صرف گستاخ بلاگرز ہی نہیں بلکہ سہولت کار بھی ’’ملعون‘‘ ہیں
  19  مارچ‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز
وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کہتے ہیں کہ ’’ توہین رسالت کے مرتکب افراد کے خلاف آخری حد تک جائیں گے‘‘ ... اب وزیر داخلہ سے کوئی پوچھے کہ جناب جب گستاخ اور ملعون بلاگرز آپ کی دسترس میں تھے... تو آپ نے ان کا مکمل دفاع کیا‘ ایف آئی اے کو ان بلاگرز کے خلاف کارروائی سے بھی روک ڈالا... پھر وہ ملعون بلاگرز ایک‘ ایک کرکے ملک سے بھاگ گئے... جب آپ ساری طاقت اور اختیار کے باوجود لعنتی اور دجال گستاخوں کا یہاں کچھ نہیں بگاڑ سکے... تو لندن‘ سویڈن‘ ڈنمارک یا امریکہ میں ان کا کیا بگاڑ لیں گے؟ یہ تو ہائیکورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو اللہ دنیا اور آخرت میں کامرانیاں عطا فرمائے... کہ جنہوں نے عدالت کے کٹہرے میں بڑے دلیرانہ اور ایمانی جذبات سے بھرپور انداز میں حکمرانوں اور میڈیا کو جھنجھوڑا... اور انہیں باور کروایا کہ جن کی ذات اقدسؐ سے ہمیں شفاعت کی توقع اور امید ہے ...اس عظیم ہستی حضرت محمد کریمﷺ کی سوشل میڈیا کے ذریعے توہین کی جارہی ہے اور تم مجرمانہ غفلت کی نیند میں ڈوبے ہوئے ہو‘ ممکن ہے کہ ضمیر فروش کالم نگاروں... دین فروش اینکرز اور اینکرنیوں اور لادین تجزیہ نگاروں کے نزدیک... توہین رسالت کوئی بڑا مسئلہ نہ ہو... لیکن ہر سچا مسلمان... اپنی اولاد‘ مال حتیٰ کہ جان تک قربان کرکے بھی گستاخ رسول کو زندہ رہنے کا حق نہیں دیتا۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے واقعی اولاد سیدنا صدیق اکبرؓ ہونے کا حق ادا کرنے کی کوشش کی‘ شاید سیکولر الحاد پرستوں کا ٹولا یہ بات نہ جانتا ہو کہ ... جھوٹا مدعی نبوت مسلمہ کذاب ہو‘ دجال اسود و عنسی کا فتنہ ہو... طلیحہ بن خویلد کا فتنہ ہو یا سرداران عرب میں کوئی اور مرتد ہو کر فتنہ بنا ہو... یہ خلیفہ اول حضرت سیدنا صدیق اکبرؓ ہی تھے کہ جنہوں جہاد و قتال کے ذریعے جھوٹے مدعیان نبوت ہوں‘ یا گستاخ مرتدین... ہر قسم کے فتنہ ارتداد جڑ سے اکھاڑ پھینکا۔ آج ایک دفعہ پھر حکمرانوں کی غفلت اور بعض دجالی ٹی وی چینلز کی آشیرباد اور یہود و نصاریٰ کی سرپرستی میں گستاخ بلاگرز کا فتنہ سر اٹھائے ہوئے ہے... مگراسلام آباد ہائیکورٹ کی مسند انصاف پر بھی... حضرت سیدنا صدیق اکبرؓ کی اولاد میں سے جسٹس شوکت صدیقی سے صرف پاکستانی قوم ہی نہیں بلکہ پوری امت مسلمہ بلکہ پوری امت مسلمہ یہ توقع لگا چکی ہے کہ جن ’’ولدالحراموں‘‘ نے آقا و مولیٰﷺ اور آپ کے عظيم صحابہؓ کی شان میں... یہود و نصاریٰ کو خوش کرنے کے لئے سوشل میڈیا پر گستاخیاں کیں اور جنہوں نے جانتے بوجھتے ہوئے ان گستاخان رسول کے حق میں ٹاک شوز کئے... ان کی حمایت میں جلوس نکال کر ان گستاخوں کی دلالی اور سہولت کاری کا فریضہ سرانجام دیا... ان سب بدمعاشوں کو وہ ضرور انصاف کے کٹہرے میں لا کر نمونہ عبرت بنانے کا حکم صادر فرمائیں گے۔ صرف گستاخ ’’بلاگرز‘‘ ہی ملعون نہیں... بلکہ ان گستاخوں کے حامی‘ اور ان کے سہولت کار بھی ’’ملعون‘‘ ہیں... وفاقی وزیر داخلہ کی غیرت ایمانی اور محبت رسولؐ پر کسی نے انگلی نہیں اٹھائی... البتہ اس سوال کا جواب ان پر لازم ہے کہ جب دجالی سلمان حیدر‘ ملعون وقاص گورائیہ اور ان کے دیگربدبخت ساتھیوں کے خلاف کبھی تھانہ آئی نائن اور کبھی ایف آئی اے میں گستاخیوں کے ثبوتوں کے ساھ درخواستیں جمع کروائی جارہی تھیں... تب ان کی وزارت خارجہ اور اس سے منسلک ادارے بھنگ پی کر کیوں سوئے ہوئے تھے... کیا سویڈن‘ ڈنمارک‘ ناروے‘ ہالینڈ یا امریکہ کو راضی کرنا محبت رسولﷺ سے بڑھ کر ہے؟ کیا موم بتی مافیاء کے خرکار‘ لادین اینکرز‘ اینکرنیوں اور امریکی پٹاری کے دانش چوروں کا خوف‘ خوف خدا سے بڑھ کر ہے؟ ہائے افسوس کہ محبوب خدا حضرت محمد کریمﷺ اور آپؐ کے عظیم صحابہؓ گستاخ حکومتی اداروں میں موجود کالی بھیڑوں کی سہولت کاری کے ذریعے ملک سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ کیا فائدہ ہمارا ایٹمی طاقت ہونے کا ... کیا ہم نے اپنی ساری طاقت‘ اسلحہ اور صلاحیتیں صرف اپنے مخالفین کے لئے محفوظ رکھی ہوئی ہیں؟ محسن انسانیتﷺ کے کسی گستاخ کو ’’انسان‘‘ کہنے والے بھی شیطان ہیں... توہین رسالت کے مجرموں کے خلاف آخری حد تک جانے کا اعلان کرنے والے وزیر داخلہ بنائیں کہ ... آخر جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے گستاخانہ مواد کے حوالے سے ان کے ماتحت اداروں پر عدم اعتماد کا اظہار کیوں کیا؟ جمتہ المبارک کے دن توہین رسالت کیس کی سماعت ۔۔۔ جناب جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ایف آئی اے کی کارروائی پر عدم اعتماد کرتے ہوئے آئی ایس آئی کو تفتیش میں شامل کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ ’’عدالت محسوس کر رہی ہے کہ ایف آئی اے گستاخانہ مہم میں شریک ملزمان کی نشاندہی کرنے میں بالکل ناکام ہوچکی ہے... کیا ایف آئی اے حکام چاہتے ہیں کہ ہم آپ پر بالکل اعتماد کرنا چھوڑ دیں... بے شک اس معاملہ میں پیسہ ملوث نہیں ہے لیکن حضور پاک کی ناموس کا معاملہ تو ہے... ان کی شان تو ہے نا؟ خدا کے لئے اس کا احساس تو کرلیں‘ معزز جج نے ٹی وی چینلز پر ہونے والی فحاشی و عریانی پر چیئرمین پیمرا ابصار عالم کو بھی آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ آپ سے ہمیں توقعات تو بہت تھیں مگر آپ نے بھی ہمیں مایوس کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ٹی وی چینلز پر فلمی ہیروز کی خبریں بڑھا کر پیش کی جاتی ہیں... فحاشی و عریانی کے مناظر دکھائے جاتے ہیں... اور نئی نسل کو تباہ کرنے کی سازش کی جارہی ہے۔‘‘ سوال یہ ہے کہ اگر ہائیکورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی بھی توہین رسالت اور بڑھتی ہوئی فحاشی و عریانی کے حوالے سے حکومتی اداروں کی کارکردگی سے سخت مایوس ہیں... تو پھر یہ قوم کدھر جائے گی۔ جس ملک کے ٹی وی چینلز بھانڈ میراثیوں کو ’’ہیرو‘‘ بنا کر پیش کریں‘ گوئیوں اور ننگی ٹانگوں والے ناچوں کو سکرینوں کے ذریعے پوری قوم پر مسلط کرنے کی کوشش کریں... کیا اس ملک یا معاشرے کو مہذب قرار دیا جاسکتا ہے؟ ٹی وی چینلز کے ان خرکاروں سے کوئی پوچھے کہ کیا ’’تہذیب‘‘ انڈین اداکارو ں اور گلوکاروں کے بیڈ رومز سے پھوٹتی ہے؟ کیا ’’تہذیب‘‘ ڈوم‘ میراثیوں اور رقص و سرور کی محفلوں کی محتاج ہے؟کبھی گستاخیوں‘ ناچ‘ گانوں‘ شراب و شباب اور خرمستیوں کے بل بوتے پر بھی کسی قوم نے ترقی حاصل کی ہے؟

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 




  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved