غربت کے نام پر سروے قومی سلامتی کے خطرے کا موجب ہے
  20  مارچ‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز
غالب اکثریت رکھنے والا گروہ اقتدار میں بھی بقدر حصہ پاتا ہے لیکن مردم شماری کے ذریعے وسائل کی تقسیم بھی عمل میں آتی ہے، خصوصاً ان ملکوں میں جہاں آبادی کے تناسب سے وسائل کی تقسیم ہوتی ہو، وہاں منصفانہ تقسیم کے لئے آبادی کی صحیح تعداد میں بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ مردم شماری کا انعقاد 15 مارچ سے شروع ہونا ہے، لیکن اس بات کے اشارے مل رہے ہیں کہ ماضی کی طرح اس مردم شماری پر بھی تنازعہ کھڑا ہو سکتا ہے، حکمران جماعت کی اتحادی جماعت نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اور وفاقی وزیر برائے بندرگاہ میر حاصل بزنجو پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ افغان پناہ گزینوں کی موجودگی میں ہونے والی مردم شماری ان کے لئے قابل قبول نہیں ہے لہذا افغان پناہ گزینوں کی واپسی تک مردم شماری موخر کی جائے، دوسری جانب بلوچستان ہائی کورٹ میں مردم شماری روکنے کے لئے ایک درخواست دائر کی جا چکی ہے جسے ہائی کورٹ نے سماعت کے لئے منظور بھی کر لیا ہے، بلوچستان کی دیگر قوم پرست تنظیموں کو بھی بلوچستان میں افغان پناہ گزینوں کی موجودگی پر تحفظات ہیں، ان کا کہنا ہے کہ جب تک افغان پناہ گزین صوبے میں موجود ہیں، حقیقی مردم شماری نہیں ہو سکتی، اس قسم کی آوازیں سندھ میں سنائی دے رہی ہیں ، متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ فاروق ستار نے بھی سندھ کے دیہی علاقوں کی آبادی کو بڑھا چڑھا کر دکھانے پر تشویش کا اظہار کیا ہے! ان حالات میں یہ انتہائی ضروری ہے کہ مردم شماری کا کام نہایت احتیاط، غیر جانبداری اور خالصتاً پیشہ وارانہ بنیاد پر انجام دیا جائے۔ مردم شماری کا انعقاد ہر حال میں ضروری ہے کیونکہ گذشتہ سال اگست میں اقوام متحدہ کی نسلی امتیاز کے خاتمے سے متعلق کمیٹی ، پاکستان میں مردم شماری کروانے کا مطالبہ کیا تھا تاکہ آبادی کی نسلی ترکیب اور اس کی معاشی اور معاشرتی صورت حال سے متعلق درست اعداد و شمار کی روشنی میں کمیٹی کو اپنے فرائض کی انجام دہی میں مدد مل سکے۔ شماریات ڈویژن کے ایک اعلامیے کے مطابق مردم شماری میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو شامل نہیں کیا گیا ہے، اس وقت تقریباً ستر لاکھ پاکستانی بیرون ممالک میں مقیم ہیں، جن میں بڑی تعداد پنجاب، خیبر پختون خوا اور آزاد کشمیر سے تعلق رکھتی ہے، شماریات ڈویژن کا کہناہے کہ صرف ان افراد کو شمار کیا جائے جو گذشتہ چھ ماہ کے دوران ملک سے باہر گئے ہیں۔ طویل عرصے سے بیرون ملک مقیم پاکستانی اس مردم شماری میں شامل نہیں ہوں گے، اصولاً اس فیصلے پر نظر ثانی کرتے ہوئے کوئی ایسا نظام وضح کرنے کی ضرورت ہے جس کے ذریعے بیرون ملک مقیم پاکستانی اور ان کے اہل خانہ بھی شمارہو سکیں ویسے بھی اخلاقی طور پر یہ مناسب نہیں کہ ہم ان کے ارسال کردہ زرمبادلہ سے فائیدہ تو اٹھائیں مگر انہیں اپنا شہری شمار کرنے سے گریز کریں۔ خدشات یہی ہیں کہ سندھ حکومت مردم شماری کے نتائج کے اعداد و شمار میں ہیرا پھیری کرے گی اور اسی ڈگر پر پنجاب کی بیوروکریسی کے ذریعے اعدادوشمار کے نتائج تبدیل کئے جائیں گے کیونکہ سندھ حکومت نے مردم شماری کا ڈیٹا اپنی نگرانی میں مرتب کرنے کے اختیارات حاصل کر لئے ہیں جو کہ وفاق کے قاعدے کے مطابق آئین سے انحراف ہے، لہذا ان خدشات کے خاتمے اور ازالے کے لئے سیاسی جماعتوں کا اعتماد بحال کرنا ہوگا۔ عدالت عظمیٰ نے یہ بھی قرار دیا کہ مردم شماری کے بغیر 2018 کے الیکشن مذاق ہوں گے، اس ریمارکس کی رؤ سے اگر مردم شماری کے نتائج کو قومی، علاقائی سیاسی جماعتوں نے مسترد کر دیئے تو پھر الیکشن کمیشن حلقہ بندیاں کرانے سے قاصر رہے گا اور نگران حکومت کے قیام کے بعد اگر کوئی فریق سپریم کورٹ آف پاکستان میں آئین کے آرٹیکل 224 کے تحت کیس دائر کر دیتا ہے کہ نئی حلقہ بندیوں کے بغیر الیکشن کا انعقاد غیر آئینی ہے تو پھر نگران حکومت کا دورانیہ نوے روز سے تجاوز ہونے کے امکانات موجود ہیں۔ وزیر اعظم نواز شریف نے ایک تقریب کے خطاب کے دوران کہا ہے کہ جمہوریت گھوڑا ہے اور مارشل لاء گدھا، قوم جاننا چاہتی ہے کہ جب انہوں نے یہ تشبیہہ استعمال کی تو ان کے ذہن میں کیا تھا، یا محض لفظوں سے کھیل رہے تھے، ہماری خواہش ہے کہ وزیر اعظم کو ایک بات ان کی سمجھ میں آجائے اور وہ یہ کہ زمانہ گھوڑوں اور گدھوں کا نہی، یہ زمین جہازوں اور ٹرالرز کا ہے، اگر وزیر اعظم کا مقصد سول قیادت اور فوجی قیادت میں گھوڑے اور گدھے کے فرق پر زور دینا تھا تو قوم ان پر یہ واضح کرنا چاہتی ہے کہ سیاست میں بھی گدھے وافر تعداد میں پائے جاتے ہیں، مسلمان کی پہلی پہچان یہ ہے کہ وہ سپاہی ہے، دنیا کی پہلی اسلامی مملکت کی بنیاد مجاہدین اسلام نے رکھی تھی اگر وزیر اعظم یہ جانتے کہ رسول اکرم ﷺ نے کتنی جنگوں میں حصہ لیا، کتنے معرکوں میں سپہ سالاروں کی اور آپ ؐ اپنی تلوار کو کتنی اہمیت دیا کرتے تھے، تو مال و دولت کے زور پر چلنے والی جمہوریت کو وہ سپاہیانہ شان پر ترجیح نہ دیتے۔وزیر اعظم نواز شریف کے خاندان کے خواب و خیال میں بھی نہیں تھا کہ آئی سی آئی جے نام کی صحافتی سراغ رساں تنظیم سمندر کی گہرائیوں سے پانامہ کا ہنگامہ کھوج لائے گی، اگر عمر چیمہ ائی سی آئی جے کی تحقیقی رپورٹ کو منظر عام پر نہ لاتے تو کسی کو بھی نواز شریف کی میگا کرپشن کا علم ہی نہ ہوتا، اسی کو منشائے الٰہی کہتے ہیں، قوم صدر ممنون حسین کو خراج تحسین پیش کئے بغیر نہیں رہ سکتی کہ منشائے الٰہی کو سب سے پہلے انہوں نے سمجھا۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 




  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved