سیاسی پیش بندیوں کا موسم اور عمران خان
  30  مارچ‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز
سیاست میں پیش بندی کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ ویسے تو ہم ری ایکٹو قسم کے لوگ ہیں مگر ہماری سیاسی اشرافیہ اپنی بقا و سلامتی کے بارے میں خاصی پروایکٹو ہے۔ کاش پاکستان کی سلامتی اور خوشحالی کے لیے بھی یہ لوگ اتنے ہی پرو ایکٹو ہوتے تو آج پاکستان کا نقشہ کچھ اور ہوتا۔ مسلم لیگ ن کی پیش بندی پانامہ پیپرز کیس کے متوقع فیصلے کے حوالے سے ہے جب کہ زرداری صاحب متوقع فیصلے کے مضمرات کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے بھان متی کا کنبہ جوڑنے کی منصوبہ بندی میں مصروف عمل ہیں۔ ان کا تازہ ترین ارشاد ہے کہ ن لیگ سے پورا پنجاب چھین لیں گے ۔ پنجاب کیسے پیپلز پارٹی کی جھولی میں جائے گا اور یہ معجزہ کیسے بپا ہو گا ، کم از کم میری سوچ اور سمجھ سے یہ بالاتر ہے۔مسلم لیگ ن کا پیپلز پارٹی کے ساتھ پنجاب میں کوئی مقابلہ نہیں ہے۔ مسلم لیگ ن کا واحد خوف یہ ہو سکتا ہے کہ آصف زداری مسلم لیگ ن کی مخالف قوتوں کو جوڑ توڑ کے ذریعے اپنے ساتھ ملا سکتے ہیں۔ عمران خان اور ان کی جماعت کا مقدمہ بہت مضبوط ہے چنانچہ ایک جانب پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے خلاف رائے ہموار کرنے کے لیے ان کے پاس بہت مواد اور بڑا میدان موجود ہے تو دوسری جانب تحریک انصاف کی پاکستانی سیاست میں افادیت کے حق میں اب بھی کہنے کے لیے بہت کچھ ہے۔ سب سے بڑی خصوصیت جو عمران خان کو اپنے حریف سیاستدانوں پر حاصل ہے وہ ان کی پرو پاکستان آزاد اور خودمختار سوچ ہے۔ جدید پیپلز پارٹی کا تو خمیر ہی بیرونی ایجنڈے کے مطابق اپنی پالیسیاں تشکیل دینے پر اٹھایا گیا ہے مگر اب نواز شریف بھی اپنی سوچ گنوا کر وہ لائن لینے لگے ہیں جو امریکہ و دیگر مغربی ممالک کی ہے۔ بے نظیر بھٹو نے اپنا اولین اقتدار حاصل کرنے کے لیے امریکی مدد مانگی اور جب انہیں اقتدار سے نکالا گیا تو انہوں نے امریکی سینیٹرز کو جو خطوط لکھے اس سے عیاں ہو گیا کہ وہ امریکیوں کو قائل کرناچاہتی ہیں کہ ان کی اقتدار میں موجودگی امریکی مفادات کے تحفظ کے لیے ازحد ضروری ہے۔ انہوں نے پاکستان کے معروضی حالات میں اپنی ذات کو اہلِ مغرب کے لیے ناگزیر قرار دیا جب کہ ان کی جماعت کے مردِ حر آصف علی زرداری نے ان کے وفات کے بعد ''معاملہ''کرنے کی پالیسی ترک نہ کی بلکہ اس فن میں وہ بی بی سے بھی آگے بڑھ گئے۔ میاں نواز شریف بھی بتدریج اس قبیلے میں شامل ہوئے ہیں۔ انہوں نے یہ فرض کر لیا ہے کہ امریکہ اور بھارت سے بنا کر رکھنے میں عافیت اور بقا ہے۔ کوئی کام کرنے سے قبل وہ امریکی منشا کا خیال کرنے لگتے ہیں ، گزشتہ 4چار سالوں سے عوام وہ نواز شریف ڈھونڈ رہے ہیں جس نے امریکہ کی مخالفت میں چھ ایٹمی دھماکے کیے تھے اور جس کے دل میں پاکستان کے حالات بدلنے کی تڑپ تھی۔ یہ وہ نواز شریف ہیں جو اپنے اسلامی تشخص کو بھلا کر سیکولر لابی کے ساتھ اس لیے شیر وشکر ہو چکے ہیں چونکہ اہل مغرب کے ہاں ان کی پذیرائی ہے اور ان کو ساتھ رکھنے کا مطلب مغربی دوستوں کو اطمینان دلانا ہے کہ حکومت پاکستان ان کی سوچ کو اہمیت دیتی ہے۔ ان کے مقابلے میں عمران خان اپنی سوچ کا آدمی ہے۔ ایک ایسا آزاد منش انسان ہے جسے اس بات کی کوئی پروا نہیں کہ اس کے کسی اقدام سے یا اس کی اپنائی گئی کسی پالیسی سے اہل مغرب خوش ہوں گے یاناراضگی کا اظہار کریں گے۔ عمران خان نے اپنی جماعت بنانے کے لیے فوج کی مدد لی اور نہ ہی امریکہ سمیت کسی مغربی آقا کو پکارا ، وہ سینہ تان کر سیاسی نظام میں موجود خرابیوں کے خلاف ڈٹ کر کھڑا رہا اور اپنی جہد مسلسل اور مستقل مزاج کے طفیل پاکستان کے عوام میں اپنی جگہ بنائی۔ آج وہ روایت پرست سیاسی جماعتوں کے مقابلے میں ایک متبادل سیاسی قوت کے طور پر موجود ہے۔ ایک ایسی سیاسی قوت جو پاکستان کی بہتری کے لیے پرو پاکستان ایجنڈے پر یقین رکھتی ہے۔ عمران خان کو واضح طور پر اپنے سیاسی حریفوں پر سبقت اور امتیاز حاصل ہے کہ وہ پاکستان کے لیے ایک پاکستانی بن کر سوچتے ہیں اور امریکہ یا برطانیہ کی خوشی ان کے پاں کی زنجیر نہیں بنتی ہے۔ انہوں نے خیبرپختونخوا میں جو بھی کام کیے ہیں وہ کسی خاص بیرونی ایجنڈے کی تکمیل کے لیے نہیں بلکہ ان کاموں سے عوام کا معیار زندگی بہتر بنانے کا خلوص و سنجیدگی چھلکتی ہے۔ پاکستان کے سیاسی نظام کی خرابیوں میں سے ایک یہ ہے کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن جیسی جماعتیں چاہتی ہیں کہ عوام کی حقائق تک رسائی نہ ہو تا کہ ان کے وہ ''کارنامے'' عوام کی آنکھوںسے اوجھل رہیں جو ان کے قائدین اپنے کاروبار کو فروغ دینے کے لیے سرانجام دیتے ہیں یا پھراپنے بیرونی آقاں کو خوش کرنے کے لیے انجام دیتے ہیں۔ تحریک انصاف نے اس برائی کے خاتمے کے لیے ''رائٹ ٹو انفارمیشن'' کا جو قانون کے پی کے میں متعارف کرایا ہے اس کی تحسین اندرون وبیرون ملک سے ہو رہی ہے۔ کالم کی جگہ لمبی تفصیل میں جانے میں رکاوٹ ہے ورنہ لوکل گورنمنٹ پالیسی سے لے کر پولیس کے نظام میںبہتری کی پالیسی تک ان نکات کی لمبی چوڑی فہرست بن سکتی ہے جو عمران خان کی سوچ کو اپنے سیاسی حریفوں کی سوچ اور اپروچ سے ممتاز کرتی ہے۔ میں سمجھنے سے قاصر ہوں کہ عمران خان اور ان کی ٹیم عوام کے سامنے یہ فرق پیش کیوں نہیں کرتی اور اس کی بنیاد پر اپنا مقدمہ قائم کرنے کی کوشش کیوں نہیں کر رہی۔ اس اعتبار سے تحریک انصاف کا ہوم ورک کمزور نہیں بہت ہی کمزور ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج اپنی کارکردگی کی بجائے تحریک انصاف پانامہ کیس کے فیصلے پر انحصار کر رہی ہے۔ خدانخواستہ اگر فیصلہ تحریک انصاف کی خواہش کے مطابق نہیں آتا تو تصور کیا جا سکتا ہے کہ کارکنان اور تحریک انصاف کے حمایتیوں میں کس قدر ناامیدی پھیلے گی۔ نجانے کیوں عمران خان وہ پیش بندی نہیں کر رہے جو مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی متوقع فیصلے کے حوالے سے کرنے میں مصروف ہیں۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 



 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved