اصل غدار کون؟
  23  مارچ‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز
قومیں جب بیمار ہوتی ہیں تو اس کے افراد میں جہاں دیگر خرابیاں پیدا ہوتی ہیں وہیں سب سے بڑی خرابی یہ پیدا ہوتی ہے کہ افراد ذاتی مفادات کو قومی مفادات پر ترجیح دینے لگتے ہیں۔ یہ عام افراد نہیںہوتے بلکہ قوم کے بڑے لوگ ہوتے ہیں۔ قدرت کے قوانین بھی کیا عجیب ہیں کہ بڑے رتبے کے لوگ خراب ہو جائیں تو ساری قوم تباہی و بربادی کا شکار ہو جاتی ہے اور جب یہی گنتی کے بڑے لوگ ٹھیک ہو جائیں تو قوم کبھی زوال پذیر نہیں ہوتی۔ زمانۂ قریب میں جاپان کی ایک درخشاں مثال ہمارے سامنے ہے۔ ایک ایسے وقت جب قرب و جوار کے تمام جزیرے و ممالک ایک ایک کرکے یورپی اقوام کے سامنے سرنگوں ہو رہے تھے تو جاپان جیسے چھوٹے سے جزیرے پرقبضہ ہونے سے رہ گیا۔ انیسویں صدی کے آخر تک ہندوستان ، سنگاپور ، فلپائن ' انڈونیشیاء ، ویت نام اور چین سمیت تقریباً تمام جنوبی و مشرقی بعید کے ایشیائی ممالک زیرِ نگین ہوچکے تھے مگر جاپان کی اشرافیہ نے جاپان کو بچا لیا۔ جاپان کے بڑے لوگوں نے تہیہ کیا کہ انہیں اپنی زمینیں اور سرمایہ اپنے لوگوں میں بانٹنا پڑا تو وہ بانٹ دیں گے مگر کسی بیرونی طاقت کو اپنے جزیرے پرقبضہ نہیں کرنے دیں گے۔ جاپانی قوم کے بڑے افراد کا یہ جذبہ اور عمل نہ صرف جاپان کو بچا گیا بلکہ میجی انقلاب کے بعد جاپان دیکھتے دیکھتے دنیا کی ایک عظیم قوت بن گیا۔ وہ جاپان جس کو ''لٹل بوائے'' اور ''فیٹ مین'' (Fat Man)نامی بم ایٹمی تباہی سے دوچار نہ کرتے تو ہندوستان سمیت آدھا ایشیاء آج جاپان کی کالونی ہوتا اور صرف معاشی نہیں بلکہ فوجی لحاظ سے تمام دنیا میں جاپان کا طوطی بول رہا ہوتا۔ قوم کے بڑے افراد لیکن جب اپنی خواہشات کے غلام بن کراپنی ترجیحات کا تعین کرنا شروع کر دیں اور بھول جائیں کہ رتبے اور مناصب کے اعتبار سے کتبنی بڑی ذمہ داری ان کے سر پر ہے تو پھر پاکستان جیسے روشن امکانات رکھنے والے ملک بھی دنیا کے سامنے ذلیل و خوار ہوتے پھرتے ہیں۔ زرداری صاحب کو اللہ نے رتبہ عطا کیا، کہاں ان کا ''بے داغ'' ماضی اور کہاں صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان کا منصب جلیل؟ زرداری مگر اپنے مفادات کے اس درجہ اسیر رہے کہ پاکستان کے قومی مفادات داؤ پرلگا دیے گئے۔ حسین حقانی فقط ایک مہرہ تھا، اس کی کیا مجال تھی کہ اپنے باس کی ترجیحات سے ہٹ کر کوئی کام کرنے کی جرأت کرتا۔ اپریل 2008ء سے لے کر نومبر 2011ء تک وہ ساڑھے تین سال امریکہ میں پاکستان کا سفیر رہا۔ اس دوران کیا کیا اندھیر نگری ہوتی رہی،پاکستان عملی طور پر سی آئی کے اہل کاروں کی شکار گاہ بنا رہا مگر زرداری صاحب گویا ہوئے اور نہ ہی وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کا حقانی صاحب کے متعلق کوئی اعتراض سامنے آیا۔ ملک کے سلامتی کے ادارے بے چین تھے اور اس دوران سارا عرصہ وہ مضطرب رہے کہ ملک مفادات کو اپنے وعدوں کی بھینٹ چڑھایا جا رہا تھا جو پیپلز پارٹی کی قیادت نے امریکی انتظامیہ سے اقتدار حاصل کرنے کے عوض کیے تھے۔ کونڈولیزارائس کی کتاب نے وہ پردہ چاک کر دیا کہ کیسے پاور شیئرنگ کے فارمولے کے لیے امریکی انتظامیہ اپنا کردار ادا کرتی رہی۔ محترمہ بے نظیر بھٹو نے امریکیوں کو ہمیشہ قائل کرنے کی کوشش کی اور وہ اور ان کی جماعت امریکہ کی خواہشات کے عین مطابق کام کرنے کی زیادہ صلاحیت رکھتی ہے۔ ان کے امریکہ میں دیے گئے بیانات ریکارڈزپرہیں کہ امریکیوں کو جنرل مشرف پر بھروسہ کرنے کی بجائے ان پر اعتماد کرنا پڑا۔ برسوں وہ کوشش کرتی رہیں تاآنکہ ان کا آئیڈیا قابل عمل سمجھا گیا اور جنرل صاح بکے ساتھ ان کے شراکت اقتدار کی راہ ہموار کی گئی ۔ بی بی کی ناگہانی موت کے بعد آصف زرداری نے اس مشن کو جاری رکھنے کی جس طرح کوشش کی اس کا عملی اظہار حسین حقانی جیسے مہروں کی ''کارکردگی'' کی صورت میں ہمارے سامنے آتا رہا۔ میموگیٹ کیا تھا؟ اصل محرک اور کردار جو پاک فوج کے خلاف امریکیوں سے مدد مانگ رہاتھا وہ کون تھا؟ آج ہم اگر آنکھیں موند لیں جیسا کہ ہم ہمیشہ بند کرتے آئے ہیں تو اور بات ہے ورنہ یہ ایک حقیقت ہے کہ قوم کے بڑوں نے زرداری عہد میں قومی مفادات کو اپنے ذاتی مفادات کے مقابلے میں زیادہ اہمیت نہ دی۔ آپ میاں میاں نواز شریف اور ان کی ٹیم کو بھی بری الذمہ نہیں قرار دے سکتے ۔ امر واقع ہے کہ انہوں نے بھی دو مواقع پر ملکی مفادات سے زیادہ اپنی جماعت اور اپنی ذات کے مفادکو اہم اور مقدم جانا۔ ایک موقع وہ تھا کہ جب نواز شریف اپنی پوری مرکزی ٹیم کے ہمراہ رچرڈ باؤچر سے ملنے امریکی سفارت خانے تشریف لے گئے۔ کچھ دنوں بعد مسلم لیگ ن کے چیئرمین جن کے ساتھ میرا احترام کا رشتہ ہے' سے بصد ادب گزارش کی کہ آپ نے امریکی سفارت خانے جا کر پیپلز پارٹی کی بارگینگ پاور ختم کردی ہے ، بحیثیت سیاسی جماعت مسلم لیگ ن کا مفاد شاید اسی پالیسی میں تھا جو آپ نے اختیار کی لیکن قومی مفاد اس میں تھا کہ آپ وار آن ٹیرر پرسخت موقف اپناتے تاکہ پیپلز پارٹی مسلم لیگ ن کو ڈراوا دے کر امریکیوں کی سخت شرائط کے سامنے کھڑی ہو سکتی۔ میرا استدلال تھا کہ بسا اوقات حکومتیں اپوزیشن کے پیچھے چھپ کر قومی مفادات کا بہترتحفظ کرنے میںکامیاب رہتی ہیں۔ افسوس مگر یہاںاس طرح کون سوچتا ہے۔ یہ وہ ملک ہے جہاں اُٹھتے بیٹھتے ہر کسی کو اپنی اور صرف اپنی فکر لاحق ہے ، چاہے وہ بزم سیاست کے مکین ہوں یا عام گھروںمیںرہنے والے۔ عام تو ہمیشہ اپنے بادشاہ کی راہ پرہوتے ہیں۔ ملک کے بڑے جب نفسا نفسی کا شکار ہوں گے تو عام آدمی تو ویسے ہی اپنے آپ کو بڑاغیر محفوظ سمجھتا ہے چنانچہ وطن عزیز میں حشر کا سامان جاگتی آنکھوں دیکھا جا سکتا ہے۔ دوسرا موقع جب میاںنواز شریف نے قومی مفادات کو اہمیت دینے کی بجائے انہیں پس پشت ڈالا وہ میمو گیٹ کی پٹیشن سے پیچھے ہٹنے کا تھا۔ْ عاصمہ جہانگیر کے شور و غوغا کے سامنے ہتھیار ڈال دیے گئے اور حسین حقانی کو ملک سے فرار ہونے دیا گیا۔آج حکومتی اور اپوزیشن بنچوں سے حسین حقانی کو غدار جیسے القابات سے نوازا جا رہا ہے حالانکہ گزرے دنوں کی باتیں اور حقائق کو ملحوظ خاطر رکھا جائے تو لامحالہ ایک سوال زبان پر آتاہے کہ قومی مفادات کا اصل غدار کون ہے؟

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 



 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved