کیسٹ پلیئر
  24  مارچ‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

وہ صاحب ایک مرتبہ پھر توجہ حاصل کرنے میں کامیاب رہے جنہیں ایک عام پاکستانی ' مفرور' سمجھتا ہے۔ ماضی میں انہیںپاکستانی وزارت خارجہ میں تعینات '' امریکہ کا سفیر '' بھی کہا جاتا تھا ۔ جس جماعت نے انہیں سفارت کے' منصبِ خاص ' کے لئے منتخب کیا تھا وہی آج انہیں' غدار ' قرار دے رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ انہیں منتخب کرنے والوں کو آخر کیا سمجھا جائے ؟ موصوف نے اپنے تازہ ترین مضمون میں جو کچھ ارشاد فرمایا اس میں نیا کچھ نہیں۔ جس واقعے کی بنیاد پہ یہ شوشہ کھڑا کرکے سابق سفیر خبروں کا مرکز بنے ہوئے ہیں اس کے متعلق مغربی میڈیا میں بھی مختلف متضادآراء پائی جاتی ہیں۔ سیموئل ہرش جیسے نامور صحافی نے گزشتہ برس اپنے مضمون میں جو مؤ قف اختیار کیا وہ 'امریکہ بہادر ' کے سرکاری موقف کی کلیتاًنفی کرتا تھا۔ سابق سفیر عرصہ دراز سے بیرون ملک مقیم ہیں۔ انہیں پاکستان سے زیادہ بھارت آمدورفت میں آسانی محسوس ہوتی ہے۔ وہاںان کی پذیرائی بھی بہتر ہوتی ہے۔ جن صلا حیتوں پہ وہ نازاں ہیں ان کی قدر افزائی فی زمانہ امریکہ و بھارت میں ہی ہو سکتی ہے۔ ہمارے میڈیا میں خبر کی اہمیت نہیں بلکہ' عارضی چمک' دمک ، کو مدِنظر رکھ کے قوم کا قیمتی وقت برباد کیا جاتا ہے۔ اس طرز عمل کا اندازہ اس امر سے بھی لگایا جا سکتاہے کہ سابق سفیر صاحب ، کے مضمون کے حوالے سے 'قومی سلامتی' کی 'باسی کڑھی ' کو ابال دینے کیساتھ ساتھ ایک مخصوص طرز کی شہرت رکھنے والی اداکارہ کی ' خلع' اور دار العلوم میں طے پانے والی' صلح' کی خبر کو میڈیا پہ یکساںکوریج دی جا رہی تھی۔سابق سفیر صاحب کی مثال' کیسٹ پلیئر' جیسی ہے۔ جس کی کہ اپنی آواز نہیں ہوتی ۔ مالک جو کیسٹ ڈال دے وہی آواز پلیئرسے برآمد ہوتی ہے۔ حقانی نام کے اس کیسٹ پلیئر سے کبھی جمیعت کے ترانے بجائے گئے۔ کھبی' مرد مومن مردحق ' کی مدح سرائی جاری ہو گئی۔ آئی جے آئی اور پی پی پی کا معرکہ ہوا تو اس کیسٹ پلیئر سے مرحومہ وزیر اعظم صاحبہ کے خلاف مغلظات کا سیلاب اُمڈ آیا۔ اس کیسٹ پلیئر پہ سری لنکا اور امریکہ میں سفارت کاری کے نغمے بھی بجائے گئے۔ کئی ہاتھوں سے گزر کر آج یہ کیسٹ پلیئر غیر ملکی مالکوں کے ہاتھ جا لگا ہے۔ اب اس کیسٹ پلیئر پہ لبرل ازم ، روشن خیالی، جمہوری اقدار ، اقلیتوں کے حقوق اور بھارت سے علاقائی تعاون کے لیکچر جاری ہیں۔ اس بات کی تعریف کرنی چا ہئے کہ کثرت استعمال کے باوجود اس کیسٹ پلیئر کی کارکردگی میںکوئی فرق نہیں پڑا۔ اس کی مانگ اندرونِ ُملک بھی بہت تھی اور اب بیرونِ ملک بھی اس کے طلبگاروں کی تعداد کچھ کم نہیں۔ پرانی اشیاء کی کارکردگی بہتر کرنے کے لییء اُن پہ کچھ خرچا کرنا پڑتا ہے۔ اس کیسٹ پلیئر کی مرمت پہ بھی موجودہ مالکان نے دل کھول کے خرچا کیاہے اور اس بات کا اندازہ اس سے برآمد ہونے والی زوردار آواز سے ہو رھا ہے۔ جو کیسٹ پلیئر کبھی ہماری اشرافیہ کے دل لبھانے کے کام آتا تھا وہ آج' پنجہء اغیار' میں ہے۔ حیرت اس امر پہ ہے کہ سابق مالکان سے اس کیسٹ پلیئر کی نئی آواز برداشت نہیں ہورہی۔ اس بے زبان کیسٹ پلیئر کے احتساب کے لیے کمیشن بنانے کو تُلے بیٹھے ہیں۔ یہ زیادتی ہے۔غور کیجئے کہ گاڑی میں بلند آواز سے میوزک بجانے کے جرم میں ٹریفک سا رجنٹ گاڑی کے مالک کا چالان کرتاہے، کیسٹ پلیئر یا گاڑی کا نہیں۔ جیساکہ کیسٹ پلیئر کی اپنی آواز نہیں ہوتی اُسی طرح حقانی صاحب کی بھی اپنی کوئی آواز نہیں۔ ماضی کی طرح آج بھی وہ اپنے مالک کی جانب سے ڈالی گئی کیسٹ کو زورو شور سے بجا رہے ہیں۔ کسی میں ہمت ہے تو وہ موجودہ مالکان سے شکایت کرے۔ مالکان سے شکایت کے حوالے سے چند چلبلے خیالات ذہن میں ابھرے ہیں۔ پہلا خیال تو یہ ہے کہ اس شرپسند کیسٹ پلیئر کے تین سابق مالکان تو آج کل ملک میں ہی دستیاب ہیں۔ ایک غالباً سابق صدر پاکستان ہوتے ہیں جبکہ دوسرے سابق وزیراعظم اور تیسرے تو آج کل وزارتِ عظمٰی کے منصب پہ فائز ہیں ۔ اس ملکیت کی کچھ کچھ شراکت داری ایک سابق وزیرخارجہ کے پاس بھی رہی ہے جو آج کل نئے پاکستان کی جدوجہد میںمصروف ہیں۔ دوسرا خیال ہمارے ذہن میں یہ آرہا ہے کہ ہر کیسٹ پلیئر میں Stop اور Pauseکا بٹن بھی ہوتا ہے۔ سابق مالکان یہ کوشش تو کر ہی سکتے ہیں کہ موجودہ مالکان ان بٹنوں کا استعمال کرکے کیسٹ پلیئر کو خاموش کر دیں۔ یہ امر بھی ذہن میںر ہے کہ Volume کے بٹن سے آواز بڑھائی بھی جاسکتی ہے اور اگراچھے معیار کے اسپیکرلگا دیئے جائیں تو چھوٹے سے کیسٹ پلیئر کی آواز کی گنا بڑھائی بھی جا سکتی ہے۔ ہے ناںمزے کی بات!۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved