حرام کی کمائی کی مختلف صورتیں
  2  اپریل‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز
گزشتہ کالم میں مال حرام کے اثرات کا ذکر کیا تھا۔ چونکہ مال حرام نے بحیثیت مسلمان ہماری شناخت تو قائم رکھی ہے مگر روح نکال دی ہے ۔ مال حرام ہمارے رگ و پے میں اس حد تک رچ بس گیا ہے کہ اب ہم مال حرام کو حلال سمجھ کر بلاخوف کھاتے ہیں۔ آج حرام مال کی مختلف نوعیت اور شکلوں کا ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں کیونکہ ہم میں سے اکثر بہت سے مواقع پر حرام کو حرام نہیں سمجھتے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ سرکاری مال میں خرد برد جائز ہے کیونکہ سرکار ایماندار حکمرانوں پر مشتمل نہیں کہ اس لئے اس بات میں کوئی مضائقہ نہیں کہ سرکاری مال کو جائز سمجھ کر کھا لیا جائے۔ مثلاً یوٹیلٹی بلز ادا نہ کرنا' بجلی چوری کرنا' گیس چوری کرنا' ریلوے ٹکٹ نہ خریدنا' دفتروں سے کاغذ' پنسل یا دیگر اشیاء کی چوری کرنا وغیرہ وغیرہ ہم میں بہت سے ایسے بھی ہیں جو زندگی بچانے کے لئے حرام اشیائے کے کھانے کو جائز قرار دئیے جانے والے شرعی عذر کا سہارا لیتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ چونکہ ماہانہ تنخواہ سے گھر کا گزارا نہیں ہوتا اور اگر رشوت کا پیسہ نہ لیں تو بچے بھوکے رہیں گے اس طرح ہم فقط اتنا لیتے ہیں کہ جس سے گھر کا گزر بسر احسن طریقے سے ہو جائے۔ ہم معذرت خواہانہ لہجہ اختیار کرکے کبھی بھی مال حرام کو حلال نہیں بنا سکتے۔ حرام حرام ہے اور حلال حلال ہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ رشوت یا مال حرام کا مطلب کسی کا جائز یا ناجائز کام کرنے کے عوض پیسہ لینا ہے' اس کے علاوہ وہ کسی قسم کے مال کو حرام نہیں سمجھتے۔ حالانکہ حرام کی بہت سی شکلیں۔ ہم سب کے لئے ضروری ہے کہ ہم رزق حلال و حرام کے حوالے سے خوب آگاہ ہوں اور اس پر عمل کرنے کی کوشش بھی کریں کیونکہ جیسا کہ میں نے پہلے بھی یہ مثال عرض کی تھی کہ زہر چاہے جان بوجھ کر کھائیں یا بھولے سے 'دونوں صورتوں میں زہر نے اپنا اثر دکھانا ہے۔ یہی حال رزق حرام کا ہے چاہے آپ جانتے بوجھتے یا پھر عدم آگاہی کی بناء پر بھی رزق حرام اپنے بچوں کو کھلائیں تو اس نے اپنا اثر چھوڑنا ہے۔ رشوت یا رزق حرام کمانے کا تعلق صرف سرکاری ملازمین تک محدود نہیں بلکہ ہر کمانے والا شخض چاہے وہ ملازم ہے ' مزدور ہو' کاروباری یا پھر کسی بھی شعبہ زندگی سے اس کا تعلق ہو وہ اپنے رزق کو حلال اور حرام دونوں طریقوں سے کما سکتا ہے۔ کام کے عوض رقم لینا یہ واضح ہے اور اسے ہم رشوت کہتے ہیں لیکن ملازمین کے لئے ڈیوٹی انجام دینے میں غفلت کرنا' دیر سے آنا اور جلدی چلے جانا' جو کام کا ٹاسک اسے ملا ہوا ہے اس میں کوتاہی کرنا' سرکاری مال کو ذاتی میں لانا مثلاً سرکاری پنسل اپنے ذاتی کام کے لئے استعمال کرنا' ذاتی کاغذات کی دفتر سے فوٹو کاپی کرانا' سرکاری گاڑی کو سرکاری کام کے علاوہ استعمال کرنا' ٹیلی فون کا غیر ضروری استعمال اور اسی طرح کی بھی کئی شکلیں ہیں جن کی وجہ سے ہم اپنی حلال تنخواہ میں حرام کی ملاوٹ کا ارتکاب کر بیٹھتے ہیں۔ حالانکہ آج کل مذکورہ بالا چیزوں کے استعمال کو بہت سے شریف' ایماندار اور حلال و حرام میں تمیز رکھنے والے بھی جائز سمجھتے ہیں۔ جبکہ یہ جائز نہیں ہے سرکاری دفاتر کا دورہ کریں اور اپنی آنکھوں سے سرکاری اشیاء کا بے دریغ استعمال دیکھیں تو سر چکرا جاتا ہے۔ افسران اسے اپنی ذاتی جاگیر سمجھتے ہیں۔ بازاروں' پارکوں میں آپ کو سرکاری گاڑیوں کی بھر مار نظر آئے گی۔ چپڑاسیوں اور ڈرائیوروں کو گھر کے کام کاج کے لئے ذاتی نوکر بنا کر رکھا ہوا ہے۔ کوئی پوچھنے والا نہیں۔ ان حرام خور افسروں نے لوٹ مار کا بازار گرم کر رکھا ہے اور پھر وہ اسے اپنا حق سمجھتے ہیں۔ سرکاری مال کی خریداری میں کمیشن مافیا متحرک ہوتا ہے ۔ اپنی اشیاء پر دفاتر کو سمجھتے ہوئے وہ کاروباری حضرات بھی حرام کھانے میں برابر کے شریک ہیں جو کمیشن مافیا کو غلط بل بنا کر دیتے ہیں۔ ایک ہزار روپے کی چیز کو پانچ ہزار روپے بل میں ظاہر کرتے ہیں۔ چار ہزار روپے سرکاری دفتروں میں بیٹھے ہوئے بڑے بڑے مگرمچھوں کے پیٹ میں جاتے ہیں۔ ماہ جون ان کے نوید لیکر آتا ہے۔ سرکاری دفتروں میں موجود یہ کمیشن مافیا کے ایک ایک فرد کو اس ماہ بلاشبہ لاکھوں روپے حرام کمانے کا موقع ملتا ہے۔ ٹھیکیداروں کو دیکھ لیں۔ جس سڑک' گلی' چار دیواری یا کسی اور چیز کا ٹھیکہ فرض کریں ایک کروڑ روپے میں جانا تھا وہ پانچ کروڑ کا ٹھیکہ نیلام ہوتا ہے۔ کیوں؟ کیونکہ ٹھیکیدار نے اپنے علاوہ وزیروں' ایم این اے' کونسلر' سرکاری اہلکار وغیرہ وغیرہ تمام کو اپنے ساتھ حرام میں شامل کرنا ہے تب جا کر اسے ٹھیکہ ملے گا جب وہ ٹھیکہ لیتا ہے تو پھر اپنی مرضی کا تعمیراتی سامان استعمال کرتا ہے کیونکہ اب اسے کسی کا خوف نہیں ہوتا یہی وجہ ہے کہ سڑکیں' پل اور دیگر سرکاری عمارتیں افتتاح سے پہلے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ حرام خوری کی اور بھی کئی شکلیں ہیں جو ہم جائز سمجھ کر کھا رہے ہیں۔ محکمہ تعلیم اور محکمہ صحت کو لے لیں۔ حکمرانوں کو تو ہم ہر کالم میں کوسنے دیتے ہیں مگر جو استاد بچوں کو پڑھانے میں غفلت کا ارتکاب کرتے ہیں یا پھر جو ڈاکٹر ' علاج کرتے ہوئے امیر اور غریب مریض میں تمیز کرتے ہیں یا سرکاری دوائیوں کو ذاتی استعمال میں لاتے ہیں تو کیا یہ مال حرام نہیں کھا رہے ؟ بلاشبہ ایسا بھی اللہ تعالیٰ ہم سب کو رزق حلال اور حرام میں تمیز کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 



 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved