حرام کھائو اور عزت و احترام بھی پائو
  23  مارچ‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

اگرہم جانتے اور یقین رکھتے کہ حرام مال یا ناجائز کمائی کے کیا اثرات ہوتے ہیں تو ہم کبھی بھی حرام مال کی طرف ہاتھ نہ بڑھاتے۔ جیسے موت ہے اس بارے ہم سب علم رکھتے ہیں کہ ہم میں سے ہر ایک نے موت کا مزا چکھنا ہے اور بحیثیت مسلمان ہم اس بات کو بھی جانتے ہیں کہ موت کے بعد ابدی حیات ہے اور ہمیں دنیا میں کیے گئے اعمال کی سزا و جزا ملے گی مگر یقین نہیں رکھتے کیونکہ جاننا بامعنی علم رکھنا اور یقین ہونے میں بہت فر ق ہے۔ یقین عمل کا تقاضا کرتا ہے یہی وجہ ہے کہ آج کل کے مسلمان معاشرے میں ہم میں سے اکثر اس بات سے آگاہ ہیں کہ حیات بعد از موت یقینی ہے اور جزا و سزا کاعمل بھی ہونا ہے مگر یقین نہ ہونے کے سبب آج معاشرہ کئی قسم کی روحانی بیماریوں کا شکار ہے۔ آپ کو اپنے معاشرے میں ہر قسم کا روحانی مرض دیکھنے کو ملے گا۔ معالج بھی ہیں مگر ان کی دوائی میں تاثیر نہیں ہے اس کی ایک ہی وجہ ہے کہ ہمارے قلوب یقین کی دولت سے خالی ہوچکے ہیں۔ نتیجے کے طور پر ہم قرآن کا علم رکھنے کے باوجود عمل نہیں کرتے اور عمل نہ کرنے کے سبب معاشرتی برائیوں یا روحانی امراض کا شکار ہو جاتے ہیں۔ حرام خوری کا بھی یہی معاملہ ہے حالانکہ حرام خور نتائج بھی بھگت رہے ہوتے ہیں کیونکہ زہر تو بہرحال زہر ہے۔ آ پ اسے کھائیں اور وہ اپنا اثر نہ دکھائے ایسا نہیں ہوسکتا۔ احادیث سے یہ بات ثابت ہے کہ حرام خوری کے بہت برے اثرات پڑتے ہیں۔ حرام کمانے والا جب اپنی کمائی اپنے اہل خانہ پر خرچ کرتا ہے تو ان میں اثرات نمایاں ہونے لگتے ہیں۔ وہی اولاد معاشرے کے لئے انتہائی نقصان دہ ثابت ہوتی ہے سب سے پہلے اپنے والدین کے نافرمان بنتے ہیں اور پھر معاشرے میں وہ کرتوت انجام دیتے ہیں کہ جن کے نتائج انتہائی بھیانک ہوتے ہیں۔ حرام ایک شخص کماتا ہے اور نتائج پورا معاشرہ بھگتا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ حرام کمائی کے اثرات درست نہیں ہوتے مگر یقین نہیں رکھتے۔ اگر یقین ہوتا تو ہم روکی سوکھی کھالیتے مگر حرام کے قریب نہ جاتے۔ حالانکہ بحیثیت مسلمان ہم اس بات سے بھی آگاہ ہیں کہ حرام کمانے والے کی دولت پر عیاشی اس کا پورا کنبہ کرتاہے مگر روز آخرت وہی اکیلا اس کے نتائج قبول کرے گا اور سزا پائے گا۔ ایک وقت تھا کہ جب حرام کھانے والوں کو معاشرے میں کوئی مقام نہیں ملتا تھا بلکہ صورتحال ان حرام خوروں کے خلاف اس حد تک خراب تھی کہ یہ لوگ یا ان کی اولاد منہ چھپاتی پھرتی تھی۔ اگر دوستوں میں سے کسی کو معلوم ہو جاتا کہ فلاں کا والد رشوت لیتا ہے یا حرام کھاتا ہے تو وہ نوجوان اپنے دوستوں سے شرمندہ ہوتا تھا۔ اسی طرح حرم خور کے ساتھ لوگ زیادہ میل جول نہیںرکھتے تھے ایسے لوگوں کی حوصلہ شکنی ہوتی تھی اور دفتروں میں چند ای سوا سبھی رزق حلال کھانے والے ہوتے تھے اور معاشرے کی صورتحال بھی بہت بہتر تھی۔ وہ برائیاں جو آج معاشرے میں رواج پاچکی ہیں اس وقت ایسی برائیوں یا روحانی بیماریوں کا نام و نشان بھی نہ تھا۔ آہستہ آہستہ مادہ پرستی کا غلبہ آتا گیا حتیٰ کہ اب وہ وقت بھی آن پہنچا ہے کہ دفتروں میں آپ کو چند افراد کے سوا کوئی بھی حلال کی کمائی پر گزارہ کرنے والا نہیں ملے گا۔ اب ہم ایسے معاشرے میں سانس لے رہے ہیں جہاں حلال کمانا بہت مشکل امر ہوچا ہے۔ رزق حلا ل کمانے والے کو معاشرے میں عزت و احترام نہیں دیا جاتا اگرچہ ایسے لوگ پرسکون زندگی گزارتے ہیں' نیک اور صالح اولاد کے ساتھ گزرا وہا ایک ایک لمحہ ان کے لئے باعث راحت ہوتاہے مگر معاشرے کے اقدار بدل چکے ہیں۔ دولت کی چمک نے ہم میں سے اکثر کی آنکھوں کو چندھیا رکھا ہے۔ ہر طرف دولت کے انبار ہیں اور مسلمان ہیں کہ جو نہ تو حرام کمائی کے اثرات پر یقین رکھتے ہیں اورنہ ہی حیات بعد از موت پر۔ اس صورتحال میں ان حرام خوروں کا ہاتھ کون پکڑ سکتا ہے جبکہ عدکالتوں کا خوف بھی ناپید ہے۔ سرکاری ملازمین ہیں اور کروڑوں کی جائیدادیں برآمد ہو رہی ہیں۔ چند روز قبل حیدر آباد سندھ کے ایک باریش اور بظاہر مذہبی اکائونٹس افسر کی جائیداد کا اندازہ لگایا گیا کہ جو کروڑوں میں شمار ہوتی ہے۔ اسی طرح کوئٹہ میں ایک سیکرٹری پکڑے گئے جنہوںنے کروڑوں روپے اپنے گھر میں چھپائے ہوئے تھے جبکہ بینکوںکے اکائوٹس اور دیگر جائیداداس کے علاوہ تھی۔ سرکاری ملازم جتنا بڑا افسر بھی کیوں نہ ہو جائے اگر وہ حلال کی کمائی سے بچوں کا پیٹ پال رہا ہے تو یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ وہ چند لاکھ روپے سے زائد بچت کرسکے۔ کروڑوں کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ عدالتوں میں نظام عدل کے فقدان کے باعث حالات اس حد تک بگڑ چکے ہیں کہ ہم حرام کو بھی جائز اور درست دولت میں شمار کرنے لگے ہیں۔ لوگوں کو آخرت کا خوف ہے اور نہ ہی دنیاوی سزائوں کا اور سب سے بڑی مصیبت یہ ہے کہ ہمارے حکمران بھی حرام خور ہیں۔ جنہوں نے کمیشن کھائے اربوں کی جائیداد اکٹھی کرکے اپنے لئے آگ کا سامان بنا رکھا ہے۔ سوئس اکائونٹس سے پانامہ سیکنڈل تک ہر طرف حرام ہی حرام ہے۔ حکمران حکمران کھاکے بھی پوری عزت و احترام اور مکمل پروٹوکول کے ساتھ شاہانہ زندگی گزار رہے ہیں۔ ا ن کی دیکھا دیکھی پورا معاشرہ حرام خوری کی دوڑ میں شریک ہوچکا ہے اب نہ تو خدا کا خوف ہے اور نہ ہی آخرت اور دنیاوی سزائوں کا۔ جس کا جو جی میں آتا ہے کرتاہے جبکہ اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی معاشرتی برائیوں کے اثرات سے پورا معاشرہ متاثر ہو رہا ہے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved