شان رسالتۖ ' سیکولر لابی اور حکومت
  26  مارچ‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز
ناموس رسالتۖ کا معاملہ مسلمانوں کے لئے اس لئے اہم ہے کہ اسی بنیاد پر ان کے دی کی عمارت کھڑی ہے۔ اسلام کے دشمنوں نے ہمیشہ اس بنیاد کو نشانہ بنانے کی کوشش کی ہے لہٰذا نبیۖ کی زندگی میں ہی اس جرم کو قابل گردن زنی قرار دیا گیا۔ ابتدائے اسلام سے لیکر آج تک اسلام مخالف قوتیں اپنی اس مذموم حرکت سے باز نہیں آئیں بلکہ وہ وقفے وقفے سے مختلف صورتوں میں اپنی حرکت کا اعادہ کرتی چلی آرہی ہیں۔ برصغیر میں اکبری عہد کے جب ''دین الٰہی'' کا غلغلہ بلند ہوا تو شاہی سرپرستی میں ایجاد ہونے الے اس دین نے رسالتۖ کے باب کو ہی بند کرنے کی مذموم کوشش کی۔ تاریخ کے طالب علم جانتے ہیں کہ یہ وقت تھا جب پرتگیزی مشنری برصغیر میں بروئے کار تھے اور بادشاہ سلامت ان کا ہدف تھے۔ بعض مشنریوں کا دعویٰ تھا کہ اکبر بادشاہ نے اسلام ترک کر دیا ہے جس بادشاہ کے حکم سے جمعہ کے خطبہ سے نبیۖ اکرم کا نام گرامی نکال دیا جائے اور جس کے حکم سے نئے دین کے ماننے والے اپنے ناموں کے ساتھ لفظ ''محمدۖ'' حذف کرنا شروع کر دیں اس بادشاہ کے بارے میں تاثر پھیلنا یقینی تھا کہ وہ مسلمان نہیں رہا۔ اس دور میں شیخ احمد سرہندی اٹھے اور بادشاہ کی حرکتوں کے مقابلے میں دین محمدیۖ کی دونوں بنیادوں کو مستحکم کرنے کا بیڑاہ اٹھیا۔ توحید الٰہی اور شان رسالت کے باب میں ان کی ابتدائی کوشش ''رسالہ تہلیلہ'' اور ''اتباب النبوتۖ'' کی صورت میں سامنے آئی۔ مسمان امراء اور عوام میں شعور بیدار ہوا اور شیخ احمد سرہندی عامة المسلمین کے دربار میں ''مجدد الف ثانی'' کا خطاب پا گئے۔ بادشاہ کی کوشش ناکام ہوئی اور دین محمدیۖ اپنی اصل کے ساتھ محفوظ رہا۔ اکبری عہد سے لیکر پاکستان بننے تک مختلف سوچوں کے دو دھارے قائم رہے۔ ایک طرف چھوٹا سا گروہ تھا جو نام نہاد سیکولر ازم کا داعی بن کر اغیار کے ہاتھوں میں کھیلتا رہا جبکہ دوسری جانب مسلمانوں کا سواداعظم ہے جس نے ہمیشہ دین کی تعلیمات کو قابل تقلید سمجھا اور توحید الٰہی و شان رسالتۖ پر کبھی کوئی سمجھوتا نہ کیا۔ پاکستان بنتے وقت جن لوگوں نے اکبری نظریات کی حمایت کی ان کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں تھی لیکن پاکستان مخالف تحریک میں ان کو آلہ کار بنا کر استعمال کیاگ یا اور وہ بخوشی استعمال ہوئے۔ آج بھی اکبری نظریاتی کا حامل وطن عزیز میں محض گنتی کے لوگ ہیں لیکن چونکہ ان کے نام مسلمانوں والے ہیں اور وہ مسلمان ہونے کا لبادہ اوڑھے ہوئے ہیں لہٰذا دشمنان اسلام ان کو استعمال کرتے ہیں اور وہ چند ٹکوں کے عوض اپنی خدمات انہیں پیش کر دیتے ہیں۔ ایسے ہی لوگوں کے بارے میں سورہ الحجرات میں فرمایا گیا ہے کہ یہ صرف مسلمان ہیں چونکہ ایمان ابھی ان کے قلوب میں داخل نہیں ہوا ہے۔ مسلمان یہاں مطیع ہونے کے تناظر میں کہا گیا ہے اور سچ بات یہ ہے کہ ناموس رسالتۖ میں گستاخی کا ارتکاب کرنے والے اپنی جان بچانے کے لئے صرف نام کے مسلمان ہی تو ہیں ورنہ نبیۖ کی شان میں گستاخی کے بعد دائر اسلام میں کسی شخص کا رہنا خارج ازامکان ہے ۔ مسلمان تو وہ ہے جو اپنے پیارے آقاۖ کی شان کی حفاظت کے لئے کٹ مرنے کو ہر دم تیار رہتا ہے۔ نمازیں اچھی روزہ اچھا حج اچھا زکوٰة اچھی مگر باوجود اس کے میں مسلمان ہو نہیں ہوسکتا نہ جب تک کٹ مروں میں خواجہ یثرب کی عزت پر خدا شاہد کامل مرا ایمان ہو نہیں سکتا اسلام آباد ہائی کورٹ کے معزز جج صاحب نے درست کہا کہ جب ریاست گستاخی کے مرتکب افراد کے خلاف حرکت میں نہیں آتی تو پھر معاشرے میں ممتاز قادری جنم لیتے ہیں۔ ہم نے دیکھا کہ ہائی کورٹ کے حکم سے پہلے ریاست خاموش تھی لیکن عزت مآب صدیقی صاحب کی ججمنٹ نے جب سب کا جب ضمیر جھنجھوڑا تو اب ہمیں شان رسالتۖ کے حوالے سے ریاست کی مثبت پیش رفت دکھائی دینے لگی ہے۔ اس ضمن میں بلاگرز کی بندش کے بعد اہم ترین کام مسلمان ممالک کے محترم سفراء کا اجلاس اور مشترکہ حکمت عملی پر اتفاق رائے ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ نے ناموس رسالتۖ کے تحفظ کے لئے وقتی اور ظاہری چند اقدام لینے کی بجائے ٹھوس اقدامات لینے کا جو ارادہ ظاہر کیا ہے وہ لائق تحسین تو ہے مگر سوال یہ ہے کہ کیا وہ لمبے عرصے تک اپنے پروگرام پر کاربند رہ سکیں گے اور اس اہم کام کو اپنی ترجیح اول کے طور پر جاری رکھ پائیں گے۔ یہ سوال اس لئے اہم ہے چونکہ نواز شریف صاحب کی حکومت کا اب تک جوامپریشن بنا ہے وہ یہ ہے کہ نواز حکومت مملکت کے اسلامی تشخص کے تحفظ اور اس کے فروغ کے حوالے سے عدم دلچسپی کا شکار ہے۔ وزیراعظم اقلیت کی ہندو برادری کی تقاریب میں بڑے خوش و گرموجش نظر آتے ہیں چنانچہ برداشت اور مذہبی ہم آہنگی کی باتیں کرتے ہوئے وہ کئی بار حد سے تجاوز کرتے ہوئے محسوس کرتے ہیں ۔مذہبی رواداری بلاشبہ ضروری ہے مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ ریاست کے بنیادی تشخص کو ہی غلط ملط کر دیا جائے۔ ریاست کے سپانسرڈ اشتہاروں میں قائداعظم کی گیارہ اگست1947ء کی اس تقریر کے اقتباس کو خاص طور پر پیش کیا جارہا ہے جو قائد اعظم نے اگرچہ مذہبی رواداری کے فروغ کے لئے کی تھی مگر آج اس تقریر کی بنیاد پر ریاستی سیکولر ازم کا تاثر پیدا کیا جارہا ہے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ مسلمانوں میں سیکولر ازم کا داعی وہ چھوٹا سا گروہ جو ہمیشہ مسلمانوں کی بڑی جماعت کے ساتھ برسرپیکار رہا اور شکست کھاتا رہا آج کے پاکستان میں قائداعظم کی اس تقریر کو بنیاد بنا کر سیکولر ازم کی دہائی گزشتہ 70سال سے دے رہا ہے۔ نواز حکومت کا اس تقریر کو نشر کرنے کا مطلب واضح طور پر سیکولر لابی کا ہم خیال ہونا ہے۔ سیکولر لابی قائداعظم کی اس تقریر کی تشریح جس طرح کرتی ہے اس کو اگر نواز حکومت کا موقف سمجھ لیا جائے تو اس کا مطلب ہے کہ نواز شریف اور ان کی کابینہ یہ سمجھتی ہے کہ مذہب کا حکومت کے کاروبار میں کوئی تعلق نہیں ہے' یعنی ریاست کے جس سالامی تشخص پر ہم اب تک نازاں رہے ہیں وہ نواز حکومت کی ترجیح میں اب موجود نہیں رہا ہے۔ میاں نواز شریف کی حکومت کے بارے میں یہ بدگمانی بلاوجہ نہیں ہے بلکہ نواز شریف صاحب کی تازہ دوستیاں اور بعض اقدامات اس تاثر کی وجہ بنے ہیں۔ اب آئیے مغربی ممالک کے اسلام مخالف رویے کی جانب جو مسلمانوں کے لئے پریشانی کا باعث بن رہا ہے۔ مغربی ممالک نے آزدی و اظہار کے نام پر مذہبی دہشت گردی کی جو چھوٹ دے رکھی ہے اس کو کائونٹر کرنے کے لئے اب تک کوئی متحدہ کوشش مسلمان ممالک کی طرف سے نہی ہوئی ہے چنانچہ ایک منصوبہ بندی کے تحت اب سوشل میڈیا کو استعمال کرکے شان رسالتۖ کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ پاکستان خاص طور پر اس مذموم مہم کے نشانے پر ہے۔ تشویش ناک بات یہ ہے کہ جو لوگ اظہار رائے کی آزادی کو بنیادی بنا کر گستاخی کے مرتکب افراد کے حق میں آواز اٹھاتے ہیں ان میں سے اکثر احباب نواز حکومت کے ہمنوا اور حمایتی سمجھے جاتے ہیں ۔ ان افراد کا تعلق میڈیا' سول سوسائٹی اور دیگر اہم طبقات سے ہے۔ ان حالات میں مجھے نہیں لگتا کہ وفاقی وزیر داخلہ مکمل توجہ کے ساتھ اپنی کوششوں کو آگے بڑھانے میں کامیاب رہیں گے۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 



 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved