مفاہمت رخصت ،مزاحمت شروع
  19  مارچ‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

’’چند منٹ انتظار کرنا ہوگا۔ سندھ کے تمام درگاہوں کے گدّی نشین آئے ہوئے ہیں۔ سیہون شریف میں بم دھماکے کے بعد سب درگاہوں والے تشویش میں ہیں۔‘‘ میں کہہ رہا ہوں۔’کوئی بات نہیں۔ یہ زیادہ اہم اور حساس مسئلہ ہے۔ مل جل کر انتہا پسندی کا مقابلہ کرنا ہے‘‘ میں بلاول ہاؤس میں ہوں۔ میرے سامنے بڑے بڑے پورٹریٹ ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو شہید ہیں۔ حاکم علی زرداری ہیں۔ میں یہاں نومبر 2007میں آیا تھا۔ جب شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے چار پانچ ایڈیٹرز کو بلایا تھا کہ الیکشن میں حصّہ لینا چاہئے یا نہیں۔ یہ ان سے آخری ملاقات تھی۔ اب 2017ہے قریباً ساڑھے نو سال بعد مجھے اپنی ایک کتاب کے لیے کچھ معلومات درکار ہیں۔ وہ صرف مفاہمت کے بادشاہ کے پاس ہیں۔ انہوں نے 2008میں وعدہ کیا تھا کہ بلاول کے ساتھ میری ایک تصویر بنوائیں گے۔ اس طرح ذوالفقار علی بھٹو ۔ بے نظیر بھٹو۔ کے ساتھ تصویروں کے بعد ایک تصویر بلاول کے ساتھ بھی۔آج یہ وعدہ بھی پورا ہونے والا ہے۔ سابق صدر آصف علی زرداری۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے ساتھ مجھے آواز دے رہے ہیں۔ بلاول سے میری پہلی ملاقات ہے۔ آصف صاحب کہہ رہے ہیں محمود شام سینئر صحافی ہیں۔ تمہارے نانا کے ساتھ رہے ہیں۔ انٹرویو کیے ہیں۔ سفر بھی ساتھ کیے ہیں ۔ بی بی کے ساتھ بھی رہے ہیں۔ ان کا سب سے پہلا انٹرویو انہوں نے ہی کیا تھا۔ یہ تمہارے دادا کے بھی دوست رہے ہیں۔ ان سے بھی ان کا اٹھنا بیٹھنا تھا۔ بلاول ۔ ایک سعادت مند فرزند کی طرح سر ہلارہے ہیں مسکرارہے ہیں۔ ڈنر کی میز پر میں ہوں اور وہ باپ بیٹا۔ جو بہت سوں کے لیے آخری امید ہیں۔ اور بہت سے انہیں ملک کو زوال کی طرف لے جانے کا ذمہ دار سمجھتے ہیں۔ میں اس وقت تاریخ کے اوراق میں گھوم رہا ہوں۔ 1970سے 2017تک۔ کتنے نشیب و فراز آچکے۔ کتنے المیے برپا ہوچکے۔ اب ایک اور الیکشن سر پر کھڑا ہے۔ مفاہمت کے بادشاہ اب مزاحمت کے راستے پر جانے والے ہیں۔ مگر اپنی مفاہمت کی گزشتہ پالیسی پر انہیں کوئی پشیمانی نہیں ہے۔ کیونکہ اس کے نتیجے میں ہی وہ 18ویں ترمیم کے ذریعے 1973کا آئین بحال کراسکے تھے۔ یہ کہانی پھر کبھی سہی۔ الیکشن کمیشن نے جہانگیر ترین اور عمران خان کے خلاف ریفرنس خارج کردیے ہیں اس سے لوگوں نے امید باندھ لی ہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی مسلم لیگ(ن) کے خلاف ہوگا۔ مگر کیا اس کے نتیجے میں وزیر اعظم نواز شریف برطرف ہوجائیں گے۔ یا استعفیٰ دے دینگے۔ اس کے حق میں بہت کم لوگ ہیں۔ میاں محمد نواز شریف وقت غنیمت سمجھتے ہوئے پنجاب سے باہر کے دَورے بھی کررہے ہیں ان کے چہرے سے گفتگو سے نہیں لگتا کہ ان کے سر پر پانامہ کی تلوار لٹک رہی ہے۔ اقتدار کے چوتھے سال میں بھی وہ مزید وعدے کررہے ہیں حالانکہ اس وقت تو ان کو یہ بتانا چاہئے کہ ان تین سال میں ہم نے اپنے منشور میں سے اتنے منصوبے مکمل کردیے ہیں۔ الیکشن کمیشن کے فیصلے نے ان کے منافی فضا پیدا کی ہے۔ اسی لیے گوادر میں بہت اچھی تقریر۔ اور انتہائی اہم فیصلے سنانے کے باوجود فضا ان کے حق میں ہموار نہیں ہوئی ہے۔ آپ کو یاد ہوگا کہ میں نے کہا تھا چین والوں کو بلوچستان کے نوجوانوں کو چین لے جانا چاہئے تھا۔ چینی زبان بھی سکھاتے اور پاک چین اقتصادی راہداری میں مطلوبہ شعبوں کے لیے تربیت بھی دیتے۔ وزیر اعظم نے یہ نوید دی ہے کہ بلوچستان سے بڑی تعداد میں طلبہ اور طالبات کو چین بھیجا جائے گا۔ اور یہ ڈیوٹی اپنے معتمد خاص اور مسلم لیگ(ن) کے سنجیدہ رہنما۔ احسن اقبال کی لگائی گئی ہے۔ اور خاص طور پر کہا گیا ہے کہ میں احسن اقبال سے پوچھوں گا کہ اس سلسلے میں کیا پیشرفت ہوئی ہے ۔ گوادر کو ایک بڑی یونیورسٹی کے قیام کی نوید بھی دی گئی۔ ایسی معیاری یونیورسٹی جہاں اسلام آباد لاہور سے بھی طالب علم آکر پڑھنا چاہیں گے۔ گوادر ہمارا مستقبل ہے۔گوادر بندرگاہ پر کام بھٹو صاحب کے دَور سے ہورہا ہے۔ میں اس وقت کے گورنر بلوچستان خان آف قلات نواب احمد یار خان کے ساتھ ان کے خصوصی طیارے میں گیا تھا اس وقت بندرگاہ اور فش ہاربر پر کام تیزی سے شروع ہوچکا تھا۔ پھر سی 130طیارے میں بے نظیر بھٹو صاحبہ کے دَور میں گئے۔ جب پاکستان بحریہ نے بھی اس بندرگاہ پر خصوصی توجہ دینا شروع کردی تھی۔ یہ بندرگاہ بھی پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی طرح ہے۔ کہ اس پر تمام تر اختلافات کے باوجود ہر حکمران نے کام کو آگے بڑھایا ہے۔ سب سے زیادہ تیزی سے اور وسیع شعبوں میں کام جنرل مشرف اور شوکت عزیز کے دَور میں ہوا۔ سی پیک کا خواب اسی لیے حقیقت میں ڈھل گیا ہے ۔ صدر آصف زرداری نے بھی اس سلسلے میں چین کے کئی دورے کیے۔ چین نے اس راستے پر بہت بڑے بڑے منصوبے مکمل کرنا ہیں۔ بڑی ٹیکسٹائل مل قائم ہوں گی۔ الیکٹرانک آلات۔ یہ پاکستان کی ضرورت نہیں بلکہ ایشیا کی وسطی ریاستوں یعنی سوویت یونین ٹوٹنے کے بعد آزاد ہونے والے ایک درجن کے قریب ملکوں میں یہ مصنوعات برآمد ہوں گی۔ ہم پاکستانی اس سے فائدہ اسی صورت میں اٹھاسکیں گے کہ ہم اپنی اولادوں کو جدید علوم پڑھائیں۔ ٹیکنیکل تربیت دیں۔ صرف سرکاری ملازمتوں کے خواب نہ دیکھیں۔ 70سال کے دوران پاکستان میں جتنا صنعتی پھیلاؤ ہونا چاہئے تھا وہ جاگیرداروں وڈیروں نے نہیں ہونے دیا۔ مگر چین یہ آئندہ آٹھ دس سال میں کردیگا یہ اسکی اپنی ضرورت بھی ہے۔ ’اوصاف‘ نے اپنی عوامی آگہی کے 20سال پورے کرلیے ہیں۔ اسکا حلقۂ اثر اس عرصے میں بہت پھیلا ہے اپنے کالم پر مجھے ملک کے کونے کونے سے پیغامات ملتے ہیں۔ جناب مہتاب خان۔ محسن بلال خان۔ اور اوصاف کے تمام ادارتی۔ غیر ادارتی کارکن مبارکباد کے مستحق ہیں۔ ان سب کی محنت کا یہ ثمر ہے۔ تلہ گنگ کے سابق صوبیدار۔ غلام حیدر کو گلہ ہے کہ ان کا پیغام میں کیوں نہیں شائع کرتا۔ وہ پاکستان کا درد رکھتے ہیں ۔پنڈی کے چوہدری نواز بھی پاکستان کی مستقبل کے لیے دعائیں کرتے ہیں ۔ ورکر ویلفیئر بورڈ کے پی کے کے ملازمین کو ایک سال سے تنخواہیں نہیں ملی ہیں۔ متعلقہ حکومتوں سے کہہ رہے ہیں۔ رحم کرو۔ خدا کا خوف کرو۔ ان کی تنخواہیں ادا کرو۔ ان خاندانوں کو سکھ کا سانس لینے دو۔ گلگت سے مفتی ثناء اللہ انقلابی کی آواز سنیے: گلگت کا حسن جنگلی حیات خطرے میں ہے۔ اس کی حسین وادی چکر کوٹ سی بالا کے جنگلات کی کٹائی الیکٹرک مشینوں سے جاری ہے۔ محکمۂ جنگلات ٹمبر مافیا سے ملا ہوا ہے۔ فہیم خان بنوں کے علاقے مندان سے کہہ رہے ہیں پانچ دن ہوگئے ہیں بجلی نہیں آئی۔ ہر مہینے ایک ہزار روپے فی گھر بھی دیے جاتے ہیں۔ گلگت سے ہی مولوی علی اکبر کی دُعا ہے کہ پاکستان سے ہمدردی کرنے والے قلمکاروں کو اللہ مزید ترقی دے۔ فارورڈ کہوٹا آزاد کشمیر سے انصار رضا بھی دعا مانگ رہے ہیں اللہ ظالم حکمرانوں سے نجات دلائے۔ صالح بندوں کو اقتدار نصیب ہو۔ ہنزہ سے عباس برشا کا حکم ہے کہ گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت اور اس کے نتیجے میں متوقع ترقی پر کچھ لکھیں۔ شکریہ۔ مگر میں اس سلسلے میں کچھ لکھنے سے پہلے گلگت کے بھائی بہنوں کی رائے چاہوں گا۔ وہ میری رہنمائی کریں۔ مردان سے شہزاد حسین لکھتے ہیں کہ آپ نے پاکستانیوں کو اپنی ذمہ داری کا احساس دلایا ہے ہر پاکستانی کو اپنی جگہ پاکستان کے لیے کچھ کرنا چاہئے۔ میرپور آزاد کشمیر سے پروفیسر جویریہ یاسمین کہتی ہیں : آیت کریمہ کا ہم سب کو زیادہ سے زیادہ ورد کرنا چاہئے۔ اپنے گناہوں سے توبہ بھی۔ یقیناً ہماری مشکلات آسان ہوسکتی ہیں۔ قاضی اسد مظفر آباد آزاد کشمیر سے : اس ملک میں غریب کو انصاف نہیں ملتا۔ حکمران صرف اپنی ضرورتیں پوری کرتے ہیں۔ خانیوال سے راؤ رحیل کا کہنا ہے کہ : فسادی تو اس سسٹم میں بیٹھے ہیں۔ ان کے خلاف ردّ الفساد یا ضرب عضب ہو تو انتہا پسندی کا جڑ سے خاتمہ ہوسکتا ہے۔ اخوند زادہ اسد شاہ ڈیرہ اسماعیل خان سے۔ آپ جیسے لکھنے والوں کا فرض ہے کہ اسی طرح قوم کو خواب غفلت سے جگاتے رہیں۔ عدنان مروت سرائے نارنگ ضلع لکی مروت سے ۔ مجھے بہت دُکھ ہوتا ہے کہ پاکستان میں مردم شُماری بھی فوج کے بغیر نہیں ہوسکتی۔ مردان سے آصف اجمل کہتے ہیں آپ کے کالم میں مرض کا علاج بھی ہوتا ہے۔ آپ سب بھائی بہنوں کا شکریہ۔ میری رہنمائی کرتے رہیں۔ آپ ہی میرے دست بازو ہیں۔ آپ کا کیا خیال ہے۔ ایس ایم ایس کیجئے۔ 0331-7806800


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved