کیا پاراچنار کے مقتولین کا خون سرخ نہیں تھا؟
  10  اپریل‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

ہم انسانی قدر و قیمت کھو چکے ہیں۔ اس مادہ پرست اور جنسی میلان رکھنے والی قوم کے نزدیک انسانی جان کی قیمت اداکارہ وینا ملک کی طلاق کے معاملے سے بھی کم ہے۔ ہمیں جتنا دکھ اور تکلیف وینا ملک کے طلاق کی خبر سے ہوئی اس کا عشر عشیر بھی ہم پارا چنار دھماکے میں دسیوں افراد کی ہلاکت سے متاثر نہیں ہوئے۔ انسانی جان کے ضیاع سے کہیں زیادہ دکھ ہمیں کرکٹ میچ ہارنے پر ہوتا ہے۔ آج ہم اس حد تک گر چکے ہیں کہ ایان علی کو غیر ملک جانے کی اجازت نہ ملنے پر پوری قوم کو دکھ اور افسردگی ہوتی ہے لیکن درجنوں تڑپتے لاشے ہمارے پتھر دلوں پر اثر نہیں کرتے۔ میڈیا کا کردار دیکھ لیں۔ وینا ملک کو طلاق ہوئی تو کئی روز تک میڈیا چیختا رہا۔ ایک مشہور مبلغ اس حد تک متاثر ہوئے کہ وہ صلح کرانے ان کے گھر چلے گئے۔ وینا ملک کی طلاق بہترین موضوع بحث بن گیا۔ ٹاک شور ہو رہے ہیں‘ طلاق کے موضوع پر ماہرین کی رائے لی جارہی ہے۔ خبروں میں زیادہ تر وقت اس موضوع کو دیا جارہا ہے۔ اس سے قبل جب ایان علی عدالت میں آئی تو جنسی شہوت میں مغلوب لوگوں کے لئے اس سے بڑی اور کوئی خبر نہیں تھی۔ جنسی پابندیوں کے اس ’’جس زدہ ‘‘ ماحول میں ایان علی‘ اور وینا ملک جیسی خواتین (اسلامی تقاضوں کے باعث ان خواتین پر کسی قسم کا تبصرہ کرنے گریز کر رہا ہوں) میڈیا کے لئے تازہ ہوا کا جھونکا ثابت ہوتی ہیں۔ پارا چنار میں دھماکہ ہوا تیس سے زائد افراد جان سے گئے مگر ہمارے میڈیا کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی۔ معمولات زندگی میں کوئی فرق نہ آیا۔ نہ وزیراعظم کو کچھ ہوا‘ نہ صدر مملکت اور نہ ہی وزراء کو‘ اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے سیاستدان بھی پانامہ کے کھیل میں پارا چنار میں انسانی ضیاع کی طرف متوجہ نہ ہوئے۔ آرمی چیف نے بیان دیا اور بس وزیر داخلہ کو بیان دینے کی بھی توفیق نصیب نہ ہوئی۔ پارا چنار میں دھماکہ ہوا اور پورے ملک میں ایسا ماحول تھا کہ جیسے اس ملک میں کچھ بھی نہیں ہوا۔ میڈیا نے اس ’’معمولی‘‘ واقعہ کی کوریج کو توہین سمجھا۔ میں حیران ہو رہا تھا کہ ہمارے میڈیا کو کیا ہوگیا ہے ۔ کیا پارا چنار کے بے گناہ اور معصوم لوگوں کا خون اتنا ارزاں ہے کہ اسے کوریج کے قابل بھی نہ سمجھا جائے؟ کیا پارا چنار میں بہنے والا خون انسانوں کا نہیں تھا؟ کیا وہاں کے لوگ محب وطن نہیں تھے؟ کیا وہ لوگ اس ملک کے رہائشی نہیں تھے؟ وینا ملک کی طلاق کے مسئلے پر چیخنے والا میڈیا اور اس طلاق پر پریشان ہونے والے مبلغین دو درجن سے زائد بے گناہ انسانوں کے قتل پر کیوں خاموش تھے؟ ہمیں کیا ہوگیا ہے ؟ کیا ہم اس قرآن کے ماننے والے ہیں کہ جو ایک انسان کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل کہتا ہے؟ کیا ہم اس پیغمبر اسلامؐ کے امتی ہیں کہ جنہوں نے فرمایا تھا ’’تمام مسلمان حسد واحد کی مانند ہیں اگر جسم کے کسی ایک حصے کو تکلیف پہنچے تو اسے پورا جسم محسوس کرتا ہے‘‘ آج ہم اپنے بھائیوں کی تکلیف کو اپنی تکلیف سمجھ کر کیوں محسوس نہیں کرتے؟ فرقہ واریت کی غلیظ اور مکروہ سوچ نے ہمیں کہاں سے کہاں پہنچا دیا ہے ہم کیا تھے اور اب کیا ہوچکے ہیں؟ شام کے خراب حالات کے باعث جب لوگ یورپ کی طرف پناہ تلاش کرنے کے لئے بحری سفر کر رہے تھے تو یورپ نے ان کے لئے وقتی طور پر اپنے دروازے بند کر دئیے۔ لیکن یورپ کے ساحل پر مرنے والے ایک بچے کی تصویر نے پورے یورپ کو ہلا کر رکھ دیا۔ لوگ انسانی ہمدردی کے تحت گھروں سے باہر نکل آئے۔ جلوس نکالے اور اپنی حکومتوں کے خلاف نعرے لگائے اور آخر کار یورپ کو مجبوراً ان پناہ گزینوں کو اپنے ہاں آنے کی اجازت دینا پڑی۔ مگر افسوس سرزمین پاک کی سرزمین پارا چنار پر معصوم بچوں کے جسموں کے چیتھڑے اڑ گئے۔ عورتوں کے جسم ٹکڑے ہوگئے مگر یہاں انسانی ہمدردی کے جذبات کا قحط دیکھنے کو ملاؒ ۔ ستم بالائے ستم ایف سی کے ظالم اور درندے اہلکاروں نے 24 لاشوں کے ساتھ احتجاج کرنے والوں پر گولیاں چلا دیں اور مزید تین افراد کو مار ڈالا اور درجنوں کے جسموں میں گولیاں پوست ہوگئیں۔ کسی نے اس کا نوٹس نہ لیا۔ افسوس کہ ہر سانحے پر اشکبار ہونے والے ہمدرد‘ وزیراعظم کو اس سانحے کی خبر نہ ہوئی۔ معمولی بات پر نوٹس لینے والے شریف برادران کو پارا چنار کی سرزمین پر بہنے والا سرخ خون دکھائی نہ دیا۔ انسانی ہمدردی کے جذبات کا ہر موقع پر اظہار کرنے والے اور گھر گھر جا کر تصویروں کے ساتھ چیک تقسیم کرنے والے وزیراعلیٰ صاحب کو بھی متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہمدردی کے دو بول بولنا بھول گئے ہیں۔ ہم نے قرآن کو بھلا دیا‘ ہم نے سیرت پاکؐ کو فراموش کر دیا۔ ہم انسانی قدروں کو کھو بیٹھے‘ ہم اسلام کے اعلیٰ اقدار اور روایات کی پاسداری کرنے میں غفلت کر بیٹھے۔ دراصل ہم آرمی کے لباس آدمیت گنوا بیٹھے‘ انسانی جامہ میں انسانیت کھو بیٹھے۔ اب ہم چلتے پھرتے لاشے ہیں۔ ہم تباہی کے دہانے پر میں شاید تباہ ہوچکے ہیں۔ ہم اللہ تعالیٰ کے عذاب کے منتظر ہیں نہیں شاید ہم پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوچکا ہے۔ ہم اس بذات باری تعالیٰ کو فراموش کر چکے ہیں۔ اب اس نے ہمیں بھلا دیا ہے۔ اللہ خیر کرے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved