صوبہ خیبر پختون خواہ ، نوے سال پہلے کے تناظر میں
  10  اپریل‬‮  2017     |     کالمز   |  مزید کالمز

(گزشتہ سے پیوستہ) مگر میں کہتا ہوں کہ ان کو وحشیانہ عادات اختیار کرنے پر خود انگریزی حکومت نے مجبور کیا ہے اور ایک پوری قوم کو وحوش و بہائم کی جماعت بنا دینے کی ساری ذمہ داری اسی پر عائد ہوتی ہے۔ جو قوم پوری تین ربع صدی سے مسلسل حالت جنگ میں زندگی بسر کر رہی ہو، جس کو ایک لمحہ بھی امن و سکون کے ساتھ رہنے کا موقع نہ دیا جائے، جس کو متواتر جنگ و پیکار سے اتنی فرصت ہی نہ ملے کہ کسب معاش کے پر امن طریقے اختیار کر سکے، جس کو پیٹ بھرنے اور اپنے ملک کی آزادی محفوظ رکھنے کے لئے لوٹ مار اور ڈاکہ زنی کے سوا کوئی اور وسیلہ استعمال کرنے کی مہلت ہی نہ دی جائے، کیا وہ قوم تہذیب و تمدن میں کوئی ترقی کر سکتی ہے؟ کیا اس سے امن پسند زندگی بسر کرنے کی توقع کی جا سکتی ہے؟ کیا اس کا جنگجو، وحشی اور خونخوار ہوجانا کسی حیثیت سے بھی محلِ تعجب ہے؟ تھوڑی دیر کے لئے ایسے حالات میں دنیا کی کسی مہذب سے مہذب قوم کو رکھ دیجئے آپ دیکھیں گے کہ 78 سال پیہم جنگ میں مصروف رہنے کے بعد اس میں بھی لازمی طور پر وہی خصائل پیدا ہوں گے جن کی سرحدیوں سے انگریزی گورنمنٹ کو شکایت ہے۔ انگریزی مدبرین میں ابتدا سے ایک دانشمندانہ طبقہ ایسا رہا ہے جو اقدام کی پالیسی کا مخالف ہے، اس کی رائے میں سرحد افغانستان تک پیش قدمی کرنے کی بجائے تحفظ مملکت کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ ہندوستان کی قدرتی سرحد کے اندر رہ کر ایسے استحکامات تیار کئے جائیں جن سے بیرونی علاقے کی کسی طاقت کو ملک کے امن و سکون میں خلل ڈالنے کا موقعہ نہ ملے۔ لیکن بدقسمتی سے حکومت ہند میں ہمیشہ ان لوگوں کا غلبہ رہا ہے جو اقدام کی طرف زیادہ مائل ہیں اور یہ ان ہی لوگوں کا اثر ہے کہ ایک طرف ہندوستان کا کروڑوں روپیہ سرحد کی تعزیری یا تسخیری مہموں میں فضول برباد کیا جا رہا ہے اور دوسری طرف آزاد سرحدی قبائل کو دائمی حالت جنگ میں رکھ کر اخلاقی، اقتصادی، تمدنی، سیاسی، غرض ہر حیثیت سے ان کی زندگی برباد کی جا رہی ہے۔ اس معاملہ میں ہمارا مطالبہ بالکل صاف ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ گورنمنٹ اقدام کو چھوڑ کر داخلی تحفظ کی پالیسی اختیار کرے اور آزاد قبائل کو امن و سکون کے ساتھ ترقی کرنے کا موقع دے دے۔ اگر توپیں اور ہوئی جہاز بھیجنے کی بجائے انگریزی علاقے کے اعلی تعلیم یافتہ پٹھانوں کو امن کی فضا میں ماورائے سرحد کی اصلاح کا موقعہ دے دیا جائے تو مجھے یقین ہے کہ ایک قلیل عرصہ ہی میں وہاں تہذیب و مدنیت کی روشنی پھیل جائے گی اور موجودہ وحشت و بربریت کی جگہ ایک ایسی متمدن زندگی شروع ہو جائے گی جو حقیقتا سرحد ہند کے لئے امن و تحفظ کی بہترین ضمانت ہوگی۔ حضرات! اب میں سرحدی علاقہ کے اس حصہ کی طرف توجہ کرتا ہوں جو حدود ہند کے اندر واقع ہے اور باضابطہ انگریزی حکومت کے زیرانتظام ہے۔ یہ علاقہ پانچ اضلاع پر مشتمل ہے جس کی مجموعی آبادی بائیس لاکھ اکاون ہزار ہے۔ 1849 سے لے کر 1901 تک وہ صوبہ پنجاب سے ملحق رہا اور ان فوائد سے متمتع ہوتا رہا جو ایک آئینی حکومت سے بہرحال حاصل ہوتے ہیں۔ لیکن 1901 میں لارڈ کرزن نے، جن کی مخصوص پالیسی ہندوستان اور دنیائے اسلام کو بہت سی مشکلات میں مبتلا کر گئی ہے، اس پر امن علاقے کو بھی جنگی سیاست کی آماجگاہ بنانے کا فیصلہ کر لیا اور اسے ایک مستقل صوبہ قرار دے کر بقیہ ہندوستان سے علیحدہ کر کے ایک غیر آئینی نظام حکومت کا ماتحت بنا دیا۔ اس وقت سے یہاں کا آسمان و زمین بالکل ہی بدل گیا ہے۔ ہندوستان میں آئینی حیثیت سے خواہ کتنا ہی تغیر و تبدل ہو اور سیاسی و انتظامی حیثیات سے وہ ترقی کے کتنے ہی مدارج طے کر لے لیکن اس بدنصیب صوبے کو اس میں حصہ لینے کا کوئی حق نہیں ہے۔ فوجی خدمات میں یہاں کے باشندے سب سے بڑھ کر رہیں، جنگ میں فداکاری و جاں نثاری کے لئے سب سے پہلے تیار ہوں، جنوبی افریقہ سے لے کر چین تک اور فرانس کے میدانوں سے لے کر فلسطینوں و عراق تک ہر جگہ انگریزی حکومت کی جہانگیرانہ تشنگی بجھانے کے لئے سب سے زیادہ ان کا خون کام آئے، لیکن متمدن زندگی کے فوائد، آئینی نظام حکومت کے منافع اور سیاسی و عدالتی امور کی ترقی میں ان کا کوئی حصہ نہیں ہے اور اس معاملہ میں وہ سب سے پیچھے رکھے جاتے ہیں۔ یہاں کے قوانین بالکل الگ، یہاں کا طرز حکومت بالکل مختلف، یہاں کا طریق عدل و انصاف بالکل جداگانہ، غرض یہاں کی ہر چیز ہندوستان کے بقیہ علاقوں سے بالکل متبائن ہے۔ ہندوستان میں منٹومارلے اصلاحات نافذ ہوئیں، مانٹیگو چیمسفورڈ کی اصلاحی اسکیم رائج کی گئی، کونسلیں بنیں، لوکل سیلف گورنمنٹ کے اصول پر میونسپل کمیٹیوں اور ڈسٹرکٹ بورڈوں کو وسیع اختیارات دیئے گئے، مطابع اور مجالس کی آزادی کو ایک خاص حد تک تسلیم کیا گیا، چھبیس سال تک یہ سب کچھ ہوتا رہا۔ مگر غریب صوبہ سرحد کو ان تغیرات کی ہوا بھی نہ لگنے پائی اور وہ بالکل الگ تھلگ ایک تاریک فضا میں زندگی بسر کرتا رہا۔ مطابع اور مجالس کسی قسم کی آزادی بھی نہیں کہ عام رائے اور پبلک کی شکایات کا اظہار کیا جا سکے۔ کوئی ایسی بالاتر انتظامی قوت بھی نہیں ہے جو ان کے اعمال کی نگرانی کرے، لے دے کے ایک حکومت ہند کا محکمہ سیاسیات ہے جو صوبے کی حکمرانی پر نگرانی رکھتا ہے مگر اس کو اپنی جنگی و سیاسی اغراض کے سوا عملا کسی انتظامی مسئلہ سے واسطہ نہیں ہے اور مقامی حکومت کو اس نے رعایا سے معاملے کرنے میں بالکل مطلق العنان چھوڑ رکھا ہے۔ یہ مطلق العنانی بھی شاید اتنی مہلک نہ ہوتی اگر حکومت کی باگیں اعلی تربیت یافتہ ملکی شرفا کے ہاتھ میں دی گئی ہوتیں۔ لیکن مصیبت یہ ہے کہ حکومت اور عدالت کے سارے اختیارات آنریری سب ججوں، آنریری ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹوں اور فوج سے نکلے ہوئے اکھڑ ڈپٹی کمشنروں کے سپرد کر دیئے گئے ہیں جو عملا ان کو پوری آزادی کے ساتھ استعمال کرتے ہیں۔ مجلس تحقیقات سرحد کی رپورٹ میں مسٹرئی رنگا چاریر نے ان کے استبداد کی مثالیں پیش کرتے ہوئے ایک واقعہ لکھا ہے کہ احمد آباد کانگریس کے موقع پر ہزارہ کے کرنل جیمز نے تمام ان لوگوں کو جنہیں کانگریس کے لئے مندوب منتخب کیا گیا تھا، صاف طور پر یہ اطلاع دی کہ اگر وہ کانگریس میں شریک ہوئے تو انہیں قانون جرائم سرحد کی دفعہ 36 کے ماتحت جلاوطن کر دیا جائے گا۔ یہ قانون جرائم سرحد من جملہ ان نیم فوجی قوانین کے ہے جو اہل سرحد کی وفاداری و جاں نثاری کا صلہ دینے کے لئے ہماری احساس شناس حکومت نے خاص طور پر اس صوبہ میں رائج کئے ہیں۔ وہ مقامی حکومت کو رعایا کی جان و مال اور عزت و آزادی پر غیر محدود اختیارات دیتا ہے اور اس کے ماتحت وہ پورا حق رکھتے ہیں کہ ایک شخص کو سخت سے سخت سزا دے دیں بغیر اس کے کہ اس پر اس کا جرم ظاہر کیا جائے یا اسے صفائی کا موقع دیا جائے۔ کوئی مقدمہ چلانے کی ضرورت نہیں، کسی وکیل یا گواہ کی ضرورت نہیں، کسی محاکمہ اور عدالتی تحقیقات کی ضرورت نہیں، محض پولیس کی رپورٹ اور مجسٹریٹ کی رائے اسے ضبطی جائیداد، جلاوطنی، طویل مدت کی سزائے قید بامشقت، غرض ہر سخت سے سخت سزا کا مستوجب ثابت کرنے کے لئے کافی ہوتی ہے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved