیروں کے مشوروں پر دوہرائی جا رہی ہے۔ اِدھر وفاق اور پنجاب میں میاں نوازشریف صاحب اور میاں شہباز شریف صاحب کے مشیر اور وزیر بھی اِسی طرح کے مشورے دے رہے ہیں اور دونوں بادشاہ اُنہی مشیروں کے مشوروں پر اقتدار کی طوالت کے خواب دیکھ رہے ہیں۔ کوئی مونس و غم خوار اِن کو بتلائے کہ موٹر وے بہت ضروری ہے مگر اِس موٹر وے پر سفر کرنے والا مسافر بھوکا ہے۔ پہلے اُس کی بھوک تو مٹا لیجئے۔ اِس موٹر وے پر سفر کرنے والا پیاسا ہے اُس کی پیاس تو بجھا دیجئے۔ وہ بیمار ہے اُسے دوا دیجئے۔ وہ لاچار ہے اُسے دُعا دیجئے۔ وہ غیرت مندہے اُسے مروا دیجئے۔ وہ مر چکا ہے اُسے دفنا دیجئے۔ کیوں کہ اب قبر کی قیمت مزدور کی تنخواہ سے بھی مہنگی ہو چکی ہے۔ اور میاں صاحب! جس بستی میں قبریں مہنگی ہو جائیں وہاں ماؤں کے دوپٹے، بیٹیوں کے آنچل اور بہنوں کی چوڑیاں بازار میں بکنے لگتی ہیں۔ وہاں اورنج ٹرین میں مُردے سفر کیا کرتے ہیں۔ وہاں کی میٹروبس میں زیست نیست کا نمونہ بن جاتی ہے۔ جہاں آٹا مہنگا ہو جائے وہاں سستی روٹی کے تندور بھی بند ہو جایا کرتے ہیں۔ اور اقتدار کے دروازے بھی۔ خدا کرے کہ یہ پاکستان سلامت رہے۔ تا قیامت رہے۔ اِس کو کسی بدبخت کی نظر نہ لگے۔ خدا کرے کہ اندھوں کے شہر میں چراغ بانٹنے والے نام نہاد سخی، مکار اور عیار اِس وطن سے کوچ کر جائیں۔ خدا کرے کہ بھکاریوں کے ہاتھوں سے کشکول چھین کر بھاگنے والے اِس وطن سے ہمیشہ کے لئے چلے جائیں اور کوئی چارہ گر، کوئی مسیحا اِس وطن میں محبتوں کے آسمان سے اُترے اور اِس قوم کی تقدیر سنوار دے۔ ورنہ سسکتی تڑپتی اِنسانیت کے لبوں پر یہ صدائیں۔۔۔ یہ پُردرد صدائیں عام ہوتی چلی جا رہی ہیں کہ کہاں ہے ارض و سما کا مالک؟ کہ چاہتوں کی رگیں کُریدے ہوس کی سُرخی رُخِ بشر کا حسین غازہ بنی ہوئی ہے کوئی مسیحا ادھر بھی دیکھے کوئی تو چارہ گری کو اُترے فلک کا چہرہ لہو سے تر ہے زمیں جنازہ بنی ہوئی ہے

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 



 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





 انٹر نیٹ کی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضا مینں
loading...


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved